• 19 جون, 2024

مہدی آباد کے شہداء

احمدیت کے چمکتے ستارے
مہدی آباد کے شہداء

اس سانحہ میں سب سے پہلی شہادت امام الحاج ابراہیم بی دیگا صاحب کی ہوئی جبکہ آخری شہید آگ عمر آگ عبد الرحمٰن صاحب تھے۔ فہرست میں شہید نمبر دو اور نمبر تین جڑواں بھائی ہیں۔ زیادہ تر ناموں میں آگ (AG) کا لفظ آتا ہے۔ یہ تماشق زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ’’ابن‘‘ کے ہیں۔

شہداء کی سیرت و سوانح

شہید ہونے والے تمام افراد ہیروں کی مانند تھے۔ سادگی، حسن خلق، ایثار، قربانی، دوسروں کے لئے نیک نمونہ، احمدیت کے فدائی، خلافت کے سچے عاشق اور ایمان میں بے مثال پختگی اور مضبوطی کے حامل راہ حق کے یہ مسافر حقیقتاً عظیم لوگ تھے۔ ذیل میں سب شہداء کا مختصرتعارف پیش ہے۔

(1) الحاج ابرہیم بی دیگا صاحب
(Boureima Bidiga)

آپ جنوری 1955ء میں گل گونتُو، (Goulgountou) برکینا فاسو میں پیدا ہوئے۔ شہادت کے وقت آپ کی عمر 68 سال تھی۔ آپ تعلیم کے سلسلہ میں سعودی عرب میں بھی مقیم رہے۔ آپ تماشق زبان کے بہت بڑے عالم تھے اور اس زبان میں قرآن مجید کےمفسر بھی۔ آپ نے 1999ء میں بیعت کی۔

ابراہیم بی دیگا صاحب کی شہرت اور مقام

قبول احمدیت سے قبل امام ابراہیم بی دیگا صاحب کئی دیہات کے چیف امام تھے۔ اس زون کے دیگر علما آپ کے پاس آکر بیٹھنے اور اکتساب علم کرنے کو اپنی شان سمجھتے تھے۔ چنانچہ ہر سال کم از کم ایک دفعہ علاقے بھر کے علما، معلمین اور آئمہ آپ کے پاس آکر قیام کرتے اور فیض پاتے۔ یہ تعداد پانچ سو تک بھی چلی جاتی اور قیام ایک ہفتہ تک۔ کہا جا سکتا ہے کہ علاقے کے علما اور آئمہ کی سالانہ میٹنگ آپ کے پا س ہوا کرتی تھی۔

ان کے شاگر د بیان کرتے ہیں اُن دنوں میں بھی امام صاحب اکثر یہ کہا کرتے تھے کہ ابھی صداقت ظاہر نہیں ہوئی۔ کیونکہ حق اور صداقت کو ماننے والے تھوڑے ہوتے ہیں۔ جس طرح سینکڑوں کی تعداد میں یہ آئمہ میرے پا س آکر بیٹھتے اوربظاہر ایک دوسرے کو مسلمان خیال کرتے ہیں لیکن جب صداقت ظاہر ہوگی ماننے والے تھوڑے رہ جائیں گے۔ یہ لوگ میرے پاس سے بھی اٹھ کر چلے جائیں گے۔

قبول احمدیت

جب 1998ء میں ڈوری میں باقاعدہ احمدیہ مشن شروع ہوا تو امام ابراہیم بی دیگا صاحب تک بھی ا س پیغام کی بازگشت پہنچی۔ ڈوری کے علاقے میں احمدی مبلغ ناصر احمد سدھو صاحب اور مقامی مبلغ زالے طاہر صاحب تبلیغ کے لئے گئے تھے اس تبلیغی مہم کے دوران ایک مارکیٹ میں الحاج بی دیگا صاحب نے احمدیت کا نام پہلی بار سنا۔ انہیں پتا چلا کہ احمدی وفات مسیح کے قائل اور مسیح او رمہدی کے آنے کی خبر دیتے ہیں۔ چنانچہ ابراہیم بی دیگا صاحب سات افراد کا ایک وفد لے کر تلاش حق کے لئے ڈوری مشن تشریف لائے۔

