• 3 فروری, 2023

سلطان محمود غزنوی

غزنوی سلطنت کا سب سے طاقتور ترین حکمران جس کا اصل نام یامین الدولہ ابو القاسم محمود ہے جس نے 997ء سے اپنی وفات 1030ء تک سارے مشرقی ارض فارس میں شاندار حکومت کی۔ محمود غزنوی اپنی لیاقت اور فوجی طاقت کے بل بوتے پر غزنی کی ایک معمولی چھوٹی سی سلطنت کو ایک عظیم الشان دولت مند اور طاقتور سلطنت میں تبدیل کر دیا تھا جس کی حکمرانی پورے ایران، افغانستان، پاکستان اور شمال مغربی ہندوستان پر قائم تھی۔ یہ پہلا حکمران ہے جس نے اپنے نام کے آگے سلطان کا لقب لگا دیا اور اپنا رشتہ راست خلافت اسلامیہ سے جوڑ دیا۔ 994ء میں محمود غزنوی نے اپنے والد سبکتگین کے ساتھ باغی فائق کی سرکوبی کے لئے جنگی مہمات میں حصہ لیا اورخراسان کوفتح کر کےاسےاپنی سلطنت کا حصہ بنا لیا۔ اپنے والد کے انتقال کے بعد 998ء میں محمود غزنوی نے حکومت کی باگ ڈور خود سنبھال لی اور اپنی سلطنت کو وسعت دینے میں مشغول ہو گیا۔ 1002ء میں محمود غزنوی سیتان پر قبضہ کرکے صفوی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔ محمود غزنوی کی پہلی جنگی مہم قراخانی سلطنت کے خلاف تھی۔ وہ ایران کے شمالی حصے میں قائم تھی۔ سلجوقی ترکوں اور خوارزی سلطانوں کو اس نے اپنا حلیف بنا کر اپنی سلطنت کو مستحکم کیا۔ 999ءمیں جب سامانی سلطنت کے حکمران عبدالمالک دوم نے بغاوت کر دی اور خراسان پر قبضہ کرلیا تھا اس کو شکست دے کر قراخانی سلطنت کا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاتمہ کر دیا۔ محمود غزنوی نے اپنی سلطنت کے جنوب کی طرف پہلا حملہ ملتان میں اسماعیلی حکومت کے خلاف کیااور اس کی حکومت کا خاتمہ کرکے رکھ دیا۔ جس وقت محمود غزنوی ملتان میں سرگرم تھا اسی وقت کابل میں قائم ہندو شاہی حکومت کے راجہ جئے پال کے بیٹے نے محمود غزنوی پر حملہ کر دیا تا کہ محمود غزنوی کے والد کے ہاتھ سے ہوئی شکست کا بدلہ لے سکے۔ جئے پال کے بیٹے آنند پال نے کئی بار غزنی پر حملہ کیا ہر بار ناکام رہا۔ لیکن اس مرتبہ محمود غزنوی کو ملتان میں مشغول دیکھ کر زوردار حملہ کیا لیکن پھر بھی اسے شکست ہوئی۔ اس طرح پہلی بار محمود غزنوی کا پورے کابل پر قبضہ ہوگیا۔ 1008ء تک محمود غزنوی کی حکومت لاہور تک پہنچ چکی تھی۔ ایدھان پورہ کی ہندو شاہی حکومت پر قبضہ کرنے کے بعد محمود غزنوی کا حوصلہ کافی بلند ہو چکا تھا۔ پھر اس نے ہندوستان کی طرف رخ کیا اور مسلسل حملے کرنے شروع کئےاور پنجاب تک کے علاقہ کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ بعد میں اُس نے ناگرکوٹ، تھانسیر، قنوج، گوالیار اور اُجّین کے حکمرانوں کو بھی شکست دے کر وہاں پر بھی اپنا تسلط جما لیا لیکن ان علاقوں پر اپنی حکومت قائم کرنے کے بجائے وہاں سے خراج وصول کرکے وہاں پر قائم حکومتوں کو ہندؤں، جین اور بدھ حکمرانوں کے حوالے سپرد کر دیں۔

