• 30 نومبر, 2020

لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْا َفْلَاک

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
پس آپؐ کے نزول سے جو نئے زمین و آسمان پیدا ہوئے، جس میں آپؐ نے اللہ تعالیٰ سے انتہائی درجہ کا قرب پا کر انسانوں کی نجات اور خدا تعالیٰ سے محبت اور اللہ تعالیٰ کے حضور شفاعت کا مقام بھی حاصل کیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْن کا مقام عطا فرمایا۔ آپؐ سے محبت کو اپنی محبت قرار دیا۔ یہ سب باتیں ثابت کرتی ہیں کہ یہ افلاک بھی خدا تعالیٰ کے آپ سے خاص پیار کے نتیجہ میں آپؐ کے لئے پیداکئے گئے۔ اور کوئی وجہ نہیں کہ آپ کی علُوِّ شان کے لئے ہم اس حدیثِ قدسی کو صحیح تسلیم نہ کریں۔ پس یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آ کرآنحضرت ﷺ کے اس مقام کو پہچانا ہے۔ اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:
’’لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاک میں کیا مشکل ہے؟ قرآنِ مجید میں ہے خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا (البقرۃ: 30)، زمین میں جو کچھ ہے وہ عام آدمیوں کی خاطر ہے۔ تو کیا خاص انسانوں میں سے ایسے نہیں ہو سکتے کہ ان کے لئے افلاک بھی ہوں؟…‘‘۔ (اگر زمین میں سب کچھ عام انسانوں کے لئے ہو سکتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے خاص آدمیوں کے لئے افلاک کی پیدائش بھی کر سکتا ہے)۔ فرمایا کہ ’’… دراصل آدم کو جو خلیفہ بنایا گیا تو اس میں یہ حکمت بھی تھی کہ وہ اس مخلوقات سے اپنے منشاء کا خدا تعالیٰ کی رضامندی کے موافق کام لے۔ اور جن پر اس کا تصرف نہیں وہ خدا تعالیٰ کے حکم سے انسان کے کام میں لگے ہوئے ہیں، سورج، چاند، ستارے وغیرہ‘‘۔

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 213۔ جدید ایڈیشن۔ مطبوعہ ربوہ)

(خطبہ جمعہ 28؍ جنوری 2011ء)

مسلمان کون ہے؟

مسلمان کون ہے؟ مَیں اس کی کسی لمبی علمی بحث میں نہیں پڑنا چاہتا لیکن یہ واضح ہو کہ کامل فرمانبردار اور آنحضرتﷺ کے تمام حکموں پر عمل کرنے والے اور قرآن کریم کی پیروی کرنے والے اگر کوئی ہیں، مسلمان کی تعریف میں آتے ہیں تو وہ احمدی ہیں۔ دو احادیث بھی اس بارہ میں پیش کر دیتا ہوں جس سے مسلمان کی وہ تعریف واضح ہوجاتی ہے جو آنحضرتﷺ نے فرمائی ہے اور یہی حقیقی تعریف ہے، نہ کہ ان علماء کی تعریف جو کوکا کولا کے پیٹنٹ (Patent) نام کو اسلام کے نام کے ساتھ ملانا چاہتے ہیں۔ جہالت کی انتہا ہے۔

ایک حدیث میں آتا ہے۔ ابی مالکؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ مَنْ قَالَ لَااِلٰہَ اِلَّاللّٰہُ وَکَفَرَ بِمَا یُعْبَدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَرُمَ مَالُہٗ وَدَمُہٗ وَحِسَابُہٗ عَلَی اللّٰہِ۔

(مسلم کتاب الاِیمان۔ باب الامر بقتال الناس حتی یقولوا لَاالہ الّا اللّٰہ حدیث 38)

کہ مَیں نے آنحضرتﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے یہ اقرار کیا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودنہیں اور انکار کیا ان کا جن کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی ہے تو اس کے جان و مال قابل احترام ہو جاتے ہیں۔ (ان کو قانونی تحفظ حاصل ہو جاتا ہے)۔ باقی اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ وہی جانتا ہے کہ اس کی نیت کیا ہے اور وہ اس کی نیت کے مطابق اسے بدلہ دے گا۔ کلمہ پڑھنے کے بعد، لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہ کہنے کے بعد، وہ بندوں کی گرفت سے آزاد ہو جاتا ہے۔

پھر ایک دوسری حدیث میں آتا ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ مَنْ صَلَّی صَلٰوتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَاَکَلَ ذَبِیْحَتَنَا فَذٰلِکَ الْمُسْلِمُ الَّذِیْ لَہٗ ذِمَّۃُ اللّٰہِ وَذِمَّۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ فَلَا تُخْفِرُوْا اللّٰہِ فِی ذِمَّتِہٖ۔

(صحیح بخاری کتاب الصلوٰۃ باب فضل استقبال القبلۃ حدیث نمبر 391)

حضرت انسؓ بن مالک کہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ہماری طرح نماز پڑھے اور اس میں ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرے، ہمارا ذبیحہ کھائے وہ مسلمان ہے۔ جس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ اور اس کے رسولﷺ نے لی ہے۔ پس اللہ کی ذمہ داری کی بے حرمتی نہ کرو۔ اسے بے اثر نہ بناؤ اور اس کا وقار نہ گراؤ۔

پس علماء جو یہ کہتے ہیں اُن سے میری درخواست ہے کہ اپنے اسلام کو پیٹنٹ (Patent) نہ کروائیں۔ ایسا اسلام پیش نہ کریں جو اللہ اور اس کے رسول کی تعریف کے مخالف ہے۔ اسلام وہی ہے جس کی تعریف آنحضرتﷺ نے فرمائی ہے۔ ہمیں تو اِس تعریف کے تحت آنحضرتﷺ نے مسلمان قرار دے دیا ہے اور اس کے بعدنہ ہمیں کسی مولوی کے سرٹیفیکیٹ کی ضرورت ہے اور نہ کسی پارلیمنٹ کے سرٹیفیکیٹ کی ضرورت ہے۔

(خطبہ جمعہ 11؍ ستمبر 2009ء)(الفضل انٹرنیشنل جلد16 شمارہ 40 مورخہ 2 اکتوبر تا 8 اکتوبر 2009ء صفحہ 5 تا صفحہ 8)

صبر اور دعا سے کام

… بعض حدیثوں سے بھی ثابت ہے کہ یہ یہودی بعض دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالس میں آتے تھے یا ویسے ملتے تھے تو اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کی بجائے اَلسَّامُ عَلَیْکَ کہہ کر نعوذ باللہ آپ کی موت کی خواہش کیا کرتے تھے، جیسا کہ پہلے بھی مَیں گزشتہ خطبوں میں حدیث بیان کر چکا ہوں۔ اس پر بعض اوقات صحابہ کہتے کہ ہم اسے قتل کر دیں تو آپؐ فرماتے: نہیں۔ (بخاری کتاب استتابۃ المرتدین والمعاندین … باب اذا عرض الذمی وغیرہ … حدیث نمبر 6926) اس لئے کہ ان کی بیہودہ گوئیوں کا معاملہ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں لیا ہوا ہے۔ جہنم میں ڈال کر جو سزا خدا تعالیٰ نے دینی ہے وہ اس دنیاوی سزا کی طرح نہیں ہو سکتی۔ پس جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں بیشک آپؐ خدا تعالیٰ کے سب سے زیادہ پیارے ہیں۔ تا قیامت آپ کا سلسلہ نبوت جاری ہے۔ تمام انبیاء سے آپؐ افضل ہیں لیکن اس کے باوجود تمام رسولوں کی طرح آپ کو دشمنانِ دین کی مخالفتوں اور ہر قسم کے نقصان پہنچانے کی تدبیروں کا سامنا کرنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو ہر موقع پر یہی کہا کہ اولوالعزم انبیاء کی طرح صبر اور دعا سے کام لے۔ یہی آپ کے ماننے والوں کو کہا گیا۔ اور خود بھی بیان فرمایا کہ ان دشمنانِ دین کے استہزاء، بیہودہ گوئیوں اور خباثتوں کا میں کس کس رنگ میں بدلہ لوں گا۔ بعض کا اس دنیا میں اور بعض کا مرنے کے بعد جہنم کی آگ میں ڈال کر۔ ہاں اگر دشمن جنگ کرے اور قوم کا امن و سکون برباد کرے تو پھر اس سے مقابلے کی اجازت ہے۔ کیونکہ اس مقابلہ کی اجازت نہ دی گئی تو مذاہب کے مخالفین ہر مذہب کے ماننے والے کا چین اور سکون برباد کر دیں گے۔

اس دنیا میں کس طرح خدا تعالیٰ آپ کی توہین کے بدلے لیتا رہا، اس کے بھی بہت سے واقعات ہیں۔ ایک بدلے کا اعلان قرآنِ کریم میں یہ کہہ کر فرمایا کہ تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَھَبٍ وَّتَّب (اللھب: 2) کہ ابو لہب کے دونوں ہاتھ شَل ہو گئے۔ جب آپ نے پہلے دعویٰ کیا اور اس وقت جب اپنے رشتہ داروں کو تبلیغ کے لئے اکٹھا کیا تو اس شخص نے جو آپ کا چچا تھا بڑے نازیبا الفاظ آپ کے بارہ میں استعمال کئے تھے۔ (بخاری کتاب التفسیر باب سورۃ تبت یدا ابی لہب… حدیث نمبر 4971) تو قادر و تواناخدا جو بڑے سچے وعدوں والا ہے اُس نے اس کو کس طرح پکڑا۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک سفر کے دوران اس پر بھیڑیوں نے حملہ کر دیا اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو تاقیامت خدا کے پیارے اور افضل ہیں۔ آپ سے کئے گئے خدا تعالیٰ کے وعدے بھی ہمیشہ پورے ہوتے رہیں گے۔ ہر زمانے میں دشمنانِ اسلام اپنے انجام کو پہنچتے رہے ہیں اور پہنچتے رہیں گے۔

اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بلند شان کے نظارے اور خدا تعالیٰ کا آپؐ سے پیار کا سلوک دکھاتا چلا جائے۔ اور ہم حقیقی رنگ میں قرآنی تعلیم کو بھی اپنے اوپر لاگو کرنے والے ہوں اور ایسے مومن بننے کی کوشش کریں جس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت سے توقع کی ہے۔

(خطبہ جمعہ 28؍ جنوری 2011ء)

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 30 اکتوبر 2020