• 3 جولائی, 2020

تم تو بڑے فیاض ہو

غزوۂ ذی قرد کے موقعے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک چشمے پر سے ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں پوچھا تو آپؐ کو بتایا گیا کہ اس کنویں کا نام بِئْسَانْ ہے اور یہ نمکین ہے۔ آپؐ نے فرمایا نہیں اس کا نام نُعْمَان ہے اور یہ میٹھا اور پاک ہے۔ حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ نے اس کو خریدا اور وقف کر دیا۔ اس کا پانی میٹھا ہو گیا۔ جب حضرت طلحہؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور یہ واقعہ بتایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا طلحہ! تم تو بڑے فیاض ہو۔ پس ان کو ’طلحہ فیاض‘ کے نام سے پکارا جانے لگا۔

موسیٰ بن طلحہ اپنے والد طلحہؓ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن حضرت طلحہ کا نام طَلْحَۃُ الْخَیْر رکھا۔ غزوۂ تبوک اور غزوۂ ذی قرد کے موقعے پر طَلْحَۃُ الْفَیَّاض رکھا اور غزوۂ حنین کے روز طَلْحَۃُ الْجُود رکھا۔ اس کا مطلب بھی فیاضی ہے، سخاوت ہے۔

(السیرۃ الحلبیۃ جلد 3 صفحہ 478 باب یذکر فیہ صفتہﷺ الباطنۃ۔ ۔ ۔ دار الکتب العلمیۃ بیروت 2002ء)
(اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ جزء 3 صفحہ 85 طلحہ بن عبید اللہ قریشی دار الکتب العلمیۃ بیروت)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 30 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 1 جولائی 2020ء