محمود عزنوی کودُنیا بُت شکن، فاتح سومنات اور سلطان محمود غزنوی کے نام سے جانتی ہے۔ وہ تمام دینی و دنیاوی خوبیوں کا مجموعہ تھا۔ اس کا شمار عام حکمرانوں میں نہیں ہوتا تھا اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے والا اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود پڑھنے والا حکمران تھا۔ اس کی بہادری اور جوانمردی کا یہ عالم تھا کہ وہ میدان جنگ میں زور آور سیلاب کی طرح آگے ہی آگے بڑھتا چلا جاتا تھا۔ اپنی دلیری، شجاعت، عدل و انصاف، انتظام سلطنت اور فتوحات کی بناء پر دنیا کے گوشہ گوشہ میں شہرت رکھتا تھا۔ انصاف پسندی کا یہ عالم تھا کہ دور و نزدیک ہر مقام پر اس کے انصاف پسندی کے چرچے تھے۔ اس کے انصاف پسندی کے بہت سے واقعات تاریخ طبری میں درج ہیں جن میں سے ایک مشہور اور اہم واقعہ ہےکہ ایک دفعہ سلطان محمود غزنوی کے دربار میں ایک فریادی ایک شکایت کے ساتھ حاضر ہوا۔ جب سلطان اس کی طرف متوجہ ہوا تو اس شخص نے عرض کیا میری شکایت ایسی نہیں کہ میں اسے سرعام درباریوں کے سامنے بیان کروں۔ محمود غزنوی اٹھا اس کو علیحدگی میں لے جا کر اس سے پوچھا۔ فریادی نے کہا آپ کے بھانجے نے ایک عرصے سے یہ روِش اختیار کر رکھی ہے کہ وہ ہر رات کو مسلح ہو کر میرے گھر پر آتا ہے اور مجھے کوڑے مار کر گھر سے باہر کر دیتا ہے اور پھر خود تمام رات میری بیوی سے قربت کرتا ہے لیکن میں نے آپ کے ہر درباری وزیر سے اس کا ذکر کیا۔ کسی نے توجہ نہیں دی۔ کسی کو میری حالت پر رحم نہیں آیا۔ جب میں ان سے مایوس ہوا تو آپ کے دربار کے چکر لگانے لگا۔ اس موقع کے انتظار میں تھا کہ آپ سے اپنا حال بیان کروں۔ اتفاق سے آج آپ میری طرف متوجہ ہوئے تو میں نے آپ سے تکلیف کا اظہار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ملک کا حاکم اعلیٰ بنایا ہے۔ کمزور و بے کس مجبور رعایا کی نگہداشت آپ کی ذمہ داری ہے۔ آپ کا فرض ہے کہ میرے ساتھ انصاف کا معاملہ کریں۔ دیگر صورت میں مَیں اس معاملہ کو اللہ کے دربار میں پیش کروں گا۔ محمود غزنوی پر اس واقعہ کا بہت گہرا اثر ہوا۔ یہ سب سن کر رونے لگا اور فریادی سے مخاطب ہوا اے مظلوم تُو اس سے پہلے ہی میرے پاس کیوں نہیں آیا۔ اتنے دنوں تک یہ ظلم کیوں برداشت کرتا رہا۔ اس فریادی نے جواب دیا میں ایک مدت سے اس کوشش میں تھا کہ آپ سے ملوں لیکن آپ کے دربان ہمیشہ روک بنے رہے۔ آج ان کی نظروں سے بچ بچاکر آپ تک پہنچا ہوں۔ سلطان نے کہا اب تم مطمئن رہو۔ اس ملاقات کا کسی سے ذکر نہ کرنا۔ اب وہ تمہارے گھر آئے تو مجھے آ کر اطلاع دینا پھر میں انصاف کروں گا۔ چنانچہ ایسے ہی ہوا محمود غزنوی نے موقع پر پہنچ کر شکایت کو درست پایا۔ اس سفّاک ظالم کو بدکاری کی سخت ترین سزا دی۔

محمود غزنوی نے ہندوستان پر پےَ در پےَ حملے کئے اور ہر جگہ اس نے مقامی حکمرانوں کو شکست دی اور وہاں پر اپنا تسلط جما لیا لیکن اپنی حکومت قائم کرنے کے بجائے وہاں سے خراج وصول کرکے وہاں کی حکومتوں کو ہندو، جین اور بدھ حکمرا نوں کے حوالے ہی سونپ دی لیکن یہ تمام حملے حکمرانی کی نیت سے نہیں تھے بلکہ اس کا مقصد یہاں سے دولت اکٹھا کرنا تھا۔ ان دنوں یہ مشہور تھا کہ ہندو ریاستوں اور بالخصوص ان کی عبادت گاہوں میں دولت کی بھرمار ہے۔ اس لئے اس نے اپنے حملے کے لئے ایسے ہی مقامات اور شہروں کا انتخاب کیا جہاں اُسے زیادہ سے زیادہ دولت حاصل ہو سکتی تھی۔

