• 16 جنوری, 2021

حضرت شیخ اصغر علی صاحب رضی اللہ عنہ

حضرت شیخ اصغر علی صاحب رضی اللہ عنہ
آف ایمن آباد ضلع گوجرانوالہ

حضرت شیخ اصغر علی صاحب رضی اللہ عنہ ولد مکرم شیخ بدر الدین صاحب اصل میں ایمن آباد ضلع گوجرانوالہ کے رہنے والے تھے آپؓ 1869ء میں پیدا ہوئے۔ آپ نے پنڈ دادن خان ضلع جہلم میں تعلیم پائی جہاں آپ کے والد اوورسیر تھے۔ پنڈ دادن خان سکول کے ہیڈ ماسٹر اور سیکنڈ ماسٹر بھی آپ کے بزرگوں میں سے تھے۔ آپ کے چچا مکرم شیخ امیر الدین صاحب پنڈدادن خان میں اوورسیر تھے جنہوں نے آپ کو اپنے ایک شاگرد حضرت ملک نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ کے پاس نقشہ نویسی کا کام سیکھنے کے لیے جہلم بھیج دیا تھاچنانچہ آپ نے بھی یہ کام سیکھ لیا۔ اسی دوران دونوں نے قادیان میں ذی الحجہ 1314ھ یعنی مئی 1897ء میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر لی۔ دونوں کی بیعت کا اندراج ایک نایاب فہرست میں یوں محفوظ ہے:

2۔ نور الدین ولدشمس الدین پنڈ دادن خان حال نقشہ نویس محکمہ بارگ ماستری جہلم
3۔ اصغر علی

(بحوالہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 646)

آپ اپنی قادیان حاضری اور قبول احمدیت کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں:
میرے چچا شیخ امیر الدین صاحب مرحوم پنڈ دادنخان میں اور سیر تھے اور حضرت حکیم الامت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جوانی کے دوست تھے۔ مَیں 1896ء میں (پورانی) پرانی پیچش کی مرض میں مبتلا تھا اور بمقام خانکی ہیڈ نہر چناب ورکشاپ میں سب ڈویژنل کلرک تھا۔ میرے چچا صاحب نے حضرت حکیم الامتؓ کو میری بیماری کے متعلق قادیان لکھا تو حضور نے جواباً ان کو لکھا کہ عزیز ایک دفعہ ہم کو ملے پھر ہم اس کو دیکھ لینے کے بعد تشخیص علاج کریں گے۔چنانچہ میں دارالامان آیا۔ عیدالضحیٰ قریب تھی اور مہمان آرہے تھے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ گول کمرے میں کھانا کھاتے تھے۔ حضرت حکیم الامتؓ نے میری پرہیزی کھانے کا اپنے گھر میں انتظام فرمایا اور مفتی فضل الرحمٰن صاحب کو دونوں وقت باقاعدگی کے ساتھ مجھ کو کھانا کھلانے پر مقرر کیا۔ پانچ روز (کے بعد) حضور نے میری مرض کی تشخیص کا فیصلہ فرما کر مجھ کو کمال محبت کے ساتھ کہا کہ اب تم خوشی کے ساتھ مہمانوں میں مل کر حضرت اقدسؑ کے ساتھ پلاؤ گوشت وغیرہ سب کچھ کھا سکتے ہو۔ کسی پرہیز کی ضرور ت نہیں۔ یہاں سے جاتے ہی نسخہ لے جانا اور اپنے گھر جاکر دوائی بنالینا اور استعمال کرنا، ان شاء اللہ تم تندرست ہوجاؤ گے۔ میری عمر کا ستائیسواں سال تھا اور خدا کے فضل سے میں نماز کا ایسا پابند تھا کہ تہجد گزار بھی تھا۔ میرے والد بزرگوار نقش بندی خاندان کے باخدا مرد تھے اور بفضلہ تعالیٰ صاحب کشف تھے۔ میں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ مسجد مبارک میں …. روحانی کیفیت دیکھتا کہ جو کہ تحریر و بیان سے باہر ہے۔ چنانچہ مجھ کو بیعت کرنے کے واسطے غیبی تحریک ہوئی اور بغیر اس بات کے کہ کسی دوست نے مجھ کو بیعت کے واسطے توجہ دلائی ہو میں خود ہی بیعت کے واسطے حضرت اقدسؑ کے حضورپیش ہوا اور حضورؑ نے میری بیعت لی۔ بیعت کرنے کے بعد میں نے حضرت حکیم الامتؓ سے بیعت کرلینے کا ذکر کیا تو حضورؑ نے مجھ کو پیار کیا اور بہت ہی خوشی کا اظہار فرمایا۔ حضرت اقدسؑ کی معیت میں جماعت کے ساتھ نمازیں پڑھتے ہوئے ہر ایک مقتدی پر خشوع اور خضوع کی وہ کیفیت طاری ہوا کرتی تھی کہ جس کو حقیقی حضوری قلب کہا جاتا ہے۔

میرے والد بزرگوار ستر (70) سال سے اوپر کی عمر میں تھے جب میں نے ان سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق ذکر کیا۔ وہ نماز تہجد کے بعد معمول کے طور پر صبح کی نماز کی اذان کے وقت تک مراقبہ میں رہا کرتے تھے۔ انہوں نے جو حضرت المسیح الموعود المہدی المعہود کے متعلق توجہ کی تو کشفی حالت میں ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام دکھائے گئے۔ نماز فجرکے بعد انہوں نے بڑی خوشی کے ساتھ مجھ سے ذکر کیا اور کہا کہ واقعی مرزا صاحب کا دعویٰ سچا ہے اور وہی المسیح الموعود اور المہدی المعہود ہیں۔ اس دن کے بعد پھر بھی دو تین دفعہ میرے والد بزرگوار کو کشفی حالت میں حضرت اقدسؑ کی زیارت ہوئی اور انہوں نے حضور کی تصدیق کی۔ میں نے ان سے قادیان دارالامان چلنے اور بیعت کرنے کے واسطے توجہ دلائی تو انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے اصول شریعت کے خلاف ہے کہ ایک پیر کی بیعت ہوتےہوئے دوسرے پیر کی بیعت کی جاوے۔ میں نے اصرار نہ کیا اور اس کے بعد جب میں قادیان دارالامان آیا تو میں نے حضرت اقدس ؑ کی خدمت میں یہ حال بیان کیاتو حضورؑ نے فرمایا کہ وہ بلحاظ عمر کے اپنے عقیدہ کو نہ چھوڑنے میں معذور ہیں۔ ان کو مجبور نہ کرنا۔ وہ ہمارے مصدقوں میں ہی شامل ہیں۔ مجھ کو اطمینان ہوگیا۔

حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ تبلیغ کے سلسلہ میں لوگوں کو اس طرف توجہ دلانا بہت مفید ہوتا ہے کہ نماز عشاء کے بعد سونے سے پہلے تازہ وضو کرکے دو نفل پڑھے جاویں اور ان میں دعا کی جاوے کہ اے ہمارے مولیٰ! اگر یہ سلسلہ سچا ہے تو ہم پر حقیقت ظاہر کر۔ 1900ء میں جب میں مشرقی افریقہ ملازمت پر جاتے ہوئے اپنے ایک پرانے دوست مسمی نیک محمد صاحب ساکن سرائے عالمگیر ضلع گجرات کو اپنے ملازم کی حیثیت سے ساتھ لے گیا تھاتو ان کو تبلیغ کرتے ہوئے میں نے یہ نسخہ بتایا۔ انہوں نے یہ عمل کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو خواب میں …. نظارہ دکھایا …. ایسے خوش کن نظارہ کے بعد ان کی آنکھ کھلی اور دن چڑھے انہوں نے مجھے یہ حال بتایا اور ان کی بیعت کے واسطے خط لکھنے کو کہا۔ چنانچہ میں نے ان کی بیعت کا خط لکھ دیا۔ خدا کے فضل سے ان کا سارا خاندان احمدی ہے۔وہ فوت ہوچکے ہوئے ہیں۔
حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام مہمانوں کی خاطرتواضع کا خود بہت خیال فرمایا کرتےتھے۔ بھائی حافظ حامد علی صاحب مرحوم کو اس طرف توجہ دلانے کے علاوہ خود بھی خاص واقفیت اس پہلو میں رکھا کرتے تھےاور مہمانوں کی حیثیت کے مطابق کھانا بہم پہنچانے کا اہتمام ہوا کرتا تھا۔ غالباً 1902ء میں جب میں ایمن آباد سے قادیان دارالامان آرہا تھا تو مرحوم ومغفور سید ناصر شاہ صاحب لاہور اسٹیشن پر جس کمرہ انٹر کلاس میں قادیان آنے کے واسطے بیٹھے ہوئے تھے اس میں اتفاق سے میں بھی آ بیٹھا اور ہم دونوں اکٹھے آئے۔ لاہور سے بارش ہونی شروع ہوئی اور جب گاڑی بٹالہ پہنچی تو زور کی بارش تھی۔ اترتے ہی ہم نے مسافر خانہ میں ہی یکہ کرایہ پرکیا اور روانہ ہوگئے۔ بارش شاید قادیان کے موڑ پر پہنچنے کے بعد بند ہوئی تھی۔ دارالامان پہنچنے پر ہم دونوں کو حضرت اقدسؑ کے حکم سے اس کمرہ میں جگہ دی گئی جس میں بکڈپو ہے اور وہ شاید حامد شاہ صاحب مرحوم و مغفور کے خرچ سے تازہ بنوایا گیا تھا۔ حضور انورؑ کے حکم سے (مجھ کو جہاں تک یاد ہے) صبح ناشتہ میں عمدہ حلوہ بھی ہوتا تھا اور مکلف کھانا گھر سے آتا تھا۔ مجھ کو خیال ہے کہ حضور انورؑ شاہ صاحب مرحوم سے دریافت بھی فرماتے تھے کہ آپ لوگوں کو کوئی تکلیف تو نہیں ہے؟ مہمان کا احترام حد درجہ حضور انورؑ کے زیر نظر رہتا تھا۔

مغرب کی نماز کے بعد عام طور پر حضرت اقدس ؑ مسجد مبارک کی شہ نشیں پر بیٹھ کر رونق افروز رہتے۔ احباب حضور انورؑ کے پاؤں وغیرہ دباتے رہتے اور حضور انور ؑکی پاک صحبت کا فیض عشاء کی نماز تک میسر ہوتا۔ حضور انورؑ عشاء کی نماز کے بعد اندرون خانہ تشریف لے جاتے۔ عام طور پر مکرم محترم ڈاکٹر مفتی محمد صادق صاحب انگریزی اخبار وغیرہ سنایا کرتے اور بڑے بڑے مسائل بھی زیر بحث آتے رہتے۔

ایک دفعہ صبح کے وقت سیرکے لئے بمع بہت سے اصحاب کے حضور انورؑ شمال کی طرف جارہے تھے اور میر قاسم علی صاحب دہلی سے آئے ہوئے بھی اس وقت اصحاب میں شامل تھے تو حضور انور ؑ کی خدمت میں وَاللّٰہُ اَعْلَمُ کس صاحب نے (مجھ کو یاد نہیں رہا) عرض کیا کہ میر قاسم علی صاحب کچھ نظم بنا لائے ہیں اور سنانا چاہتے ہیں ۔ اس وقت ریتی چھلہ میں جو بڑھ کا بڑا درخت ہے اس کے قریب حضور انورؑ پہنچتے تھے۔ جو حضور عالی ؑ وہاں ہی شاید بڑھ کی جڑ پر بیٹھ گئے اور میر صاحب کو حکم ہوا کہ نظم سناویں۔ چنانچہ میر صاحب نے خوب بلندآواز سے اپنی نظم سنائی جس سے تمام اصحاب بہت محظوظ ہوئے۔ بعد ازاں شاید پھر آگے بھی سیر کو گئے تھے۔ حضرت اقدسؑ اپنے سلسلہ کے شاعروں کی بھی دلجوئی فرمایا کرتے تھے۔ سیر کے وقت باہر سے آنے والے اصحاب کو ملنے کا اور باتیں کرنے کا موقع خوب مل جایا کرتا تھا۔ ایک دفعہ ایک عیسائی صاحب (شاید عبدالحق نام تھا) کو کئی دن تک سیر کے موقع پر ہر روز اپنے سوالات پیش کرنے کا موقع دیا جاتا رہا اور حضورانور ؑسیر ہی میں مفصل جواب دیتے رہتے۔

ایک جلسہ کے موقع پر ہماری لائل پور کی جماعت مدرسہ احمدیہ کے ایک کمرے میں فروکش تھی۔ اس جلسہ میں بوجہ امید سے زیادہ احباب کے آجانے پر ایک رات بہت سے مہمان بھوکے رہے۔ کیونکہ کھانے نے کفایت نہ کی۔ ہمارے لائل پوری دوستوں سے شاید دو تین نے کھانا نہیں کھایا تھا۔ حضرت اقدس ؑ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سب حال بتایا گیا اور حضور انورؑ نے رات کے پچھلے حصہ میں ہی تاکیدی حکم صادر فرمایا کہ جلدی سے جلدی کھانا پکا کر جو دوست بھوکے رہے ہیں ان سب کو فوراً کھلایا جاوے۔ حضور انور ؑکو اس واقعہ سے بہت رنج ہوا۔ تمام مہمانوں میں یہ بات پھیل گئی کہ یہ واقعہ ہوا ہے اور سب کے ازدیاد ایمان کا موجب ہوا۔

(رجسٹر روایات صحابہ نمبر 4 صفحہ 164)

جیسا کہ آپ نے بیان کیاکہ 1900ء میں آپ ملازمت کے لیے افریقہ چلے گئےتھے جہاں سے 1902ء میں آپؓ واپس آگئے ۔ واپس آکر فوراً قادیان حاضر ہوئے جس کا ذکر آپ نے اوپر روایات میں بھی کیا ہے۔ اخبار الحکم میں آپ کی قادیان آمد کا ذکر محفوظ ہے:
’’اس ہفتہ میں سید ناصر شاہ صاحب جموں سے بابو اصغر علی صاحب افریقہ سے آئے ہوئے ایمن آباد سے…. تشریف لائے۔‘‘

(الحکم 10؍اگست 1902ء صفحہ3 کالم3)

اس کے کچھ عرصہ بعد آپ نے لائل پور (موجودہ فیصل آباد) میں ملازمت شروع کر دی اور پھر ریٹائرمنٹ تک یہیں ملازمت کرتے رہے۔ 1903ء میں آپ نے لائل پور سے اپنے سسر حضرت منشی نبی بخش صاحب رضی اللہ عنہ کی وساطت سے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں ایک مسئلہ کے متعلق استفسار کیا جس کا ذکر اخبار بدر میں یوں درج ہے:

طریق تہجد کے بارے میں استفسار لائل پور سے

’’عبدالعزیز صاحب سیالکوٹی نے لائل پور میں یہ مسئلہ بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ تہجد کی نماز اس طرح سے جیسا کہ اب تعامل اہل اسلام ہے، بجا نہ لاتے بلکہ آپؐ صرف اٹھ کر قرآن پڑھ لیا کرتے اور ساتھ ہی یہ بھی بیان کیا کہ یہی مذہب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کا ہے۔ شیخ اصغر علی صاحب نے اپنے ایک خط میں جو انہوں نے منشی نبی بخش صاحب کے نام روانہ کیا تھااس مسئلہ کی نسبت دریافت کیاہے۔ کہ آیا یہ مسئلہ اسی طرح پر ہے جیسا کہ عبدالعزیز صاحب بیان کر گئے ہیں؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بوساطت منشی نبی بخش صاحب اور مولوی نور الدین صاحب یہ امر تحقیق کے لیے پیش کیا گیا جس پر حضرت امام الزمانؑ نے مفصلہ ذیل فتویٰ دیا کہ ’’میرا یہ ہرگز مذہب نہیں کہ آنحضرت ﷺ اُٹھ کر فقط قرآن شریف پڑھ لیا کرتے تھے اور بس۔ مَیں نے ایک دفعہ یہ بیان کیا تھا کہ اگر کوئی شخص بیمار ہو یا کوئی اور ایسی وجہ ہو کہ وہ تہجد کے نوافل ادا نہ کر سکے تو وہ اٹھ کر استغفار، درود شریف اور الحمد شریف ہی پڑھ لیا کرے۔ آنحضرت ﷺ ہمیشہ نوافل ادا کرتے۔ آپؐ کثرت سے گیارہ رکعت پڑھتے، آٹھ نفل اور تین وتر…..‘‘

(بدر 16؍نومبر 1903ء صفحہ335 کالم3)

حسن اتفاق سے آپ کے قدیمی ساتھی حضرت ملک نور الدین صاحبؓ بھی 1905ء میں ملازم ہوکر فیصل آباد میں ہی آگئے اور 1915ء تک یہیں رہے۔

(الحکم 21؍نومبر 1934ء صفحہ11)

آپ نے فیصل آباد جماعت میں بطور سیکرٹری خدمت کی توفیق پائی اورساتھ ہی امین کا عہدہ بھی آپ کے پاس تھا۔ اس جماعت کے پریذیڈنٹ جناب شیخ مولا بخش صاحب تھے لیکن خلافت ثانیہ کے موقع پر وہ خلافت سے علیحدہ ہوگئے۔ ان کی علیحدگی کے بعد ان کی جگہ آپ کو پریذیڈنٹ منتخب کیا گیا۔

(الفضل 3؍مارچ 1917ء صفحہ7)

چنانچہ فیصل آباد اور اس کے گرد و نواح میں آپ نے احمدیت کی تبلیغ وتربیت کے لیے خوب کام کیا۔ حضرت چوہدری ولی داد خان صاحبؓ آف مراڑہ تحصیل ظفروال ضلع سیالکوٹ (وفات: 12؍اکتوبر 1958ء ۔مدفون بہشتی مقبرہ ربوہ) بیان کرتے ہیں:
’’میں محکمہ نہر میں ملازم تھا۔1907ء میں مقام بنگلہ خدایار ضلع لائل پور میں سب ڈویژنل آفیسر کی پیشی میں مثلخواں تھا۔اتفاق سے شیخ اصغر علی صاحب احمدی کلرک تبدیل ہوکر وہاں آگئے۔ اخبار بدر اُن کے نام آتا تھا۔ان سے لے کر مَیں پڑھ لیا کرتا تھابلکہ شیخ صاحب نے کہا کہ مجھے کام کی کثرت رہتی ہے آپ اونچی آواز سے پڑھ کر سنا دیا کریں …. شیخ صاحب کے نمونہ نے مجھ پر بہت اثر کیا۔‘‘

(الحکم 21 اگست 1935ء صفحہ10)

ریٹائرمنٹ لینے کے بعد آپ ہجرت کرکے قادیان آگئے اور محلہ دارالفضل میں رہائش رکھی۔

آپ نے تقسیم ملک کے بعد مؤرخہ 9؍نومبر 1948ء کو قریباً 79 سال کی عمر میں لاہور میں وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے۔ آپ موصی تھے۔ آپؓ کا یادگاری کتبہ بہشتی مقبرہ ربوہ میں لگا ہوا ہے۔ خبر وفات دیتے ہوئے آپ کے بیٹے مکرم شیخ چراغ دین صاحب نے اخبار الفضل میں لکھا:
’’میرے والد شیخ اصغر علی صاحب بھنڈاری سکنہ دار الفضل قادیان جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے صحابہ میں سے تھے، مؤرخہ 1948/11/9 منگل و بدھ کی درمیانی شب ساڑھے گیارہ بجے اس دارفانی سے عالم جاودانی کو جا سدھارے۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔ …. شیخ چراغ دین بھنڈاری معرفت مولوی خورشید احمد شاد احمد نگر ضلع جھنگ‘‘

(الفضل 28؍دسمبر 1948ء صفحہ7 کالم1)

آپ کی شادی حضرت مہتاب بیگم صاحبہ کے ساتھ ہوئی۔ حضرت مہتاب بیگم صاحبہ کے والد حضرت صوفی نبی بخش صاحب رضی اللہ عنہ یکے از 313 کبار صحابہ (بیعت: دسمبر 1891ء۔ وفات: ستمبر 1944ء۔ مدفون بہشتی مقبرہ قادیان) اور والدہ حضرت غلام فاطمہ صاحبہ (وفات: 28؍ستمبر 1940ء ۔مدفون بہشتی مقبرہ قادیان) حضرت اقدس علیہ السلام کے ابتدائی صحابہ میں سے تھے۔ حضرت مہتاب بیگم صاحبہ خود بھی صحابیہ تھیں۔ مؤرخہ 2؍ستمبر 1943ء کو بعمر قریبا ً54 سال وفات پائی اور بوجہ موصیہ ہونے کے بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئیں۔

آپ کی اولاد میں سات بیٹے مکرم شیخ محمد علی صاحب، مکرم شیخ عبدالعلی صاحب، مکرم بابو احمد علی صاحب ریٹائرڈ سٹیشن ماسٹر (وفات: 17؍جنوری 1982ء)، مکرم شیخ یوسف علی صاحب، مکرم شیخ چراغ دین صاحب، مکرم شیخ عابد علی صاحب اور چھ بیٹیاں مکرمہ سعیدہ بیگم صاحبہ، مکرمہ فہمیدہ بیگم صاحبہ، مکرمہ سلیمہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم عبدالرشید صاحب، مکرمہ رشیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم شیخ ایوب علی صاحب، مکرمہ نعیمہ بیگم صاحبہ اور مکرمہ زرینہ بیگم صاحبہ تھیں۔

(مرسلہ: غلام مصباح بلوچ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 30 دسمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 31 دسمبر 2020