• 23 ستمبر, 2021

اور فقط تیرا ھی گدا سمجھے

رَبِّ اِنِّیۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَیَّ مِنۡ خَیۡرٍ فَقِیۡرٌ

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مشہور دعا رَبِّ اِنِّیۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَیَّ مِنۡ خَیۡرٍ فَقِیۡرٌ جو کس شان سے اور کتنے رنگوں میں پوری ہوئی۔ اس کے متعلق یہ نظم ہے۔

اک برگد کی چھاؤں کے نیچے
اک مسافر پڑا تھا غم سے چور
کیسے کچھ عرض مدعا کرتا
اپنی حاجات کا بھی تھا نہ شعور
دل سے بس ایک ہی دعا اُٹھی
میں اسی کا فقیر ہوں آقا
تُو جو میرے لئے بھلا سمجھے
مجھے اے کاش! ہر کوئی تیرا
اور فقط تیرا ہی گدا سمجھے
یہی سینے سے التجا اُٹھی
میری جھولی میں کچھ نہیں مولا
پیٹ خالی ہے، ہاتھ خالی ہے
زندگی کا سفر نبھانے کو
میں اکیلا ہوں، ساتھ خالی ہے
دل تنہا سے یہ صدا اُٹھی
بے ٹھکانہ ہوں، گھر نہیں اپنا
سر پہ چھت ہے، نہ بام و در اپنا
گاؤں کی چمنیوں سے اُٹھتا ہے
گو دھواں، وہ مگر نہیں اپنا
دل سے یہ شعلہ سا نوا اُٹھی
مصر جانے کو جی مچلتا ہے
پر اکیلا ہوں خوف کھاؤں گا
دست و بازو کوئی عطا کر دے
لوٹ کر تب وطن کو جاؤں گا
دل سے یہ مضطرب دعا اُٹھی

(کلام طاہر ایڈیشن 2004ء صفحہ99-100)

پچھلا پڑھیں

دجالیتی طلسم

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 31 اگست 2021