اس وقت ڈوری کے مبلغ ناصر احمد سدھو صاحب بیان کرتے ہیں:
امام صاحب سات افراد کا وفد لے کر ڈوری مشن میں آئے تو انہوں نے جماعت کےمتعلق سوالات شروع کر دیے۔ یہ لوگ تین دن تک مشن میں رہے لیکن اس دوران میں خود سوئے نہ مجھے سونے دیا۔ اس کے بعد یہ واپس چلے گئے اور ایک ہفتہ کے بعد پھر آگئے اس بار کچھ نئے لوگ بھی اس وفد میں شامل تھے۔ یوں تحقیق کا سلسلہ تین ماہ تک چلتا رہا۔ اس دوران ان لوگوں کے اکثر سوالات کے جوابات دیے جا چکے تھے۔ خاکسار نے حضور انور رحمہ اللہ کی خدمت میں ان کے لئے دعا کا خط بھی لکھا۔ پھر ایک دن ابراہیم بی دیگا صاحب چھ افراد کا وفد لے کر آئے اور بیعت کرنے کا کہا۔میں نے پوچھا کہ باقی کہاں ہیں تو انہوں نے بتایا کہ وہ سب بھی بیعت کریں گے لیکن میں اب مزید تاخیر کر کے گنہگار نہیں ہونا چاہتا۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اگر کوئی سونے کی تلاش میں ہو اور اسے سونا مل جائے تو کیا وہ اسے چھوڑ دیتا ہے۔ جس صداقت کی مجھے تلا ش تھی میں نے اسے پالیاہے۔ اس لئے اب مزید انتظار نہیں کر سکتا اور ابھی بیعت کرنی ہے۔

آپ نے بہت تحقیق کے بعد احمدیت قبول کی تھی اور اپنے زون میں پہلا احمدی ہونے کا شرف پایا۔ قبول احمدیت کے بعد آپ جماعت کے لئے ایک نڈر سپاہی اور بے خوف داعی الیٰ اللہ بن کر ابھرے۔ آپ حقیقی معنوں میں ایک فدائی احمدی تھے۔ آپ کی تبلیغ اور کوششوں سے علاقے بھر میں احمدیت کا پیغام پھیل گیا اور کئی جماعتیں قائم ہوئیں۔ آپ بڑھ چڑھ کر تمام جماعتی پروگراموں میں حصہ لیتے۔

قبول احمدیت سے قبل ان کے عقائد کے مطابق وہابیوں کے علاوہ باقی سب فرقے کافر تھے۔ ٹی وی دیکھنا، فٹ بال کھیلنا اور دیکھنا، سکول جانا، فوٹو بنوانا اور گھر میں فوٹو لگاناسب حرام تھا۔ اسی وجہ سے ان میں سے اکثر کے شناختی کارڈ بھی نہیں بنے ہوئے تھے۔ قبول احمدیت کے بعد ان سب کی یکسر کایا پلٹ گئی اور اخلاص ووفا اور اطاعت کے بہترین نمونے بن گئے۔

امام ابراہیم بی دیگا صاحب اور اطاعت

رانا فاروق احمد صاحب سابق مبلغ سلسلہ ڈوری ریجن بیان کرتے ہیں:
برکینا فاسو میں رمضان المبارک اور عید ین کا اعلان سرکاری سطح پر ہوتا ہے۔ جماعت احمدیہ بھی حکومت کے اعلانات کے مطابق عمل کرتی ہے۔ ایک دفعہ برکینا فاسو میں عید الفطر کا اعلان رات بہت دیر کو ہوا۔ چنانچہ ہمیں امیر صاحب کی طرف سے اطلاع آگئی کہ صبح عید ہوگی۔ لیکن مشکل امر یہ تھا کہ رات گیارہ بجے کے بعد تمام جماعتوں کو اطلاع کیسے کی جائے۔ چنانچہ فون پر اطلاع دینا شروع کی۔ جب امام ابراہیم صاحب کے گاؤں میں اطلاع دی گئی تو ان کے رویہ سے معلوم ہوتا تھاکہ وہ اس فیصلہ سے متفق نہیں ہیں کہ آدھی رات کو کون سا چاند دیکھا جا سکتا ہے۔چاند کے لیے رؤیت نظری ضروری ہے۔ رات گیارہ بجے کون سا چاند نکل آیا ہے۔خاکسار کو محسوس ہوا کہ ان کے لئے ماننا مشکل ہو رہا ہے اس لئے اگلے دن صبح عید پڑھنے کے لئے میں اپنی فیملی کے ساتھ ان کے گاؤں چلا گیا۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ سب نے روزے رکھے ہوئے ہیں۔جب انہیں بتایا گیا کہ جماعت احمدیہ اولی الامر کی اطاعت کرتی ہے۔ حکومت کی طرف سے اعلان ہوگیا ہے اور ہمیں امیر صاحب کی طرف عید منانے کا پیغام مل گیا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اطاعت نہ کریں۔ اس پر امام ا براہیم صاحب نے فوری گاؤں والوں کو اکٹھا کیا اور روزے کھلوا کر نماز عید اد اکی گئی۔

جلسہ سالانہ برطانیہ میں شرکت

امام ابراہیم صاحب کو سال 2000ء میں جلسہ سالانہ برطانیہ میں شرکت کا موقع عطا ہوا۔

خلفاء کرام سے ملاقات پر تاثرات

مکرم ناصر سدھو صاحب بیان کرتے ہیں:
جب امام ابراہیم بی دیگا صاحب 2000ء میں جلسہ سالانہ برطانیہ کے موقع پر حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ علیہ سے ملاقات کے بعد باہر نکلے تو کہنے لگے کہ آنحضرت ﷺ کے نور کے متعلق تو ہم سُنتے اور پڑھتے تھے مگر کبھی دیکھا نہیں تھا۔ آج اس کے غلام ابن غلام میں اُس نور کو دیکھا ہے اور روحانی لذت محسوس ہوئی ہے۔

آپ کو 2004ء میں برکینا فاسو میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ سے شرف ملاقات عطا ہوا۔ اسی طرح 2008ء میں گھانا میں خلافت جوبلی کے جلسہ میں شرکت کی اور حضور انور سے ملاقات کا شرف پایا۔

جب 2004ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہوئی تو پھر وہی بات کہی جو خلیفۃ المسیح الرابع ؒ سے ملاقات کے بعد کہی تھی دیکھو!یہ وہی نورہے اور لذت بھی وہی مگر میں سیر نہ ہو سکا۔ حضور انور سے مصافحہ کرنے کے بعد اپنے ہاتھوں کو اپنے جسم پر ملتے کبھی اپنے بچوں کے جسموں پر ملتے رہے۔

علمی مباحث اور تبلیغ کا جنون

ابراہیم بی دیگا صاحب کو تبلیغ کو جنون تھا۔ قبول احمدیت سے قبل بھی آپ ایک صاحب اثر و رسوخ اور کئی گاؤں کے چیف امام تھے۔ قبول احمدیت کے بعد آپ نے اپنے آ پ کو تبلیغ کے لئے وقف کردیا۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ انہیں کسی اور چیز کی پرواہ ہی نہیں۔ انہوں نے تبلیغ کے واٹس آپ گروپ بنا رکھے تھے جس میں خاص طو رپر تماشق لوگوں کے لئےایک گروپ تھا۔ اس گروپ میں مالی، نائیجر، گھانا، سعودی عرب، لیبیا، تیونس، آئیوری کوسٹ وغیرہ ممالک سے لوگ شامل تھے۔ آپ مسلسل ان کو تبلیغ کرتے۔ دن رات آڈیو پیغامات ریکارڈ کر کے بھجواتے رہتے، دن ہو کہ رات اسی کام میں مصروف رہتے۔ جواب میں مخالفین آپ کو گالیوں کے پیغام بھجواتے۔ قتل کرنے کی دھمکیاں دیتے۔ لیکن آپ کبھی کسی سے غصہ سے بات کرتے نہ سختی سے جواب دیتے بلکہ قتل کی دھمکیاں دینےوالوں سے کہتے کہ کرایہ میں بھیج دیتا ہوں آجائیں اور مجھے قتل کرنے کا شوق پورا کر لیں۔

آپ کہا کرتے کہ جو مبلغین یہ بہانہ کرتے ہیں کہ حالات خراب ہیں اور ہم تبلیغی دورے پر باہر نہیں جا سکتے وہ میڈیا کے ذریعہ تبلیغ کریں اور اگر کسی کے پاس فون میں نیٹ پیکجکرنے کے لئے رقم نہیں ہے تو مجھ سے لے لے۔ سوشل میڈیا گروپ بنائے اور گھر بیٹھ کر تبلیغ کے جہاد میں حصہ لے۔

لوکل مبلغ مائیگا تیجان صاحب بیان کرتے ہیں:
امام ابراہیم صاحب کو قتل کی دھمکیاں دی جارہی تھیں۔ اپنی شہادت سے کچھ دن پہلے انہو ں نے مجھ سے ذکر کیا کہ مجھے قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ یہ لوگ مجھے مار دیں گے۔

حصول علم کے سفر

مکرم الحاج ابرہیم بی دیگا صاحب انتہائی مخلص اور فدائی احمدی تھے۔ ہر وقت علم میں اضافہ کے لئے کوشاں رہتے۔ آپ مکرم محمد شریف عودہ صاحب سے بہت متاثر تھے۔ ایم ٹی اے العربیہ باقاعدگی سے دیکھتے تھے۔ 2015ء میں جب آپ کو علم ہوا کہ مکرم شریف عودہ صاحب بینن کے دورے پر آ رہے ہیں تو آپ برکینا فاسو سے اپنے خرچ پر انہیں ملنے بینن چلے گئے اور ان کے دورے کے دوران میں وہاں قیام کر کے ان سے اکتساب علمی کیا۔

مکرم محمد شریف عودہ صاحب کہتے ہیں:
میرے دورہ کے دوران میں امام ابراہیم بی دیگا صاحب میرے ساتھ ساتھ رہے۔ آپ مسلسل آیات قرآنی کی تفسیر، تشریح اور مختلف عملی موضوعات پر بات کرتے رہے۔ سوالات پوچھتے رہے۔

حسن خلق

آپ بہت سادہ طبیعت کے درویش قسم کے آدمی تھے۔ آپ اپنی فیملی اور رشتہ داروں کے ساتھ بہت حسن سلوک سے پیش آتے۔ سب سے ہمدردی کرنا آپ کی عادت تھی۔ دوسروں کی خاطر قربانی کرنا اور جذبہ ایثار دکھانا نمایاں اوصاف تھے۔

آپ کے شاگرد

آپ اپنے علاقے کے بہت معزز فرد تھے اور لوگ آپ کی بہت عزت کرتے تھے۔جب الحاج ابراہیم بی دیگا صاحب کوئی فیصلہ کرتے یا کوئی بات کہتے تو لوگ اس کی لاج رکھتے اور اسے مان لیتے۔آپ دوسروں کی مدد کے لئے ہمیشہ تیار رہتے۔ ہمیشہ ہنستے اور مسکراتے چہرے کے ساتھ لوگوں کو ملتے۔ آپ کے شاگردوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان میں سے بعض دوسرے ہمسایہ ممالک میں امام اور معلم کے طور پرکام کر رہے ہیں۔برکینا فاسو میں بطور معلم اور لوکل مشنری کام کر رہے ہیں۔

دوسروں کے لئے نمونہ

امام ابراہیم بی دیگا صاحب نیکی تقویٰ اور مسابقت بالخیر میں دوسروں کے لئے نیک نمونہ تھے۔ جب بھی احباب جماعت کو کوئی تحریک کرتے تو سب سے پہلے خود اس میں حصہ لیتے۔ اگر مالی قربانی کی تحریک ہوتی تو سب سے پہلے اپنا چندہ پیش کرتے۔اپنا اور بیوی بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے کھیتی باڑی کرتے تھے اس سال بھی اپنے کھیت میں فصل کاشت کی ہوئی تھی۔

مہمان نوازی

امام ابراہیم بی دیگا صاحب بہت مہمان نواز تھے۔ مرکز سے جانے والے تمام مہمانوں کو اپنی بساط سے بڑھ کر خدمت کرنے کی کوشش کرتے۔ مبلغین، معلمین اور تمام مرکزی مہمانوں کو دیکھ کر بہت خوشی اور مسرت کا اظہار کرتے۔ مہدی آباد پراجیکٹ کے سلسلہ میں نیشنل ہیڈ کواٹرز اور مرکز سے بہت مہمانوں کو وہاں جانے کا موقع ملا۔ ان سے ملنے والا ہر فردان کے حسن خلق اور مہمان نوازی سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتا۔

جماعتی کاموں میں شرکت

آپ کبھی جماعتی کاموں جلسہ جات، اجتماعات اور دیگر سرگرمیوں سے پیچھے نہیں رہتے تھے۔ پانچوں نمازو ں کی ادائیگی مسجد میں کرتے۔ نماز تہجد کے پابند تھے۔ اگر آپ کسی جماعتی سرگرمی میں موجود نہ ہوتے تو ا س کا مطلب تھا کہ یا تو بیمار ہیں یا سفر پر گئے ہوئے ہیں۔ جماعتی کاموں میں شرکت کے لئے کبھی اخراجات کی پراوہ نہ کرتے۔

شادی اور اولاد

آپ نے دو شادیاں کی جن میں سے اللہ تعالیٰ نے آپ کوگیارہ بچے عطا کئے۔

(2) الحسن آگمالی ائیل
AG Maliel Alhassane

آپ 1952ء میں فالا گونتو (Falagountou) گاؤں میں پیدا ہوئے۔ شہادت کے وقت آپ کی عمر 71 سال تھی۔ پیشہ کے لحاظ سے کسان تھے۔ آپ کو 1999ءمیں احمدیت قبول کرنے کی سعادت ملی۔ آپ گاؤں کے ابتدائی احمدیوں میں سے تھے اور امام ابراہیم صاحب کے ساتھ مل کر ڈوری مشن میں جانے والے تحقیقاتی وفد میں بھی شامل تھے۔ جب سے آپ نے بیعت کی تھی اخلاص و وفا میں ترقی کرتے چلے گئے۔ آپ خلافت کے ساتھ بہت اخلاص کا تعلق رکھتے تھے۔ نماز باجماعت کے پابند، تہجد گزار اور چندہ جات میں باقاعدہ تھے۔ آپ نے اپنی فیملی کے لئے اپنے پیچھے ایک نیک نمونہ قائم کیا۔ مجموعی طو رپر آپ نے جماعت کے لئے جان، مال اور وقت کی جو قربانی کی وہ غیر معمولی ہے۔

آپ برکینا فاسو کی چار پانچ زبانیں بولتے تھے جس کی وجہ سے آپ کا حلقہ احباب پورے ملک کی جماعتوں میں تھا۔ جلسہ سالانہ کے موقع پر دوسرے ریجنز سے آنے والوں کے ساتھ ان کی زبان جاننے کی وجہ سے بہت گھل مل کر رہتے۔ لوگ آپ کو پسند کرتے اور ان کی محفل میں بیٹھ کر محظوظ ہوتے۔ جب بھی جماعت کی طرف سے کوئی تحریک ہوتی اس میں آگے بڑھ کر حصہ لیتے۔ گزشتہ سال جماعت کی طرف سے وقف عارضی کرنے کی تحریک ہوئی تو مہدی آباد جماعت میں سے سب سے پہلے آپ نے اپنا نام لکھوایا۔

سفر کی صعوبت اور سیکورٹی حالات مخدوش ہونے کے باوجود آپ دسمبر 2022ء کے آخر میں ہونے والے برکینافاسو کے جلسہ سالانہ میں شامل ہوئے۔ سانحہ مہدی آباد میں آپ کے جڑواں بھائی مکرم حسین آگمالی ائیل صاحب کی بھی شہادت ہوئی ہے۔

آپ نے ایک بیوہ، 3 بیٹے اور 2 بیٹیاں یادگار چھوڑے ہیں۔

(3) حسین آگمالی ائیل
AG Maliel Ousseni

آپ1952ء میں پیدا ہوئے شہادت کے وقت آپ کی عمر 71 سال تھی۔ آپ نے 1999ء میں بیعت کرنے کی توفیق پائی۔ آپ اپنے گاؤں کے ابتدائی احمدیوں میں سے تھے اور الحاج ابراہیم صاحب کے ساتھ ڈوری مشن میں جا کر تحقیق کرنے والے گروپ میں بھی شامل تھے۔

آپ اس وقت مہدی آباد میں بطور زعیم انصاراللہ خدمت کی توفیق پا رہے تھے۔ آپ تمام انصار بھائیوں کو بہت اچھے طریق سے منظم کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ان کو جماعتی پروگراموں اور سرگرمیوں میں متحرک رکھتے اور تربیت کے متعدد پروگرام منعقد کرواتے رہتے۔ مسجد کی صفائی اور دیگر مقامات پر وقار عمل کرواتے۔ آپ کی عادت تھی کہ رمضان المبارک میں اپنے گھر میں اجتماعی افطار کا انتظام کرتے اور احباب جماعت کو اس میں مدعو کرتے۔ آپ چندہ جات میں باقاعدہ اور پانچوں نمازیں مسجد میں ادا کرنے کی بہت پابندی کرتے اور نماز تہجد ادا کرنے میں باقاعدہ تھے۔

آپ کی شادی قریبی جماعت بلارے (Belare) میں ہوئی تھی۔ اپنے سسرالی رشتہ داروں کے ساتھ بہت حسن سلوک کا معاملہ کرتے۔ ان کی ضروریات کا خیال رکھنے والے تھے۔ بلارے کے تمام احباب کے ساتھ آپ کا بہت اچھا تعلق تھا۔

سانحہ مہدی آباد میں آپ کے جڑواں بھائی مکرم الحسن آگمالی ائیل صاحب کی بھی شہادت ہوئی ہے۔

