• جمعرات 20 فروری 2020   (26 جمادى الآخرة 1441)

مبلغِ اعظم ﷺ

دن ہر روز طلوع ہوتا ہے۔ لیکن ہر دن ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کچھ دن ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی عظمت اور شان کبھی ماند نہیں پڑتی۔ آج سے 1400 برس پہلے بھی ایک ایسا دن گزرا ہے جس کی عظمت آج بھی ذہن انسانی میں ایک منور ستارہ کی طرح جگمگاتی ہے۔ یہ وہ مبارک دن تھا جس دن ہمارے آقا و مولیٰ سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم تجلی ظاہر ہوئی اور آپ ؐ کو خالقِ کائنات نے ساری دنیا کے لئے ہادی اور رہنما کے طور پر مقرر فرمایا۔ جبرئیل امین ؑ نے دیکھا کہ غارِ حرا کی تنہائی اور سکوت میں ایک فانی فی اللہ وجود دنیا و مَافِیْھَا سے کلیۃً بے نیاز اپنا سر نیاز خالقِ کائنات کے حضور جھکائے یاد الہیٰ میں مخمور ہے۔ یہی وہ وجود تھا جو کائنات کی تخلیق کا باعث تھا جسے خدائے ذوالعرش نے فرمایا کہ

لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاک

کہ اگر آپؐ کی تخلیق مقصود نہ ہو تی تو دنیا کو خلعتِ وجود سے ہی نوازا نہ جاتا۔ خدا تعالیٰ نے اسی گوہرِ مقصود کو فرمایا کہ تو کّل جہاں کا ہادی مقرر کیا جاتا ہے۔ اب تو اس پیغام کی کُل دنیا میں اشاعت کا ذمہ دار ہے۔ یہ وہ عظیم دن تھا جب سرورِ کائناتﷺ کے سپرد فریضۂ تبلیغ کیا گیا۔فرمانِ خداوندی کے الفاظ تھے:۔

یَا اَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَااُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ وَاِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ

( المائدہ: 68)

احساس ِ ذمہ داری

مبلغ ِاعظم سیدنا حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی عظمت کردار آپؐ کی زندگی کے ہرشعبہ میں ہویدا ہے۔ جذبہ تبلیغ کے پہلو پر غور کیا جائے تو اسوۂ نبوی ؐ کے ہزاروں پہلو نمایاں ہو کر ہمارے سامنے آجاتے ہیں۔ سب سے پہلی اہم اور قابل ذکر بات تو آپ کا وہ احساس ذمہ داری ہے جو آپ کے خلوص اور وفا کی صفات کا علمبردار ہے۔ غارِحرا کی تنہائیوں میں فرمان خداوندی ’’اِقْرَاْ‘‘ سننا تھا کہ آپ پر احساسِ ذمہ داری کی وجہ سے کپکپی طاری ہوگئی۔ اپنی کمزوری اور ناتوانی کا خیال کرکے آپؐ لرزہ براندام ہوگئے۔ اسی حالت میں گھر آئے تو آپ ؐ کی رفیقِ حیات حضرت خدیجہ ؓ نے آپ کو تسلی دی اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں کا ذکر کیا ۔اس سے آپؐ کو قدرے سکون ہوا۔ لیکن ذمہ داری کا یہ احساس کبھی ایک لمحہ کے لئے بھی آپ سے جدا نہیں ہوا۔

آپؐ کی زندگی کا لمحہ لمحہ اس بات پر گواہ ہے کہ تبلیغ کی جو ذمہ داری آپؐ کے سپرد کی گئی وہ آپؐ نے ہر موقع پر ہر قیمت پر اور ہر حالت میں سرانجام دی۔ نہ کوئی مصیبت اور مشکل آپؐ کا راستہ روک سکی اور نہ کوئی لالچ اور طمع آپؐ کے راستہ میں حائل ہو سکی۔ نہ آپ ؐ نے کبھی اپنے آرام کا خیال کیا اور نہ کبھی اپنی عزت و وجاہت کی پرواہ کی۔ بس ایک ہی دھن تھی اور ایک ہی لگن کہ کسی طرح دنیا کے ایک ایک فرد کو یہ حیات بخش پیغام پہنچا دیا جائے کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے وہی عبادت کے لائق ہے۔ وہی ہمارا خالقِ حقیقی اور معبودِ ازلی ہے۔ تبلیغ کا یہ جذبہ روزِ اول سے آپ ؐ کے دل میں ایسا جاگزیں ہوا کہ پھر آخری سانس تک زندگی کے ہر موڑ پر آپؐ کی حیاتِ طیبہ میں جلوہ افروز رہا۔

عظیم الشان قربانیاں

سیرت نبوی ؐ کے اس ایک پہلوکو بیان کرنے کے مختلف انداز ہوسکتے ہیں ۔ رسول اکرم ﷺ کے جذبۂ تبلیغ کو آپؐ کی عظیم الشان قربانیوں کے آئینہ میں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ قربانی اپنی ذات میں انسانی کردار کو اپنا حسن عطا کرتی ہے۔ لیکن جب یہ قربانی ایک اور بلند مقصد کی خاطر ہو تو اس کی عظمت بلند تر ہوکر ہمدوش ثریا ہوجاتی ہے۔ کچھ یہی کیفیت ہمیں سرورِ کائنات ﷺ کی ان قربانیوں میں نظر آتی ہے جو آپؐ نے اپنی زندگی کے بلند ترین مقصد یعنی اشاعتِ اسلام کی خاطر پیش فرمائیں۔

تفصیل کی تو شایدگنجائش نہیں لیکن مختصر اشاروں میں کچھ ذکر ہوسکتا ہے۔ ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دل میں جذبۂ تبلیغ اس طرح کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا کہ یہ آپؐ کی زندگی کا مقصد اور اوڑھنا بچھونا بن گیا تھا۔ قلبی کیفیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ خدائے علیم و خبیر نے جو انسانوں کے دلوں کی حالت کو جانتا ہے۔ فرمایا ہے کہ

فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْ امُوْمِنِیْن

(الشعراء: 4)

کہ اے ہمارے حبیبؐ! تیری کیفیت تو یہ ہے کہ توان لوگوں کی ہدایت کی خاطر اس قدرغم کرنے والا ہے کہ گویا اپنی زندگی اسی راہ میں فدا کر دینا چاہتا ہے۔ خدائے علیم و خبیر کا یہ اعلان آپؐ کے جذبۂ تبلیغ کا وہ منہ بولتا ثبوت ہے جس سے بڑھ کر ممکن نہیں ہوسکتا۔

حق یہ ہے کہ آپ ؐنے تبلیغ کی خاطر اپنے آرام کو قربان کیا۔ اپنے وقت کی قربانی دی اور تبلیغ کے مواقع تلاش کرکے اس فریضہ کو ادا کیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ آپؐ حج کے موقع پر آنے والے وفود کے پاس چلچلاتی دھوپ میں جایا کرتے تھے۔ ایک ایک خیمہ کے پاس جاکر خدا کا پیغام پہنچاتے۔ دن رات یہ مقدس جہاد جاری رہا۔ کوئی سنتا کوئی نہ سنتا۔ بعض بُرا بھلا کہنے والے بھی تھے لیکن آپؐ نے دن رات اس جہاد کو جاری رکھا۔ اس مسلسل کوشش کا پھل بھی خدا نے آپؐ کو عطا فرمایا۔ بیعت عقبیٰ اولیٰ اور عقبیٰ ثانیہ اسی جہاد کے ثمرات تھے۔

یہی جذبۂ تبلیغ تھا جو آپؐ کو کشاں کشاں طائف کے علاقہ میں لے گیا۔ جہاں اوباش لڑکوں نے پتھروں کی بارش سے جسم مبارک کو لہولہان کردیا۔ آپ ؐ پر آوازے کسے گئے لیکن ہادیٔ کاملؐ نے تبلیغ کی خاطر یہ سب کچھ برداشت کیا ۔پھر مکہ کی بستی میں آپؐ کے ساتھ جو کچھ ہوتا تھا وہ کس پر عیاں نہیں ۔ یہی وہ بستی ہے جس کی گلیوں میں آپؐ کے سرِ مبارک پر خاک ڈالی جاتی تھی۔ آپؐ کے راستہ میں کانٹے بچھائے جاتے تھے۔ اور آپؐ کا جرم اور آپؐ کا قصور اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ آپؐ ان لوگوں تک دن رات وہ پیغام پہنچاتے تھے جس کے لئے آپؐ مامور کئے گئے تھے۔ اس فریضہ کی خاطر آپ ؐ نے یہ سب کچھ برداشت کیا۔ آپؐ نے اپنی مقدس عزت کو خطرہ میں ڈالا۔ اپنا وقت اور آرام قربان کیا۔ ہر دکھ اور تکلیف برداشت کی لیکن تبلیغ کے جہاد کو ہر قیمت پر اور ہر حالت میں جاری رکھا۔

آپ ﷺ کو مکہ کی بستی میں گزارے ہوئے وہ دن بھی یاد تھے جب بستی کے لوگ آپ ؐ کو صادق اور امین کہا کرتے تھے۔ آپؐ کو صدوق کے لقب سے پکارتے تھے۔ اپنی امانتیں آپؐ کے پاس رکھوایا کرتے تھے۔ کیونکہ ان کی نظروں میں آپؐ سے زیادہ صادق اور امانت دارکوئی اور وجود نہ تھا۔ بستی کا ہر فرد آپؐ کی عزت کرتا تھا۔ اور ہر جگہ آپؐ کی تعریف ہوتی تھی۔ لیکن جونہی آپؐ نے تبلیغ اسلام کا علَم اپنے ہاتھ میں لیا۔ دنیا کاانداز یکلخت بدل گیا۔ اور ہمیشہ ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ ماضی کامحبوب شخص اب ان کی آنکھوں میں کانٹا بن کر کھٹکنے لگا۔ کل کے دوست آج آپؐ کے دشمن بن گئے۔ آپ ؐ کی راہوں میں آنکھیں بچھانے والے آپ ؐ کی جان کے دشمن بن گئے۔ صرف اس وجہ سے کہ رسول مقبول ﷺ کے ہاتھ میں تبلیغ کاعلم تھاجسے آپؐ کسی قیمت پر چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھے۔

ایک شاندار مثال

تبلیغ کے سلسلہ میں عزم محمدی ﷺ کی یہ بہت شاندار مثال ہے کہ جب آپؐ کے دشمنوں نے اکٹھے ہو کر آپؐ کے چچا سے رابطہ کیا جو دنیاوی طریق کے مطابق آپؐ کے کفیل اور محافظ تھے، ان کا مطالبہ تھا کہ تبلیغ بند کی جائے۔ مطالبہ کو اور زیادہ قابلِ قبول بنانے کے لئے انہوں نے وہ ساری باتیں اکٹھی کر دیں جو ایک دنیادار انسان کو قائل اور مائل کرنے کے لئے مؤثر ہوسکتی ہیں۔ وہ سارے لالچ بیان کئے جو ایک برق رفتار مجاہد کے تیز رو قدموں کو روکنے کے لئے کافی ہوسکتے ہیں۔ لیکن میرے آقا رسول عربی ﷺ کے آہنی عزم پر ذرا بھی آنچ نہ آئی۔ انہوں نے جاہ وحشمت، مال و ثروت اور حسن و جمال کا لالچ دیا۔ کوئی دنیا کا بندہ ہوتا تو یقینًا ان لالچوں پر مر مٹِتا لیکن یہاں تو خالق کائنات کا وہ بندہ تھا جو تبلیغ کی راہ میں اپنا سب کچھ نثار کرنے کی قسم کھائے ہوئے تھا۔چچا کی باتیں سن کر ایک آہنی عزم کے ساتھ فرمایا کہ

’’میرے چچا ! تم اپنی حفاظت کی امان واپس لینا چاہتے ہو تو لے لو،میرا خدا محافظ ہے۔ ہاں جہاں تک ان کی ان باتوں کا تعلق ہے جو انہوں نے بیان کی ہیں۔ تو میرا جواب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند بھی لا کر رکھ دیں (جو عملاً ان کے لئے ناممکن ہے اور اس سے زیادہ مشکل بات اور بلند تر انعام واکرام تصور نہیں کیا جا سکتا) تو پھر بھی خدا کی قسم ! میں تبلیغ کے اس جہاد سے نہیں رک سکتا۔

لَوْ وَضَعُو االشَّمْسَ فِیْ یَمِیْنِی وَالْقَمَرُفِی یَسَارِی عَلَی اَنْ اَتُرکَ ھٰذا الْاَمْرَ حَتّی یَظْھَرَ ﷲوَاَھْلَکَ فِیْہِ مَا تَرَکْتُہُ

(بحوالہ سیرۃ ابن ہشام ۔ جلد اوّل)

کہ یہ تو ہوسکتا ہے کہ میں اس راہ میں ہلاک کر دیا جاؤں۔ لیکن میں جیتے جی تبلیغ کے جہاد سے رُک نہیں سکتا۔

تبلیغ ِاسلام کے لئے ہمارے آقا و مولیٰ ﷺ نے ہر طریقہ استعمال فرمایا۔ زبانی بھی یہ سلسلہ جاری رکھا اور تحریری بھی ۔زمانہ کے حکمرانوں کو خدائے واحد کی طرف بلایا۔ انفرادی بھی اور اجتماعی بھی۔ اپنے وطن میں بھی اور باہر بھی۔ تبلیغ کی خاطر قربانی پر قربانی دیتے چلے گئے۔ اپنے عزیز و اقارب کے دکھ دیکھے۔ ان کو اپنی آنکھوں کے سامنے تڑپتے دیکھا۔ خود دکھ اٹھائے حتیٰ کہ وہ وقت بھی آیا کہ اپنی محبوب ترین بستی کو بڑے بوجھل دل کے ساتھ الوداع کہا اور یہ قربانی بھی محض تبلیغ اسلام کی خاطر دی۔

حجۃ الوداع کے موقع پر

بالآخر آپؐ کی زندگی میں وہ وقت قریب آنے لگا کہ اب آفتاب نبوت دنیا کی نظروں سے اوجھل ہونے والا تھا۔حجۃ الواع کا موقع آیا۔ نظروں کے سامنے ایک اشارہ پر جانیں قربان کرنے والوں کا جم غفیر تھا۔ کس قدر ایمان افروز نظارہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے کس طرح اپنے سچے وعدوں کو پورا کر دکھایا تھا۔ اس موقع پر ہادیٔ کامل ﷺ کو اپنی زندگی کا اصل مقصد پوری طرح یاد تھا۔ وہ الفاظ اس وقت بھی آپؐ کے کانوں میں گونج رہے تھے کہ بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ ہاں وہی الفاظ جن پر عمل پیرا ہوتے ہوئے آپؐ نے زندگی کا ایک ایک لمحہ گزاردیا تھا۔ لیکن احساس ذمہ داری اس قدر شدید تھا کہ اس موقع پر آپؐ نے اپنے جاں نثار خدام کو ایک بار پھر اسلام کے پیغام کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اور پھر ان سے پوچھا کہ

’’ھَلْ بَلَّغْتُ‘‘ کہ کیا میں نے وہ پیغام تمہیں پہنچا دیا جو مجھے دیا گیا تھا۔ صحابہ ؓ نے آبدیدہ ہو کر کہا کہ ہماری جان آپؐ پر قربان! ہمارے آقاؐ! آپؐ نے خوب پہنچا دیا۔ یہ سن کر آپؐ نے فرمایا کہ میں اس وادی کو، اس کے دشت وجبل کو اس شہادت پر گواہ بناتا ہوں۔ اے اللہ تو گواہ رہنا کہ میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا اور اس امانت کا حق ادا کردیا۔

یہ ہے ہمارے آقا محمد مصطفیٰ ﷺ کا شاندار جذبۂ تبلیغ اور یہ ہے وہ اسوۂ نبویؐ جو آج بھی ہمیں اپنی ذمہ داریوں کی طرف بلا رہا ہے۔ ہمیں حقیقت میں ’’داعی الی ﷲ‘‘ بننے کا پیغام دے۔


(قانتہ شاہدہ راشد۔لندن)

پچھلا پڑھیں

طلوع و غروب آفتاب

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 31 جنوری 2020