• 20 مئی, 2024

ارض بلال کے شہداء

ارض بلال کے شہداء
فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ قَضٰی نَحۡبَہٗ وَمِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّنۡتَظِرُ

خلافت خامسہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ کو پاکستان میں بھی اور بیرون پاکستان میں بھی کثرت سے شہادتیں پیش کرنے کی توفیق عطا ہوئی جیسے بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور اب افریقہ میں بھی اجتماعی شہادتیں پیش کرنےکا یہ پہلا واقعہ ہے۔

حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر خاکسار 1996ء میں برکینافاسو پہنچا اور 2006ء تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے خدمت کی توفیق پائی۔ برکینا فاسو کا سنٹرل مشن کرایہ کا تھا اور ٹین کی چھت تھی اور مشن محلہ کمسونگیں میں واقع تھا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلد ہی جماعت کو بہت بڑی جگہ عطا ہوئی اور مسجد مشن ہا ؤس اور ہسپتال بنا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے خاکسارکی تقرری غانا روڈ پر واقع شہر کو پیلا میں فرمائی جو کہ سو فیصد عیسائیوں کا شہر تھاوہاں اب جماعت کی مسجد اور مشن ہا ؤس ہے۔

اسی طرح تنکو دوگو اور وایوگیا ریجنزمیں مشن ہا ؤسز قائم کرنے کی توفیق ملی اور بعدازاں کایا ریجن میں جو کہ ڈوری کاہمسایہ ریجن ہے وہاں مشن ہا ؤس قائم کرنے کی توفیق ملی اور اس طرح ان سب شہداء سے تعلق اورمیل جول پیدا ہوا اور یہ سب جب بھی میٹنگ اور اجتماع یا جلسہ پر آتے توراستہ میں خاکسار کے پاس قیام کرتے اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان شہداء نےایسی تاریخ رقم کی ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے افریقہ کی ترقی کے لیے کھاد اور رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی اوریقیناً یہ ایک خوش قسمتی ہے جو ہمارے حصہ میں آئی۔

یہ اپریل 1997ء کی بات ہے کہ ڈوری کے علاقہ کے قریب کایا روڈ پر مسیح پاک کی آمد کی منادی گاؤں گا ؤں کر رہا تھا تو ایک گا ؤں کے لوگوں نے انکار کیا اورمجھے رات گا ؤں سے باہر ایک اسکول میں گزارنا پڑی بیگ سر کے نیچے رکھا اورموٹر سائیکل سائیڈ پر کھڑی کی اور سو گیا اور کوئی چیزخاکسار کے پیٹ کے اوپر سےرینگتی ہوئی گزری اور مجھے آج تک علم نہیں کہ وہ کیا تھا۔

یہ صحارا ڈیزرٹ ہے یہاں کے لوگ محمد عربی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے عاشق ہیں اسی طرح جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے عاشق صادق مسیح موعود ومہدی موعودؑ کو قبول کیا تو عشق کی ایک عظیم الشان تاریخ رقم کردی۔ امام مکرم ابراہیم بی دیگا صاحب سےخاکسار کا بہت ہی پیار اور محبت کا تعلق تھا۔ ابراہیم بی دیگا صاحب نے 1998ء میں احمدیت قبول کی اور 1999ء میں جلسہ سالانہ لندن میں خاکسار کے ساتھ حضرت خلیفةالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ سے ملنے گئے۔ مشہور ہے کہ انسان کا پتہ یا لین دین کرنےسے یا ساتھ سفر کرنے سے چلتا ہے۔ سب سے قابل ذکر اور پہلی بات کہ سفر میں نمازوں کی پابندی کرتے اور باقاعدگی سے نماز تہجد کی ادائیگی بھی کرتے رہ۔ گھانا میں ہوٹل میں قیام تھا تو ان کی توجہ کہیں سیر وغیرہ کی طرف نہیں تھی بلکہ صرف عبادت کی طرف تھی اور یہ کہ ہم ایک نیک مقصد کے لیے سفر کررہے ہیں اوربس آج یہ سوچ کر فخر محسوس ہوتا ہے کہ یہ عظیم لوگ تھے جن کے ساتھ ہم نے وقت گزارا۔

جب حضوررحمہ اللہ سے ملاقات کر کے باہر نکلے تو بے ساختہ کہا کہ نورہی نور تھا اور بے حد شکر کے جذبات میں نے ان میں محسوس کیے۔ لندن جا کر بھی ان کی توجہ عبادت کی طرف تھی۔ تہجد میں باقاعدگی اور خلیفہ وقت کی اقتداء میں نمازوں کا شوق۔ آپ بے حد ذہین اور بہت پرحکمت بات کرنے والے تھے۔ اسی طرح جب حضرت خلیفةالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقات کے بعد بھی ایسے ہی جذبات تھے۔ کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نور کا ذکر تو ہم پڑھتے تھے مگر دیکھا کبھی نہیں تھا اب ہم نے وہ نور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلفاء میں دیکھا اور اس لذت کو محسوس کیا ہے۔ ہمیشہ چہرے پر مسکراہٹ ہوتی بہت خندہ پیشانی سے ملتے۔

خاکسار کا سنٹر رستہ میں ہونے کی وجہ سے ہمیشہ جب بھی کیپٹل آتے میٹنگ یا اجتماع یا جلسہ پر آتے تو رات قیام کرتے یا رک کر آرام کرکےجاتے۔ ایک دن مجھ سے کہنے لگے آپ کے گھر کا کھانا بہت مذیدار ہوتا ہے۔ خاکسار نے کہا کہ یہ مسیح موعودؑ کا لنگر ہے۔ تو اصل تو وہ برکت ہے تو بہت ہی شکر کے جذبات تھے جب ان کو پتہ چلتا کہ کوئی احمدیت میں داخل ہوا ہے توان کی خوشی دیدنی ہوتی تھی چہرہ کِھل اٹھتا تھا اور شکر کے کلمات سے لبریز ہوتے تھے۔ ایک سچے اور کھرےانسان تھے۔ اسی سچائی کی وجہ سے آپ بہادر بھی تھےقول و فعل میں کوئی تضاد نہیں تھااورشان احمدیت ان میں نظر آتی تھی اور جام شہادت نوش کر لیا لیکن شان احمدیت قائم رکھی اور خدا کے حضور عاجزی اور دشمن کے سامنے بہادری کی وہ مثال قائم کی جس سے اہل افریقہ کا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے۔

مکرم عثمان بن سودئی شہید سے پہلی دفعہ 1998ء میں ملاقات ہوئی جب یہ خدام الاحمدیہ اجتماع پر سائیکل پرتشریف لائےآپ بہت جفاکش اور مضبوط جسم کے مالک تھے۔ اس اجتماع کے دوران میں نے ان کو بے حد فرماں بردار پایا۔

مکرم اگوما ابن عبدالرحمان یہ نوجوان بھی بہت سادہ اور جفاکش تھے۔ اجتماع خدام الاحمدیہ میں اور جلسہ پر ان سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ جلسہ کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے محنت اور مزدوری سے نہیں گھبراتےتھے۔ مربیان کی بہت عزت کرتے تھے۔

مکرم حسینی ابن مالل شہید ایک خاموش طبیعت انسان تھے۔ خاکسار نے ان کو ہمیشہ امام ابراہیم بی دیگا صاحب کے ساتھ ہی دیکھا۔ یہ بھی امام ابراہیم کی طرح نمازوں کے پابند اور تہجد باقاعدگی سے ادا کرنے والے تھے۔ بہت صاف دل اور صاف گو انسان تھے۔

الحسن ابن مالل شہید ان سے جلسہ اجتماع اور میٹنگزمیں ملاقات ہوتی۔ بہت ہی صائب الرائے تھے، بہت سنجیدہ اور سچے انسان تھے۔

مکرم حمیدو ابن عبدالرحمان شہید ان کی ایک بہت بڑی خوبی یہ تھی کہ ہمیشہ اطاعت میں سبقت لے جاتے۔ جماعت سے بے حد پیار کرنے والے تھے سب شہداء اعلیٰ اخلاق کےمالک تھے اور خاکسار اپنےآپ کو خوش قسمت شمار کرتا ہے کہ ان پیارے وجودوں کے ساتھ رہنے اور ملنے کے مواقع نصیب ہوئے۔ الحمد للّٰہ علی ذلک

برکینا فاسو میں گزرے ہوئے دس سال برکینا کے لوگوں کی محبت میرا سرمایہٴ حیات ہے۔ برکینا میں بیعتیں ہوئیں اور لوگوں نے کھلے دل سے احمدیت کو قبول بھی کیا۔ لیکن حضور پر نور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دورہ کے بعد ایمانوں میں جو تقویت اور مضبوطی آئی اس کو ہر احمدی نے حضور کے دورہ کے بعد محسوس بھی کیا اور اس کا برملا اظہار بھی کیا اور خاکسار بھی اس کا شاہد ہے۔ اللہ تعالیٰ ان شہداء کی قربانیوں کو قبول کرے اور ہم سب کو ہمیشہ خلافت احمدیہ کا سلطان نصیر بنائے۔ آمین

(ظفر اقبال احمد ساہی۔ مبلغ سلسلہ سینیگال)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 30 جنوری 2023

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی