• 19 جون, 2024

تلخیص صحیح بخاری سوالاً جواباً (كتاب الحیض) (قسط 16)

تلخیص صحیح بخاری سوالاً جواباً
كتاب الحیض
قسط 16

سوال: اللہ تعالیٰ کا عورتوں کے ایّام کے متعلق کیا حکم ہے؟

جواب: وَیَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡمَحِیۡضِ ؕ قُلۡ ہُوَ اَذًی ۙ فَاعۡتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الۡمَحِیۡضِ۔۔۔ إِلَى قَوْلِهِ۔۔۔ وَیُحِبُّ الۡمُتَطَہِّرِیۡنَ (البقرہ: 223) اور وہ تجھ سے پوچھتے ہیں حکم حیض کا، کہہ دے وہ گندگی ہے۔ سو تم عورتوں سے حیض کی حالت میں الگ رہو اور نزدیک نہ ہو ان کے جب تک پاک نہ ہو جائیں۔ یعنی ایّام حیض میں مباشرت نہ کرو۔

سوال: مقام جماع کون سا ہے؟

جواب: پھر جب خوب پاک ہو جائیں تو جاؤ ان کے پاس جہاں سے حکم دیا تم کو اللہ نے بیشک اللہ پسند کرتا ہے توبہ کرنے والوں کو اور پسند کرتا ہے پاکیزگی حاصل کرنے والوں کو۔ یعنی حصول اولاد کا مقام۔

سوال: حیض کی ابتدا کس طرح ہوئی؟

جواب: نبی کریمؐ کا فرمان ہے کہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کی تقدیر میں لکھ دیا ہے۔

سوال: کیا حائضہ عورت ارکان حج ادا کر سکتی ہے؟

جواب: عائشہؓ فرماتی تھیں کہ ہم حج کے ارادہ سے نکلے۔ جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو میں حائضہ ہو گئی اور اس رنج میں رونے لگی کہ رسول اللہؐ تشریف لائے، آپؐ نے پوچھا تمہیں کیا ہو گیا۔ کیا حائضہ ہو گئی ہو۔ میں نے کہا، ہاں!۔ آپؐ نے فرمایا کہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے لکھ دیا ہے۔ اس لیے تم بھی حج کے افعال پورے کر لو۔ البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔

سوال: کیا حضورؐ نے کبھی اپنی ازواج کی طرف سے قربانی کی؟

جواب: عائشہؓ نے فرمایا کہ رسول اللہؐ نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔

سوال: کیا حائضہ کا اپنے شوہر کے سر کو دھونا اور اس میں کنگھا کرنا جائز ہے؟

جواب: عائشہؓ نے فرمایا: رسول اللہؐ اس وقت مسجد میں معتکف ہوتے۔ آپ اپنا سر مبارک قریب کر دیتے اور میں اپنے حجرہ ہی سے آپؐ کا سر مبارک دھو دیتی، کنگھا کر دیتی، حالانکہ حائضہ ہوتی تھی۔

سوال: مرد کا اپنی حائضہ بیوی کی گود میں قرآن پڑھنا جائز ہے؟

جواب: عائشہؓ نے فرمایا کہ نبی کریمؐ میری گود میں سر رکھ کر قرآن مجید پڑھتے، حالانکہ میں اس وقت حیض والی ہوتی تھی۔

سوال: کیا نفاس بھی حیض ہی ہے؟

جواب: ام سلمہؓ نے فرمایا کہ میں نبی کریمؐ کے ساتھ ایک چادر میں لیٹی ہوئی تھی، اتنے میں مجھے حیض آ گیا۔ اس لیے میں آہستہ سے باہر نکل آئی اور اپنے حیض کے کپڑے پہن لیے۔

نبی کریمؐ نے پوچھا کیا تمہیں نفاس آ گیا ہے؟

میں نے عرض کیا ہاں۔ پھر مجھے آپؐ نے بلا لیا اور میں چادر میں آپؐ کے ساتھ لیٹ گئی۔

