• 14 جولائی, 2024

ایڈیٹر کے نام خط

مکرمہ صفیہ بشیر سامی صاحبہ تحریر کرتی ہیں:
خطبہ جمعہ کیا تھا شہیدوں کی شہادت کی داستان جو کئی دنوں سے سُن رہی تھی لیکن کل جب پیارے حضور نے اس المناک واقعہ کی تفصیل سنائی یقین کریں ایک پل بھی آنسو نہیں رُکے۔ ایسے محسوس ہو رہا تھا سب میرے سامنے ہیں دل دہل کر رہ گیا اور اُن شہیدوں کی شہادت کو اُن کی بہادری کو دل کی گہرائی سے سلام پیش کیا اور اُن کی شہادت پر فخر محسوس ہوا کیا ہماری جماعت بھی کیا جماعت ہے؟خدا کے فضلوں سے ایسے ہیرے اور جوان پیدا کرتی جو موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کرتے ہیں۔ یہ ہمارے بہادر جوان ہیں جو اپنے خون سے تاریخ رقم کر جاتے ہیں۔ ناز ہے اُن سب شہیدوں پر۔ اللہ پاک سے اُن سب شہیدوں کے لئے اور اُن کی فیملیز کے لئے میرے دل سے دعائیں ہیں۔ اُن شہیدوں کے لئے اللہ پاک جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اُن بہادروں کی فیملیز کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین

20؍جنوری کے اخبار میں محترم محمد افضل قمر صاحب کے مضمون نے بہت رلا یا۔ اُن کے جوان بیٹے چھوٹی چھوٹی بچیوں کے باپ کی وفات، جوان بیوی کی بیویگی، ماں باپ کا جوان بیٹا، بہنوں کا بھائی۔ اس غم نے مجھے بہت دُکھی کیا۔ اُن کی ساری فیملی کے لئے دل سے دعا کرتی ہوں اللہ اُن کے اس عظیم غم کو برداشت کرنے کی توفیق عطا فر مائے۔ اللہ خود اُن سب کا سہارا بن جائے اور جانے والے کے درجات بلند فر مائے۔ آمین۔ یہ سب اللہ کی امانت تھے اللہ کے پاس چلے گئے۔

یقیناً ہم سب نے اللہ کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 30 جنوری 2023

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی