• 1 دسمبر, 2020

آنحضرت ﷺ بحیثیت ’’داعی الیٰ اللہ‘‘

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا۔وَّ دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذۡنِہٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیۡرًا۔

ترجمہ: ’’اے نبی ! ہم نے تمہیں گواہی دینے والا اور خوشخبری دینے والا اور انذار کرنے والااور اللہ تعالیٰ کے اِذن سے اس کی طرف بلانے والاروشن چراغ بنا کر بھیجا ہے۔‘‘

(سورۃالاحزاب۔47،46)

پھر ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ۔ وَ اِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسَالَتَہٗ۔وَ اللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ۔ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡکٰفِرِیۡنَ ۔

(سورۃ المائدہ :68)

ترجمہ: ’’اے رسول !تیرے رب کی طرف سے جو کلام بھی تجھ پر اُتارا گیا ہے اُسے لوگوں تک پہنچا۔ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو گویا تو نے اس کا پیغام بالکل نہیں پہنچایا اور اللہ تعالیٰ تجھے لوگوں کے حملے سے محفوظ رکھے گا۔ اللہ کافروں کو ہر گز کامیابی کی راہ نہیں دکھائے گا۔‘‘

دعوت الیٰ اللہ انبیاء علیہم السلام کا کام ہے ۔اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیھم السلام کو دُنیا میں خالص توحید کے قیام کے لئے مبعوث فرمایا ۔ دُنیا میں جس قدر انبیاء آئے ان سب نے انسانوں کو معبود ِحقیقی یعنی خدائے واحد کی جانب ہی بلایا اور فرمایا کہ اس کی عبادت کرو اور اس کی تمام تر صفات پر ایمان لاؤ۔

قارئین ِکرام ! جس احسن طریق پر اور اعلیٰ درجہ پر یہ کام ہمارے آقا و مولیٰ سیّدنا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اس کی مثال نہیں مل سکتی ۔ آپؐ کی بعثت سے قبل دُنیا گمراہی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبی ہوئی تھی اور کلام اللہ کے مطابق ظَھَرَ الْفَسَادُ فِیْ الْبَرِّ وَالْبَحْر کا نقشہ تھا۔ لوگوں میں بے شمار برائیوں کے علاوہ سب سے بڑی خرابی یہ تھی کہ وہ سینکڑوں معبودانِ باطلہ کے پُجاری تھے ۔ایسے حالات کو دیکھ کر قرآن مجید کے مطابق وَوَجَدَکَ ضَآلًّافَھَدَیٰ (سورۃ الضحیٰ) وہ درد مند دل جو اپنی قوم کی محبت سے سرشار تھا وہ تڑپا اور خدا نے اسے قوم کے لئے مصلح بنایا ۔ آپؐ کا قلبِ اطہر تباہ حال انسانیت کو بچانے کے لئے تنہائی میں خدا کے حضور گریہ و زاری و آہ و بکا سے پگھلتا۔ پس اس فانی فی اللہ کی مضطرعانہ دُعاؤں کا نتیجہ تھا کہ اس انتہا بگڑی ہوئی قوم کو نہ صرف انسان بلکہ خدا نما انسان بنا دیا ۔سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان دُعاؤں اور تاثیرات کا نقشہ کچھ یوں کھینچا ہے:
’’وہ جو عرب کے بیابانی ملک میں ایک عجیب ماجرا گزرا کہ لاکھوں مرد ے تھوڑے دنوں میں زندہ ہو گئے۔پشتوں کے بگڑے ہوئے الٰہی رنگ پکڑ گئے اور آنکھوں کے اندھے بینا ہوئے اور گونگوں کی زبان پر الٰہی معارف جاری ہوئے ۔ اور دُنیا میں یکدفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا ۔کچھ جانتے ہو وہ کیا تھا؟وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دُعائیں ہی تھیں جنہوں نے دُنیا میں شور مچا دیا اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اس اُمّی بیکس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں۔‘‘

(برکات الدعا صفحہ5)

قارئینِ کرام ! آغازِ وحی سے آپؐ پر آپ کے فرائض اور آئندہ آنے والی ذمہ داریوں سےپوری طرح سے آگاہی ہو چکی تھی ۔مگر خدا تعالیٰ نے یہ ارشاد فرما کر کہ یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّک فریضہ تبلیغ کو آپؐ کی بعثت کی اصل غرض قرار دے دیا اور تاریخ شاہد ہے کہ رسول ِ دو جہاں سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے اِذنِ الٰہی سے داعی الیٰ اللہ کے بلند ترین مقام پر فائز ہو کر ارشادِ ربّانی بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ کے فریضہ کو جس احسن طریق پر سر انجام دیا وہ قابلِ ستائش ہے۔تمام سیرتِ طیبہ پہ نگاہ ڈالنے سے یہ بات پا یۂ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ آپؐ کامیاب اور بہترین داعی الیٰ اللہ تھے اور کسی بھی موقع پر خواہ کیسا ہی کیوں نہ ہو اپنے اس فرضِ منصبی سے غافل نہیں ہوئے ۔ ہزاروں ہزار دُرود اس محسن پر جس نے اس راہ میں انواع و اقسام کی تکالیف برداشت کیں ،گھر سے بے گھر ہوئے ،عزیزو اقارب کی قربانیاں دیں ۔ہر قسم کے دُنیاوی لالچ دئیے گئے ،لہو لہان کئے گئے مگر ہر دو میدان میں دشمن کو ہزیمت اٹھانی پڑی ، نہ کوئی خوف آپؐ کو پایۂ استقلال سے ہٹا سکا اور نہ ہی کوئی لالچ آپؐ کو آپ کے مشن سے ہٹا سکی۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ۔

قارئین ِکرام ! ابتدائے رسالت میں تین سال تک آپؐ نے خاموشی سے یہ فرض انجام دیا اور اس کے بعد بہت خوبصورت پھل عظیم اکابر صحابہ کرامؓ کی صورت میں عطا ہوئے ۔ مگر پھر بھی ایک ضعف کی سی حالت تھی۔نبوت کے چوتھے سال اعلانیہ تبلیغ کا حکم ہوا تو آپؐ نے نہایت دلیرانہ انداز میں اہلِ مکہ کو حق کی دعوت دی اور اس موقع پر بھی جس فراست اور تبلیغی حکمت کو آپؐ نے اپنایا وہ بھی تاریخ میں ایک نہایت روشن مثال ہے۔ اس پہ کفار مکہ نے جب استہزا سے کام لیا تو آپؐ تھک کر مایوس ہو کر بیٹھ نہیں گئے بلکہ ایک نئے عزم کے ساتھ پھر ان کے لئے دعوت کا اہتمام فرمایا اور اس موقع پر جب آپؐ نے پیغام ِ حق دینا چاہا تو ابو لہب کی شرارت کی بدولت لوگ منتشر ہو گئے ۔اگلی بار پھر دعوت کا اہتمام فرمایا اور کفارِ مکہ تک پیغام ِ خدائے واحد کو رکھا جس کو سن کر سوائے ایک کمسن بچے کے کسی نے قبول نہ کیا ۔آپؐ نے تبلیغی سر گرمیوں کو تیز کرنے کے لئے اپنے چند صحابہؓ کے ہمراہ خفیہ مرکز قائم فرمایا تاکہ متلاشیانِ حق تک پیغامِ حق کو رکھ سکیں ۔کفار مکہ ان سب سرگرمیوں سے خوب آگاہ تھے انہوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ کسی طور پر آپؐ کو پیغامِ حق پہنچانے سے روک سکیں ۔ مگر اُن کی ہر چال ناکام اور ہر حیلہ بیکار جاتا رہا اور یوں شمعِ حق جو ایک چھوٹے سے علاقے میں جلی تھی اس کا چرچا سارے عرب میں ہونے لگا ۔

جوں جوں آنحضرت ﷺ ارشادِ ربّانی کے ماتحت اپنی تبلیغی سرگرمیوں کو تیز فرماتے جاتے مخالفت کی آگ اور بھڑک اٹھتی ۔اس دوران کئی مصائب کے علاوہ آپ ؐ اور آپ کے تمام خاندان کو تین سال تک محصور رہنا پڑا ۔ ایک طویل عرصے بعد سن 10 نبوی میں جب محصوریت کا المناک دَور ختم ہوا تو آپؐ نے مکہ سے باہر تبلیغ کی غرض سے طائف کی جانب سفر اختیار کیا ۔طائف میں رسولِ خدا ﷺ کے ساتھ ہونے والے شرمناک سلوک سے کون مسلمان واقف نہیں مگر یہ سلوک بھی آپؐ کو پایہ استقلال سے ہٹا نہ سکا ۔

غرض کفار مکہ نے اپنا ایڑی چوٹی کا زور لگا کے دیکھ لیا کہ کسی طور پر اسلام کو یا آپؐ کی ذات کو نقصان پہنچا سکیں مگر مشیتِ ایزدی ان کی ہر چال ناکام کر رہی تھی اور اسلامی چشمہ کے جس بہاؤ کو روکنے کے لئے وہ سر توڑ کوشش کر رہے تھے اس کا منہ یثرب کی جانب بہہ نکلا اور یوں شوکتِ اسلام کا نیا باب رقم ہوا ۔ مبلغِ اعظم نے 13 سال مکہ میں پوری تندہی کے ساتھ توحیدِ حق کی منادی کی اور جب آپؐ نے چاہا کہ یثرب میں امن و سکون سے دین کے پیغام کو لوگوں تک پہنچائیں تو یہ بات بھی دشمنوں کو گوارا نہ ہوئی۔ہجرت مدینہ سے لے کر صلح حدیبیہ تک بارہا آپؐ کو جنگوں اور غزوات میں سے گزرنا پڑااور ہر ممکن کوشش کی کہ واحدویگانہ کے پرستاروں کو صفحۂ ہستی سے مٹا ڈالیں مگر انہی کے گرم کئے ہوئے میدانِ کار زار کو خدا نے توحید اور توحید کے علمبرداروں کے لئے عظمت کا نشان بنا دیا۔

قارئین ِکرام ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغی سرگرمیوں میں آپؐ کے حسنِ سلوک اور حسنِ تدبیر کو بھی نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ چنانچہ آپؐ کے حسن ِسلوک سے متاثر ہو کر بعض اوقات پتھر دل موم بن کر آستانہ الٰہی پر پگھل جاتے اور اکڑی ہوئی گردنیں ربِّ کریم کے حضور سر نگوں ہو جاتیں ۔اشد ترین دشمن ایسے دوست بن جاتے کہ ان سے بڑھ کر کوئی دوست نہ ہو ۔

تبلیغی نقطہ نگاہ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے آپؐ نے تمام بادشاہوں کے نام تبلیغی خطوط بھجوائے اور اس ضمن میں ان تمام امور کو ملحوظِ خاطر رکھا جو بادشاہوں کو مخاطب کرنے کے لئے ضروری تھے اور یہ ایک بہترین حکمت تھی۔ اس دوران کئی متلا شیان ِحق آپؐ کے دربار میں حاضر ہو کر مشرف بہ اسلام ہوتے رہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آغازِ نبوت سے زندگی کے آخری لمحہ تک اپنے فرضِ منصبی سے کبھی غافل نہیں ہوئے۔ خدا کا یہ برگزیدہ انسان اور محبوب رسولؐ ہر دَور میں خدا کا پیغام پہنچاتا رہا ۔پہلے افراد نے آپؐ کی تبلیغ سے اسلام قبول کیا اور پھر قبائل میں اسلام پھیلا اور بڑھتے بڑھتے چہار اکناف میں اسلام کا ڈنکا بجنے لگا۔ غرض کہ آپؐ کی زندگی کا اَوڑھنا بچھونا خدائے واحد کی تعلیم کا پرچار کرنا تھا یہانتک کہ حجۃ الوداع کے موقع پر آپؐ نے سوال کیا: ’’کیا میں نے احکامِ الٰہی تم کوپہنچا دئیے‘‘ سب نے یک زبان ہو کر سب نے جواب دیا ہاں! اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اے اللہ !تو گواہ رہنا کہ میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا ہے۔‘‘ چنانچہ اپنے کام کی کامیاب تکمیل کے بعد اَللّٰھُمَّ بِا لرَّ فِیْقِ الْاَعْلیٰ کہتے ہوئے اس فانی دُنیا کو چھوڑ کر اپنے مولا حقیقی سے جا ملے۔

ایک وہ شخص جسے اس کی قوم نے حقارت کی نظر سے دیکھا اور رد کر دیا وہ خدا کی راہ میں دلیری کے ساتھ اپنے شہر سے نکلتا ہے اور ایک بُت پرست شہر میں جا کر اُن کو توحید کی طرف بلاتا ہے اور توبہ کا وعظ کرتا ہے۔ اس واقعہ سے یقیناً اس بات پر روشنی پڑتی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے صدق دعویٰ پر کس درجہ ایمان تھا۔

٭…٭…٭

(مرسلہ: کاشف محمود)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 30 اکتوبر 2020