سوال: کیا حائضہ بیوی کے ساتھ مباشرت کرنا جائز ہے؟

جواب: حضرت عاشہؓ اور حضرت میمونہؓ نے فرمایا: ہم ازواج میں سے کوئی جب حائضہ ہوتی، اس حالت میں رسول اللہؐ اگر مباشرت کا ارادہ کرتے تو آپؐ ازار باندھنے کا حکم دے دیتے، باوجود حیض کی زیادتی کے۔ پھر بدن سے بدن ملاتے، آپ نے کہا تم میں ایسا کون ہے جو نبی کریمؐ کی طرح اپنی شہوت پر قابو رکھتا ہو۔

سوال: وہ کونسی وجوہات ہیں جن کی بناء پر حضورؐ نے عورتوں کو زیادہ صدقہ کرنے کا حکم دیا؟

جواب: رسول اللہؐ عید الاضحی یا عیدالفطر میں عیدگاہ تشریف لے گئے۔ وہاں آپؐ عورتوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو، کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم ہی کو دیکھا ہے۔

انہوں نے کہا یا رسول اللہ! ایسا کیوں؟

آپؐ نے فرمایا کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو، باوجود عقل اور دین میں ناقص ہونے کے میں نے تم سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقلمند اور تجربہ کار آدمی کو دیوانہ بنا دینے والا نہیں دیکھا۔

عورتوں نے عرض کی کہ ہمارے دین اور ہماری عقل میں نقصان کیا ہے یا رسول اللہ؟ آپؐ نے فرمایا: کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی سے نصف نہیں ہے؟

انہوں نے کہا، جی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: بس یہی اس کی عقل کا نقصان ہے۔

پھر آپ نے پوچھا کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہو تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے نہ روزہ رکھ سکتی ہے؟

عورتوں نے کہا ایسا ہی ہے۔

آپؐ نے فرمایا کہ یہی اس کے دین کا نقصان ہے۔

سوال: استحاضہ کیا ہے؟

جواب: فاطمہ ابی حبیشؓ کی بیٹی نے رسول اللہؐ سے کہا کہ یا رسول اللہ! میں تو پاک ہی نہیں ہوتی، تو کیا میں نماز بالکل چھوڑ دوں۔ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ یہ رگ کا خون ہے حیض نہیں اس لیے جب حیض کے مقررہ دن آئیں تو نماز چھوڑ دے اور جب اندازہ کے مطابق وہ دن گزر جائیں، تو خون دھو ڈال اور نماز پڑھ۔

سوال: حیض کا خون کس طرح صاف کیا جائے؟

جواب: ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔ یا رسول اللہ! آپ ایک ایسی عورت کے متعلق کیا فرماتے ہیں جس کے کپڑے پر حیض کا خون لگ گیا ہو؟ تو رسول اللہؐ نے فرمایا کہ اگر کسی عورت کے کپڑے پر حیض کا خون لگ جائے تو چاہیے کہ اسے رگڑ ڈالے، اس کے بعد اسے پانی سے دھوئے، پھر اس کپڑے میں نماز پڑھ لے۔

سوال: استحاضہ عورت کے لیے اعتکاف کیا حکم ہے؟

جواب: عائشہؓ نے فرمایا: نبی کریمؐ کے ساتھ آپؐ کی بعض ازواج نے اعتکاف کیا، حالانکہ وہ مستحاضہ تھیں اور انہیں خون آتا تھا۔ اس لیے خون کی وجہ سے طشت اکثر اپنے نیچے رکھ لیتیں۔

سوال: کیا عورت اسی کپڑے میں نماز پڑھ سکتی ہے جس میں اسے حیض آیا ہو؟

جواب: عائشہؓ نے فرمایا کہ ہمارے پاس صرف ایک کپڑا ہوتا تھا، جسے ہم حیض کے وقت پہنتے تھے۔ جب اس میں خون لگ جاتا تو اس پر تھوک ڈال لیتے اور پھر اسے ناخنوں سے مسل دیتے۔

سوال: عورتوں کو کسی فوت شدہ اور اپنے شوہر کی وفات پر کتنے دن سوگ کی اجازت ہے؟

جواب: ام عطیہؓ نے بیان کیاکہ آپؐ نے فرمایا کہ ہمیں کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے منع کیا جاتا تھا۔ لیکن شوہر کی موت پر چار مہینے دس دن کے سوگ کا حکم تھا۔ ان دنوں میں ہم نہ سرمہ لگاتیں نہ خوشبو اور عصب یمن کی بنی ہوئی ایک چادر جو رنگین بھی ہوتی تھی کے علاوہ کوئی رنگین کپڑا ہم استعمال نہیں کرتی تھیں۔

