• 19 اپریل, 2021

یہ وصل ہوا کہ وصال ہوا

جب اپنا سُر پاتال ہوا
تب وحیِ نفس انزال ہوا

اک وصل کے خواب میں کھو جانا
یہ وصل ہوا کہ وصال ہوا

تھا دکھ اپنی پیدائش کا
جو لذت میں انزال ہوا

کن ہاتھوں کی تعمیر تھا میں
کن قدموں سے پامال ہوا

بِن عشق اسے کیونکر جانو
جو عشق سراپا حال ہوا

اس وقت کا کوئی انت نہیں
یہ وقت تو ماہ و سال ہوا

وہی ایک خلش نہ ملنے کی
ہمیں ملتے دسواں سال ہوا

ہر اچھی بات پہ یاد آیا
اک شخص عجیب مثال ہوا

ہر آن تجلی ایک نئی
لکھ جانا میرا کمال ہوا

کس بات کو کیا کہتا تھا مَیں
تم کیا سمجھے یہ ملال ہوا

تم کیسی باتیں کرتے ہو
اے یار صغیر ملال ہوا

کل رات سمندر لہروں پر
دیوانوں کا دھمّال ہوا

اک رانجھا شہر کراچی میں
اک رانجھا جھنگ سیال ہوا

(عبید اللہ علیم
یہ زندگی ہے ہماری۔ ویراں سرائے کا دیا صفحہ77۔79)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 30 مارچ 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 31 مارچ 2021