انہوں نے ایک بیوہ اور 3 بیٹے اور 1بیٹی یادگار چھوڑے ہیں۔

(4) حمیدو آگ عبد الرحمٰن
AG Abdouramane Hamidou

آپ 1956ء میں گل گونتُو، (Goulgountou) میں پیدا ہوئے۔ شہادت کے وقت آپ کی عمر 67 سال تھی۔ پیشہ کے لحاظ سے کسان تھے۔آپ نے 1999ء میں احمدیت قبول کرنے کی سعادت حاصل کی۔ آپ دل کے بہت صاف اور بہت حلیم طبع تھے۔ ہمیشہ جماعتی پروگراموں او رسرگرمیوں میں حصہ لینے والوں میں صف اول میں شمار ہوتے تھے۔ اگر آپ کسی پروگرام سے غیر حاضر ہوتے تو یہ سمجھا جاتا تھا کہ یقیناً کوئی بہت اشد مجبوری یا بیماری ہوگی ورنہ آپ غیر حاضر نہیں ہوتے تھے۔ آپ کا گھر مسجد کے بالکل پاس ہے۔ ہر نماز کے وقت آپ مسجد میں موجود ہوتے۔ آپ امام ابراہیم صاحب کے مددگار ساتھیوں میں سے تھے۔

جماعت کے ساتھ بہت اخلاص کا تعلق رکھتے تھے، اپنی فیملی کو بھی نظام جماعت کے ساتھ جڑے رہنے اور جماعتی پروگراموں میں شرکت کی تلقین کرتے رہتے۔ خلافت احمدیہ کے ساتھ وفا کا تعلق تھا۔ آپ کا بہت سارا وقت مسجد میں گزرتا۔ ایم ٹی اے پر پروگرام دیکھتے رہتے، خاص طورپر خطبہ جمعہ بہت باقاعدگی اور توجہ سے سنتے۔

انہوں نے ایک بیوہ اور 1 بیٹااور 3 بیٹیاں یادگار چھوڑے ہیں۔

(5) صُلَح آگ ابراہیم
AG Ibrahim Souley

آپ 1956ء میں گل گونتُو، (Goulgountou) میں پیدا ہوئے۔ شہادت کے وقت آپ کی عمر 67سال تھی۔ پیشہ کے اعتبار سے کسان تھے۔ آپ نماز با جماعت کے بہت پابند اور باقاعدگی سے چندہ جات ادا کرنے والے تھے۔ آپ مجلس انصار اللہ کے بہت متحرک کارکن اور جماعت کے بہت مخلص فرد تھے۔

آپ امام ابراہیم بی دیگا صاحب کے دست راست اور مددگار تھے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے صاحب علم تھے۔ مذہبی اور علمی گفتگو کرنا آپ کی عادت تھی۔ جب بھی انصار اور ممبران جماعت میں علمی گفتگو ہو رہی ہوتی آپ ایسی محفل میں پائے جاتے۔

آپ بہت حلیم اور شریف طبیعت کے مالک تھے۔ہر چھوٹے بڑے کے ساتھ حسن سلوک کرنا آپ کی اوصاف میں تھا۔جلسہ سالانہ یاکسی اجتماع پر جاتے ہوئے اگر دیکھتے کہ کسی کے پاس کرایہ کی رقم نہیں ہے یا کم ہے تو اپنی طرف سے اس کی مدد کر دیتے تاکہ وہ بھی شامل ہو جائے۔

آپ جماعت کے پروگراموں میں بہت کوشش کر کے شامل ہوتے کوشش ہوتی کہ کسی جماعتی پروگرام سے غیر حاضر نہ ہوں۔ ان دنوں ڈوری کے علاقے سے نکل کر سفر کرنا بہت ہمت کا کام ہے، آپ باوجود تمام تر خطرات کے مہدی آباد سے دسمبر کے آخری ہفتہ میں ہونے والے جلسہ سالانہ برکینا فاسو میں شامل ہوئے۔

(6) عثمان آگ سُودے
AG Soudeye Ousmane

آپ 1964 میں گل گونتوں، (Goulgouton) میں پیدا ہوئے۔ شہادت کے وقت آپ کی عمر 59سال تھی۔ آپ ایک مخلص اور جاں نثار احمدی تھے۔ جماعت کے لئے مال اور وقت کی قربانی کرنے والے تھے اور آخر پر اللہ تعالیٰ نے جان کی قربانی کی توفیق بھی عطا فرما دی۔ مہدی آباد کی مسجد کی تعمیر کے وقت پانی لے کر آتے اور تعمیر کے کام میں مسلسل تعاون کرتے اور بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔ آپ نمازوں کے بہت پابنداور چندہ جات میں باقاعدہ تھے۔ آپ کی عادت تھی کہ جب بھی کام پر جاتے اور جو کچھ کما کر لاتے اس میں سے چندہ کی رقم پہلے ادا کرتے اور پھر باقی رقم گھر لے کر جاتے۔

