2؍نومبر 1922ء پنج شنبہ (جمعرات)
مطابق11 ربیع الاول1341 ہجری
صفحہ اول پرمدینۃ المسیح کی خبروں میں حضرت مصلح موعودؓ کی طبیعت کے بارے میں خبر درج ہے کہ ’’حضرت خلیفۃ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی طبیعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچھی ہے۔ حضور روزانہ سیر کو تشریف لے جاتے ہیں۔ ٹانگ کے درد میں افاقہ تو ہے مگر بالکل رفع نہیں ہوا۔‘‘
اسی طرح مدینۃ المسیح کی خبروں میں ایک خبر یہ بھی شامل ہے کہ ’’مبلغین کی جماعت کو جناب حافظ روشن علی صاحب بخاری شریف کا جو دور کرا رہے تھے اُس کا آخری سبق جناب حافظ صاحب کی درخواست پر حضرت خلیفۃ المسیح ثانی نے 28؍اکتوبر بعد نمازِ عصر مسجد اقصیٰ میں جماعت مبلغین کو دیااور خاتمہ کے بعد دعا فرمائی۔‘‘
صفحہ نمبر3اور4 پراداریہ شائع ہوا ہے جسے ایڈیٹر اخبار الفضل مکرم غلام نبی صاحب نے تین مختلف عناوین کے تحت تحریر کیا ہے۔ پہلا عنوان ’’عیسائی امریکہ کو مسلمان بنانے کی کوشش۔ ایک امریکن اخبار اور احمدیت‘‘ کے تحت ہے۔ اس کے ذیل میں امریکہ کے اخبار ’’سیرے کس ہیرلڈ‘‘ کی 25؍جون 1922ء کی اشاعت میں شائع ایک مکمل صفحہ کا مضمون درج کیاگیا ہے۔ اس مضمون میں مذکورہ اخبار نے احمدیہ مشن کےحالات، احمدیہ اخبار ’’مسلم سن رائز‘‘ کے پہلے صفحہ کا نقشہ، حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ کی تصویر، نیویارک میں اذان دینے کے مینار کی مصنوعی تصویر (جس میں مؤذن کھڑا اذان دے رہا ہے)، ہائی لینڈ پارک کی مسجد اور لنڈن میں نومسلموں کے نماز پڑھنے کے نظارہ کی تصاویر بھی دی ہیں۔مذکورہ اخبار اپنی اشاعت میں لکھتا ہے ’’امریکہ کے عیسائی لوگ ہر سال لاکھوں ڈالر یسوع کی انجیل کو تمام دنیا میں پھیلانے اور روئے زمین کے لوگوں کو عیسائی بنانے کے لیے خرچ کر ر ہے ہیں اور جبکہ اس قدر عظیم الشان خرچ ممالک غیر میں اپنے وقف شدہ عیسائی مشنریوں کے آرام و آسائش کے لیے جو نہایت سرگرمی سے کام کر رہے ہیں، کیا جا رہا ہے۔دنیا کے دیگر بڑے بڑے مذاہب میں سے ایک مذہب عیسائی امریکہ میں اپنے قدم جمانے کے لیے زبردست کوشش کر رہاہے۔۔۔۔ ان کا ارادہ ہے کہ وہ اپنی خوشنما مسجدیں اور مینار جن پر کھڑے ہو کر مؤذن اذان دیتے ہیں۔ اسی کثرت سے ان ممالک میں بنائیں جس کثرت سے ہمارے گرجے بنے ہوئے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ وہ دن آنے والاہے کہ اور وہ کوئی زیادہ دور نہیں جب کہ ہلال صلیب پر غالب آ جائے گا اور اہلِ امریکہ کی ایک بہت بڑی تعداد ان اعتقادات کی پیرو بن جائے جو قرآن میں بیان ہوئے ہیں۔۔۔‘‘
مزید اخبار حضرت مفتی صاحبؓ کے متعلق لکھتا ہے ’’ایک سال سے کچھ ہی زیادہ عرصہ ہوا ہے جس کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ایک مسلمان مبلغ آیا ہوا ہے جس کے ذمہ یہ فرض رکھا گیا ہے کہ وہ اپنے مذہب کو شمالی امریکہ کے طول وعرض میں پھیلا دے۔ اس کا نام مفتی محمد صادق ہے اور وہ قادیان (پنجاب ہندوستان) سے آیا ہے۔جہاں اسلام کے سلسلہ احمدیہ کا مرکز ہے۔۔۔ یہ واعظ اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ ہیں۔متعدد زبانوں میں گفتگو کرتے ہیں جو انہیں اس کام کے لیے سکھائی جاتی ہیں جو انہیں درپیش ہے۔ ان کو مبلغ کہا جاتا ہے۔ ان کے فرائض اور ذمہ داریاں بہت ہی قریب کی مشابہت رکھتی ہیں ہمارے واعظ پوپوں کی ذمہ داریوں سے۔۔۔
