• 18 جولائی, 2024

ارشاداتِ نور (قسط 9)

ارشاداتِ نور
قسط9

قرآن شریف سائنس کی طرف
متوجہ کرتا ہے

18مارچ 1912ء۔ فرمایا۔ ہماری کتاب بڑی عجیب ہے۔ ہماری کیا؟ حضرت نبی کریم ﷺ کی بلکہ اللہ تعالیٰ کی۔ دنیا کی کوئی کتاب نہیں جو سائنس کی طرف توجہ دلاتی ہو۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ (البقرہ: 165) اس میں آسمان کی بناوٹ کا ذکر ہے۔ وَ الۡاَرۡضِ پھر زمین کے بارہ میں سارا علم جیالوجی داخل کر دیا وَ اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ میں علم جغرافیہ آجاتا ہے۔ وَ الۡفُلۡکِ الَّتِیۡ تَجۡرِیۡ فِی الۡبَحۡرِ بِمَا یَنۡفَعُ النَّاسَ اس میں سٹیمر، جہاز، قطب شمالی کی سوئی، سمندر، پانی، ہوا اور کشتیوں کا علم آجاتا ہے۔ وَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنۡ مَّآءٍ فَاَحۡیَا بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا اس میں بخارات اور بارشوں اور نباتات کا علم آ جاتا ہے۔ وَ بَثَّ فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ دَآبَّۃٍ اس میں جانوروں کا علم آجاتا ہے۔ وَّ تَصۡرِیۡفِ الرِّیٰحِ اس میں ہوا اور ہوا کی قسموں کا ذکر ہے۔ کاربالک ہائیڈروجن وغیرہ موٹی موٹی چیزیں ہیں۔ علاوہ ان کے اور بھی ہوا میں کئی اجزا ہیں۔ وَ السَّحَابِ الۡمُسَخَّرِ بَیۡنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡض ِ بادلوں میں روشنی، لچک، ایتھر کا کارخانہ الگ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری کتاب کسی علم سے نہیں ڈرتی۔ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ اس میں نشان ملتے ہیں مگر عقلمندوں کے لیے۔ وہ کون لوگ ہیں الَّذِیۡنَ یَذۡکُرُوۡنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قُعُوۡدًا وَّ عَلٰی جُنُوۡبِہِمۡ (اٰل عمران: 192) اس میں اب ہی مجھے ایک لطیفہ خیال میں آیا کہ اس موجودہ سائنس پر جس قدر لوگ غور کرتے ہیں وہ دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جو اٹھتے بیٹھتے جب سوچتے ہیں تو ساتھ ہی خدا کو بھی یاد کر لیتے ہیں۔ ایک وہ جو قدرت الٰہی پر غور کرتے ہیں تو مولا کو بھول جاتے ہیں۔ یہاں یہ فرمایا کہ اگر تم سائنس پر غور کرو تو اللہ کو بھی یاد کیا کرو کیونکہ ایسے وقت میں جو اللہ کا خیال نہیں رکھتے ان کو سکھ حاصل نہیں ہوتا۔ میں نے سنا ہے کہ جس نے کونین بنائی تھی اس کو قید کر دیا گیا تھا اس خیال سے کہ اس نے کسی جن کو قابو کر کے اس سے یہ کام لیا ہے۔

(ارشاداتِ نور جلد سوم صفحہ70-71)

بیوی کی چیزوں کا تجسس

فرمایا۔ میں نے اپنی بیوی کی چیزیں کبھی نہیں دیکھیں نہ ہمیں اب تک معلوم ہے کہ ان کے پاس کتنے ٹرنک، برتن، کپڑے، چیزیں ہیں۔ ہمیں کیا ضرورت ہے کہ خواہ مخواہ عورتوں کی باتوں میں دخل دیں۔

فرمایا بلکہ میں اپنی بیوی کی کوٹھری کی جانب بھی کم ہی جاتا ہوں۔

(ارشاداتِ نور جلد سوم صفحہ80)

معنی پوچھنے میں حکمت

فرمایا۔ میں تم سے کسی لفظ کے معنی پوچھتا ہوں تو یہ مت سمجھو ہماری ہتک ہوتی ہے۔ یہ نبی کریم ﷺ کی بھی عادت تھی صحابہ کرام سے کبھی خوب سمجھانے کے لیے کچھ پوچھا کرتے۔

(ارشاداتِ نور جلد سوم صفحہ81)

استغفار بہت کیا کرو

ایک شخص کو اس کی بے خوابی، بے چینی اور پریشانی طبیعت کی شکایت کے جواب میں لکھوایا کہ استغفار بہت کرو۔

(ارشاداتِ نور جلد سوم صفحہ174)

اللہ پر بھروسہ کرو

ایک شخص کو فرمایا کہ جہاں انسان کو اللہ تعالیٰ رکھے وہاں ہی رہنا چاہئے کیونکہ لکھا ہے کہ اَلْاِقَامَۃُ فِیْ مَا اَقَامَ اللّٰہُ اور مخالف کو تو انسان (ناس) کا بال بھی نہ سمجھے۔ خدا کو اگر اپنے مومن بندہ کے لیے سارا جہان بھی تباہ کرنا پڑے تو وہ کر دیتا ہے اور کچھ پرواہ نہیں کرتا کیونکہ وہ تو ہزاروں کو پیدا کر سکتا ہے اور ہزاروں کو تباہ کر سکتا ہے۔ دیکھو اس کے ایک مومن بندہ نے صرف اتنا ہی کہا کہ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَی الۡاَرۡضِ مِنَ الۡکٰفِرِیۡنَ دَیَّارًا (نوح: 27) تو سب کو تہ آب کر کے تباہ کر دیا۔

(ارشاداتِ نور جلد سوم صفحہ178)

مہدی کا مال لٹانا

فرمایا۔ حدیث میں آتا ہے کہ مہدی آئے گا اور مال لُٹائے گا مگر لوگ قبول نہ کریں گے۔ حضرت صاحب نے پانچ ہزار تک کا اشتہار تو آتھم کے بارہ میں ہی دیا اور براہین پر دس ہزار کا دیا مگر اب تک کسی نے وصول نہ کیا۔ کسی نے کہا کہ لوگ ایسے اشتہاروں پر ہنسی اڑاتے ہیں۔ میں نے کہا کہ وہ ہنسی نہیں بلکہ اس حدیث کی تصدیق کر رہے ہیں۔

(ارشاداتِ نور جلد سوم صفحہ185)

شیعہ کے مطاعن کا رد

بوقت درس قرآن شریف فرمایا۔ دیکھومیں ایک کہانی سناتا ہوں۔ میرے ایک دوست شیعہ ہیں وہ میرے پیچھے نماز بھی پڑھ لیتے ہیں۔ مجھ سے سخت محبت بھی ہے۔ ایک دفعہ میرے پاس جموں میں آئے اب بھی کبھی آ جاتے ہیں۔ وہ میرے پاس ایک آٹھ جلد کی کتاب لائے ایک پانچ جلد کی ایک تین جلد کی، اور کہا آپ کو کتابوں کا شوق ہے میں آپ کی خاطر لایا ہوں۔ میں نے کہا مول کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ مول یہی ہے کہ ان کو پڑھ جاؤ۔ میں 75 صفحے وہیں بیٹھے بیٹھے پڑھ گیا۔ اس میں یہ تھا۔ ابوبکرؓ میں یہ برائیاں تھیں، عمرؓ میں یہ، عائشہؓ میں یہ برائیاں تھیں۔ اس کا نام تَشْئِیْدُ الْمَطَاعِنْ تھا۔ میں نے کہا کہ ان شاء اللّٰہ میں اس کو ختم کر لوں گا مگر میں اس پر ایک سطر تمہارے سامنے لکھنی چاہتا ہوں۔ انہوں نے اجازت دے دی۔ میں نے یہ آیت لکھ دی۔ فَالَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا وَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ وَ اُوۡذُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِیۡ وَ قٰتَلُوۡا وَ قُتِلُوۡا لَاُکَفِّرَنَّ عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ وَ لَاُدۡخِلَنَّہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ (اٰل عمران: 196) اس نے کہا کہ اس کا ترجمہ کرو۔ میں نے خوب مزیدار ترجمہ کیا کہ جو لوگ اپنے گھر سے نکالے گئے اور انہوں نے ہجرت کی اس واسطےوہ مہاجر بنے اور ان سے لوگوں نے لڑائیاں کیں جیسے بدر میں اور احد میں۔ ان کے سب گناہ ہم معاف کرتے ہیں اور ہم ان کو بہشت میں پہنچاویں گے۔ یہ سن کر انہوں نے کہا کہ ہماری کتاب کی تو جڑ ہی آپ نے اکھاڑ دی۔ ہم نے کہا کہ خدا نے ہی اکھاڑ دی ہے۔ اس نے کہا کہ مجھے تو یہ کتاب ایک شخص نے اس خیال دی تھی کہ اس کتاب سے نورالدین ضرور شیعہ ہو جائے گا۔ غرض کہ پھر انہوں نے کتاب کی قیمت بھی نہ لی۔ اس آیت کو خوب یاد رکھو میری سمجھ میں یہ آیت صحابہ کے دشمنوں کا خوب مقابلہ کرتی ہے۔ قٰتَلُوۡا کے معنی لڑائی ہی درست ہیں۔ مرنے مارنے کا ذکر نہیں ہے آگے آتا ہے۔ ثَوَابًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ وَ اللّٰہُ عِنۡدَہٗ حُسۡنُ الثَّوَابِ (اٰل عمران: 196) یعنی ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ وغیرہ کو اور بھی بہت کچھ دیں گے۔ خلافت دیں گے حکومت اور بادشاہی دیں گے۔

(ارشاداتِ نور جلد سوم صفحہ185-186)

(مرسلہ: فائقہ بُشریٰ)

پچھلا پڑھیں

ربط ہے جان محمدؐ سے مری جاں کو مدام (قسط 17)

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 اپریل 2022