• 26 جنوری, 2021

تو یہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے کے ہیں …

تو یہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے کے ہیں جن کی ان چھوٹی چھوٹی قربانیوں سے، ان شبنم کے قطروں سے، درخت پھلوں سے لدے رہتے تھے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
اب ان پاک نمونوں میں سے چند ایک کا مَیں ذکر کروں گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:
ایسا ہی مباہلہ کے بعد حبی فی اللہ شیخ رحمت اللہ صاحب نے مالی اعانت سے بہت سا بوجھ ہمارے درویش خانہ کا اٹھایا ہے۔ میں خیال کرتا ہوں کہ سیٹھ صاحب (حاجی سیٹھ عبدالرحمن، اللہ رکھا صاحب مدراس کے تاجر تھے) موصوف سے بعد نمبر دوم پر شیخ صاحب ہیں۔ جو محبت اور اخلاص سے بھرے ہوئے ہیں۔ شیخ صاحب موصوف اس راہ میں دو ہزار سے زیادہ روپیہ دے چکے ہوں گے۔ اور ہر ایک طور سے وہ خدمت میں حاضر ہیں۔ (اس زمانے میں دو ہزار کی بڑی ویلیو (Value) تھی) اور اپنی طاقت اور وسعت سے زیادہ خدمت میں سرگرم ہیں۔ ایسا ہی بعض میرے مخلص دوستوں نے مباہلہ کے بعد اس درویش خانہ کے کثرت مصارف کو دیکھ کر اپنی تھوڑی تھوڑی تنخواہوں میں سے اس کے لئے حصہ مقرر کر دیا ہے۔ چنانچہ میرے مخلص دوست منشی رستم علی صاحب کورٹ انسپکٹر گورداسپور تنخواہ میں سے تیسرا حصہ یعنی 20روپیہ ماہوار دیتے ہیں۔

(ضمیمہ انجام آتھم، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 313-312حاشیہ)

اس زمانے میں وہ بڑی چیز تھی۔ تو دیکھیں اپنے پر تنگی کرکے قربانیاں کرنے کا جو طریق ہے وہ جاری کیا۔ وہ نمونے قائم کئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ؓ میں تھے۔

پھر ایک اور ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’مَیں اپنی جماعت کے محبت اور اخلاص پر تعجب کرتا ہوں کہ ان میں سے نہایت ہی کم معاش والے جیسے میاں جمال الدین اور خیر الدین اور امام الدین کشمیری میرے گاؤں سے قریب رہنے والے ہیں وہ تینوں غریب بھائی بھی جو شاید تین آنہ یا چار آنہ روزانہ مزدوری کرتے ہیں۔ (آج ان کی اولادیں لاکھوں میں کھیل رہی ہیں۔) سرگرمی سے ماہواری چندہ میں شریک ہیں۔ ان کے دوست میاں عبدالعزیز پٹواری کے اخلاص سے بھی مجھے تعجب ہے کہ باوجود قلت معاش کے ایک دن سو روپیہ دے گیا۔ (یعنی اتنی طاقت نہیں تھی ایسا کاروبار نہیں تھا اس کے باوجود کہتے ہیں ایک دن مجھے ایک سو روپیہ دے گیا۔) مَیں چاہتا ہوں کہ خدا کی راہ میں خرچ ہو جائے۔ (تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں 🙂 وہ سو روپیہ شاید اس غریب نے کئی برسوں میں جمع کیاہو گا۔ مگر لِلّٰہی جوش نے خدا کی رضا کا جوش دلایا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 314-313حاشیہ)

جب مینارۃ المسیح کی تعمیر ہونے لگی تھی اس وقت کا ذکر ہے۔ فرمایا: ‘‘ان دنوں میں میری جماعت میں سے دو ایسے مخلص آدمیوں نے اس کام کے لئے چندہ دیا ہے۔ جو باقی دوستوں کے لئے درحقیقت جائے رشک ہیں۔ ایک ان میں سے منشی عبدالعزیز نام، ضلع گورداسپور میں پٹواری ہیں، جنہوں نے باوجود اپنی کم سرمائیگی کے ایک سو روپیہ اس کام کے لئے چندہ دیا ہے۔ (جن کا پہلے ذکر آیا ہے) اور مَیں خیال کرتا ہوں کہ یہ سوروپیہ کئی سال کا ان کا اندوختہ ہو گا۔ اور فرمایا کہ یہ اس لئے زیادہ قابل تعریف ہیں کہ ابھی وہ ایک اور کام میں بھی ایک سو روپیہ چندہ دے چکے ہیں۔ اور اپنے عیال کی بھی چنداں پرواہ نہیں کی (بالکل پرواہ نہیں رکھی) اور یہ چندہ پیش کر دیا۔

