• 28 جنوری, 2023

This Week with Huzoor (1 جولائی 2022ء)

This Week with Huzoor
1 جولائی 2022ء

موٴرخہ 26؍جون 2022ء کو سڈنی آسٹریلیاکے خدام بیت الہدیٰ میں جمع ہوئے جہاں انہیں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ ورچوئل ملاقات کا شرف نصیب ہوا ان خدام نے مختلف سوالات کے ذریعہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سےجو رہنمائی حاصل کی اس کی تفصیل ذیل میں ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیِ نے گزشتہ آن لائن ملاقات میں ایک خادم کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:’’پچھلی دفعہ ایک سوال ہوا تھا کہ جو بینک سے loan لیتے ہیں یا بینکنگ سسٹم ہے یا brokerage ہے یہ جائز ہے یا نہیں۔اس کا جواب تو میں نے دیا تھا۔ لیکن نیوز میں اس کے آخری حصے کا جواب نہیں آیا تھا۔اس لیے کہ مجھے خود بھی کچھ اس پر تسلی نہیں تھی۔میں نے کہا مزید تحقیق ہو جائے اور بعض لوگوں نے لکھ بھی کہ اگر یہ brokerage منع ہے تو پھر ہم اپنا بزنس ختم کر دیتے ہیں۔انہوں نے اچھا اخلاص دکھایا۔ تو بہر حال اس کے بارے میں مَیں بتا دوں کہ یہ جو کمیشن لینے والی بات ہے اس میں کیونکہ آپ ڈائریکٹ interest نہیں لے رہے۔اس لیے یہ جائز ہے کمیشن لے رہے ہیں۔یہ لینا جائز ہے اور حضرت مسیح موعودؑ نے بھی جائز فرمایا ہے۔مثلاً جو منی ایکسچینج والے ہیں، وہ بھی جو زائد کمیشن لیتے ہیں، حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا وہ بھی جائز ہےیہ سود نہیں ہے۔اسی طرح کوئی بھی ایسا کاروبار جس میں directlyآپ involve نہیں ہیں سود میں، وہ سود نہیں ہے۔باقی میں نے پچھلی دفعہ بھی بتایا تھا کہ حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمایا ہے کہ۔ یہ سارا نظام بالکل اپ سیٹ ہو چکا ہے، زیر و زبر ہو چکا ہے،نئے اجتہاد کی ضرورت ہے۔اگر اس طرح باریکی میں جا کر دیکھنے لگیں تو پھر بینک کی نوکری بھی جائز نہیں ہو سکتی۔پھر آج کل جوساری انڈسٹری ہے سارے کاروبار ہیں۔وہ جو سارے اکنامک سسٹم پر چل رہے ہیں۔وہ سارا ہی base interest ہے۔تو پھر آپ کپڑے بھی نہیں پہن سکتے، پرانے لوگوں کی طرح پتے باندھ کے ہی پھرنا پڑے گا۔اس لیے حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا ہے سارا نظام ہی آج کل کیونکہ اپ سیٹ ہو چکا ہے اور ویسے بھی directly involved نہیں ہے،جائز ہے۔میں نے پچھلی دفعہ بھی مثال دی تھی کہ اگر کوئی اپنی چیز کی زیادہ قیمت مقرر کرتا ہے کہ بعد میں پیسے دینے ہیں تو یہ بھی جائز ہے۔بلکہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعودؑ سے پوچھا گیا کہ جو شراب وغیرہ کے بزنس میں نوکری کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ لائسنس ہے یا نہیں۔ فرمایا تم نوکری کر رہے ہوتم براہ راست شراب نہیں بیچ رہے۔گورنمنٹ کی نوکری ہے، صرف یہ چیک کر رہے ہو کہ اس کے مطابق وہ بیچ رہا ہے یا نہیں۔ تو اس لیے اس میں کوئی حرج نہیں۔بہرحال حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا ہے کہ کوشش یہی کرنی چاہیے کہ اگر اس سے بھی بہتر نوکری مل جائےجس میں کسی طرح بھی involvement نہ ہو تو ٹھیک ہے۔بلکہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ سے کسی نے سوال کیا کہ میں ایک سردار صاحب کے ہاں ملازمت کرتا ہوں۔جو سود کا کاروبار کرتاہے۔سود پر پیسے دیتاہے اور اس کا حساب میں رکھتا ہوں۔تو کیا یہ جائز ہے؟آپ نے فرمایا ٹھیک ہے تم نوکری کر رہے ہو تمہارے لیے جائز ہے۔اس لیے brokerage والا جو commission agent ہےاس کے لیے یہ جائز ہے۔ اگر آپ کسی سے سودوصول کر رہے ہوتو وہ ناجائز ہے۔اور یہ صرف آسٹریلیا میں نہیں دنیا میں ہرجگہ ہو رہا ہے۔توآپ کمیشن ایجنٹ والا کام کر سکتے ہیں کیونکہ آپ اپنی سروس کی محنت لے رہے ہیں۔ہاں بعض دفعہ یہ ہوتا ہےکہ بعض لوگ مجبور ہوتے ہیں ان کو loan چاہیے ہوتا ہے اور جو loan دینے والی ایجنسیاں ہیں، lending agencies وہ (lend) نہیں کرتیں، تو جو بیچ میں broker ہوتا ہے وہ کام کروا دیتا ہے۔وہ دیکھ لیتا ہے کہ بندہ مجبور ہےتو اگر اس کی فیس 100 روپیہ ہے،100 پاؤنڈ ہے یا 100 ڈالر ہے۔تو 500 یا1000 ڈالر لیتا ہےتو وہ فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔ہاں مدد کے لیے جو فیس آپ نے مقرر کی ہوئی ہےوہی رکھیں۔یہ نہیں ہے کہ کوئی مجبور آدمی دیکھا تو اس کو ایکسٹرا چارج کرنا شروع کر دیا۔اس کے علاوہ broker والا کام جائز ہے اور جس نے سوال کیا تھا اس کو بھی بتا دیں۔

سوال:پیارے حضور! کبھی کبھار انسان کو جب کسی چیز میں کامیابی نہیں ملتی تواس کی وجہ سے ایک مایوسی کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔اس کیفیت میں انسان کا کسی بھی چیز میں دل نہیں لگتا۔اور یہ کیفیت انسان کے اپنے کنٹرول میں بھی نہیں ہوتی۔اس موقعہ پر انسان یہ سوچ کر دل کو تسلی دینے کی کوشش بھی کرتا ہےکہ ہر کام میں اللہ کی مصلحت ہوتی ہے۔لیکن پھر بھی اس کیفیت سے نکلنا بہت مشکل ہوتا ہے۔پیارے حضور رہنمائی فرمائیں کہ انسان کو اس کیفیت میں کیا کرناچاہیے؟

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:’’حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا ایک شعر ہے۔

مایوس و غمزدہ کوئی اس کے سوا نہیں
قبضے میں جس کے قبضہِ سیف خد انہیں

’’اللہ تعالیٰ کی تلوار کو ہاتھ میں رکھو۔یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ ہے۔یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ دعائیں سنتا ہے۔یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ ہمیں جس حالت میں سے گزار رہا ہے، یہ شاید کوئی چھوٹا سا عارضی trialہو،کوئی امتحان ہو،جس میں سے ہم نے گزرنا ہو۔اور اس امتحان میں سے گزرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کامیابی دے گا۔اور انسان اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کر رہا ہو۔یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ دعائیں قبول کرتاہے۔یہ تو ایک نیچرل چیز ہےکہ انسان کی طبعیت میں مایوسی کی کیفیت آتی ہے۔ نفسیاتی اثر بھی ہو جاتا ہے۔لیکن ایسی حالت میں بالکل ہی desperate ہو کہ توسب کچھ ہی چھوڑ کر گھر بیٹھ جانا یا کمرہ بند کر کے depressionمیں چلے جانا،یہ چیز غلظ ہے اس وقت ہمت کر نی چاہیے، will-power سے کام لینا چاہیےاور اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرنی چاہیے۔اگر بہت ہی زیادہ critical حالت ہو گئی ہے، تو پھر ڈاکٹر کے پاس جا کر علاج بھی کروا لینا چاہیےکیونکہ پھر یہ بیماری کی صورت بن جاتی ہے،تو پھر اس کو بیماری کے طور پر treatکرواور دوائی لو،تا کہ اس ڈپریشن کے phase سے انسان باہر نکل آئے۔otherwiseاللہ تعالیٰ کے آگے جھکو،اور اس سے دعا مانگو،اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو،اور کوشش کرو کہ میں نے اس phase سے باہر نکلنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے۔ ’’اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ‘‘ اللہ تعالیٰ کا بار بارذکرکرو، تمہارے دلوں کو اطمینان نصیب ہوگا۔اس کے لیے کوشش کرنی پڑتی ہے، will-power سے کام لینا پڑتا ہے اور جو حقائق ہیں ان کو faceکرنا چاہیے،مرد بننا چاہیے۔اس کا اور کوئی علاج نہیں ہے۔یہی علاج ہے، will-power، دعا، کوشش اور محنت۔جس کام میں کمی ہے، ہو سکتا ہے کہ گرا ایک کام میں انسان ناکام ہوتا ہے اور کامیابی نہیں ملتی تو دوسرے کام میں کامیابی مل جائے۔بعض دفعہ تو لمبا عرصہ نہیں ملتی اور ایک trialمیں انسان جا رہاہوتا ہے۔لیکن خدا کو چھوڑ کر اور کہیں رستہ بھی نہیں ہے۔اس مجذوب کی طرح جو بیٹھا تھا اور نعرے لگایا کرتاتھا’’اللہ میاں تیری دنیا پسند نہیں آئی‘‘۔حضرت خلیفہ اولؓ وہاں سے گزرا کرتے تھے اور وہ نعرہ لگایا کرتا تھا۔ایک دن سر نیچے کیے بہت خاموش بیٹھا ہوا تھا،انہوں نے پوچھا کہ’’ آج نعرے نہیں لگا رہےکہ ’’اللہ تعالیٰ تیری دنیا پسند نہیں آئی‘‘کہتا ہےآج اللہ تعالیٰ نے مجھے جواب دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’کیا جواب دیا ؟‘‘اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ۔ ’’اچھا!جو دنیا پسند ہے وہاں چلے جاؤ۔‘‘تو دنیا تو یہی ہے۔اسی میں رہنا ہے۔ اسی میں گزارا کرنا ہے۔اس لیے ہمت اور مردانگی سے رہنا پڑے گا۔‘‘

سوال:کچھ لوگ کم محنت کے ساتھ بہت کچھ حاصل کر لیتے ہیں۔جبکہ کچھ لوگ بہت زیادہ محنت کرتے ہیں لیکن پھر بھی کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ہمیں کس طرح پتہ چل سکتا ہے کہ آیا قسمت ہے یا محنت میں کمی کا باعث ہے؟

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:’’آپ کو کس طرح پتہ کہ انہوں نے صحیح معنوں میں محنت کی یا نہیں۔ آپ کو صرف اپنے بارے میں ہی پتہ ہے۔بعض اوقات لوگ کہتے ہیں کہ میں نے فلاں مضمون کو سیکھنے کے لیے 2 گھنٹے لگائےاور میں نے یہ کام بھی آسانی سے کر لیا اور کم محنت سے کر لیا۔کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کو خداداد صلاحیتیں عطا ہوتی ہیں اور وہ مشکلات کا حل جلدی نکال لیتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ ہر کام میں بہت اچھے ہوں۔کبھی کچھ لوگ ریاضی میں اچھے ہوتے ہیں،کچھ جغرافیہ میں، کچھ فزکس میں اور کچھ دوسرے مضامین میں، کچھ بہت آسانی سے ہندسوں کو یاد کر لیتے ہیں اور کچھ ہوتے ہیں جن کو اعداد وشمار میں تو دِقت ہوتی ہے لیکن وہ تاریخ کو بہت اچھی طرح یاد رکھتے ہیں۔چنانچہ دنیا میں لوگ مختلف صلاحیتوں اور قابلیتوں کے پائے جاتے ہیں۔ لیکن عام طور پر لوگوں کا معیار درمیانی سطح کا ہوتا ہے۔اور ان کو کچھ سیکھنے اور کام مکمل کرنے میں وقت لگتا ہے۔تو با نسبت اس کے اس کو دیکھا جائے کہ دوسرے نے کیا کوشش کی ہے یا محنت کی ہے آپ کوہر کام کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق کرنا چاہیے۔تو ہر کامیابی کے لیے آپ کو محنت کرنی ہو گی۔اگر آپ محنت کرتے ہیں تو اپنے مقصود کو پا لیں گے اور اللہ تعالیٰ بھی آپ کی مدد کرے گا۔اور اس کےساتھ ساتھ ایک مسلمان ہونے کے ناطے اور احمدی ہونے کے ناطے خدا تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیےکہ اللہ تعالیٰ آپ کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے آپ کی مدد کرے اور اس کو آپ کے لئے آسان کر دے۔تو اس طرح سے اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کرے گا اور آپ کم وقت میں، یا کم محنت کے ساتھ، یا بہتر رنگ میں اپنے ٹارگٹ کو پا لیں گے۔ ‘‘