آپ صاحب علم تھے اور امام ابراہیم صاحب کے ساتھ مل کر علمی مباحثوں میں حصہ لیتے۔ کبھی کسی سے لڑائی جھگڑا نہ کرتے۔ کبھی غصہ نہ کرتے اور کسی سے ناراض نہیں ہوتے تھے۔

پیشہ کے اعتبار سے آپ ایک تاجر تھے اور جوتے فروخت کرنے کا کاروبار کرتے تھے۔ گاؤں میں جس مرد عورت بچے بوڑھے کو جوتا خریدنے کی ضرورت ہوتی آپ کے پاس چلا جاتا۔ کسی کے پاس اگر جوتا خریدنے کی استطاعت نہیں ہے یا رقم کم ہے تو بھی اسے خالی ہاتھ نہ جانے دیتے۔ کسی کو ننگے پاؤں واپس نہ جانے دیتے۔ اگر رقم نہیں ہے یا کم ہے تو کہتے کوئی بات نہیں بعد میں جب ہو گی دے دینا۔ گاؤں کے لوگ اپنی ضروریات کے لئے بلا تردد آپ کے پاس چلے جاتے اور آپ ان کی ضروریات پوری بھی کر دیتے۔

انہوں نے اپنے پیچھے ایک بیوہ چھوڑی ہے جبکہ ان کی کوئی اولاد نہیں ہے۔

(7) آگ علی آگ ماگوئیل
AG Maguel Ag Ali

آپ 1970ء میں بلارے (Bellare) میں پید اہوئے۔ آپ کو 1999ء میں اپنے والد صاحب کے ساتھ احمدیت قبول کرنے کی سعادت ملی۔ آپ پیشے کے اعتبار سے کسان تھے۔ آپ جماعت احمدیہ بےلارے (Belare) کے موٴذن تھے۔ جب کچھ عرصہ قبل دہشت گردی کی وجہ سے آپ کو اپنے گاؤں سے نقل مکانی کرنا پڑی تو آپ نے مہدی آبا دمیں سکونت اختیار کر لی۔ بہت مخلص احمدی تھے، نمازوں اور چندہ جات میں باقاعدہ تھے اور جماعت کی تمام سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے۔آپ نے دو شادیاں کیں جن میں سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نو (9) بچے عطا کئے۔ ایک بیٹی آپ کی شہادت سے ایک ہفتہ پہلے پیدا ہوئی۔ اپنی شہادت سے ایک دن قبل آپ نے اس نو مولودہ کا عقیقہ کیا۔

آپ کے بھتیجے یاتارا سلیمان (Yattara Souleman) نے ان کے ہاں پرورش پائی۔ انہوں نے اپنے بھتیجے کوپڑھایا اور گھانا مبلغ بننے کے لئے بھجوایا۔ آپ آج کل ڈوری کے علاقے گورم گورم میں خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:
میں بچپن سے ہی اپنے چچا آگالی آگماگوئیل AG Maguel Agali کے پا س رہا اور ان کے ہاں پرورش پائی۔خاندان کے باقی افراد کی نسبت آپ کی شخصیت منفرد تھی اور میں آپ کو آپ کی خوبیوں کی وجہ سے بہت پسند کرتا تھا۔ دوسروں کا خیال رکھنا اور مدد کرنا آپ کی عادت تھی۔

انہوں نے 2 بیوہ اور 9بیٹے اور بیٹیاں یادگار چھوڑی ہیں۔

(8) موسیٰ آگ ادراہی
AG Idrahi Moussa

آپ 1970ء میں دومم (Domom) برکینا فاسو میں پید اہوئے۔ شہادت کے وقت آپ کی عمر 53 سال تھی۔ آپ کھیتی باڑی کر کے اپنا اور اپنی فیملی کا پیٹ پالتے تھے۔جماعت کے کاموں میں ہمیشہ پیش پیش رہتے۔ احمدی ہونے سے قبل وہابیہ فرقہ کے بہت سرگرم رکن تھے۔ آپ والدین کی خدمت کی خاطر جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لاتے اور انہیں فروخت کرکے والدین کی ضروریات پوری کرتے۔ آپ نے کبھی کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں کیا۔ آپ نمازوں کی بہت پابندی کرنے والے اور تہجد باقاعدگی سے ادا کرنے والے تھے۔ آپ مغرب کی نماز پر مسجد میں آتے تو عشاء کی نماز پڑھ کر ہی واپس گھر جاتے۔ مغرب اور عشاء کا وقت مسجد میں گزارتے اور ذکر الہٰی میں مصروف رہتے۔ آپ کے متعلق ہر کوئی گواہی دیتا ہے کہ آپ ایک حقیقی مومن اور ایک مخلص فدائی احمدی ہونے کا عملی نمونہ تھے۔ جب بھی کسی جماعتی کام کے لئے آپ کو بلایا جاتا، حاضر ہو جاتے۔ آپ حضور انور کی خدمت میں دعائیہ خطوط لکھتے۔ حضورانور کے لئے باقاعدہ دعا کرنا آپ کے معمولات میں شامل تھا۔

انہوں نے ایک بیوہ اور 4 بیٹے اور 2 بیٹیاں یادگار چھوڑی ہیں۔

(9) آگ عمر آگ عبد الرحمٰن
Ag oumar AG Abdramane

آپ 1979ء میں گل گونتوں، (Goulgouton) برکینا فاسو میں پید اہوئے۔ شہادت کے وقت آپ کی عمر چوالیس سال تھی۔ تمام شہداء میں یہ سب سے کم عمر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو 1999ء میں بیس سا ل کی عمر میں عین جوانی میں احمدیت قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ بیعت کے بعد آپ جماعت کے ساتھ تعلق اور وفا میں ترقی کرتے چلے گئے۔ آپ مہدی آباد جماعت کے بہت مخلص اور فدائی ممبر تھے۔ آپ امام ابراہیم صاحب کے دست راست کے طور پر تھے اور مہدی آباد کے نائب امام الصلوٰۃ بھی۔ جب دہشت گرد مسجد میں داخل ہوئے تو انہوں نے امام ابراہیم صاحب کا پوچھنے کے بعد پوچھا کہ نائب امام کون ہے؟ تو انہوں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے بتایا کہ میں ہوں۔

آپ ہمیشہ مسجد میں آنے والے اولین افراد میں سے ہوتے اور بہت خشوع وخضوع کے ساتھ نماز ادا کیا کرتے تھے۔ نماز تہجد کی پابندی کرنے والے تھے۔ آپ مسجدمیں اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے کر آتے اور ان کی تر بیت کا بہت خیال رکھتے۔ حضور انور ایدہ للہ تعالیٰ کی خدمت میں باقاعدگی سے دعائیہ خطوط لکھتے اور چندہ جات کی ادائیگی میں پابندی کرنے والے تھے۔ روزانہ باقاعدگی سے تلاوت قرآن مجید کرتے اور تمام جماعتی سرگرمیوں میں حصہ لیتے۔

آپ سائیکل چلانے کے بہت ماہر تھے۔پورے علاقے میں آپ سائیکل پر لمبےسفر کرنے کے حوالے سے پہچانے جاتے تھے۔ آپ چار دفعہ ڈوری سے 265کلومیٹرز کا فاصلہ طے کر کے واگا دوگو میں خدام الاحمدیہ کے اجتماع میں شامل ہوئے۔ آپ کو 2008ء میں خلافت جوبلی کے جلسہ پر برکینا فاسو سے گھانا سائیکلوں پر جانے والے قافلے میں بھی شامل ہونے کی سعادت ملی۔

آپ اجتماعات میں ورزشی مقابلوں میں حصہ لیتے اور انعامات بھی جیتتے۔ چندہ جات میں باقاعدہ تھے۔

آگ عمر آگ عبد الرحمن صاحب (Ag oumar AG Abdramane) کو سب سے آخر پر شہید کیا گیا۔ جب آٹھ افراد کو شہید کیا جا چکا تو آخر پر آگ عمر آگ عبد الرحمن صاحب رہ گئے۔ آپ عمر کے لحاظ سے سب سے چھوٹے تھے۔ دہشت گردوں نے ان سے پوچھا کہ تم جوان ہو۔ احمدیت سے انکار کر کے اپنی جان بچا سکتے ہو۔ تو انہوں نے شجاعت سے ہمیشہ باقی رہنے والا جواب دیا کہ جس راہ پر چل کر میرے بزرگوں نے قربانی دی ہے۔ میں بھی اپنے امام اور بزرگوں کے نقش قدم پر چل کر ایمان کی خاطر اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیا رہوں۔ اس پر آپ کو بہت بے درردی سے چہرے پر گولیاں ما ر کر شہید کیاگیا۔

آپ نے اپنے پیچھے ایک بیوہ اور 5 بچے چھوڑے ہیں۔

(چوہدری نعیم احمد باجوہ۔ نمائندہ روزنامہ الفضل آن لائن لندن)

پچھلا پڑھیں

ممکنہ تیسری عالمی جنگ (قسط 4)

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 31 جنوری 2023