دوسرے مخلص جنہوں نے اس وقت بڑی مردانگی دکھلائی ہے، میاں شادی خاں لکڑی فروش ساکن سیالکوٹ ہیں۔ ابھی وہ ایک کام میں ڈیڑھ سو روپیہ چندہ دے چکے ہیں۔ اور اب اس کام کے لئے دو سو روپیہ (چندہ) بھیج دیا ہے۔ اور یہ وہ متوکل شخص ہے کہ اگر اس کے گھر کا تمام اسباب دیکھاجائے تو شاید تمام جائیداد 50روپے سے زیادہ نہ ہو (لیکن دو سو روپے چندہ دے دیا) انہوں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ کیونکہ ایام قحط ہیں اور دنیوی تجارت میں صاف تباہی نظر آتی ہے تو بہتر ہے کہ ہم دینی تجارت کر لیں۔ اس لئے جو کچھ اپنے پاس تھا سب بھیج دیا۔ (حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں:) اور درحقیقت وہ کام کیا جو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کیا تھا۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 315-314)

پھر فرمایا : ’’حبی فی اللہ میاں عبدالحق خلف عبدالسمیع یہ ایک اول درجہ کا مخلص اور سچا ہمدرد اور محض للہ محبت رکھنے والا دوست اور غریب مزاج ہے۔ دین کو ابتداء سے غریبوں سے مناسبت ہے کیونکہ غریب لوگ تکبر نہیں کرتے اور پوری تواضع کے ساتھ حق کو قبول کرتے ہیں۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ دولت مندوں میں ایسے لوگ بہت کم ہیں کہ اس سعادت کا عشربھی حاصل کر سکیں جس کو غریب لوگ کامل طور پر حاصل کر لیتے ہیں۔ (دسواں حصہ بھی ان کے پاس نہیں ہوتا۔) فطوبٰی للغرباء۔ میاں عبدالحق با وجود اپنے اِفلاس اور کمی مقدرت کے ایک عاشق صادق کی طرح محض للہ خدمت کرتا رہتا ہے اور اس کی یہ خدمات اس آیت کا مصداق اس کو ٹھہرا رہی ہیں کہ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ وَلَوْکَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ (الحشر:10) یعنی باوجود تنگی درپیش ہونے کے بھی اپنی جانوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن جلد3 صفحہ537)

تو یہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے کے ہیں جن کی ان چھوٹی چھوٹی قربانیوں سے، ان شبنم کے قطروں سے، درخت پھلوں سے لدے رہتے تھے۔ ان کے اعمال کے درخت بھی پھلدار رہتے تھے۔ اور جماعت بھی ان قربانیوں کی وجہ سے پھلوں سے لدی رہتی تھی۔

حضرت قاضی محمد یوسف صاحبؓ پشاوری لکھتے ہیں کہ :جن مخلص احباب نے لنگر خانے کے واسطے فوراً امداد بھیجی ان میں ایک شخص چوہدری عبدالعزیز صاحب احمدی اوجلوی پٹواری بھی تھے۔ (ان کا پہلے بھی ذکر آ چکا ہے)۔ جو خود آپ گورداسپور آئے اور آریہ کے مکان میں جبکہ حضرت احمد ؑ اوپر سے نیچے اتر رہے تھے (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر ہے) زینہ میں نصف راہ میں ملے اور ہاتھ سے اپنی کمر سے ایک سو روپیہ چاندی کے کھول کر پیش کئے۔ (یہ وہی واقعہ ہے، اس کی ذرا تفصیل ہے یا پہلے واقعہ کا جہاں حضرت مسیح موعود ؑ نے ذکر فرمایا ہے وہ ہو گا) کہ حضور کا خط آیا اور خاکسار کے پاس یہی رقم موجود تھی جو بطور امداد لنگر پیش کر رہا ہوں۔ قاضی محمد یوسف صاحب لکھتے ہیں کہ ’’مجھے ایک پٹواری کے جو ان دنوں صرف چھ روپے ماہوار تنخواہ لیتا تھا۔ (ان کی صرف چھ روپے ماہوار تنخواہ تھی۔ اور سو روپیہ چندہ دے رہے ہیں) اس ایثار پر رشک آیا۔ خداتعالیٰ نے اس کے اخلاص کے عوض اس پر بڑے فضل کئے۔‘‘

(رسالہ ظہور احمد موعودؑ صفحہ 72 مطبوعہ 30؍ جنوری 1955ء)

تو یہ تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحابہ کے نمونے جو پہلوں سے ملنے کے لئے اپنے پر تنگی وارد کیا کرتے تھے اور تنگی وارد کرکے قربانیاں دیا کرتے تھے۔

پھر حضرت قاضی یوسف صاحب ؓ ایک اور ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں: میرے پہلے قیام گورداسپور میں ایک واقعہ پیش آیا کہ ایک دفعہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے حضرت احمد سے (حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے) عرض کی کہ حضور لنگری کہتا ہے کہ لنگر کا خرچ ختم ہو گیا ہے۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ بعض مخلص احباب کو متوجہ کیا جاوے چند مخلص افراد کو امداد لنگر کے واسطے خطوط لکھے گئے اور کئی مخلصوں کے جواب اور رقوم آئیں۔ کہتے ہیں کہ ان میں سے ایک واقعہ خاکسار کو یاد ہے کہ وزیر آبادکے شیخ خاندان نے جو مخلص احمدی تھے ان کا ایک پسر نوجوان خط ملتے وقت طاعون سے فوت ہوا تھا۔ اس خاندان کا نوجوان لڑکا اس طاعون سے فوت ہوا تھا اور اس کے کفن دفن کے واسطے مبلغ دو سو روپے بغرض اخراجات اس کے پاس موجود تھے۔ اس نے اسی وقت (اس لڑکے کے باپ نے) ایک خط حضرت مسیح موعود ؑ کو لکھا اور یہ خط ایک سبز کاغذ پر تحریر تھا اور اس کے عنوان میں یہ لکھا کہ ’’اے خوشامال کہ قربانِ مسیحا گردد‘‘ کہ مبارک ہے وہ مال جو خدا کے مسیح کے لئے قربان کر دیا جائے۔ نیچے خط میں لکھا میرا نوجوان لڑکا طاعون سے فوت ہوا ہے۔ میں نے اس کی تجہیز و تکفین کے واسطے مبلغ دوسو روپے تجویز کئے تھے جو ارسال خدمت کرتا ہوں وہ دو سو روپے تھے جو اس کے لئے رکھے ہوئے تھے اور لڑکے کو اس کے لباس میں دفن کر دیتا ہوں۔ یہ ہے وہ اخلاص جو حضرت مسیح موعود ؑ نے مریدں کے دلوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے تھاجماعت کے لئے تھا، اللہ تعالیٰ کی مرضی چاہنے کے لئے تھا۔ قاضی صاحب لکھتے ہیں کہ یہی لوگ تھے جن کو آیت {وَآخَرِیْنَ مِنْہُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ} (الجمعۃ :4) کے ماتحت صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا کا مصداق قرار دیا گیا ہے۔

(رسالہ ظہور احمد موعود مؤلفہ قاضی محمد یوسف فاروقی احمدی۔ قاضی خیل صفحہ 71-70 مطبوعہ 30؍ جنور ی1955ء)

اتنی زیادہ قربانی کی کہیں اور مثال آپ کو نظر نہیں آئے گی۔ اگر آئے گی تو یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں ہی نظر آئے گی۔ اسی کا یہ خاصّہ ہے۔

حافظ معین الدین صاحبؓ کی قربانی کا ذکر آتا ہے کہ ’’ان کی طبیعت میں اس امر کا بڑا جوش تھا کہ وہ سلسلہ کی خدمت کے لئے قربانی کریں۔ خود اپنی حالت ان کی یہ تھی کہ نہایت عسر کے ساتھ گزارہ کرتے تھے (نہایت تنگی کے ساتھ گزارا کرتے تھے۔ اور) بو جہ معذور ہونے کے کوئی کام بھی نہ کر سکتے تھے۔ حضرت اقد س ؑ کا ایک خادمِ قدیم سمجھ کر بعض لوگ محبت و اخلاص کے ساتھ کچھ سلوک ان سے کرتے تھے (ان کو کچھ رقم پیش کر دیا کرتے تھے) لیکن حافظ صاحب کا ہمیشہ یہ اصول تھا کہ وہ اس روپیہ کو جو اس طرح ملتا تھا کبھی اپنی ذاتی ضرورت پر خرچ نہیں کرتے بلکہ اس کو سلسلہ کی خدمت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور پیش کر دیتے۔ اور کبھی کوئی تحریک سلسلے کی ایسی نہ ہوتی جس میں وہ شریک نہ ہوتے، خواہ ایک پیسہ ہی دیں۔ حافظ صاحب کی ذاتی ضروریات کو دیکھتے ہوئے ان کی یہ قربانی معمولی نہ ہوتی تھی۔‘‘ (اصحاب احمدؑ جلد 13صفحہ 293 مطبوعہ 1967ء) تو یہ ان لوگوں کے چند نمونے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کو سنا، سمجھا اور عمل کیا۔

(خطبہ جمعہ 7؍ جنوری 2005ءبحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 30 دسمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 31 دسمبر 2020