سوال:پیارے حضور یہاں پر زیادہ تر خدام ایسے ہیں جو یہاں پیدا ہوئے یا پھر بر صغیر سے یہاں آئے ہیں۔ ان دونوں میں ایک کلچر کا فرق ہو جاتا ہے۔تو خدام الاحمدیہ کو اس فرق کو دور کرنے کے لئے کیا کرنا چاہیے تا کہ کام ہم آہنگی کے ساتھ ہو سکے؟

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:’’ جو یہاں پیدا ہوئے ہیں ان کی ذہنیت مختلف ہے۔ جس ماحول میں وہ پلے بڑھے ہوئے ہیں وہ مختلف ہے۔لیکن ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جنہوں نے پاکستان اور دوسرے ممالک سے ہجرت کی کچھ فجی سے آئے ہیں، ان کا تو ماحول ایک ہی ہے۔ فرق صرف ان کے مابین ہے جوپاکستان سے آئے ہیں۔اور جو غیر پاکستانی ہیں جو آسٹریلیا میں یا کسی اور مغربی ملک مین پلے بڑھے ہیں۔ اس لیے میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی بچپن سے ہی تربیت کریں۔ان کو بتائیں کہ و ہ کون ہیں، مذہب کی اہمیت کیا ہے،وہ احمدی مسلمان کیوں ہیں، اور ان کو کیوں دن میں پانچ نمازیں ادا کرنی چاہیے،اور ان کو قرآن کریم کی تلاوت کیوں کرنی چاہیےاور اوامر و نواہی سیکھنے چاہیے،اور ان پر ہمیں کیوں عمل کرنا چاہیے،اس طریق سے بچوں کو علم ہو گا کہ ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں اور ہم کون ہیں۔ پھر اگر وہ مغربی ماحول میں بھی بڑے ہوئے ہیں۔تو ان میں اچھے اور برے میں تمیز کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے گی۔انہیں پتہ ہو گاکہ یہ وہ بد اخلاقیاں ہیں جن کا مغربی کلچر تو اجازت دیتا ہے لیکن اسلام منع کرتا ہے۔مثلاَ اسلام مَردوں کو کہتا ہے کہ ہمیشہ غضِ بصر سے کام لیا کرواور کھلے طور پر عورتوں کو نہ دیکھا کرو۔اور ایسی چیز کا مزہ نہ لو جو کہ اخلاقی طور پر بری ہے۔اسی طرح سے اسلام عورتوں کو بھی کہتا ہے کہ ان کو بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھنی چاہیےاور پردہ کرنا چاہیے تا کہ ان کی خوبصورتی مردوں کو آزادانہ طور پر دکھائی نہ دے۔آج کل مختلف قسم کی ترجیحات ہیں۔تو یہ سب کچھ اسلام میں بد اخلاقی مانی جاتی ہے۔پس ہمیں ان کی بچپن سے ہی تربیت کرنا ہو گی۔یہ والدین کی ذمہ داری ہے اور یہ خدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ انہیں بتائیں کہ یہ اچھی باتیں ہیں اور یہ بری باتیں ہیں۔یہ وہ باتیں ہیں جو خداتعالیٰ کو پسند نہیں ہیں۔ان باتوں کے متعلق ہماری یہ تعلیم ہے کہ ہم ان سے بچ کر رہیں۔پس اس کام میں محنت کرنا ہو گی۔صرف خدام الاحمدیہ ہی نہیں بلکہ والدین کو بھی اس میں شامل ہو نا ہو گا۔اور ان کو انصار اللہ، خدام الاحمدیہ اور لجنہ کے تحت تعلیم دینا ہو گی کہ وہ اپنے بچوں کی گھروں میں کیسے تربیت کر سکتے ہیں۔یہ ایک مشکل کام ہے، مگر آپ کو اس چیلنج کا سامنا کرنا ہو گا۔آپ کو سخت محنت کرنا ہو گی۔اور اگر والدین بھی مدد کر رہے ہوں گے اور اپنے بچوں کی گھروں میں تربیت کررہے ہوں گےاور اطفال الاحمدیہ کی تنظیم بھی اس بات میں محنت کر رہی ہو گی کہ وہ بچوں کو اس بات سے آگاہ کریں کہ جو کچھ وہ سکولوں میں سیکھتے ہیں ان میں سے کیا اچھا ہے اور کیا برا ہے۔کیونکہ انہیں سکولوں میں آجکل مختلف تربیت ملتی ہے۔آزادی اظہار اور پسند ناپسند کی آزادی کے نام پر کچھ غیر اخلاقی باتیں بچوں کے ذہن میں آرہی ہیں۔اور وہ سوچتے نہیں ہیں بلکہ بالکل خیال نہیں رکھتے، وہ اچھے اور برے کے درمیان فرق نہیں کر سکتے۔پس ہمیں ان کو بتانا ہو گا کہ کیا برا ہےاور کیا اچھا ہےاور ان چیزوں کا ان کے مستقبل کی زندگی پر کیا اثرات ہوں گے؟اور اگر آپ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ سے کس طرح کا سلوک کرے گا اگر آپ اس پر عمل نہیں کریں گے۔توبچپن سے ہی ہمیں بچوں کے ذہنوں میں اس بات کو ڈالنا ہو گا کہ ہمیں اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنا چاہیےاور ہمیں ان اخلاق کو اپنانے کی ضرورت ہے جو ہمیں اللہ تعالیٰ اور اسلامی تعلیمات نے سکھائے ہیں۔‘‘

