• 19 جون, 2024

مومن کی یہ شرط ہے کہ اس میں تکبر نہ ہو

• مومن کی یہ شرط ہے کہ اس میں تکبر نہ ہو بلکہ انکسار، عاجزی، فروتنی اس میں پائی جائے اور یہ خدا تعالیٰ کے ماموروں کا خاصہ ہے ان میں حد درجہ کی فروتنی اور انکسار ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر آنحضرت ﷺ میں یہ وصف تھا۔ آپ کے ایک خادم سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ آپؐ کا کیا معاملہ ہے۔ اس نے کہا سچ تو یہ ہے کہ مجھ سے زیادہ وہ میری خدمت کرتے ہیں۔ اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰٓی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَسَلِّمْ۔ تو یہ ہے وہ نمونہ اعلیٰ اخلاق اور فروتنی کا اور یہ بھی سچ ہے کہ زیادہ تر عزیزوں میں خدام ہوتے ہیں جو ہر وقت گردو پیش حاضر رہتے ہیں۔ فرمایا اس لئے اگر کسی کے انکسار اور فروتنی اور تحمل اور برداشت کا نمونہ دیکھنا ہو تو ان سے معلوم ہو سکتا ہے بعض مرد یا عورتیں ایسی ہوتی ہیں کہ خدمت گا ر سے ذرا کوئی کام بگڑا۔ مثلاً چائے میں نقص ہو اتو جھٹ گالیاں دینی شروع کر دیں یا تازیانہ لے کر مارنا شروع کردیا اور ذرا شوربے میں نمک زیادہ ہو گیا تو بس بیچارے خدمتگاروں پر آفت آئی۔

(ملفوظات جلد چہارم صفحہ447-448)

• بعض نادان ایسے بھی ہیں جو ذاتوں کی طرف جاتے ہیں اور اپنی ذات پر بڑا تکبر اور ناز کرتے ہیں۔ بنی اسرائیل کی ذات کیا کم تھی جن میں نبی اور رسول آئے تھے۔ لیکن کیا اُن کی اس اعلیٰ ذات کا کوئی لحاظ خدا تعالیٰ کے حضور ہوا۔ جب اس کی حالت بدل گئی۔ ….ان کا نام سؤر اور بندر رکھا گیا اور اسے اس طرح پر انسانیت کے دائرہ سے خارج کر دیا۔ میں نے دیکھا ہے کہ بہت لوگوں کو یہ مرض لگا ہوا ہے۔خصوصاً سادات اس مرض میں بہت مبتلا ہیں۔ وہ دوسروں کو حقیر سمجھتے ہیں اور اپنی ذات پر ناز کرتے ہیں۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے ذات کچھ بھی چیز نہیں ہے اور اُسے ذرا بھی تعلق نہیں ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو سید ولد آدم اور افضل الانبیاء ہیں۔ انہوں نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاسے صاف طور پر فرمایا کہ اے فاطمہؓ تُو اس رشتہ پر بھروسہ نہ کرنا کہ میں پیغمبر زادی ہوں۔ قیامت کو یہ ہرگز نہیں پوچھا جاوے گا کہ تیرا باپ کون ہے۔ وہاں تو اعمال کام آئیں گے۔ میں یقیناً جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے قرب سے زیادہ دور پھینکنے والی اور حقیقی نیکی کی طرف آنے سے روکنے والی بڑی بات یہی ذات کا گھمنڈ ہے کیونکہ اس سے تکبر پیدا ہوتا ہے اور تکبر ایسی شئے ہے کہ وہ محروم کر دیتا ہے۔ علاوہ ازیں وہ اپنا سارا سہارا اپنی غلط فہمی سے اپنی ذات پر سمجھتا ہے کہ میں گیلانی ہوں یا فلاں سیّد ہوں۔ حالانکہ وہ نہیں سمجھتا کہ یہ چیزیں وہاں کام نہیں آئیں گی۔ ذات اور قوم کی بات تو مرنے کے ساتھ ہی الگ ہو جاتی ہے۔ مَرنے کے بعد اس کا کوئی تعلق باقی رہتا ہی نہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں یہ فرماتا ہے مَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ (الزلزال: 9) کوئی بُرا عمل کرے خواہ کتنا ہی کیوں نہ کرے اس کی پاداش اس کو ملے گی۔ یہاں کوئی تخصیص ذات اور قوم کی نہیں۔

(ملفوظات جلد7 صفحہ188-189 ایڈیشن1984ء)

پچھلا پڑھیں

شہداء احمدیت برکینا فاسو کے نام

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی