• 23 ستمبر, 2021

باپ کی دعا بیٹے کے حق میں قبول ہوتی ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ظہر کے وقت ایک نووارد صاحب سے ملاقات کی اور ان کو تاکید سے فرمایا کہ وہ اپنے والد کے حق میں جو سخت مخالف ہیں دعا کیا کریں انہوں نے عرض کی کہ حضور میں دعا کیا کرتا ہوں اور حضور کی خدمت میں بھی دعا کے لئے ہمیشہ لکھا کرتا ہوں حضرت اقدس نے فرمایا کہ:
’’توجہ سے دعا کرو باپ کی دعا بیٹے کے واسطے اور بیٹے کی دعا باپ کے واسطے قبول ہوا کرتی ہے اگر آپ بھی توجہ سے دعا کریں تو اس وقت ہماری دعا کا بھی اثر ہوگا۔‘‘

(ملفوظات جلد دوم صفحہ نمبر502 ایڈیشن1988)

بٹالہ کے سفر کے دوران حضرت اقدس، شیخ عبدالرحمٰن صاحب قادیانی سے ان کے والد صاحب کے حالات دریافت فرماتے رہے اور نصیحت فرمائی کہ:
’’ان کے حق میں دعا کیاکرو ہر طرح اور حتی الوسع والدین کی دلجوئی کرنی چاہیئے اور ان کو پہلے سے ہزار چند زیادہ اخلاق اور اپنا پاکیزہ نمونہ دکھلا کر اسلام کی صداقت کا قائل کرو۔ اخلاقی نمونہ ایسا معجزہ ہے کہ جس کی دوسرے معجزے برابری نہیں کرسکتے سچے اسلام کا یہ معیار ہے کہ اس سے انسان اعلیٰ درجے کے اخلاق پر ہو جاتا ہے اور وہ ایک ممیز شخص ہوتا ہے شاید خداتعالیٰ تمہارے ذریعہ ان کے دل میں اسلام کی محبت ڈال دے۔ اسلام والدین کی خدمت سے نہیں روکتا۔ دنیوی امور جن سے دین کا حرج نہیں ہوتا ان کی ہر طرح سے پوری فرمانبرداری کرنی چاہئے۔ دل و جاں سے ان کی خدمت بجا لاؤ۔‘‘

(ملفوظات جلد دوم صفحہ492 ایڈیشن1988)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 30 جولائی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 31 جولائی 2021