سوال:پیارے حضور ہمیں اس بات کا علم ہے کہ خلفاء کا انتخاب اللہ تعالیٰ کرتا ہے۔ہم اس بات کا ثبوت غیر احمدیوں کو کس طرح دے سکتے ہیں جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمار اخلیفہ لوگوں کے ذریعے چنا جاتا ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:’’دیکھیں اللہ تعالیٰ بندوں کو استعمال کرتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں ڈالتا ہے۔بے شمار ایسے لوگ ہیں جو مجلس انتخابِ خلافت کے ممبر ہیں جو خلیفہ کا انتخاب کرتی ہے۔میرے انتخاب میں بھی۔ میں لوگوں میں پہچانا نہیں جاتا تھا۔میرے خیال میں پانچ فیصد سے زیادہ لوگ میرے بارے میں نہیں جانتے تھے۔کچھ عرب تھے، غیر ملکی تھے، افریقن تھے،وہ کہتے ہیں کہ اچانک کچھ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ڈالا کہ تم اپنا ہاتھ اس شخص کے حق میں کھڑا کرو۔چنانچہ، گو لوگ اس شخص کا انتخاب کرتے ہیں لیکن یہ اللہ تعالیٰ ہوتا ہے جو ان کے دلوں میں ڈالتا ہے۔اور اچھی خاصی تعداد میں مختلف لوگوں کی روایات اور تاثرات ہیں جس میں انہوں نے بیان کیا کہ انتخاب کے دوران انکی کیاکیفیات تھیں اور کیا ہوا۔اگر آپ اسے پڑھیں اور اپنا علم بڑھائیں تو آپ اپنے غیر احمدی دوستوں، بلکہ اپنے ساتھ خدام کو بھی کو مطمئن کر سکتے ہیں۔ خدام الاحمدیہ کے بھی کئی ممبر ان ہیں جو اس بارے میں واضح نہیں ہیں۔ان کے دماغوں میں کچھ شبہات ہیں چنانچہ آپ کو ان کے شبہات دور کرنے ہوں گے۔پہلے آپ پڑھیں اور پھر ان کے شبہات دور کریں۔قرآن کریم میں بھی لکھا ہے کہ مختلف طریق ہیں۔کبھی اللہ تعالیٰ خود کسی کو مقرر کرتا ہے جیسا کہ انبیاء ہیں۔ کبھی کچھ افراد کے ذریعے اور یہ ہم تاریخ اسلام میں بھی دیکھتے ہیں۔حضرت ابو بکرؓ کو کس نے منتخب کیا؟انصار اور مہاجرین میں اختلاف تھا۔ وہ اپنے اپنے قبائل سے اور اپنی قوم سے چننا چاہتے تھے۔ انصار کہہ رہے تھے ہمارا خلیفہ انصار میں سے ہو۔مہاجرین کہہ رہے تھے کہ نہیں ہم اپنا خلیفہ مہاجرین میں سے چنیں۔پھر حضرت ابو بکرؓ نے اس معاملے میں تقریر کی۔ اور بعد ازاں با آسانی اس نتیجہ پر پہنچےکہ ہم حضرت ابو بکرؓ کی بیعت کریں۔یہی بات حضرت عمرؓ کے انتخاب کے موقع پر ہوئی اور یہ اسلامی تاریخ میں ہے۔اور اسی کی ہمارے نظام میں پیروی ہوتی ہے۔ہم نے کوئی نیا نظام نہیں شروع کیا۔ہم تو اسی پرانے نظام کی پیروی کر رہے ہیں۔اگر یہ سوال غیر احمدی مسلمانوں کے لئے ہے تو آپ انہیں بتا سکتے ہیں کہ آپ بھی کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ ، حضرت علیؓ منتخب خلفاء تھے۔ ان سب کا انتخاب انسانوں نے کیا تھا۔ اسی طرح خلفائے احمدیت کا انتخاب ہوتا ہے۔اگر وہ عیسائی یا اور افراد ہیں تو آپ کو ان کو کھول کر بیان کرنا ہو گا۔کیونکہ بہت سے شواہد ہیں، بہت سے لوگ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اچانک ہمارے دل میں آیا کہ اس شخص کے حق میں ووٹ دیں۔چنانچہ یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے اور وہی لوگوں کے دلوں میں ڈالتا ہے۔ ‘‘

