• 3 جولائی, 2020

خدا کی راہ میں خرچ

’’مَیں اپنی جماعت کے محبت اور اخلاص پر تعجب کرتا ہوں کہ ان میں سے نہایت ہی کم معاش والے جیسے میاں جمال الدین اور خیرالدین اور امام دین کشمیری میرے گاؤں سے قریب رہنے والے ہیں۔ وہ تینوں غریب بھائی جو شاید تین آنے یا چار آنے روزانہ مزدوری کرتے ہیں سرگرمی سے ماہواری چندے میں شریک ہیں۔ ان کے دوست میاں عبدالعزیز پٹواری کے اخلاص سے بھی مجھے تعجب ہے کہ باوجود قلت معاش کے ایک دن سو روپیہ دے گیا کہ مَیں چاہتا ہوں کہ خدا کی راہ میں خرچ ہوجائے۔ وہ سو روپیہ شاید اس غریب نے کئی برسوں میں جمع کیا ہو گا مگر للّہی جوش نے خدا کی رضا کا جوش دلایا‘‘۔

(ضمیمہ انجام آتھم۔ روحانی خزائن جلد 11صفحہ 314-313)

’’میرے پیارے دوستو! میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مجھے خدائے تعالیٰ نے سچا جوش آپ لوگوں کی ہمدردی کے لئے بخشا ہے اور ایک سچی معرفت آپ صاحبوں کی زیادت ایمان وعرفان کے لئے مجھے عطا کی گئی ہے۔ اس معرفت کی آپ کو اور آپ کی ذریت کو نہایت ضرورت ہے۔ سو مَیں اس لئے مستعد کھڑا ہوں کہ آپ لو گ اپنے اموال طیبہ سے اپنے دینی مہمات کے لئے مدد دیں اور ہریک شخص جہاں تک خداتعالیٰ نے اس کو وسعت و طاقت و مقدرت دی ہے اس راہ میں دریغ نہ کرے اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اموال کو مقدم نہ سمجھے۔ اور میں پھر جہاں تک میرے امکان میں ہے تالیفات کے ذریعہ سے ان علوم و برکات کو ایشیا اور یورپ کے ملکوں میں پھیلاؤں جو خداتعالیٰ کی پاک روح نے مجھے دی ہیں‘‘۔

(ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن جلد 3صفحہ516)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 30 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 1 جولائی 2020ء