محمود غزنوی نے ہندوستان پر تقریباً سترہ حملے کئےلیکن اس کے یہ حملے یہاں پر اپنی حکومت قائم کرنے کے لئے نہیں تھے بلکہ ان حملوں کا واحد مقصد دولت حاصل کرنا تھا تاکہ وہ وسیع و عریض غزنوی سلطنت کو مستحکم کر سکے اس لئے صرف پنجاب کو غزنوی سلطنت کا حصہ بنایا تھا۔ بقیہ تمام مفتوح علاقے اس نے تاوان حاصل کرکے وہاں کے مقامی حکمرانوں کے حوالے کر دیئے تھے۔ وہ دراصل ایک وسیع و عریض اسلامی حکومت کا خواب دیکھ رہا تھا جس کا ایک سرا اگر ترکی میں ہو تو دوسرا سرا غزنی میں ہو۔ وہ اپنی تمام اخلاقی خوبیوں کے باوجود مذہبی معاملات میں بہت سخت تھا۔ اسی وجہ سے وہ ہندوستان میں قیام کر کے یہاں کے مقامی اثرات کو اپنی فوجوں پر غالب ہونے دینا نہیں چاہتا تھا۔ مندروں کے تعلق سے اُس کا جوجارحانہ انداز تھا اس میں اس کی اسی مذہبی عصبیت کی کارفرما نظر آتی ہے لیکن ایک بات جس پر تمام مؤرخین کا اتفاق ہے وہ یہ کہ ہر چند کے محمود غزنوی نےدولت کی خاطر ہندو عبادت گاہوں میں لوٹ مار کی لیکن اس نے نہ تو ہندو رعایا کو کبھی اپنی جنگی مہم کا شکار بنایا اور نہ ہی اس نے جبری طور پر تبدیلی مذہب کےلئے مجبور کیا بلکہ اس نے بالکل برعکس غزنی اور کابل کے علاقے میں بڑی تعداد میں جو ہندو اور بدھ مت کے لوگ موجود تھے ان کے ساتھ نہایت ہی منصفانہ سلوک روارکھا اور ان کو اپنے مذہبی رسومات کو ادا کرنے کی مکمل آزادی دی۔ بلکہ غزنی میں جو اس نے عظیم الشان دارالعلوم قائم کیا تھا اس میں غیرمسلم رعایا کے لئے خصوصی مراعات دی جاتی تھیں اور ان کے لئے باضابطہ اسکالرشپ کا انتظام تھا۔

وہ مذہب کے معاملہ میں خود تو بالکل بنیاد پرست تھا لیکن اسے مختلف معاشرت اور ثقافت سے کافی دلچسپی تھی۔ اس نے سلطنت کی طرف سے باضابطہ مشہور ومعروف مؤرخ البیرونی کے ہندوستان کے سفر کا اہتمام کیا تھاتا کہ وہ اس ملک کی تاریخ و ثقافت کی تفصیلات جمع کر کے اس کو تحریری شکل میں پیش کرے۔ البیرونی کی مشہور کتاب تحقیق ہند اسی دورے کی یادگار ہے جس کوعالمی سطح پر مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کو تاریخ اورغزنامے دونوں کے ادب میں ممتاز مقام حاصل ہے۔ محمود غزنوی نے پنجاب سے آگے کبھی بھی قیام نہیں کیا۔ وہ ہر حملہ کے بعد غزنی کی طرف لوٹ جاتا۔ محمود غزنوی کی زندگی کے آخری چار سال ایشیائی قبیلوں کی سرکوبی میں گزرے۔ جس وقت محمود غزنوی کا انتقال ہوا اس وقت اس کی حکومت خراسان سے لے کر افغانستان اور شمالی ہندوستان کے اوپری حصے تک پھیلی ہوئی تھی۔ ہندوستان میں اس کی آخری جنگی مہم 1027ءمیں تھی۔ جب سومنات سے واپس جاتے ہوئے جاٹوں نے اس کی فوج پر حملہ کر دیا تھا۔ یہاں سے واپسی کے بعد اس کو ملیریا کا مرض لاحق ہوا۔ اس مرض کی وجہ سے1030ء میں اس کا انتقال ہوا۔ 35 سال حکومت کی اور 63 سال عمر پائی۔

محمود غزنوی علم وفن کا عاشق تھا۔ اپنی فتح کے بعد ملک رےاور اصفیان کے مشہور کتب خانوں کو منتقل کرکے غزنی لےآیا تھا۔ فردوسی نے اس کی شان میں شاہ نامہ تحریر کیا تھا جو عالمی ادب میں آج بھی ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ اس نے اپنے دور حکومت میں غزنی میں کئی اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کئے اور عام لوگوں تک تعلیم پہنچانے کے لئے کئی منصوبے عمل میں لائے۔ اس کے لئے باضابطہ فرامین جاری کئے۔

سومنات مندر کی حقیقت: فتح مکہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام بتوں کو توڑنے کا حکم دیا تھا۔ منات نام کا بُت سمندر کے قریب نصب تھا۔ عرب کے بُت پرستوں کے ہندوستان کے بُت پرستوں کے ساتھ تجارتی تعلقات تھے اور بُت پرستی بھی ان کے درمیان قدرِ مشترک تھی۔ عرب کے بُت پرست منات بُت کے توڑے جانے کے خوف سے براستہ سمندر ہندوستان لے آئے۔ ہندوستان کے بُت پرستوں نے اسے ہندوستانی علاقہ گجرات کے ساحل سمندر پر ایک مندر بنا کر اس بُت کو معلق لٹکا دیا تھا۔ ہوا میں معلق حال میں دیکھ کر ہر شخص اس کی برتری اور عظمت کو تسلیم کرتا تھا کہ اس قدروزنی بُت کیوں کر ہوا میں معلق ہے۔ عرب سے آئے ہوئے اس بُت کی شہرت سارے ہندوستان میں پھیل گئی۔ ہندو پجاریوں نے منات نامی اس بُت سے مندر کا نام سومنات کا مندر رکھ دیا تھا اور اب یہ سومنات بن چکا تھا اور ہندوؤں نے زور شور سے اس کی پوجا کرنی شروع کر دی۔ اس بُت کو غسل دینے کے لئے سینکڑوں میل دور سے گنگا جل (گنگا کا پانی) جسے ہندو مقدس پانی سمجھتے ہیں اس پانی سے بُت کو غسل دیا کرتے تھے۔ سومنات کےمعنی ہندی زبان میں عظیم کے ہیں اور سو کا لفظ ہندی زبان میں فضیلت ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے۔ قدرت کو بھی یہ منظور نہیں تھا کہ عرب کا کوئی بُت ٹوٹنے سے رہ جائے۔ جب منات کا بُت توڑا جارہا تھا تو وہاں کے پجاریوں نے اس کو بچانے کےلئےبیش بہا دولت زیورات اور ہیرے جواہرات کی پیشکش کی کہ اس کو نہ توڑا جائے۔ محمود غزنوی کے مشیروں کو بھی یہ پیشکش اچھی معلوم ہوئی اور سلطان سے سفارش کی کہ اس کو قبول کیا جائے۔ محمود غزنوی نے کہا کہ تم درست کہتے ہو اگر میں ایسا کرتا ہوں تو میرے بعد دنیا میں مجھے محمود بُت فروش کے نام سے یاد کرے گی اور اگر میں اس بُت کو توڑ دیتا ہوں تو دنیا مجھے بُت شکن کے نام سے یاد کرےگی۔ میں تاریخ میں بُت فروش کے نام سے نہیں بُت شکن کے نام سے زندہ رہنا چاہتا ہوں۔

تاریخ میں سومنات کے حوالے سے ایک واقعہ یوں بھی ملتا ہے: محمود غزنوی جب سومنات پر فتح کر کے مندر کے اندر داخل ہوا تو اس نے دیکھا کہ مندر میں سومنات کا بُت ہوا میں معلق ہے۔ بُت کو مندر کے بڑے ہال میں اس انداز میں معلق دیکھ کر ہر شخص اس کی برتری کو تسلیم کر لیتا تھا اور جو برتری کو تسلیم نہ بھی کرتا وہ بھی اس چمتکار پر ایک بار سوچنے پر مجبور ہو جاتا کہ اس قدر وزنی بُت بغیر کسی سہارے کیوں کر فضاء میں معلق ہے۔ اس وقت محمود غزنوی کے ہمراہ مشہور و معروف دانشور البیرونی بھی موجود تھے۔ سلطان نے حیران ہو کر البیرونی سے پوچھا کہ یہ ماجرا کیا ہے یہ کیونکر بغیر سہارے کے فضاء میں معلق ہے؟

البیرونی نے چند لمحہ غور کرنے کے بعد عرض کیا سلطان معظم اس مندر کی چھت کے ایک طرف سے کچھ اینٹیں نکلوائی جائیں۔ سلطان کے حکم کی تعمیل ہوئی۔ جب چند اینٹیں نکلوائی گئیں بُت اس طرف کو جھک گیا اور زمین سے قریب آ گیا۔ البیرونی نے عرض کیا سلطان معظم اس بُت کے پجاریوں نے مکّاری سے لوہے کے اس بُت پر رنگ روغن کیا ہےتامعلوم نہ ہو اور مندر کے چاروں طرف مخصوص جگہ پر مقناطیس کے بڑے بڑے ٹکڑے بڑی ترتیب سے نصب کئے ہیں۔ یہ مقناطیس لوہے کے اس بُت کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ اس لئے یہ بُت فضاء میں معلق ہے۔ کوئی معجزہ یا چمتکار نہیں ہے۔ جب چاروں طرف سے دیواروں کو اُدھیڑا گیا تو یہ بُت بھی دھڑام سے زمین میں گر پڑا۔ جب اینٹوں کا معائنہ کیا گیا تو البیرونی کا تجزیہ سو فیصد درست ثابُت ہوا۔

سو منات مندر پر حملہ اور اس بڑے بُت کو توڑنے کے واقعہ کو بھارت میں ہندو مسلم تفریق کا ایک کلیدی لمحہ بتایا جاتا ہے۔ دراصل اس زمانے میں اس کی شاید اتنی اہمیت نہیں تھی جتنی اب ہے۔ برطانوی راج میں سب سے پہلے انگریزوں نے اس واقعہ کو ہندو مسلم تفریق کے طور پر پیش کیا اس کے بعد متضاد نظریات کے لوگ اس کو اپنے رنگ میں معنی پہناتے رہے ہیں۔

غیر مسلم مشہور مؤرخ رومیلہ تھاپر کے مطابق گیارہویں صدی سے دو تین صدیوں بعد تک اس واقعہ کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی اور مقامی ذرائع اور دستاویز میں اس کا معمولی سا ذکر ہے۔ ان معلومات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اس زمانہ میں اور اس ماحول میں مندروں کی تباہی، لوٹ مار عام بات تھی۔ رومیلہ تھاپر نے متعدد کتابوں، مقالوں اور قدیم سنگی کتبوں کے حوالوں سے اس حقیقت کو اُجاگر کیا ہے۔ سومنات جو سومنات پٹن، سومسار پٹن اور دیوپٹن کے نام سے بھی مشہور تھا۔ کبھی بھی سلطان محمود غزنوی نے برباد نہیں کیا۔ رومیلہ تھاپر کا کہنا ہے کہ اس دور میں بڑے اور اہم مندروں کی جاگیریں ہوتی تھیں۔ اور ان کے اندر نذرانوں کی صورتوں میں جمع شدہ بے پناہ دولت ہوتی تھی یہاں تک کہ کوئی ہندو راجا ان خطوط پر یلغار کرتا تو وہ بھی ان مندروں کو توڑتا تھا اور اکثر اپنی فتح کی نشانی کے طور پر وہاں نصب شدہ بتوں کو اپنے ساتھ لے جاتا تھا۔ سلطان محمود غزنوی نے بھی وہی کچھ کیا جو اس سے پیشتر ہندو راجے مہاراجے کرتے آئے تھے لیکن سب کچھ ویسا نہیں ہوا جیسا کہ آج بیان کیا جا رہا ہے۔ اس عہد کے کسی مخطوطے یا دریافت ہونے والے پتھر پر نقش نہیں ہے کہ محمود غزنوی کے حملہ کے بعد سومنات اجڑ گیا بلکہ یہ درج ہے کہ اس کی یلغار کے بعد بھی سومنات بدستور آباد رہا اور باقاعدہ وہاں پر پوجا پاٹ ہوتی رہی۔

(محمد عمر تماپوری۔ انڈیا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 نومبر 2022

اگلا پڑھیں

فقہی کارنر