• 4 فروری, 2023

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے (قسط 71)

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے
ذاتی تجربات کی روشنی میں
قسط 71

الانتشار العربی نے اپنی اشاعت 2؍اگست 2011ء میں صفحہ20 پر اپنے عربی سیکشن میں حضرت امیر الموٴمنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ کا خلاصہ عربی زبان میں نصف صفحہ پر حضور انور کی تصویر کے ساتھ شائع کیا۔

اس خطبہ جمعہ میں حضور انور نے رمضان المبارک کی اہمیت و برکات پر قرآن کریم کی تلاوت اور دیگر تربیتی امور کی طرف توجہ دلائی۔ حضور انور نے درج ذیل آیات قرآنی تلاوت فرمائیں۔

(1) شَہۡرُ رَمَضَانَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ فِیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡہُدٰی وَالۡفُرۡقَانِ ۚ فَمَنۡ شَہِدَ مِنۡکُمُ الشَّہۡرَ فَلۡیَصُمۡہُ ؕ وَمَنۡ کَانَ مَرِیۡضًا اَوۡ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنۡ اَیَّامٍ اُخَرَ ؕ یُرِیۡدُ اللّٰہُ بِکُمُ الۡیُسۡرَ وَلَا یُرِیۡدُ بِکُمُ الۡعُسۡرَ ۫ وَلِتُکۡمِلُوا الۡعِدَّۃَ وَلِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ہَدٰٮکُمۡ وَلَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۱۸۶﴾

(البقرہ: 186)

ترجمہ: رمضان کا مہینہ جس میں قرآن انسانوں کے لئے ایک عظیم ہدایت کے طور پر اُتارا گیا اور ایسے کھلے نشانات کے طور پر جن میں ہدایت کی تفصیل اور حق و باطل میں فرق کر دینے والے امور ہیں۔ پس جو بھی تم میں سے اس مہینے کو دیکھے تو اِس کے روزے رکھے اور جو مریض ہو یا سفر پر ہو تو گنتی پوری کرنا دوسرے ایام میں ہوگا۔ اللہ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے تنگی نہیں چاہتا اور چاہتا ہے کہ تم (سہولت سے) گنتی کو پورا کرو اور اس ہدایت کی بنا پر اللہ کی بڑائی بیان کرو جو اُس نے تمہیں عطا کی اور تاکہ تم شکر کرو۔

(2) یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿۱۸۴﴾ۙ

(البقرہ: 184)

ترجمہ: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر روزے اسی طرح فرض کر دیئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔

(3) اَلَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یَتۡلُوۡنَہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ

(البقرہ: 122)

ترجمہ: وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی درآنحالیکہ وہ اس کی ویسی ہی تلاوت کرتے ہیں جیسا کہ اس کی تلاوت کا حق ہے۔

(4) وَّاُمِرۡتُ اَنۡ اَکُوۡنَ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿ۙ۹۲﴾

(النمل: 92)

ترجمہ: اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہو جاؤں۔

(5) وَاَنۡ اَتۡلُوَا الۡقُرۡاٰنَ

(النمل: 93)

ترجمہ: اور یہ کہ میں قرآن کی تلاوت کروں۔

(6) وَقَالَ الرَّسُوۡلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوۡمِی اتَّخَذُوۡا ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ مَہۡجُوۡرًا ﴿۳۱﴾

(الفرقان: 31)

ترجمہ: اور رسول کہے گا اے میرے ربّ! یقیناً میری قوم نے اس قرآن کو متروک کر چھوڑا ہے۔

حضور انور نے جو حدیث نبویہ بیان فرمائی:

اِنَّ جِبْرِیْلَ کَانَ یُعَارِضُنِیْ الْقُرْاٰنَ کُلَّ سَنَۃٍ مَرَّۃً وَ اِنَّہُ عَارَضَنِی الْعَامَ مَرَّتَیْنِ

(بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوۃ فی الاسلام)

ترجمہ: جبرائیلؑ ہر سال ایک دفعہ قرآن کا دَور مجھ سے کیا کرتے تھے اور اس سال انہوں نے مجھ سے دو بار دَور کیا۔

حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی
تحریرات و ملفوظات سے

’’اور تمہارے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ تم قرآن شریف کو مہجور کی طرح نہ چھوڑ دو کہ اسی میں تمہاری زندگی ہے‘‘ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد19 صفحہ13) حضور انور نے فرمایا کہ اس میں تنبیہ کی گئی ہے کہ یہ نہ ہو صرف اس کو پڑھو بلکہ عمل کی طرف توجہ دلائی گئی ورنہ روحانی زندگی کا بالکل مزا نہ ہوگا۔‘‘

آپ علیہ السلام نے مزید فرمایا کہ:
’’جو لوگ ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول پر قرآن کو مقدم رکھیں گے ان کو آسمان پر مقدم رکھا جائے گا۔ نوع انسان کے لئے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن اور تمام آدم زادوں کے لئے اب کوئی شفیع نہیں مگر محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم۔ سو تم کوشش کرو کہ سچی محبت اس جاہ و جلال کے نبی کے ساتھ رکھو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو تا آسمان پر تم نجات یافتہ لکھے جاؤ اور یاد رکھو کہ نجات وہ چیز نہیں جو مرنے کے بعد ظاہر ہوگی بلکہ حقیقی نجات وہ ہے کہ اسی دنیا میں اپنی روشنی دکھلاتی ہے۔ نجات یافتہ کون ہے؟ وہ جو یقین رکھتا ہے جو خدا سچ ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس میں اور تمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہے اور آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مرتبہ کوئی اور رسول ہے اور نہ قرآن کےہم مرتبہ کوئی اور کتاب ہے اور کسی کے لئے خدا نے نہ چاہا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے مگر یہ برگزیدہ نبی ہمیشہ کے لئے زندہ ہے اور اس کے ہمیشہ زندہ رہنے کے لئے خدا نے یہ بنیاد ڈالی کہ اس کے افاضہِ تشریعی اور روحانی کو قیامت تک جاری رکھا۔‘‘

(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد19 صفحہ13-14)

حضرت امیر الموٴمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حضرت مسیح موعودؑ کا یہ حوالہ بھی پڑھا جس میں آپؑ فرماتے ہیں:
’’یاد رکھو! قرآن شریف حقیقی برکات کا سرچشمہ اور نجات کا سچا ذریعہ ہے۔ یہ اُن لوگوں کی اپنی غلطی ہے جو قرآنِ شریف پر عمل نہیں کرتے۔ عمل نہ کرنے والوں میں سے ایک گروہ تو وہ ہے جس کو اس پر اعتقاد ہی نہیں اور وہ اس کو خدا تعالیٰ کا کلام ہی نہیں سمجھتے۔ یہ لوگ تو بہت دور پڑے ہوئے ہیں، لیکن وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور نجات کا شفا بخش نسخہ ہے اگر وہ اس پر عمل نہ کریں تو کس قدر تعجب اور افسوس کی بات ہے۔ ان میں سے بہت سے تو ایسے ہیں جنہوں نے ساری عمر میں کبھی اُسے پڑھا ہی نہیں۔ پس ایسے آدمی جو خدا تعالیٰ کے کلام سے ایسے غافل اور لاپروا ہیں، اُن کی ایسی مثال ہے کہ ایک شخص کو معلوم ہے کہ فلاں چشمہ نہایت ہی مصفّٰی اور شیریں اور خُنک ہے اور اس کا پانی بہت سی امراض کے واسطے اکسیر اور شفاء ہے۔ یہ علم اُس کو یقینی ہے لیکن باوجود اس علم کے اور باوجود پیاسا ہونے اور بہت سی امراض میں مبتلا ہونے کے وہ اس کے پاس نہیں جاتا تو یہ اُس کی کیسی بدقسمتی اور جہالت ہے۔ اُسے تو چاہئے تھا کہ وہ اس چشمہ پر منہ رکھ دیتا اور سیراب ہو کر اُس کے لطف اور شفا بخش پانی سے حظ اٹھاتا۔ مگر باوجود علم کے اُس سے ویسا ہی دور ہے جیسا کہ ایک بے خبر۔‘‘

(خطبات مسرور جلد نہم صفحہ619-620)

ہفت روزہ پاکستان ایکسپریس نے اپنی اشاعت 5؍اگست 2011ء میں صفحہ 13 پر خاکسار کا مضمون بعنوان ’’رمضان المبارک اور قبولیت دعا‘‘ خاکسار کی تصویر کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس مضمون میں پہلے رمضان المبارک کی اہمیت اور برکات بیان کی گئی ہیں اور رمضان المبارک سے ملنے والے سبق کی طرف توجہ دلائی گئی پھر قبولیت دعا کے بارے میں آیت کریمہ (البقرہ: 187) کی روشنی میں ’’جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقیناً میں قریب ہوں۔‘‘ یہی بات اسلام کو دوسرے مذاہب سے ممتاز کرتی ہے کہ اسلام کا خدا زندہ خدا ہے اور وہ اپنے بندوں کی دعائیں سنتا اور ان کو جواب دیتا ہے۔ لیکن اس آیت میں آگے چل کر اللہ تعالیٰ نے قبولیت دعاکی شرائط بیان کی ہیں یعنی پھر ایسے بندے فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ کی شرط کو پورا کریں۔ حضرت عمرؓ کی یہ روایت بھی درج ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رمضان میں اللہ کا ذکر کرنے والا بخشا جاتا ہے اور اِس ماہ اللہ سے مانگنے والا نامراد نہیں رہتا۔ اس کے بعد قبولیت دعا کے طریق لکھے گئے ہیں۔

پہلا طریق قبولیتِ دعا کا:۔ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ میں ہے۔ تم میری ہر بات ماننا۔

دوسرا طریق: وَلْیُؤْمِنُوْبِیْ۔ مجھ پر ایمان بھی لائیں۔

تیسرا طریق: قبولیت دعا کے لئے یہ ہے کہ کسی انسان کے دکھ اور تکلیف کو دور کرے کیونکہ جو خدا کے بندوں پر رحم کرتا ہے خدا اس پر رحم کرتا ہے اور اس کی دعا قبول ہوگی۔

چوتھا طریق: دعا سے قبل اللہ تعالیٰ کی حمد و تعریف بیان کرے۔

پانچواں طریق: اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجے۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَسَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْد۔

اس ضمن میں چند احادیث بھی درج کی گئی ہیں۔ ایک حدیث یہ ہے کہ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نمازمیں دعا کرتے ہوئے سنا۔ نہ اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد ثناء بیان کی اور نہ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھا۔ اس پر آپؐ نے فرمایا کہ اس شخص نے جلد بازی سے کام لیا اور صحیح طریق سے دعا نہیں کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلایا اور فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز میں دعا کرنے لگے تو پہلے اپنے رب کی ثناء بیان کرے پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) پر درود بھیجے اس کے بعد حسب منشاء دعا کرے۔‘‘

چھٹا طریق:۔ اپنی دعا سے قبل اپنےکپڑوں اور بدن کو بھی صاف کر لے۔ کیوں کہ اسلام نے تمام عبادتوں کے لئے صفائی کو شرط قرار دیا ہے۔

ساتواں طریق: اپنی دعا سے قبل وہ دعائیں جن کو اللہ تعالیٰ نے قبول کرنا ہی ہے پڑھے۔ مثلاً دین اسلام کی برتری اور اللہ تعالیٰ کے جلال اور قدرت کے اظہار اور غلبہ کے لئے پھر بعد اس کے اپنی حاجات بیان کرے۔ اس قسط میں اتنی باتیں لکھی گئی تھیں۔

ہفت روزہ نیویارک عوام نے اپنی اشاعت 5 تا 11؍ اگست 2011ء میں صفحہ 12 پر خاکسار کا مضمون بعنوان ’’رمضان المبارک اور قبولیت دعا‘‘ کی پہلی قسط خاکسار کی تصویر کے ساتھ شائع کیا۔ یہ مضمون وہی ہے جو اوپر گزر چکا ہے۔

چینوچیمپئن نے اپنی اشاعت 6 تا 12؍ اگست 2011ء میں صفحہ B5 پر ایک مختصر سی خبر شائع کی ہے۔ خبر کا عنوان ہے: ’’رمضان کا مہینہ شروع ہوگیا ہے۔‘‘

اخبار لکھتا ہے یکم اگست سے مسلمانوں کا بابرکت ماہ صیام شروع ہوچکا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ مسلمان صبح سے غروب آفتاب کچھ کھائیں اور پئیں گے نہیں۔ مسجد بیت الحمید کے امام سید شمشاد احمد ناصر نے کہا کہ رمضان اس لئے آتا ہے کہ ہم تقوٰی اور محبت الٰہی میں مزید قدم آگے بڑھائیں، تقویٰ کے ساتھ اپنی اصلاح بھی مدنظر ہوگی نیز صبر کا خلق بھی اپنانا ہوگا اور خدمت خلق بھی۔

خبر کے آخر میں لکھا ہے کہ کوئی بھی ہماری مسجد آسکتا ہے اور رمضان کی عبادتوں میں حصہ لے سکتا ہے۔ نیز شام کو درس القرآن اور ڈنر میں بھی شامل ہوسکتا ہے۔

یوکے ٹائمز انٹرنیشنل۔ لندن یوکے۔ نے اپنی اشاعت 11؍ اگست 2011ء میں صفحہ 7 پر خاکسار کا مضمون بعنوان ‘‘عدل و انصاف کا فقدان اور یوم آزادی’’ خاکسار کی تصویر کے ساتھ شائع کیا۔ اس مضمون میں خاکسار نے وطن عزیز میں یوم آزادی اور وہاں کے تشویشناک حالات کے بارے میں بتایا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے:
خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم رمضان المبارک کے بابرکت مہینہ سے گذر رہے ہیں اور ہر شخص اپنی اپنی استعداد اور استطاعت کے مطابق نمازیں، روزے، صدقہ و خیرات اور دیگر نیکی کے کاموں سے اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس بابرکت مہینہ ہی میں اس دفعہ وطن عزیز میں 14؍اگست کے حوالہ سے یوم آزادی بھی جوش و خروش سے منایا جائے گا۔ خدا کرے کہ رمضان المبارک جو سبق دینا اور سکھانا چاہتا ہے قوم وہ سبق بھی حاصل کرے۔ اس دن روایتی طور پر ارباب حل و اقتدار سلامیاں بھی لیں گے اور ملک و قوم کے لئے سلامتی کی دعائیں بھی مانگی جائیں گی۔

خاکسار نے اس مضمون میں روزنامہ ایکسپریس 12؍جنوری 2010ء سے جناب جاوید چوہدری صاحب کے کالم کا ایک حصہ بھی لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: عذاب اور کس کو کہتے ہیں؟

’’پاکستان اس وقت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا سب سے بڑا اتحادی ہے۔ ہم اس جنگ میں وہ سب کچھ کھو چکے ہیں جو62 برسوں میں حاصل کیا تھا۔ ہماری معیشیت آخری دموں پر پہنچ چکی ہے۔ ہماری انڈسٹری، کاروبار، سیاحت اور بازار بند ہوچکے ہیں، پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کے تعلیمی ادارے تک دہشت گردی کی وجہ سےبند ہوگئے تھے۔ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری ختم ہوچکی ہے۔ پورے ملک کا انفراسٹرکچر ٹوٹ چکا ہے۔ ملک میں 18-18 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ تمام بڑے شہروں پر خودکش حملوں کے خطرات منڈلاتے رہتے ہیں۔ ہمارے قبائلی علاقوں میں جنگ ہورہی ہے۔ اس لئے پہلے سوات میدان جنگ تھا سوات کی جنگ ختم ہوگئی مگر زندگی ابھی تک وہاں پر معمول کے مطابق نہیں آئی۔ سارا معاشرہ بے روزگاری، مہنگائی، تشدد، دہشت گردی، ڈپریشن اور لالیسنیس (Law Lessness) کی انتہاء کو چھو رہا ہے اور اس جنگ میں ہمارے اتنے فوجی افسر اور فوجی نوجوان شہید ہوچکے ہیں جتنے 3 جنگوں میں نہیں ہوئے تھے۔ لیکن اس خدمت کا صلہ ہمیں تذلیل، بے عزتی اور توہین کی شکل میں مل رہا ہے۔‘‘

خاکسار نے یہ اتنا حصہ لکھ کر بتایا کہ میں اس تراشہ کے سیاسی پہلوؤں پر تو گفتگو نہیں کرنا چاہتا لیکن اخلاقی پہلوؤں کو ضرور چھوؤں گا کہ جس قوم کے اخلاق بگڑ جائیں وہ پھر عذاب ہی کی مستحق ہوتی ہے اور ہر قسم کی آفتیں اس پر آتی ہوتی ہیں۔ ایسے میں یوم آزادی کا کیا مطلب ہوگا؟

وہ کیا عزائم اور مقاصد تھے جن کی بنیاد پر پاکستان کو حاصل کیا گیا تھا۔ قائد اعظم کا پاکستان بنانے کے لئے وہ کون سا خواب تھا جو آج تک شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا؟ جس ملک میں انصاف کا فقدان ہوجائے جس ملک میں انسانیت کی عزت و احترام ختم ہوجائے۔ جس ملک میں لوٹ کھسوٹ، قتل و غارت، بے ایمانی اپنی حدوں کو بھی پھلانگ جائے وہاں کس قسم کی یوم آزادی منائی جائے گی؟

قوم کس بات پر نازاں ہے کہ ہم بے ایمانی میں بڑھ گئے ہیں! قوم کس بات پر خوش ہے کہ ہم نے گزشتہ 63 سالوں میں اپنے ہی لوگوں کو دائرہ اسلام سے خارج کر کے کافر بنا دیا!

قوم کس بات پر نازاں ہے اور فخر سے سر بلند کر رہی ہے کہ ملاں ازم کا بھوت حکومت کے سر پر سوار ہے۔ جو ان کی گردن کو اب خدا ئے واحد کے آگے جھکانے کی بجائے ملاں ازم کے آگے جھکا رہا ہے۔ جس قوم میں عزت و احترام ختم ہوجائے۔ مذہب کی آڑ میں انسانی قدروں کا خون کر دیا گیا ہو۔ پھر وہ یوم آزادی کس طرح مناسکتی ہے؟

جیسا کہ میں نے کہا بس سلامیاں لے کر، مساجد میں دعائیں مانگ کر۔ یہ دعائیں جو مانگتے ہیں خدا ان کو سنتا کیوں نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ قوم کرتوتوں پر شرمندہ نہیں ہوتی، تائب نہیں ہے۔ لبوں پر دعا اور دل میں کچھ اور ورنہ اللہ تعالیٰ تو ظالم نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ بندے خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔

خاکسار نے ایک مضمون لکھا تھا جو امریکہ کے دیگر اخبارات میں شائع ہوا جس کا عنوان تھا:

Freedom isn’t Freedom Without Justice

یہ ملک امریکہ جس کی اکثریت عیسائیت اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھتی ہے۔ جب اس نے اپنا آئین بنایا تو ہر ایک شخص کو خواہ وہ کسی مذہب، قوم اورملت سے تعلق رکھتا ہو اسے اس میں پوری آزادی دی ہے۔ وہ کوئی بھی مذہب اختیار کر سکتا ہے لیکن وائے افسوس وطن عزیز کو آزادی حاصل کرانے میں جس گروپ اور لوگوں نے قربانیاں دیں انہیں ہی آج اس ملک میں بنیادی حقوق سے محروم کر دیا گیا۔

ہر دوملک کے آئین اور قوانین کو دیکھئے آپ کو بہت بڑا فرق نظر آئے گا۔ امریکہ ہر ایک کو مذہبی آزادی دیتا ہے جب کہ وطن عزیز میں یہ آزادی آئین اور قانون کے ذریعہ ختم کر دی گئی ہے۔ قائد اعظم نے تو آزادی حاصل کر کے سب کو آزادی دے دی تھی کہ تم سب آزاد ہو مساجد میں جانے میں تم آزاد ہو اپنے مندر میں جانے میں، ریاست کا تمہارے مذہب کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہوگا لیکن جوں ہی بانیٔ پاکستان نے آنکھیں بند کیں تو وہ آزادی سلب کر لی گئی اور اس پر فخریہ کہ اسے اب آئین کو درجہ دے دیا گیا ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ۔

خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ اٹل قانون بیان فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی جو خود اپنی حالت نہیں بدلتی اور حالت بندلنے کی نشانیاں اور علامات یہ ہیں کہ قوم میں سچائی آجائے، بے ایمانی ختم ہوجائے، ہر ایک کو آزادی دی جائے۔ احترام انسانیت ہو امتیازی سلوک ختم کیا جائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ قوم میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا ہو اور تقویٰ پیدا ہوجائے۔

وطن عزیز میں رہنے والے 14؍اگست کو بانیٔ پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح کو کس چیز پر خراج تحسین پیش کریں گے ان کی روح کو ایصال ثواب پہنچانے، شائد فاتحہ خوانی بھی کریں لیکن اس کا کیا مقصد ہوگا؟

کہ اے ہمارے محسن بانی ٔ پاکستان! ہم نے تیرے احسان کا بدلہ پاکستان کو ملاؤں کے اور دہشت گردوں کے سپرد کر کے پوری قوم کا جینا حرام کر دیا ہے۔ ہم نے اقلیتوں کی آزادی سلب کرلی ہے اور اب وہی ہاں وہی جنہوں نے اس ملک کی آزادی کی خاطر قربانیاں دی تھیں ان کو ان کے بنیادی حقوق سے بھی محروم کر دیا ہے۔ اب بتاؤ ہم تیرے احسانوں کا کس طرح شکریہ ادا کریں۔

پس میں وطن عزیز میں رہنے والے ہر دردمند پاکستانی سے عرض کرتا ہوں کہ خدا کے لئے اپنے دلوں کو ٹٹولیں اور قائد اعظم کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں۔ صرف ساز کی دھنوں پر ہی وجد میں نہ آئیں بلکہ سیدھے راستہ پر ساری قوم کو گامزن ہونا پڑے گا اور ہر اس حرکت سے باز آئیں جو وطن کے کسی شخص کے لئے بھی امن کو برباد کرتا ہو۔ پھر خدا تعالیٰ ذوالمنن کے اس قول پر بھی دھیان دیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے: وَمَاكُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا کہ ہم اس وقت تک عذاب نہیں دیتے جب تک قوم میں اپنا فرستادہ نہ بھیج دیں۔

(مولانا سید شمشاد احمد ناصر۔ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 نومبر 2022

اگلا پڑھیں

فقہی کارنر