سوال: کیا عورت حیض کے غسل میں خوشبو استعمال کرے؟

جواب: ام عطیہؓ نے بیان کیا کہ ہمیں حیض کے غسل کے بعد کست اظفار (یمنی خوشبو) استعمال کرنے کی اجازت تھی اور ہمیں جنازہ کے پیچھے چلنے سے منع کیا جاتا تھا۔

سوال: حائضہ عورت غسل کیسے کرے؟

جواب: حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ انصار کی ایک عورت نے رسول اللہؐ سے پوچھا کہ میں حیض کا غسل کیسے کروں؟

آپؐ نے فرمایا کہ ایک مشک میں بسا ہوا کپڑا لے اور پاکی حاصل کر، یہ آپؐ نے تین دفعہ فرمایا۔ پھر نبی کریمؐ شرمائے اور آپؐ نے اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا، یا فرمایا کہ اس سے پاکی حاصل کر۔

پھر میں نے انہیں پکڑ کر کھینچ لیا اور نبی کریمؐ جو بات کہنی چاہتے تھے وہ میں نے اسے سمجھائی۔

سوال: عورت جس نے حج کے ساتھ عمرہ کی نیّت کی پھر تکمیل سے پہلے حائضہ ہوگئی؟

جواب: حضرت عائشہؓ نے فرمایا: ہم ذی الحجہ کا چاند دیکھتے ہی نکلے۔ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ جس کا دل چاہے تو اسے عمرہ کا احرام باندھ لینا چاہیے۔ کیونکہ اگر میں ہدی (قربانی کا جانور) ساتھ نہ لاتا تو میں بھی عمرہ کا احرام باندھتا۔ اس پر بعض صحابہ نے عمرہ کا احرام باندھا اور بعض نے حج کا۔ میں بھی ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ مگر عرفہ کا دن آ گیا اور میں حیض کی حالت میں تھی۔ میں نے نبی کریمؐ سے اس کے متعلق شکایت کی تو آپؐ نے فرمایا کہ عمرہ چھوڑ اور اپنا سر کھول اور کنگھا کر اور حج کا احرام باندھ لے۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ یہاں تک کہ جب حصبہ کی رات آئی تو رسول اللہؐ نے میرے ساتھ میرے بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو بھیجا۔ میں تنعیم میں گئی اور وہاں سے اپنے عمرہ کے بدلے دوسرے عمرہ کا احرام باندھا۔

سوال: مخلقة وغير مخلقة سے کیا مراد ہے؟

جواب: آپؐ نے فرمایا کہ رحم مادر میں اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ مقرر کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اے رب! اب یہ نطفة ہے، اے رب! اب یہ علقة ہو گیا ہے، اے رب! اب یہ ’’مضغة‘‘ ہو گیا ہے۔

پھر جب اللہ چاہتا ہے کہ اس کی خلقت پوری کرے تو کہتا ہے کہ مذکر یا موٴنث، بدبخت ہے یا نیک بخت، روزی کتنی مقدر ہے اور عمر کتنی۔ پس ماں کے پیٹ ہی میں یہ تمام باتیں فرشتہ لکھ دیتا ہے۔

سوال: عورت کب حیض سے فارغ ہوتی ہے؟

جواب: حضرت عائشہؓ فرماتیں کہ جلدی نہ کرو یہاں تک کہ صاف سفیدی دیکھ لو۔ اس سے ان کی مراد حیض سے پاکی ہوتی تھی۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کو معلوم ہوا کہ عورتیں رات کی تاریکی میں چراغ منگا کر پاکی ہونے کو دیکھتی ہیں تو آپ نے فرمایا کہ عورتیں ایسا نہیں کرتی تھیں۔ انہوں نے (عورتوں کے اس کام کو) معیوب سمجھا۔

سوال: کیا حائضہ عورت نماز قضا نہ کرے؟

جواب: نبی کریمؐ حائضہ کو نماز کا حکم نہیں دیتے تھے۔

سوال: کیا عورتیں غیر محرم کی مرہم پٹی کر سکتی ہیں؟

جواب: حضرت امّ عطیہؓ نے فرمایا کہ ہم زخمیوں کی مرہم پٹی کیا کرتی تھیں اور مریضوں کی خبرگیری بھی کرتی تھیں۔

سوال: کیا حائضہ عورت بھی عید گاہ جاسکتی ہے؟

جواب: حضورؐ نے فرمایا کہ جوان لڑکیاں، پردہ والیاں اور حائضہ عورتیں بھی باہر نکلیں اور مواقع خیر میں اور مسلمانوں کی دعاؤں میں شامل ہوں، یعنی عید گاہ جائیں۔

سوال: حضرت حفصہؓ نے پوچھا کیا حائضہ عورتیں بھی خطبہ عید سننے جائیں؟

جواب: آپؐ نے فرمایا کہ وہ عرفات میں اور فلاں فلاں جگہ نہیں جاتی۔ یعنی جب وہ ان جملہ مقدس مقامات میں جاتی ہیں تو پھر عیدگاہ کیوں نہ جائیں؟

سوال: کیا حیض اور حمل کی تصدیق کے لئے عورت کا اپنا بیان کافی ہے؟

جواب: وَلَا یَحِلُّ لَہُنَّ اَنۡ یَّکۡتُمۡنَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِیۡۤ اَرۡحَامِہِنَّ

کہ ان کے لیے جائز نہیں کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ان کے رحم میں پیدا کیا ہے وہ اسے چھپائیں۔

جب اللہ تعالیٰ نے حمل کے بارے میں عورت کے بیان کو کافی قرار دیا تو حیض کا معاملہ بھی اسی طرح ہی ہے۔

سوال: کیا عورت کے حیض وغیرہ کے معاملات میں عورت کے گھر کے آدمی کی گواہی بھی قابل قبول ہے؟

جواب: حضرت علی رضی اللہ عنہ اور قاضی شریح کی طرف یہ بات منسوب ہے کہ اگر عورت کے گھرانے کا کوئی آدمی گواہی دے اور وہ دیندار بھی ہو کہ یہ عورت ایک مہینہ میں تین مرتبہ حائضہ ہوتی ہے تو اس کی تصدیق کی جائے گی۔

سوال: عورت کے حیض کے دن زیادہ سے زیادہ کتنے ہوسکتے ہیں؟

جواب: بعض علما نے کہا ہے کہ حیض کم سے کم ایک دن اور زیادہ سے زیادہ پندرہ دن تک ہو سکتا ہے۔ بہر حال عورتیں اپنے معاملات کازیادہ علم رکھتی ہیں۔

سوال: خون حیض کے علاوہ عورت کے کوئی مواد خارج تو وہ کس ذیل میں ہے؟

جواب: حضرت ام عطیہؓ نے فرمایا کہ ہم زرد اور مٹیالے رنگ کو کوئی اہمیت نہیں دیتی تھیں۔

سوال: جس عورت کو طواف کر لینے کے بعد حیض آجائے تو الوداعی طواف کے لئے کیا کرے؟

جواب: حضرت عائشہؓ نے رسول اللہؐ سے کہا کہ یا رسول اللہؐ! صفیہ بنت حییؓ کو حج میں حیض آ گیا ہے۔ رسول اللہؐ نے فرمایا، شاید کہ وہ ہمیں روکیں گی۔ کیا انہوں نے تمہارے ساتھ طواف زیارت نہیں کیا۔

عورتوں نے جواب دیا کہ کر لیا ہے۔ آپؐ نے اس پر فرمایا کہ پھر نکلو حائضہ کے لئے جب کہ اس نے طواف افاضہ کر لیا ہو رخصت ہے کہ وہ گھر جائے اور طواف وداع کے لیے نہ رکی رہے۔

سوال: جب عورت حیض سے پاکی حاصل کر لے تو کیا کرے؟

جواب: حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ غسل کرے اور نماز پڑھے اگرچہ دن میں تھوڑی دیر کے لیے ایسا ہوا ہو اور اس کا شوہر نماز کے بعد اس کے پاس آئے۔ کیونکہ نماز سب سے زیادہ عظمت والی چیز ہے۔

(مختار احمد)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 30 جنوری 2023

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی