• 26 جنوری, 2021

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے
ذاتی تجربات کی روشنی میں (قسط 16)

خاکسار جولائی 2004ء میں لاس اینجلس کیلیفورنیا آیا۔ یہاں پر چینو Chino ایک جگہ ہے جہاں پر ہماری مسجد بیت الحمید واقع ہے۔ خاکسار نے یہاں پر آکر بھی پریس کے ساتھ رابطے کی کوشش کی۔ چنانچہ یہاں کا دوسرے نمبر پر سب سے بڑا اخبار ڈیلی بلٹن ہے۔

اس اخبار نے سب سے پہلی خبر 27 ستمبر 2004ء پر سٹاف رائٹر Joe Florkowski سے دی ہے۔ یہ قریباً نصف صفحہ کی خبر ایک فوٹو کے ساتھ ہے۔ خبر کا عنوان ہے:

New Imam urges harmony

نیا امام آپس میں محبت و اخوت اور ہمدردی سے رہنے کی تلقین کر رہا ہے۔

یعنی اخبار نے لکھا کہ 9/11 کے حملہ کے بعد شمشاد ناصر نے میری لینڈ کے علاقہ میں عام لوگوں کو اور مذہبی لیڈروں کو آپس میں پیارومحبت سے رہنے کی تلقین کی اور یہ کہ ’’اسلام‘‘ کو سمجھنے میں مدد دی۔ ان کا خیال ہے کہ وہ یہاں اس جگہ بھی ایسا ہی کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ مسجد بیت الحمید کے امام ہیں اور اس علاقہ میں بھی دوسرے مذہبی لیڈروں سے ملنے کی کوشش کریں گے۔ امام نے بتایا کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو سمجھنےکی کوشش نہیں کر رہے۔ اس کے لئے ’’احترام‘‘ بہت ضروری ہے۔

اخبار نے لکھا کہ ناصر نے جو 9/11 کے بعد منٹگمری کونٹی میری لینڈ میں خدمات سرانجام دیں ہیں ان کی وجہ سے وہاں پر ان کو بہت سراہا گیا ہے اور حکومتی اور مذہبی سطح پر انہیں بہت سے ایوارڈز سے بھی نوازا گیا ہے۔

اخبار کے رائٹر نے میری لینڈ کی کونٹی کے چیف سٹاف سے فون پر رابطہ کر کے خاکسار کے بارے میں پوچھا تو چیف رائٹر Ms Peggy نے کہا :
امام کو یہاں پر بہت زیادہ عزت کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ ناصر نے یہاں پر حکومتی سطح پر کونٹی کےا فسران کےساتھ مل کر کام کیا ہے اور یہاں کے مذہبی لیڈروں اور دیگر عوام الناس کو مذہب اسلام کے بارے میں اچھی طرح آگاہ کیا ہے۔ نیز دہشت گردی کی کھل کر مذمت کی ہے۔ انہوں نے دیگر مذہبی لیڈروں سے مل کر یہاں کے لوگوں کے سامنے کھل کر ایسے کاموں کی مذمت کی ہے جن سے دہشت گردی کا امکان ہوتا تھا۔

چیف سٹاف نے مزید بتایا کہ امام نرمی سے بولنے والا اور سادہ آدمی ہے جس کا تعلق جماعت احمدیہ مسلمہ سے ہے۔ لیکن احمدی فرقہ کو کئی دیگر ممالک میں ظلموں کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ اس فرقہ کا تعلق قریباً 200 ممالک سے ہے جہاں پر یہ اپنا مشنری کام کر رہے ہیں۔ امام ناصر نے 8 سال تک میری لینڈ کے علاقہ میں جماعت احمدیہ کی خدمت کی ہے اور اب ان کا تبادلہ مسجد بیت الحمید میں ہوا ہے۔ امام ناصر 1987ء میں امریکہ میں آئے تھے اور اب ان کا تبادلہ یہاں ہوا ہے۔

امام ناصر نے اس بات کا بھی اشارہ کیا ہے کہ مسجد بیت الحمید کا کچھ حصہ جو بجلی کے کنکشن کی خرابی کی وجہ سے اپریل 2003ء میں جل گیا تھا۔ اسے دوبارہ بہتر رنگ میں تعمیر کیا جائے گا۔

امام ناصر نے کہا کہ انہوں نے 9/11 کے بعد کسی خاص مسئلہ کا سامنا نہیں کیا۔ اگر کچھ سامنے آیا بھی ہے تو اس کے بھی کئی بہتر پہلو نکل آئے۔ مثلاً یہی کہ علاقہ کی کمیونٹیز سے بہتر اور پختہ رابطے اور تعلقات ہوئے ہیں۔ لوگوں کے اندر 9/11 کے بعد اسلام کے بارے میں زیادہ دلچسپی پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بطور امام میں سب لوگوں کو مسجد میں خوش آمدید کہتا ہوں کہ وہ آئیں اور اسلام کے بارہ میں معلومات حاصل کر کے اپنے شکوک و شبہات مٹائیں۔

اس خبر کے ساتھ انہوں نے خاکسار کی تصویر بھی شائع کی ہے جس کے عقب میں مسجد بیت الحمید ہے۔ تصویر کے نیچے انہوں نے لکھا ہے کہ امام شمشاد نے امید دلائی ہے کہ مسجد کاجو حصہ 2003ء میں جل گیاتھا اسے جلد ہی دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔

دی پریس انٹرپرائز کی رائٹر مِس سبرینا مسجد بیت الحمید آئی تھیں اور کافی دیر تک انہوں نے خاکسار کا انٹرویو لیا جو انہوں نے 15 اکتوبر 2004ء کی اشاعت میں ایک تصویر کے ساتھ شائع کیا۔

اس وقت رمضان کا مہینہ شروع ہورہا تھا۔ انہوں نے لکھا کہ مڈل ایسٹ میں اس وقت رمضان کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کا خوف بھی پھیلا ہوا ہے لیکن یہاں کے امام شمشاد ناصر امن کی تعلیم دے رہے ہیں۔ امام شمشاد نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے جہاد کے خیالات کو تقویت نہیں پہنچاتے بلکہ میں کوشش کر رہا ہوں کہ تمام مذاہب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کروں۔ اس سے معاشرہ میں انسانیت کے عزت واحترام اور یک جہتی میں بھلائی کے ساتھ ساتھ مذاہب کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔

وہ لکھتی ہیں کہ شمشاد اور ان کی اہلیہ صفیہ خانم ابھی حال ہی میں میری لینڈ سے یہاں آئے ہیں۔انہوں نے میری لینڈ میں عیسائیوں، یہودیوں، دیگر مذہبی لیڈروں، سیاسی اور حکومتی سطح کے لوگوں کو میری لینڈ کی احمدیہ مسجد میں سب کو اکٹھے کیا ہے۔ امام نے مزید کہا کہ ہم تو مشنریز ہیں جو کام ہم نے وہاں کیا ہے وہی ہم یہاں پر کریں گے۔ بدقسمتی سے ہمارے مذہب کو دہشت گردی سے جوڑا جاتا ہے جبکہ ایسا نہیں ہے ہم دیگر مذہبی کمیونٹیز کی طرح ہی ہیں۔

رمضان کے حوالہ سے امام شمشاد نے بتا یا کہ یہ مہینہ تربیت کا اور ہمدردی کا مہینہ ہے۔ اگر کوئی شخص محتاج ہے یا اسےکھانے کی ضرورت ہے تو وہ ہماری مسجد میں آئے ہم اس کی خدمت کریں گے۔ ہماری مسجد کے دروازے ہر ایک کے لئے کھلے ہیں۔

جہاں تک مردوں اور عورتوں کے مسجد میں الگ الگ نماز پڑھنے کا تعلق ہے تواس بارہ میںامام شمشاد نے کہا :یہ ہمارے مذہب کی تعلیم ہے اوریہ خواتین کی حفاظت کا بھی ذریعہ ہے۔

شمشاد کی اہلیہ نے بتایا کہ جب مَیںپردہ کے ساتھ باہر جاتی ہوں تو لوگ مجھے عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

مسجد میں بین المذاہب کانفرنسز کا مطلب سب کو اکٹھا کرنا اور اتحاد پیدا کرنا ہے۔ شمشاد نے کہاکہ ہر مذہب، ہرکلچر اور ہر نسل میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں۔ مسجد بیت الحمید کے لوگ امن پسند ہیں اور امن پھیلاتے ہیں۔ شمشاد نے مزید بتایا کہ
انٹرویو کے آخر میں مسجد بیت الحمید کا ایڈریس اور فون نمبر درج ہے۔

انڈیا ویسٹ 15 اکتوبر 2004ء کی اشاعت میں صفحہ22B پر ہماری ایک مختصراً خبر دیتا ہے ۔اس خبرکاعنوان ہے:

’’ساؤتھ کیلیفورنیا مسجد میں قرآن کلاس کا انعقاد‘‘

اپنے سٹاف رپورٹ کے حوالہ سے یہ خبر ہے کہ مسجد بیت الحمید میں روزانہ رمضان المبارک کے ایام میں قرآن کریم کی کلاسز (درس) کا انعقاد ہوا کرے گا۔ اخبار نے لکھا کہ جنرل پبلک کو عام دعوت دی جاتی ہے کہ وہ رمضان کے دنوں میں ہماری مسجد میں آئیں۔ نمازوں، درس، نیز افطاری اور ڈنر میں شامل ہوں۔

امام شمشاد ناصر نے کہا کہ رمضان کا پیغام یہ ہے کہ اس وقت انسانیت کو امن و سلامتی کی بہت ضرورت ہے اور رمضان ہمیں صبر کی تعلیم کے ساتھ ساتھ انسانیت کی بے لوث اور بے غرض خدمت کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ ان باتوں سے یقیناً امن کو فروغ ملے گا۔

مسلم ورلڈ ٹوڈے (یہ اخبار یورپ، ایشیا، افریقہ، آسٹریلیا اور امریکہ میں پڑھا جاتا ہے) اپنی 22 اکتوبر 2004ء کی اشاعت میں لکھتا ہے:
’’بے لوث خدمت کے ذریعہ امن کا قیام‘‘ رمضان کا قیمتی پیغام
خاکسار کے حوالہ سے اخبار لکھتا ہے کہ رمضان کا بابرکت مہینہ شروع ہو رہا ہے اور مسجد بیت الحمید میں روزانہ درس قرآن کا انتظام ہو گا۔ رمضان ہمیں ہر سال بہت اہم پیغام سکھانے آتا ہے کہ انسانیت کی بے لوث خدمت کرنی ہے اور اس سے امن کا قیام ممکن ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم پیغام رمضان کا یہ ہے کہ ہم خدا کی طرف جھکیں اور اسے سب کا پیدا کرنے والا سمجھیں اور ہر ایک کی بلا امتیازوتفریق اور نسل و مذہب بے لوث خدمت کریں۔ رمضان ہم میں صبر اور برداشت کی صفت پیدا کرتا ہے۔

آخر میں خاکسار کے بارے میں لکھا ہے کہ شمشاد نے اسلام کی خدمت کے لئے اپنی زندگی وقف کی ہوئی ہے۔ شمشاد نے امریکہ کے مختلف شہروں میں اس سے قبل خدمت کی ہےاور ہر جگہ وہاں کے سیاسی، مذہبی اور حکومتی سطح کے لوگوں سے تعلقات استوار کئے ہیں تاکہ مذہب اسلام کوسمجھنے میں آسانی ہو۔ امریکہ آنے سے قبل شمشاد نے پاکستان، گھانا اور سیرالیون (مغربی افریقہ) میں اسلام کی خدمت کی ہے۔

العرب: یہ اخبار بھی لاس اینجلس سے شائع ہوتا ہے۔ لاس اینجلس میں بہت بڑی کمیونٹی عربوں کی بھی ہے۔ اس اخبار کا انگریزی سیکشن 3 نومبر 2004ء صفحہ 3 پر خاکسار کی ایک تصویر کےساتھ خبر دیتا ہے جس کا عنوان یہ ہے:

’’بے لوث خدمت کے ذریعہ امن کا قیام۔ رمضان کا اہم پیغام‘‘

خبر میں ہے کہ جماعت احمدیہ مسلمہ کے مسجد بیت الحمید کے امام سید شمشاد احمد ناصر نے کہا کہ رمضان یہ پیغام لے کر آیا ہے کہ انسانیت کی بے لوث خدمت کی جائے اور اس سے قیام امن میں مدد ملے گی نیز مسجد بیت الحمید میں رمضان کےد نوں میں روزانہ درس قرآن کا انتظام ہو گا۔ ہر شخص کو شامل ہونے کی دعوت ہے۔ خبر کے آخر میں مسجد کا فون نمبر ہے تا لوگ مزید معلومات حاصل کر سکیں۔

العرب کی 10 نومبر 2004ء کی اشاعت صفحہ 3 پر خاکسار کی تصویر کے ساتھ ایک خبر ہےجس کا عنوان ہے:

’’امید ہے کہ مسجد کی دوبارہ تعمیر جلد ہو جائے گی‘‘

اخبار نے خاکسار کے حوالہ سے نصف سے زائد صفحہ کی خبر دی ہے جس میں لکھا ہے کہ امام شمشاد ناصر جو کہ میری لینڈ سے یہاں کیلیفورنیا آئے ہیںا نہوں نے میری لینڈ میں 9/11 کے حملہ کے بعد بہت خدمات کی ہیں اور وہ یہاں بھی اس قسم کی خدمات کا ارادہ رکھتے ہیںتاکہ یہاں کے لوگ بھی ’’اسلام‘‘ مذہب کو صحیح طور پر سمجھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں ایک دوسرے کو نزدیک آنے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی اور ایک دوسرے کے احترام کی بہت ضرورت ہے۔ اس سے امن کی راہ استوار ہو گی۔

اخبار نے میری لینڈ کے ہائی آفیشلز سے رابطہ کر کے بھی خاکسار کے بارے میں معلومات لیں اور لکھا کہ میری لینڈ میں انہیں ان کے بے لوث خدمات کی وجہ سے عزت کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔

مسجد بیت الحمید کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ 2003ء میں بجلی کی خرابی کی وجہ سے اس کا ایک حصہ جل گیا تھا۔ اب ہم اسے دوبارہ بہتر طور پر تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ یہ جگہ اچھی اور خوبصورت لگے۔

امام شمشاد نے کہا کہ ہم ہر ایک کو مسجد بیت الحمید میںآنے کی دعوت دیتے ہیں تا وہ اپنے شکوک و شبہات کا ازالہ کر سکے اور مذہب اسلام کو بہتر طورپرسمجھ سکے۔

العرب اپنی 17 نومبر 2004ء کی اشاعت میں اس عنوان سے خبر دیتا ہے:

’’بغض و کینہ کو چھوڑو اور آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔‘‘

گزشتہ ہفتہ تمام مسلمانوں نے دنیا بھر میں اختتام رمضان (عیدالفطر) منایا ۔ امام شمشاد نے اس موقعہ پر کہا کہ ہم خداتعالیٰ کے شکر کے طور پر اور انسانیت کی خدمت کے طور پر یہ دن منار ہے ہیں۔ یہ مسلمانوں کے لئے تربیتی مہینہ ہے اور مسلمان یہ سیکھتا ہے کہ قرآن کریم کی کیا تعلیمات ہیں اور ہم نے خداتعالیٰ کی خوشنودی کس طرح حاصل کرنی ہے۔اسلام میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے ہی انسان اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکتا ہے۔

خطبہ عید الفطر میں امام شمشاد نے مزید کہا کہ ہمیں ایک دوسرے سے اختلاف بھلا کر ایک ہو جانا چاہئے جس طرح بھائی بھائی ہوتے ہیں۔ اس سے اتحاد پیدا ہوگا۔ قریباً 700 لوگ عیدالفطر کے موقع پر مسجد بیت الحمید میں اکٹھے ہوئے۔

آخر میں خاکسار کے بارے میں اخبار نے لکھا کہ شمشاد نے اسلام کی خدمت کے لئے اپنی زندگی وقف کی ہوئی ہے اور امریکہ آنے سے قبل انہوں نے پاکستان، گھانا اور سیرالیون میں بھی خدمات کی ہیں۔

اخبارچینو چیمپئن (Chino Champion) نے دسمبر 2004ء کی اشاعت میں خاکسار کی تصویر کے ساتھ جس میں پیچھے قرآن کریم کی تفاسیر کی مختلف جلدیں نظر آرہی ہیں اور اسی طرح انگریزی تراجم احادیث نبویہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی کتب ہیں، نے لکھا :

’’لوکل مسجد کے نئےا مام آئے ہیں‘‘ اس خبر کی سٹاف رائٹر مِس پریتی چندن ہیں۔ انہوں نے مسجد بیت الحمید آکر خاکسار کا انٹرویو لیا۔ انہوں نے لکھا:
نئے امام نے کہا ہے کہ ایک دوسرے کی عزت، باہمی افہام و تفہیم میرا سب سے بڑا مشن ہے کہ علاقہ کے لوگوں میں اس بات کا شعور پیدا کیا جائے۔

امام شمشاد نے بتایا کہ وہ ابھی حال ہی میں تبدیل ہو کر یہاں آئے ہیں اور یہاں پر آتے ہی یہاں کے دیگر مذہبی لیڈروں سے رابطے شروع کر دیئے ہیں۔
امام شمشاد نے کہا کہ ہمارا پیغام تو یہ ہے کہ محبت سب کے لئے، نفرت کسی سے نہیں۔

امام شمشاد ناصر نے امام انعام الحق کوثر کی جگہ لی ہے اور امام کوثرکی تبدیلی نیویارک میںہوگئی ہے اور یہ روٹین کی تبدیلی ہے کہ ایسا ہوتا رہتا ہے۔

خاکسار کے حوالہ سے انہوں نے مزید لکھا کہ یہ اسلام کے سکالر ہیں۔ دوسرے ممالک میں بھی خدمت بجا لا چکے ہیں۔ وہ مسجد میں خود بھی نماز پڑھاتے ہیں اور اپنی غیرحاضری میں کسی کو مقرر بھی کر دیتے ہیں (سوال یہ تھا کہ جب میں نہیں ہوتا تو کون نماز پڑھائے گا۔ کیونکہ خاکسار نے ریجن کی دوسری جگہوں (جماعتوں) میں بھی جانا ہوتا ہے۔ عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ سوائے پادری کے کوئی اور عبادت نہیں کرا سکتا)

امام شمشاد مسجد میں روزانہ شام کوقرآن کی کلاسز بھی شام کو لیتے ہیں۔

2003ء میں مسجد میں بجلی کی خرابی کی وجہ سے آگ لگی تھی جس کی وجہ سےدفاتر، لائبریری اور کچن وغیرہ جل گئے تھے۔ اس کی از سر نو تعمیر بھی جلد کی جائے گی۔

چینو چیمپئن 15جنوری 2005ء کی اشاعت میں ہماری عیدالاضحیہ کی خبر شائع کرتا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ جماعت احمدیہ کی مسجد بیت الحمید میں عیدالاضحیہ کی تقریب 21 جنوری 2005ء کو بروز جمعہ منائی جائے گی۔ تعارف کے طور پر اخبار مزید لکھتا ہے کہ مسلمان سال میں دو عیدیں مناتے ہیںیعنی عید الفطر اور دوسری عیدالاضحیہ۔

امام شمشاد نے کہاکہ عیدالاضحیہ کی تقریب حج کے اختتام کے طور پر ہے جو مکہ میں حج منایا جاتا ہے اور اس عید کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو خداتعالیٰ کی مکمل اطاعت کے لئے پیش کرے۔

امام شمشاد نے یہ بھی کہا ہے کہ لوگوں کو ساؤتھ ایشیا کے زلزلہ سے متاثرین کی دل کھول کر مدد کرنی چاہئے۔

العرب۔ (عربی اخبار) نے انگریزی سیکشن 19 جنوری 2005ء میں ہماری جماعت احمدیہ کی یہ خبر شائع کی ہے:
’’مسلمان عیدالاضحیہ منا رہے ہیں اور اس وقت جو سونامی آیا ہے اس کے لئے اپنے وقت اور مال کی قربانی پیش کر رہے ہیں۔‘‘

اخبار لکھتا ہےکہ جماعت احمدیہ مسلمہ امریکہ میں 21 جنوری 2005ء کو عیدالاضحیہ منا رہی ہے ۔ اس عید کے بارے میں امام شمشاد احمد آف مسجد الحمید نے پریس کو بتایا کہ مسلمان سال میں دو عیدیں مناتے ہیں۔ عیدالاضحیہ کے بارے میں انہوں نے کہا:
یہ ہر سال مسلمانوں کو اس بات کی یاددہانی کراتی ہے کہ وہ خداتعالیٰ کی خاطر ہر قسم کی قربانی کریں اور وہ اس طرح کہ خداتعالیٰ کے احکامات پر پورا پورا عمل کیا جائے۔ یہ عید ہمیں اپنے بچوں کی صحیح تربیت کرنے کی طرف بھی توجہ دلاتی ہے تاکہ ہمارے بچے مذہب کے لئے اور سوسائٹی کے لئے مفید وجود بن سکیں۔ اسی ذریعہ سے ہم سوسائٹی میں ایک خوشگوار تبدیلی لا سکتے ہیں۔

اس وقت اور اس موقعہ مَیں آپ کو خصوصیت کے ساتھ سونامی سے متاثر افراد اور خاندان کے لئے بھی ہر قسم کی قربانی کرنے کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور جو بھی اس سونامی کے متاثر افراد کی مدد کرنا چاہتے ہیں وہ ہیومینیٹی فرسٹ کی ویب سائٹ پر جا کر ایسا کر سکتے ہیں۔ خبر کے آخر میں اخبار نے خاکسار کا تعارف لکھا ہے کہ یہ جماعت احمدیہ مسلمہ کے مبلغ ہیں جنہوں نے اسلام کی خدمت کے لئے اپنی زندگی وقف کی ہوئی ہے اور مختلف ملکوں میں انہوں نے اسلام کا پیغام پہنچایا ہے۔

بیروت ٹائمز 20 جنوری 2005ء کی اشاعت میں صفحہ 28 پر خاکسار کے خطبہ عید کاپیغام اور خبر دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ امریکہ میں جماعت احمدیہ نے عیدالاضحیہ 21 جنوری 2005ء کو منائی۔ مسجد بیت الحمید کے امام شمشاد نے عیدالاضحیہ کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے قربانیوں کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسے موقعہ پر گائے، بکرے اور دنبہ وغیرہ کی قربانیاں کرتے ہیں۔ اس وقت سونامی کی وجہ سے بہت سارے متاثرین ہیں اس لئے ان کی مدد کی طرف بھی توجہ کی جائے۔ امام شمشاد نے مزید کہا کہ اس عید سے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے کہ ہم اپنی اولادوں کی صحیح رنگ میں تربیت کریں۔

سونامی اور دوسرے آفات سے متاثر ہونے والے افراد کے لئے جو معاونت کرنا چاہتے ہوں وہ ہیومینیٹی فرسٹ کی ویب سائٹ پر جا کر کر سکتے ہیں۔ آخر میں خاکسار کا تعارف لکھا ہوا ہے کہ امام شمشاد نے اپنی زندگی خدمت اسلام کے لئے وقف کی ہے اور امریکہ آنے سے پہلے انہوں نے پاکستان، غانا، سیرالیون (مغربی افریقہ) میں خدمت بجا لائی ہیں۔ اخبار نے اس کے ساتھ خاکسار کی تصویر بھی شائع کی ہے۔

مسلم ورلڈ ٹوڈے نے 21 جنوری 2005ء کی اشاعت میں اس عنوان سے خبر دی ہے کہ ’’مسلمان عیدالاضحیہ منا رہے ہیں‘‘۔ اپنا وقت اور مال قربانی کریں۔

احمدیہ مسلم امریکہ میں عیدالاضحیہ 21 جنوری کو منار ہے ہیں۔ ایک پریس ریلیز میں امام شمشاد آف بیت الحمید نے کہا ہے کہ مسلمان سال میں دو عیدیں مناتے ہیں۔ ایک آج عیدالاضحیہ جو قربانی کی عید کہلاتی ہے۔ اس عید کا مقصد انہوں نے بتایا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی پوری طرح اس کی تعلیمات پر عمل کرکے اطاعت کرنی چاہئے۔ یہ عید ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہم اپنے بچوں کی صحیح معنوں میں تربیت کریں تاکہ وہ قوم کے کے لئے مفید وجود بن سکیں۔ یہ عید ہمیں سکھا رہی ہے کہ اس وقت سونامی کی وجہ سے جو لوگ متاثر ہوئے ہیں ان کی ہم دل کھول کر مدد کریں۔

امام نے کہا کہ ہر ایک شخص ہماری مسجد میںآسکتا ہے۔ بلاامتیاز رنگ ونسل اور مذہب کے وہ ہماری تقریب میں شامل ہو سکتا ہے۔ جو لوگ سونامی کے متاثرہ لوگوں کی امداد کرنا چاہتے ہیں وہ ہیومینیٹی فرسٹ کےتحت کر سکتے ہیں۔

اخبار نے آخر میں خاکسار کا تعارف لکھا ہے کہ امام شمشاد جماعت احمدیہ کے مبلغ ہیں امریکہ آنے سے پہلے انہوں نے پاکستان، گھانا اور سیرالیون میں بھی خدمات کی ہیں۔

انڈیا جرنل۔کمیونٹی نیوز میں 21جنوری 2005ء ہماری عیدالاضحیہ کے بارے میں مختصراً اعلان شائع ہوا ہے۔

انڈیا ویسٹ 21 جنوری 2005ء کی اشاعت صفحہ B11 پر ہماری جماعت کی خبر دیتے ہوئے لکھتا ہے
مسلمان عیدالاضحیہ منا رہے ہیں سونامی کے متاثرین کے لئے مدد کریں۔

خبر میں بتایاگیا ہے کہ احمدیہ مسلم جماعت نے عیدالاضحیہ مسجد بیت الحمید میں منائی۔ عیدالاضحیہ کا مقصد قربانیوں کو زندہ کرنا ہے جو حضرت ابراہیم اور آنحضرت ﷺ نے کیں۔ اس عید کا ایک مقصد بچوں کی صحیح تربیت بھی ہے تا وہ سوسائٹی کے مفید وجود بن سکیں۔ یہ عید ہمیں اس بات کا بھی پیغام دے رہی ہے کہ ہم اس وقت زلزلہ زدگان اور سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد اور خاندانوں کی ہر ممکن مدد کریں۔ اخبار نے خاکسار کی تصویر بھی شائع کی اور تعارف بھی دیا ہے۔

العرب اخبار نے 26 جنوری 2005ء صفحہ 26 پر ہماری عیدالاضحیہ کی ایک تصویر کے ساتھ خبر دی ہے جس میں خاکسار خطبہ عید دے رہا ہے اور احباب جماعت مسجد میں تشریف رکھتے ہیں۔

خبر میں لکھا ہے کہ مسجد بیت الحمید میں جماعت احمدیہ کے قریباً 600 لوگ عیدالاضحیہ کی تقریب منانے کے لئے اکٹھے ہوئے ۔ امام شمشاد ناصر نے اپنے خطبہ عید میں لوگوں کو قربانی کی حقیقت کی طرف توجہ دلائی اور خاص طور پر سونامی اور دیگر آفات کے موقعہ پر مدد کرنے کی اپیل کی۔ خبر کے آخر میں مسجد بیت الحمید کا پتہ اور فون درج ہے۔

بیروت ٹائمز نے اپنی اشاعت 27 جنوری 2005ء میں صفحہ 27 پر ہماری عیدالاضحیہ کی تقریب کی خبر شائع کی ہے یہ قریباً اخبار کے نصف صفحہ پر مشتمل ہے اور 3تصاویر بھی شائع کی ہیں۔ا یک تصویر میں احباب جماعت دکھائے گئے ہیں جو خطبہ عید سن رہے ہیں ایک تصویر خاکسار کی خطبہ دیتے ہوئے ہے۔ تیسری میں لوگ عید مل رہے ہیں (یہ اخبار عیسائیوں کا ہے اور بہت مشہور اخبار ہے اور شام، لبنان اور دیگر عرب لوگ اسے پڑھتے ہیں۔) خبر میں عیدالاضحیہ کے بارے میں تفصیل ہے کہ امریکہ میں 21 جنوری 2005ء جمعہ کےدن عیدالاضحیہ منانے کے لئے احمدی مسلمان مسجد بیت الحمید میں اکٹھے ہوئے اور اس سے قبل احمدی مسلمانوں نے جماعت احمدیہ کے روحانی پیشوا حضرت مرزا مسرور احمد کا خطبہ عید سنا جو مسجد بیت الفتوح لندن سے نشر ہوا تھا۔ امام مرزا مسررور احمد کے خطبہ کا مرکزی نقطہ سورۃ الحج کی آیات لَنۡ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوۡمُہَا وَ لَا دِمَآؤُہَا وَ لٰکِنۡ یَّنَالُہُ التَّقۡوٰی مِنۡکُمۡ ؕ (الحج 38) جس میں خصوصیت کے ساتھ تقویٰ کی تعلیم دی گئی ہے کیونکہ خدا کے حضور تقویٰ ہی قبولیت کا درج رکھتی ہے۔

امام شمشاد نے اپنے خطبہ میں اللہ تعالیٰ کی محبت کی خاطر ہر چیز کی قربانی کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اس عید کے موقعہ پر اس وقت خصوصاً کمزور اور غریب اور نادار لوگوں کا خیال رکھنا چاہئے جو زلزلہ سے متاثرہ افراد ہیں یا سونامی کی وجہ سے یا عراق اور دیگر مسلمان جو ہماری مدد کے مستحق ہیں ان کی مدد کرنی چاہئے۔ آخر میں ہیومینیٹی فرسٹ کا تعارف ہے۔

انڈیا ویسٹ نے اپنی اشاعت 28 جنوری 2005ء صفحہ B-13 پر ایک خبر شائع کی ہے جس کا عنوان ہے ’’چینو کی بیت الحمید مسجد میں عید کی تقریب‘‘ ہوئی جس میں 600 سے زائد لوگ شامل ہوئے۔ اس سے قبل انہوں نے جماعت احمدیہ کے عالمگیر اور روحانی پیشوا کا خطبہ عید، جو آپ نے یوکے سے ارشاد فرمایا تھا سنا۔ امام شمشاد نے اپنی جماعت کے لوگوں کو زلزلہ سے متاثرین کے لئے امداد کرنے کی ترغیب دی۔

العالم العربی نے اپنی اشاعت 28 جنوری 2005ء میں صرف ہماری ایک خبر عنوان میں چار تصاویر کے ساتھ دی۔ خبر یہ ہے کہ مسجد بیت الحمید چینو میں صلوٰۃ العید کے لئے 600 سے زائد لوگ اکٹھے ہوئے ہیں۔ ایک تصویر خاکسار کی خطبہ عید دیتےہوئےہے۔ ایک تصویر میں خاکسار ایک امریکن احمدی دوست مکرم عبدالرحیم صاحب کے ساتھ عید مل رہا ہے۔ تیسری تصویر میں سامعین خطبہ عید سن رہے ہیں اور چوتھی تصویر میں لوگ مسجد سے باہر نماز عید کے بعد ایک دوسرے سے مل رہے ہیں اور کھانا کھا رہے ہیں۔

بیروت ٹائمز نے اپنی اشاعت 10 فروری 2005ء میں صفحہ 28 پر ایک تصویر کے ساتھ جماعت احمدیہ فی نکس کی خبر دیتی ہے۔ خبر کا عنوان ہے

’’فی نکس ایروزونا میں جماعت احمدیہ مسلمہ کے افراد عیدالاضحی کےلیے اکٹھے ہوئے ہیں‘‘ نمائندہ خصوصی کی طرف سے خبر میں لکھا کہ جماعت احمدیہ مسلمہ کے افراد جو فی نکس ایروزونا کی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں، عید ملن پارٹی میں شامل ہوئے۔ اس عید ملن پارٹی کا اہتمام جماعت فی نکس کے صدر شیخ انیس نے کیا تھا۔

نماز ظہر کے بعد احباب کے ساتھ ایک مجلس سوال و جواب بھی ہوئی جس میں امام شمشاد نے مختلف سوالات کے جوابات دیئے۔ امام نے اپنے لوگوں کو خصوصیت کے ساتھ نمازوں کی ادائیگی، عورتوں سے حسن سلوک اور لوگوں کو صحیح اسلامی تعلیمات کے مطابق عمل کرنے کی طرف توجہ دلائی۔ امام نے اپنے خطاب میں آنحضرت ﷺ کی حدیث کا بھی ذکر کیا کہ جنت ماؤں کے قدموں میں ہے۔ اس کے مطابق ماؤں کو اپنے بچوں کی صحیح تربیت بھی کرنی چاہئے۔

تصویر میںمکرم شیخ انیس صاحب صدر جماعت، مکرم ملک منیر صاحب، مکرم عثمان صاحب، مکرم سلمان صاحب، مکرم نجیب صاحب، مکرم ظہیر صاحب، مکرم رفیق اسلام صاحب اور خاکسار کے ساتھ دیگر نوجوان ہیں۔

الاخبار نے اپنے عربی سیکشن میں 24 فروری 2005ء کی اشاعت میں قریباً ایک صفحہ کی خبر شائع کی ہے۔ جس میں جماعت کی 3 خبریں ایک ساتھ 3 تصاویرکے ساتھ شائع ہوئی ہیں۔ پہلی خبر اور تصویر میں جماعت احمدیہ کے وفد کی چیف پولیس چینو سے ملاقات کی خبر جس میں خاکسار چیف پولیس کو قرآن کریم پیش کر رہا ہے اور دوسری تصویر میں خبر کے ساتھ یہ لکھا ہے کہ امام شمشاد مسجد بیت الحمید نے فی نکس جماعت کا دورہ کیا اور وہاں پر عید ملن پارٹی میں شرکت کی۔ امام نے جماعت کے لوگوں کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ دلانے کے ساتھ نماز باجماعت، بیویوں کےساتھ حسن سلوک، تبلیغ کرنے اور ہمسایوں کے ساتھ نیک سلوک اور بچوں کی تربیت کی طرف توجہ دلائی۔ اس موقعہ پر سوال و جواب بھی ہوئے۔

تیسری خبر اور تصویر میں یہ بتایا گیا ہے کہ مسجد بیت الحمید میں عیدالاضحیہ کی تقریب ہوئی ۔ امام شمشاد نے خطبہ عید دیا جس میں تقویٰ اور خدا کی راہ میں قربانیاں کرنے سے انسان خدا کا قرب حاصل کرتا ہے کے بارہ میں بتایااور یہ بھی بتایا کہ ہمیں ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہئے، باہمی محبت و پیار کے ساتھ، حقوق العباد کی ادائیگی بھی کرنی چاہئے۔ خبر کے آخر میں ہے کہ سونامی کی وجہ سے جماعت کے افراد کو متاثرہ لوگوں کی بھی حتی المقدور کوشش کرنی چاہئے۔

انڈیا ویسٹ نے 25 فروری 2005 صفحہ B-13 پر ایک تصویر کے ساتھ جماعت احمدیہ کی خبر دی ہے۔ خبر کا عنوان ہے کہ ’’جنوبی کیلیفورنیا میں مسلم کمیونٹی کا وفد علاقہ کے چیف پولیس سے ملاقات کرتا ہے۔‘‘

خبر کا خلاصہ لکھنے سے قبل خاکسار یہ بھی لکھنا ضروری سمجھتا ہے کہ مبلغ اور مربی کو جہاں متعین کیا جائے وہاں پر علاقہ کے پولیس کے محکمہ سے روابط رکھنے چاہئیں۔ جس کا بہت فائدہ ہوتا ہے بلکہ پولیس کے محکمہ کو ملنے کے لئے نہ صرف کوشش کرنی چاہئے بلکہ گاہے بگاہے خود ان کے دفتر جا کر ملنا چاہئے۔ میں نے امریکہ میں ہر جگہ اس کا فائدہ اٹھایا ہے کہ اگر کوئی غلط خبر بھی آپ کے خلاف یا جماعت کے خلاف انہیں پہنچاتا ہے تو ان کو آپ کے بارہ میں ساری معلومات پہلے سے ہونی چاہئیں۔ انشاء اللہ موقعہ اور مناسب وقت پر خاکسار اس بارہ میں مزید وضاحت کرے گا اور فوائد کا بھی تذکرہ کرے گا۔

ہمارا وفد علاقہ کے چیف پولیس سے ان کے دفتر جاکر ملا۔ اخبار نے جو تصویر شائع کی دائیں سے بائیں، مکرم جمیل محمد، مکرم ڈاکٹر طاہر خان چیف پولیس Eugene J. Hernandez ۔ انہوں نے ہاتھ میں قرآن مجید اٹھایا ہوا بلکہ نمایاں کیا ہوا ہے۔ جو خاکسار نے جماعت احمدیہ کی طرف سے انہیں پیش کیا تھا ان کے ساتھ خاکسار (سید شمشاد احمد ناصر) ہاتھ ملاتے ہوئے اور برادر محمد عبدالغفار اور ان کے ساتھ عمر خان ہیں۔

خبر میں لکھا ہے کہ احمدیہ مسلم کمیونٹی کا وفد جس کی قیادت امام شمشاد احمد ناصر کر رہے تھے آج پولیس چیف سے اُن کے گھر میں۔اور یہ میٹنگ ایک گھنٹہ تک رہی۔ یہ امام کی جب سے وہ اس علاقہ میں سلور سپرنگ میری لینڈ سے تبدیل ہو کر آئے ہیں چیف کے ساتھ پہلی ملاقات تھی۔ وفد نے چیف پولیس کو اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ جماعت احمدیہ ہر موقعہ پر خدمت کرنے کو تیار ہے۔ اس وزٹ میں ’’ناصر‘‘ نے چیف پولیس کو قرآن کریم مع مختصر تفسیر کے انگریزی میں تحفہ پیش کیا۔ چیف نے وفد کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ انہیں اسلام کے بارے میں تعارف کرایا گیا۔

بیروت ٹائمز نے عربی سیکشن میں 3 مارچ 2005ء صفحہ 32 پر خبر دی ہے کہ ’’جماعت احمدیہ مسلمہ کے وفد نے چینو کے چیف پولیس سے ملاقات کی‘‘ خبر کے ساتھ تصویر بھی ہے جس کے نیچے لکھا ہے کہ امام شمشاد اور چینو چیف پولیس۔

خبر میں بتایا گیا ہے کہ جماعت احمدیہ مسلمہ کا وفد امام شمشاد ناصر کی قیادت میں چینو کے چیف پولیس سے ان کے دفتر میں ملا۔ وفد میں ڈاکٹر طاہر خان، عبدالغفار محمد مصطفیٰ، عمر خان، جمیل محمد شامل تھے۔ مسجد بیت الحمید کا ایڈریس بھی دیا ہے خبر میں ہے کہ مسجد 11941 رامونا ایونیو پر واقع ہے۔

امام شمشاد نے اس موقعہ پر چیف کو جماعت احمدیہ کا تعارف کرایا اور اپنی اور جماعت کی طرف سے بوقت ضرورت بھرپور مدد اور تعاون کا یقین دلایا۔ امام شمشاد نے جماعت احمدیہ کی طرف سے چیف پولیس کو قرآن کریم کا تحفہ مع انگریزی ترجمہ وتفسیر بھی پیش کیا۔ جس پر چیف نے وفد کا شکریہ ادا کیا۔

Focus ۔ اخبار جو ساؤتھ کیلیفورنیا سے نکلتا ہے نے اپنی اشاعت مارچ 2005ء صفحہ 6 پر ہماری جماعت کی ایک خبر شائع کی ہے۔ اس خبر میں ایک تصویر بھی شامل ہے جس میں خاکسار جماعت احمدیہ چینو کے وفد کے ساتھ چیف پولیس چینو کو قرآن کریم کاتحفہ بھی پیش کر رہا ہے۔ خبر میں اس کی تفصیل ہے۔

نیوز ایشیا اپنی 16 مارچ 2005ء کی اشاعت صفحہ 56 پر دو تصاویر کے ساتھ ایک خبر شائع کرتا ہے۔ ایک تصویر کے نیچے لکھا ہے کہ امام شمشاد ناصر آف مسجد بیت الحمید جو کہ چینو کیلیفورنیا میں واقع ہے۔ سفیر پاکستان کو ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ پیش کر رہے ہیں۔

دوسری تصویر کے نیچے لکھا ہے کہ امام شمشاد ناصر آف مسجد بیت الحمید، چینو کونسل جرنل کو کتاب ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ پیش کر رہے ہیں۔

خبر کا عنوان ہے کہ ’’جہانگیر کرامت نے لاس اینجلس کے ورلڈ افیئر کونسل کے ممبران کے ساتھ ایک شام منائی۔‘‘

اس خبر میں لاس اینجلس ورلڈ افیئر کونسل کی طرف سے پاکستان کے امریکہ میں متعین سفیر جہانگیر کرامت جن کا یہ دوسرا وزٹ تھا، نے خطاب کیا، حکومت کی پالیسیوں کا ذکر کیا اور سوالات کے جوابات دیئے۔

اس کانفرنس میں امام شمشاد احمد ناصر اپنے وفد کے ساتھ شامل ہوئے اور کانفرنس کے اختتام پر امام شمشاد ناصر نے سفیر پاکستان جہانگیر کرامت کو ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ پیش کی۔ اسی طرح کونسل جرنل پاکستان آف لاس اینجلس کو بھی امام شمشاد نے ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ پیش کی۔ ہر دو نے شکریہ ادا کیا کہ وہ (جماعت احمدیہ کا وفد) اس کانفرنس میں شریک ہوا۔

(باقی آئندہ بدھ ان شاء اللہ)

(مرسلہ: (مولانا سید شمشاد احمد ناصر ۔ امریکہ))

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 دسمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 30 دسمبر 2020