ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
پس چاہے مسلمان ممالک کی بد امنی اور بے سکونی اپنے ملکوں میں ایک دوسرے پر ظلم کی وجہ سے ہو یا اسلام دشمن طاقتوں کے مسلمانوں پر ظلم کرنے کی وجہ سے ہو، اس کا حل اور قیامِ امن کا علاج اور مسلمانوں کے رعب کو دوبارہ قائم کرنے کی طاقت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہوئے اُس فرستادہ کے پاس ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشقِ صادق اور آپؐ کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے کے مشن کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ جیسا کہ مَیں نے کہا آپؐ کے چند اقتباسات آپ کے سامنے رکھتا ہوں جو تمام صحابہ کے مقام پر روشنی ڈالتے ہیں۔ اس وقت مسلمانوں نے اگر اپنی اکائی منوانی ہے، اپنی ساخت کو قائم کرنا ہے، اسلام کو غیروں کے حملوں سے بچانا ہے، دنیا کو اسلام کا پیغام پہنچا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لانا ہے تو پھر شیعہ سنّی کے فرق کو مٹانا ہو گا۔ آپس کے، فرقوں کے، گروہ بندیوں کے فرق کو مٹانا ہو گا۔ اُس اسلام کی تعلیم پر عمل کرنا ہو گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے جس میں کوئی فرقہ نہیں تھا۔ جس میں ہر صحابی قربانی کی ایک مثال تھا۔ نیکی اور تقویٰ کا نمونہ تھا۔ ایسا ستارہ تھا جس سے روشنی اور رہنمائی ملتی تھی۔ لیکن بعض کا مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک دوسروں سے بلند بھی تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقام کو اللہ تعالیٰ نے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بلندی دی ہے وہ کسی دوسرے کو نہیں مل سکتی۔ اسی طرح حضرت عمرؓ کا مقام ہے۔ حضرت عثمانؓ کا اور حضرت علیؓ کا مقام ہے۔ حضرت امام حسینؓ اور حسنؓ کا مقام ہے۔ یہ درجہ بدرجہ اسی طرح آتا ہے۔
پس حفظ مراتب کے لحاظ سے صحابہ کے مقام کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ ہو گا تو ہر قسم کے فساد مٹ جائیں گے اور یہ سب فرق مٹانے کے لئے آخرین میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مبعوث ہوئے اور ہر صحابی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر قرابت دار کا مقام ہمیں بتا کر اُن کی عزت و تکریم قائم فرمائی۔
آپؑ ’’سر الخلافۃ‘‘ میں ایک جگہ فرماتے ہیں۔ یہ عربی میں ہے۔ اس کا ترجمہ اردو میں یہ ہے کہ: ’’مجھے علم دیا گیا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمام صحابہ میں بلند ترین شان اور اعلیٰ مقام رکھتے تھے اور بلا شبہ پہلے خلیفہ تھے اور آپ کے بارہ میں خلافت کی آیات نازل ہوئیں‘‘۔
(سرالخلافۃ۔ روحانی خزائن جلد 8صفحہ 337)
پھر سر الخلافۃ کا ہی حوالہ ہے۔ اس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ: ’’بخدا آپ اسلام کے آدم ثانی اور خیر الانام کے مظہر اول تھے اور گو آپ نبی تو نہ تھے مگر آپ میں نبیوں اور رسولوں کی قوتیں موجود تھیں‘‘۔
(سرالخلافۃ۔ روحانی خزائن جلد8 صفحہ 336)
پھر سر الخلافۃ میں ہی آپ فرماتے ہیں کہ: ’’اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابہ میں سے سب سے زیادہ بہادر اور متقی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ پیارے ہیں اور فتحمند جرنیل ہیں اور سید الکائنات کی محبت میں فنا اور شروع سے ہی آپ کے غمگسار اور آپ کے کاموں میں آپؐ کے مددگار۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو تنگی کے زمانے میں ان کے ذریعہ تسلّی دی اور اُنہیں صدّیق کے نام سے مخصوص کیا گیا۔ وہ نبی ٔدوجہان کے مقرب بنے اور اللہ تعالیٰ نے اُنہیں ثَانِیَ اثْنَیْنِ کی خلعت سے نوازا اور اپنے خاص بندوں میں شامل کیا۔
(سرالخلافۃ۔ روحانی خزائن جلد8 صفحہ 339)