سوال:اگر کسی کے پاس کوئی جماعتی خدمت ہے اور اگر جماعت کی طرف سے مزید کوئی خدمت مل رہی ہولیکن اس وجہ سے خدمت لینے سے معذرت کر لی جائے کہ شاید اس کا صحیح طور پر حق ادا نہیں کیا جا سکتاتو کیا اس کا انکار جماعتی نا فرمانی ہو گی؟

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:’’بات یہ ہے کہ آپ بتا دیں کہ میرے پاس یہ جماعتی خدمت ہے۔اور اگر مزید مجھےخدمت دی جائے تو ہو سکتا ہے کہ میں خدمت سے انصاف نہ کر سکوں۔اگر آپ کے پاس خدام الاحمدیہ کا کوئی کام ہےلیکن آپ جماعتی الیکشن میں کسی خدمت کے لیے منتخب ہو جاتے ہیں تو جماعتی خدمت پہلی preferenceہے۔ پھر اگر آپ سمجھتے ہیں کہ خدام الاحمدیہ کا کام آپ جاری نہیں رکھ سکتےتو پھر آپ خدام الاحمدیہ کو کہہ سکتے ہیں کہ جماعتی طور پر مجھے فلاں خدمت کے لیے منتخب کیا گیا ہے اور جماعتی خدمت پہلی preferenceہے اس لیے خدام الاحمدیہ کا میرا کام کسی اور کو دے دیں۔لیکن اگر آپ سمجھتے ہیں کہ انصاف کر سکتے ہیں تو پھر جاری رکھیں۔پہلی خدمت جماعتی اور دوسری ذیلی تنظیموں کی۔ ‘‘

سوال:پیارے حضور سوشل میڈیا پر اس طرف بڑھتا ہو ارجحان نظر آرہا ہے کہ ایسے احمدی جن کے چھوٹے بچے ہیں وہ اپنے گھروں کو رمضان کیلئے سجاتے ہیں۔جیسے نماز پڑھنے کی جگہ کو سجانا اور اس کے نیچے تحائف رکھنا اور عید کے انتظار میں بچوں کے لیے کیلینڈر کی اس طرز پر تیاری کرنا۔جیسے عیسائیت میں کیلنڈر تیار کیا جاتا ہے۔پیارے حضورہم اپنے بچوں کو ایسے کاموں سے کیسے روک سکتے ہیں؟

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:’’دیکھیں آنحضرتﷺ فرماتے ہیں کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے عمل کے پیچھے کیا نیت ہے؟اگر تو وہ رمضان میں اپنے گھروں کو اس لئے سجاتے ہیں تا کہ اپنے بچوں کو رمضان کی اہمیت سمجھا سکیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔اگر تو انہوں نے اپنے کیلنڈر رمضان کے روزوں کو گننے کیلئے یعنی پہلا، دوسرا،تیسرا،چوتھا اور پانچواں روزہ وغیرہ بنائے ہیں۔ بچوں کو بتانے کی خاطر کہ پہلا، دوسرا،تیسرا، چوتھا روزہ ہے۔اور 29 یا 30 دنوں بعد ہم عید منائیں گے جو بڑی اہمیت رکھتی ہے۔تب بچے عید کی اہمیت کے بارہ میں پوچھیں گے۔ تو پھر آپ ان کو بتا سکتے ہیں جو آنحضرتﷺ نے فرمایاہےکہ ہمیں نماز عید میں شامل ہونا چاہیے۔یہاں تک کہ ایسی عورتیں جن کو مسجد میں نماز کی ادئیگی کے لئے جانے کی اجازت نہیں بھی ہے۔تو ان کو بھی مسجد میں عید کا خطبہ سننے کیلئے جانا چاہیے۔بلکہ نماز گاہ کے باہر بھی بیٹھا جا سکتا ہے تاہم یہ ہر ایک پر فرض اور لازم ہے۔اور جب وہ دنوں کو گن رہے ہوں تو آپ ان کو بتا سکتے ہیں کہ روزہ کیا ہے اور اسلام میں 30 روزے کیوں رکھے جاتے ہیں ؟اور روزہ کیا ہے؟اور یہ سابقہ انبیاء کی تمام امتوں پر ان کے اپنے دور میں فرض تھے جیسا کہ قرآن میں بھی اس کا ذکر ہے۔مگر ان کا روزہ رکھنے طریق مختلف تھا۔اگر تو یہ نیت ہے کہ رمضان اور عید سے متعارف کروایا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔البتہ اگر صرف نقل کرنا مقصود ہے کہ چونکہ عیسائی ایسا کرتے ہیں۔ اس لیے ہمیں بھی ایسا کرنا چاہیے۔اور آپ (بچوں )کو روزے کا پس منظر نہیں بتاتے،روزوں اور عید کی اہمیت نہیں بتاتے تو پھریہ غلط ہے۔تو اس میں ایک لطیف فرق ہے۔ہم ایسا نہیں کہہ سکتے کہ ایک شخص نے اس نیت سےایسا کیا ہے۔اگر تو وہ شخص کہتا ہے کہ میری نیت نیک تھی تو ہمیں یہ کہنے کا حق نہیں کہ ’’نہیں تم غلط ہو،میں جانتا ہوں کہ تمہاری نیت نیک نہیں ہے۔‘‘آپ اور ہم توخدا نہیں۔ اللہ بہتر جانتا ہے۔کٹر نہ بنیں۔ ‘‘

