• 18 جولائی, 2024

زباں پر تذکرے شہکار کے ہیں

قلم کی نوک پر اقرار کے ہیں
ارادے جرأتِ اظہار کے ہیں

اندھیرے میں اجالے یار کے ہیں
زباں پر تذکرے شہکار کے ہیں

کسوٹی پر وہی معیار کے ہیں
ملے تمغے جنہیں کردار کے ہیں

کرم سے اُس کے تپتے صحرا میں بھی
ملے سائے ہمیں اشجار کے ہیں

ہیں جن کے نامۂ اعمال خالی
وہی اب لوگ یاں گفتار کے ہیں

خدا کی یاد کے بن دن جو گزرے
وہی لمحے فقط بیکار کے ہیں

کرو بخشش طلب بشرؔیٰ! خدا سے
ملے موقعے بھی استغفار کے ہیں

(بشریٰ سعید عاطف۔ مالٹا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 31 جنوری 2023

اگلا پڑھیں

مومن کی یہ شرط ہے کہ اس میں تکبر نہ ہو