ڈاکٹر صادق جیسا کہ ان کانام ہےایسے مشنری ہیں جن کے سپرد ریاست ہائے متحدہ اور کینیڈا کو اسلام کے لیے فتح کرنے کا کام کیا گیا ہے۔ وہ اپنے آپ کو بہت محنت اور سرگرمی سے کام کرنے والا ثابت کر رہے ہیں اور معلوم ایسا ہوتا ہے کہ ان کے اخراجات کا کافی انتظام ہے۔ اس ترقی نے جس کے متعلق وہ دعویٰ رکھتے ہیں کہ انہیں چند ماہ میں حاصل ہوئی ہے، اُن کے دلدادوں کو یہ خیال کرنے کا موقع بہم پہنچا دیا ہے کہ وہ دن جبکہ امریکہ مسلمان ہو جائے گا ان ی امید سے بھی پہلے طلوع ہونے والا ہے۔۔۔
ڈاکٹر صادق کے آنے کے بعد یہاں ایک مسجد خوشنما بنائی اور ہر طرح کی احتیاط کے ساتھ ہائی لینڈ پارک مچ (غالباً مشی گن کا مخفف۔ناقل) میں جو کہ ڈیٹرائٹ کے متصلات میں سے ہے، تعمیر ہوئی ہے۔ اس وقت تک یہ مبلغِ اسلام یہیں قیام پذیر تھا مگر حال ہی میں وہ شکاگو میں چلا گیا ہے اور مستقبل قریب میں شچاگو، نیویارک اور بہت سے دوسرے بڑے شہروں میں تعمیر شدہ مساجد دیکھنے کی امید رکھتا ہے۔‘‘
اس اخبار نے ’’مسلم سن رائز‘‘ کا تعارف تحریر کرنے کے بعد لکھا کہ ’’اپریل 1922ء کے مسلم سن رائز کے پرچہ میں امریکہ کے 33مردوں اور عورتوں کی فہرست شائع ہوئی ہے۔جن کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ حال ہی میں انہوں نے احمدیت کو قبول کیا ہے۔ان کو امریکن ناموں کے بعد عربی نام دیئے گئے ہیں۔‘‘
اس امریکن اخبار نے مسلم سن رائز کے جس شمارہ کا ذکر کیا ہے اس کی ابتداء میں حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ نے اپنے امریکہ میں قیام کے دوران پہلے نومسلم امریکن احمدی کا نام مع تصویر اور ان کا مختصر تعارف بھی شائع کیا ہے۔ مسلم سن رائز کے اس شمارہ کو دیکھنے کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ فرمائیں۔
https://muslimsunrise.com/wp-content/uploads/2019/07/1922_issue_2.pdf
اداریہ کا دوسرا عنوان ’’خلیفۃ المسلمین کی شبیہ‘‘ ہے۔ اس کے تحت اخبار الفضل نے ’’پیسہ‘‘ اخبار کی 27؍اکتوبر 1922ء کی اشاعت میں شائع ترک خلیفہ سلطان وحید الدین کی تصویر شائع کی ہے۔’’پیسہ‘‘ اخبار نے یہ تصویر ’’خلیفۃ المسلمین‘‘ کے caption کے ساتھ شائع کی تھی۔اسی طرح اخبار الفضل نے ایک اور ہندوستانی اخبار ’’ہمدم‘‘ کی 26؍اکتوبر کی اشاعت میں مذکورہ سلطان کے بارہ میں تحریر شائع کی ہے اور اس تحریر کا ذکر کرتے ہوئے الفضل لکھتا ہے کہ ’’مسلمان اس مایہ ناز ہستی کو جس قدر وقعت اور اہمیت دیتے ہیں اس کا اندازہ حسب ذیل الفاظ سے لگانا چاہیے جو حال ہی میں اخباروں میں اشاعت پذیر ہو رہے ہیں۔‘‘ چنانچہ اخبار الفضل مثال کے طور پر اخبار ’’ہمدم‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتا ہے’’یہ ظل اللہ ہیں۔ ان کی ذات مقدس ہے اور دنیائے اسلام کا روحانی اقتدار ان کے سپرد ہے۔‘‘
اخبار الفضل اس پر لکھتاہے کہ ’’یہ الفاظ جس خلوص اور عزت کو ظاہر کر رہے ہیں اس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم سوائے اس کے کچھ اور نہیں کہیں گے کہ جس نازک اندام انسان کے لیے احترامِ شریعت کی خاطر داڑھی کے چند تولہ بالوں کا بار بھی ناقابلِ برداشت ہے۔اس کے لیےشریعت کے دوسرے احکامات بجا لانا کس قدر مشکل ہو گا اور وہ کہاں تک ان کی پابندی کی تکلیف برداشت کرتا ہو گا۔
آہ مسلمان جنہیں دنیائے اسلام کے روحانی اقتدار کی حامل ذاتِ مقدس اور ظل اللہ سمجھتے ہیں۔ ان کی یہ شکل و شباہت۔ کاش مسلمان گور کریں کہ جس انسان کو وہ سب سے اعلیٰ سمجھ کر تمام دنیائے اسلام کا روحانی اقتدار سپرد کرتے ہیں وہ اسلام کے لیے ایک کاص حکم کی علی الاعلان خلاف ورزی کرنا معمولی بات سمجھتا ہے۔ کیا اب بھی مسلمان کسی ایسے مامور اور مصلح کی ضرورت سے انکار کریں گے جو خداتعالیٰ کی طرف سے اسلام کی حفاظت اور مسلمانوں کی اصلاح کے لیے مبعوث ہو۔‘‘
قارئین کرام! اس خبر کے چند روز بعد ہی ’’خلیفۃ المسلمین‘‘،’’ظل اللہ‘‘،’’ذاتِ مقدس‘‘ اور ’’دنیائے اسلام کے روحانی اقتدار کے بادشاہ‘‘ کہلانے والے سلطان وحید الدین کے ساتھ جو ہوا وہ تاریخ کے اواق میں آج بھی محفوظ ہے۔ انہیں تختِ سلطانی سے معزول کر دیا گیا ور بعدازاں انہیں پہلے مالٹا اور پھر اٹلی میں پناہ لینی پڑی۔
لیکن اس کے بالمقابل خلافتِ احمدیہ کی ایک سو چودہ سالہ تاریخ گواہ ہے اور ان ایک سوچودہ سالوں کا ایک ایک دن اس بات کا اعلان کر رہا ہے کہ خلیفہ المسلمین، ظل اللہ اور دنیائے اسلام کے روحانی اقتدار کا روئے زمین پر واحد اور حقیقی بادشاہ کون ہے۔ انسانوں کے ہاتھوں قائم کردہ ترکی کی خلافت جو خلافتِ حقہ کہلاتی تھی آج اس خلافت کا جاننے کے لیے تاریخ کی کتابوں کا سہارا لینا پڑتا ہے لیکن اس کے بالمقابل خلافتِ احمدیہ جو خداتعالیٰ کی قائم کردہ خلافت ہے، دشمنوں کی سیکڑوں سازشوں اور ہزاروں کوششوں کے باوجود بھی آج بفضلہٖ تعالیٰ اسلام کا جھنڈا سربلند کئے ہوئے ہے اور اس کے ذریعہ ہزاروں نہیں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں سعید فطرت روحیں خداتعالیٰ کی ہستی کو پہچان کر مذہبِ اسلام میں داخل ہو رہی ہیں۔
اک نشاں کافی ہے گر دل میں ہے خوفِ کردگار
اداریہ کا تیسرا عنوان ’’سودی لین دین‘‘ ہے۔ اس کے تحت اخبار الفضل نے ایک ہندو اخبار کا بیان شائع کیا ہے جس میں اس اخبار نے سود کے نقصانات کا ذکر کیا ہے۔
صفحہ نمبر5تا7 پر حضرت مصلح موعودؓ کا ایک خطبہ نکاح شائع ہوا ہے۔ جو آپؓ نے میاں عبدالسلام صاحب خلف حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کے نکاح کے موقع پر ارشاد فرمایا۔
صفحہ نمبر8اور9 پر حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیرؓ کا ایک مضمون شائع ہوا ہے جو آپ کے ایک سفر کی رُوداد پر مشتمل ہے جو آپؓ نے نائیجیریا میں تبلیغِ سلسلہ کی خاطر اختیار فرمایا۔
صفحہ 9تا10 پر حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کا قسط وار مضمون شائع ہوا ہے جو آپ نےقرآنِ کریم پر ’’آریہ مسافر‘‘ کے کئے گئے اعتراضات کے جواب میں تحریر فرمایا۔اس مضمون میں اعتراض نمبر17تا19 کے جوابات دیئے گئے ہیں۔
مذکورہ بالا اخبار کے مفصل مطالعہ کےلیے درج ذیل لنک ملاحظہ فرمائیں۔
https://www.alislam.org/alfazl/rabwah/A19221102.pdf
(م م محمود)