سوال:پیارے حضور کرونا وائرس کی وبا اس غرض کے لیے بھی تھی کہ لوگ اپنے خالق حقیقی کے قریب ہوں۔تو پیارے حضور آپ کو لگتا ہے کہ ہماری اصلاح ہوئی ہے۔اگر نہیں۔ تو مستقبل میں اس سے بھی بڑی آزمائش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: ’’آپ کو کوئی خواب آئی ہے؟کوئی الہام ہوا ہےکہ کرونا کی وبا اس لیے تھی کہ خالق حقیقی کے قریب ہوں؟‘‘ خادم نے جواب دیا : ’’نہیں حضور۔‘‘حضور نے فرمایا’’مجھے تو نہیں پتہ۔ہاں۔ کوئی بھی بیماری آتی ہے، کوئی بھی وبا پھیلتی ہے کوئی بھی مشکل آتی ہے، کوئی بھی تکلیف آتی ہے تو جو اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنے والے لوگ ہیں۔ان کو یہ احساس پیدا ہو تا ہے کہ ہاں،یہ چیزیں آئی ہیں تو ہم اللہ تعالیٰ کے قریب ہوں،اپنے خالق کے قریب ہوں اس کے آگے جھکیں۔اور ان تکلیفوں، ان دکھوں، ان پریشانیوں سے بچنے کے لیے دعا کریں۔تو یہ عمومی چیز ہے۔اسی طرح کرونا بھی آیا۔اور یہ pandemic تھا۔ یہ پوری دنیا میں پھیل گیا۔اور اس سے جو نیک لوگ تھے،جن کی فطرت نیک تھی،جو مذہبی رجحان اور خیالات رکھنے والے تھےان کا جھکاؤ اللہ تعالیٰ کی طرف ہوا۔جو نہیں تھے ان کانہیں ہوا۔بعض اللہ کی طرف توجہ نہ رکھنے والے بھی اللہ کی طرف جھکے۔مغربی ملکوں میں بھی، غیر مسلموں میں بھی،لیکن بہت سارے ایسے ہیں جنہوں نے کہا یہ تو بیماری ہے۔آئی اور گزر گئی۔یا ابھی بھی آ رہی ہے تو گزر جائے گی۔تو ہم اس کو flue کی طرح لیتے ہیں۔جس طرح flue ہوا تھا۔ اس سے لوگ مرتے تھے توہم بھی مر جائیں گے۔جب ایک دن مرنا ہی ہے۔ان کو پرواہ ہی نہیں ہے۔ان کی کیا اصلاح ہونی ہے۔اصلاح تواسی کی ہوتی ہے جو خدا پر یقین رکھتا ہے۔یا کچھ نہ کچھ خوف خدا دل میں پیدا ہو جاتا ہے۔یا جس کی کوئی فطرت نیک ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں ڈال دیتا ہے۔باقی آزمائشیں تو آتی رہیں گی، زلزلے بھی آئیں گے،بیماریاں بھی آئیں گی،طوفان بھی آئیں گے۔اور اللہ تعالی ٰاسی طرح لوگوں کو احساس دلاتا رہتا ہے۔ ابھی جو پچھلے دنوں میں اتنے بڑے سیلاب آتے رہے۔ ہسٹری میں کئی decades تک آسٹریلیا میں نہیں آئے؟اس میں نقصان ہوا۔کبھی drought آتا ہے تو جنگلوں میں آگ لگ جاتی ہےتووہ بھی تو تباہی ہے۔امریکا میں آجکل ایسی گرمی پھیلی ہوئی ہے کہ آگیں لگ رہی ہیں۔آسٹریلیا میں بھی آگیں لگ جاتی ہیں۔ پہلے آگ سے سب کچھ جل گیا پھر بارش ہوئی توسیلاب میں سب کچھ بہہ گیا۔تو یہ بھی تو آفات ہی تھیں۔ ہر ملک میں اللہ تعالیٰ دکھانے کے لیے آفات بھیجتا رہتا ہے۔اس کے باوجود کچھ خیال نہ آئے تو کرونا سے کیا ان پر اثر ہونا ہے؟کرونا کا تو پتہ بھی نہیں لگتا کہ کون مرا اور کون نہیں مرا۔ کتنے کیس ہوئے ہیں آ پ کے ہاں آسٹریلیا میں ؟ 2 ملین، 4 ملین؟کتنے مرے ان میں سے؟2ہزار،4ہزار، 10ہزار؟یہاں کرونا سے ایک آدمی فوت ہوتا ہے تواتنا اس کا شور مچاتے ہیں کہ لگتا ہے کہ 10 ہزار فوت ہو گئے۔خوف زیادہ پھیلا دیا۔تو جن کو دوسری باتوں سے خوف پید انہیں ہونا ان کو کرونا سے کیا خوف پیدا ہو نا ہے؟ہاں اللہ تعالیٰ آزماتا ضرور رہتا ہے ان چیزوں سے۔ ہر آفت جو آتی ہے اس پر استغفار کرنی چاہیےاور اللہ کی پناہ میں آنا چاہیے۔چاہے بارش آرہی ہو۔تو یہ نہیں کہنا کہ ہاں ہاں بارش آگئی بڑا فائدہ ہو گا۔بارشیں بھی طوفان بن جاتی ہیں۔’’کھی ہو کر وہ پانی ان پر اک طوفان لاتی ہے‘‘۔تو آگ بھی، پانی بھی،ہوا بھی، آندھیاں بھی، طوفان بھی یہ ساری چیزیں جو حضرت مسیح موعودؑ نےنظم میں بیان کی ہیں، اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو بیان کیا ہے۔ ہمیں ان چیزوں سے بچنا چاہیے۔اور لوگوں کو بتا نا چاہیے کہ یہ اصلاح کے لیے آتی ہیں۔ اپنی اصلاح کرو۔لوگوں کو احساس ہو نہ ہو تبلیغ کے میدان کھولنے کے لیے ہمیں موقعہ اٹھانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ تو چپیڑیں ماری جارہا ہے لیکن اگر ان کو احساس ہی نہ ہو،کسی شاعر نے کہا ہے کہ،

احساس مر نہ جائے تو کسی انسان کے لیے
کافی ہے ایک راہ کی ٹھوکر لگی ہوئی

باقی ایسے بے شرم ہوتے ہیں کہ جو ماریں کھانے کے بعد بھی کہتے ہیں، ’’اچھا۔مار پڑی تھی مجھے؟‘‘منہ سوجھا ہوتا ہے۔اور پوچھ دوسروں سے رہے ہوتے ہیں کہ’’ مار پڑی ہے مجھے،میرا منہ سوجھ گیا ؟تو جو ایسے ڈھیٹ انسان ہوں ان کی آپ نے کیا اصلاح کرنی ہے؟یا اسے کیا احساس ہو نا ہے؟ہاں۔جب ایسے کام ہوتے ہیں تو یہ ہمارا کام ہے کہ ہم ان کو بتائیں کہ یہ جو ہوا، یہ اس لیے ہو اکہ ہم اللہ سے دور جا رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی طرف جھکیں، تا کہ ہم ان آفتوں سے بچ کر رہیں۔اور اس طرح ہم قریب آئیں گے۔اگر ایک نیک آدمی طاعون کی وجہ سے فوت ہوتا ہے۔تو وہ شہید بن جاتا ہے۔اور اگر ایک بد آدمی فوت ہوتا ہے تو وہ جہنمی بن جاتا ہے تو یہ چیزیں ہمیں موقعہ دے رہی ہیں کہ ہم تبلیغ کے میدان مزید کھولیں۔

(ٹرانسکرپشن و کمپوزنگ :ابو اثمار اٹھوال)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 ستمبر 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی