• 14 جولائی, 2024

آئے تھے بعد میں تم آگے نکل گئے پر

اوہام نے کیا رشک ایقان پر تمہارے
ہے آسماں بھی حیراں ایمان پر تمہارے

اک شور سا اُٹھا ہے محشر کا آسماں پر
جب سے بدن گرے ہیں میدان پر، تمہارے

تم نے سبق دیا ہے ہم کو وفاؤں کا جو
جھک سے گئے ہیں شانے احسان پر تمہارے

آئے تھے بعد میں تم آگے نکل گئے پر
حیرت زدہ جنوں ہے عرفان پر تمہارے

عشق بلال دیکھا پھر آج ہم نے لوگو!
اُس کلمۂ وفا کے اعلان پر تمہارے

ضائع نہیں کبھی بھی جائیں گے دوستو! جو
چھینٹے گرے لہو کے دامان پر تمہارے

کیوں فکر وہ کریں گے پیچھے جو رہ گئے ہیں
اتریں گے اب فرشتے استھان پر تمہارے

(ڈاکٹر حبیب الرحمٰن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 30 جنوری 2023

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی