• 29 نومبر, 2020

جماعت احمدیہ کا ماٹو

جماعت احمدیہ کا ماٹو: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہ

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
’’محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں‘‘۔ یہ نعرہ ہم خاص طور پر غیروں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ ہم یہ نعرہ اس بات کے جواب میں یا اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے لگاتے ہیں کہ جماعت احمدیہ مسلمہ یا اس کے افراد دوسروں کے لئے بغض و کینہ رکھتے ہیں یا دوسروں کو اپنے سے بہتر نہیں سمجھتے۔ یا غیر مسلموں کی اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے ہم یہ آواز بلند کرتے ہیں کہ اسلام محبت پیار حسن سلوک اور دوسروں کے جذبات کا خیال نہ رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اس لئے ان کی یہ بات ہی غلط ہے کہ اسلام ظلم و تعدی اور بربریت کا مذہب ہے یا پھر ہم یہ نعرہ بلند کرتے ہیں کہ ہم آپس میں نفرتوں کی دیواروں کو گرا کر پیار اور محبت سے رہتے ہیں اور رہنا چاہتے ہیں۔ پس اگر ہم کسی بھی قسم کی خدمت انسانیت کرتے ہیں، ہم اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں تو یہ بھی اسی وجہ سے ہے کہ ہمیں دنیا کے ہر انسان سے محبت ہے اور ہم ہر ایک کے دل سے نفرتوں کے بیج ختم کر کے محبت اور پیار کے پودے لگانا چاہتے ہیں۔ یہ سب کیوں ہے؟ اس لئے کہ ہمیں ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سکھایا ہے۔ یہ سب اس لئے ہے کہ ہم نے اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو راتوں کو دنیا کی ہمدردی اور محبت میں تڑپتے دیکھا ہے اور اس حد تک تڑپتے اور بے چین ہوتے اور سجدوں میں روتے دیکھا ہے کہ اس تڑپ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرما کر قیامت تک آنے والے انسانوں کے لئے، ان انسانوں کے لئے جو بغض و کینے سے پاک ہوں بطور ثبوت محفوظ فرما دیا تا کہ آئندہ آنے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرنے سے پہلے اس تڑپ پر غور کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والے جو مسلمان کہلاتے ہیں اس اسوہ حسنہ پر چلنے کی کوشش کرنے والے بنیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ عَلٰٓی اٰثَارِہِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِھٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا (الکھف: 7) پس کیا تو شدت غم کے باعث ان کے پیچھے اپنی جان کو ہلاک کر دے گا اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائیں۔ یہ جن کا ذکر کیا گیا ہے وہ کس بات پر ایمان نہیں لاتے؟ اس بات پر کہ شرک نہ کرو، خدا کا بیٹا نہ بناؤ۔ جب ان کو کہا جاتا ہے تو اس پر ایمان نہیں لاتے۔ شرک ایک ایسا گناہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ اسے معاف نہیں کرتا۔ پس یہ ہمدردی اور محبت ہے ہر انسان سے حتیٰ کہ مشرک کے ساتھ بھی کہ اسے سیدھے راستے پر لانے کے لئے جہاں عملی کوشش کی جائے وہاں اس کے لئے دعا بھی کی جائے۔

پس اگر احمدیوں کو ’’محبت سب سے‘‘ کا صحیح ادراک حاصل کرنا ہے تو ہمیں اپنے آقا اور محسن انسانیت سے اس کے طریق سیکھنے ہیں اور یہ ہم تبھی کر سکتے ہیں جب خود اپنی توحید کے معیاروں کو بھی ماپیں۔ پھر ہم دیکھتے ہیں محبت اور ہمدردی کے جذبات کی ایک اور مثال کہ جب قوم کی طرف سے ظلم و تعدی کی انتہا ہوتی ہے تو تباہی کی دعائیں نہیں کیں بلکہ یہ دعا کی کہ اے اللہ میری قوم کو ہدایت دے۔ یہ نہیں جانتے کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں ان کے فائدے کے لئے ہے۔ جب دوسرے قبیلے تنگ کرتے ہیں اور بددعا کے لئے کہا جاتا ہے تو تب بھی ایک موقع پر آپ نے یہی ہاتھ اٹھائے۔ لوگ سمجھے کہ بددعا ہوئی اور قبیلہ تباہ ہوا۔ آپ نے کہا کہ

اے اللہ دوس قبیلے کو ہدایت دے۔

(صحیح البخاری کتاب الجھاد و السیر باب الدعا للمشرکین بالھدیٰ لیتألفھم حدیث 2937)

پس محبت صرف اپنوں کے لئے اور ہمدردی صرف اپنوں سے ہی نہیں بلکہ دوسروں سے بھی محبت اور ہمدردی کے وہی معیار ہیں۔ صرف اور صرف ایک درد ہے کہ توحید کا قیام ہو جائے تا کہ دنیا تباہی سے بچ جائے۔ آج بھی دنیا میں ہزاروں قسم کا شرک پھیل چکا ہے اور نہ صرف شرک بلکہ خدا کے وجود سے ہی دنیا کا ایک بڑا حصہ انکاری ہے۔ پس خدا تعالیٰ کی حکومت قائم کرنے کے لئے اور توحید کے قیام کے لئے ہمیں بھی اس چیز کو اپنانے کی ضرورت ہے جس کا سبق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نمونے سے ہمیں دیا ہے۔ ہمیں صرف اس بات پر خوش نہیں ہو جانا چاہئے کہ ایک نعرہ ہم نے لگا لیا جسے دنیا پسند کرتی ہے اور اس بات پر مختلف جگہوں پر ہماری واہ واہ ہو جاتی ہے۔ ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ نعرہ ایک ذریعہ ہے اس وسیع تر مقصد کے حصول کے لئے جس کی خاطر انسان کی پیدائش ہو ئی ہے۔ پس ہمارے انسانی ہمدردی کے کام، محبت کا پرچار اور اظہار اور عمل اور نفرت سے دوری اور نفرت سے صرف دوری ہی نہیں کرنی بلکہ نفرت سے ہمیں نفرت بھی اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے کے لئے ہے، اس کی توحید کے قیام کے لئے ہے۔ اگر ہمیں نفرت ہے تو کسی شخص سے نفرت نہیں بلکہ شیطانی عمل سے نفرت ہے اور ہونی چاہئے۔ شیطانی عمل کرنے والوں سے بھی ہمیں ہمدردی ہے اور اس ہمدردی کا تقاضا ہے کہ ہم انہیں اس گند سے باہر لائیں تا کہ انہیں خدا تعالیٰ کے عذاب سے بچائیں۔ دنیا داروں سے ہماری محبت اور ہمدردی دنیا داری کی خاطر نہیں ہے۔ ہم اپنے دلوں سے دنیا داروں کی نفرت ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو کچھ حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی محبت کو حاصل کرنے کے لئے، توحید کے قیام کے لئے، توحید کو اپنے دلوں میں پہلے سے بڑھ کر بسانے اور راسخ کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ پس ہمیں چاہئے کہ دنیا کی نظر میں پسندیدہ بننے کے لئے صرف نعرے نہ لگائیں یا اظہار نہ کریں بلکہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے یہ نعرہ لگائیں۔ اس زمانے میں ہم وہ خوش قسمت جماعت ہیں جنہیں حضرت مسیح وموعود علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کی محبت کے حصول کے لئے، ہمدردیٔ خلق اور محبت کے اصول اپنانے کے لئے چنا ہے اور آپ نے ہمیں وہ اصول سکھائے اور تعلیم دی۔ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
’’دین کے دو ہی کامل حصے ہیں۔ ایک خدا سے محبت کرنا اور ایک بنی نوع سے اس قدر محبت کرنا کہ ان کی مصیبت کو اپنی مصیبت سمجھ لینا اور ان کے لئے دعا کرنا‘‘

(نسیم دعوت، روحانی خزائن جلد19 صفحہ 464)

پھر آپ فرماتے ہیں:
’’یہ طریق اچھا نہیں کہ صرف مخالفتِ مذہب کی وجہ سے کسی کو دکھ دیں۔‘‘

(لیکچر لدھیانہ، روحانی خزائن جلد20 صفحہ 281)

ایک مجلس میں آپ نے فرمایا کہ
’’میرا تو یہ مذہب ہے کہ دشمن کے ساتھ بھی حد سے زیادہ سختی نہ کرو۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ تم کسی کو اپنا ذاتی دشمن نہ سمجھو اور اس کینہ توزی کی عادت کو بالکل ترک کرو۔‘‘

(ملفوظات جلد چہارم صفحہ440 مطبوعہ ربوہ)

یہاں پہلے جو فرمایا کہ ’’دشمن کے ساتھ بھی حد سے زیادہ سختی نہ کرو‘‘۔ اس سے یہ خیال آ سکتا ہے کہ جب نفرت کسی سے نہیں تو دشمنی کیسی۔ اس کا جواب بھی فرما دیا کہ جو مذہب کی وجہ سے دشمن ہیں، جو خود دشمنی میں بڑھے ہوئے ہیں تم ان کو ذاتی دشمن نہ سمجھو۔ تمہارے دل میں دشمنی ہے یا نہیں۔ جو بھی تمہارے سے دشمنی کرنے والے ہیں ان کی اصلاح کی کوشش تو کرو لیکن ذاتی دشمن بنا کر یا ذاتی دشمنی کا دل میں خیال لا کر پھر کینہ توزی کی عادت نہ ڈالو۔

نفرتوں کو دور کرنے کے بارے میں نصیحت فرماتے ہوئے آپ نے فرمایا:
’’نوع انسان پر شفقت اور اس کی ہمدردی کرنا بہت بڑی عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے یہ ایک زبردست ذریعہ ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد چہارم صفحہ438 مطبوعہ ربوہ)

فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بغیر لحاظ مذہب و ملت کے تم لوگوں سے ہمدردی کرو۔ بھوکوں کو کھلاؤ۔ غلاموں کو آزاد کرو۔ قرضہ داروں کے قرض دو۔ زیر باروں کے بار اٹھاؤ اور بنی نوع سے سچی ہمدردی کا حق ادا کرو۔‘‘

(نور القرآن نمبر2 روحانی خزائن جلد9 صفحہ 434)

پھر ایک موقع پر فرمایا کہ
’’میں کبھی ایسے لوگوں کی باتیں پسندنہیں کرتا جو ہمدردی کو صرف اپنی قوم تک محدود کرنا چاہتے ہیں … میں تمہیں بار بار نصیحت کرتا ہوں کہ تم ہر گز ہرگز اپنی ہمدردی کے دائرہ کو محدودنہ کرو۔‘‘

(ملفوظات جلد چہارم صفحہ217 مطبوعہ ربوہ)

پھر فرمایا: ’’تم مخلوقِ خدا سے ایسی ہمدردی کے ساتھ پیش آؤ کہ گویا تم ان کے حقیقی رشتہ دار ہو جیسا کہ مائیں اپنے بچوں سے پیش آتی ہیں … جو ماں کی طرح طبعی جوش سے نیکی کرتا ہے وہ کبھی خودنمائی نہیں کر سکتا‘‘۔ (کشتی نوح روحانی خزائن جلد19صفحہ 30)۔ (دکھاوے کے لئے نیکی نہیں کر سکتا۔)

پس دوسروں سے ہمدردی اور محبت کے یہ معیار ہیں اور یہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے، اس کے رسول کا حکم ہے۔ قرآن کریم میں ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے۔

(خطبہ جمعہ 9؍ مئی 2014ء)

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 30 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 31 اکتوبر 2020