پھر ایک جگہ آپ ملفوظات میں فرماتے ہیں کہ: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں خلیفۂ اوّل نے جو بڑے ملک التجار تھے مسلمان ہوکر لانظیر مدد کی اور آپ کو یہ مرتبہ ملا کہ صدّیق کہلائے اور پہلے رفیق اور خلیفۂ اوّل ہوئے۔ لکھا ہے کہ جب آپ تجارت سے واپس آئے تھے اور ابھی مکّہ میں نہ پہنچے تھے کہ راستہ میں ہی ایک شخص ملا۔ اس سے پوچھا کہ کوئی تازہ خبر سناؤ۔ اس نے کہا کہ اور تو کوئی تازہ خبر نہیں۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ تمہارے دوست نے پیغمبری کا دعویٰ کیا ہے۔ ابوبکرؓ نے وہیں کھڑے ہوکر کہا کہ اگر اُس نے یہ دعویٰ کیا ہے تو سچا ہے‘‘۔
(ملفوظات جلد1صفحہ 365 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)
پھر آپ فرماتے ہیں: ’’حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا سارا مال و متاع خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دیا اور آپ کمبل پہن لیا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اس پر اُنہیں کیا دیا۔ تمام عرب کا اُنہیں بادشاہ بنا دیا اور اُسی کے ہاتھ سے اسلام کو نئے سرے زندہ کیا اور مرتد عرب کو پھر فتح کر کے دکھا دیا۔ اور وہ کچھ دیا جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا‘‘۔
(ملفوظات جلد 3صفحہ 286 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)
پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ: ’’حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا درجہ جانتے ہو کہ صحابہ میں کس قدر بڑا ہے؟ یہاں تک کہ بعض اوقات اُن کی رائے کے موافق قرآنِ شریف نازل ہو جایا کرتا تھا اور اُن کے حق میں یہ حدیث ہے کہ شیطان عمر کے سایہ سے بھاگتا ہے۔ دوسری یہ حدیث ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ ہوتا۔ تیسری یہ حدیث ہے کہ پہلی اُمّتوں میں محدّث ہوتے رہے ہیں اگر اس امّت میں کوئی محدّث ہے تو وہ عمرؓ ہے‘‘۔
(ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن جلد 3صفحہ 219)
پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:
’’عمر رضی اللہ عنہ کو بھی الہام ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنے تئیں کچھ چیز نہ سمجھا‘‘ (الہام ہوتا تھاکہ مَیں کچھ بن گیا ہوں تو پھر بھی اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھا) ’’اور امامتِ حقّہ جو آسمان کے خدا نے زمین پر قائم کی تھی، اُس کا شریک بننا نہ چاہا۔‘‘ (یعنی کہ جو مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مل گیا تھا، یہ نہیں کہ الہام ہو گیا تو اُن کا شریک بننے لگ گئے) ’’بلکہ ادنیٰ چاکر اور غلام اپنے تئیں قرار دیا۔ اس لئے خدا کے فضل نے اُن کو نائبِ امامت حقّہ بنا دیا‘‘۔ (یعنی خلافت کی خلعت سے نوازا۔)
(ضرورۃ الامام۔ روحانی خزائن جلد 13صفحہ 473-474)
پھر ’حجۃ اللہ‘ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بیان فرماتے ہیں۔ عربی کا ترجمہ یہ ہے کہ: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمسایہ میں دو ایسے آدمی دفن کئے گئے ہیں جو نیک تھے، پاک تھے، مقرب تھے، طیّب تھے اور خدا نے اُن کو زندگی میں اور ان کی وفات کے بعد اپنے رسول کے رفقاء ٹھہرایا‘‘۔ (یعنی وفات کے بعد بھی ساتھ ہی، قریب ہی دفن ہوئے) ’’پس رفاقت یہی رفاقت ہے جو اخیر تک نبھی اور اس کی نظیر کم پاؤ گے۔ پس اُن کو مبارک ہو جو اُنہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ زندگی بسر کی اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے شہر میں اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جگہ خلیفے مقرر کئے گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے کنارِ روضہ میں دفن کئے گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مزار کے بہشت سے نزدیک کئے گئے اور قیامت کو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ اُٹھائے جائیں گے‘‘۔
(حجۃ اللہ۔ روحانی خزائن جلد 12صفحہ 183)
(خطبہ جمعہ 23؍ نومبر 2012ء)