• 3 جولائی, 2020

مالی قربانی کی اہمیت سے آگاہ

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
جماعت کی انتظامیہ کو بھی کوشش کرنی چاہئے کہ تمام کمزوروں اور نئے آنے والوں کو بھی مالی قربانی کی اہمیت سے آگاہ کرے، ان پہ واضح کرے کہ کیا اہمیت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکموں سے ان کو آگاہی کرائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس بارے میں جو ارشادات ہیں ان سے لوگوں کوآگاہ کریں۔ اگر نہیں کرتے تو پھر میرے نزدیک انتظامیہ بھی ذمہ دار ہے کہ وہ ان لوگوں کو نیکیوں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول سے محروم کر رہے ہیں۔ جیسا کہ میں نے کہا اس جہاد سے پھر نفس کے جہاد کی بھی عادت پڑے گی، اپنی تربیت کی طرف بھی توجہ پیدا ہو گی، عبادتوں کی بھی عادت پڑے گی۔

ایک روایت میں آتا ہے حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بارنماز عید پڑھائی آپ کھڑے ہوئے اور نماز کا آغاز کیا اور پھر لوگوں سے خطاب کیا۔ جب فارغ ہو گئے تو آپ منبر سے اترے اور عورتوں میں تشریف لے گئے اور انہیں نصیحت فرمائی۔ آپ اس وقت حضرت بلال ؓ کے ہاتھ کا سہارا لئے ہوئے تھے اور حضرت بلالؓ نے کپڑا پھیلایا ہوا تھا جس میں عورتیں صدقات ڈالتی جا رہی تھیں۔

(بخاری کتاب العیدین باب موعظۃ الامام النساء یوم العید حدیث نمبر978)

تو یہ تھیں اس زمانے کی عورتوں کی مثالیں۔ اس زمانے میں بھی، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں بھی ایسی عورتیں ہیں جو بے دریغ خرچ کرتی ہیں۔ حضرت مصلح موعود نے بھی کئی مثالیں دی ہیں۔ خلافت ثالثہ میں بھی کئی مثالیں ہیں۔ خلافت رابعہ میں بھی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ اب بھی کئی عورتیں ہیں جو قربانیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں، اپنے زیور اتار کر دے دیتی ہیں۔ تو جب تک عورتوں میں مالی قربانی کا احساس برقرار رہے گا اس وقت تک ان شاء اللہ تعالیٰ قربانی کرنے والی نسلیں بھی جماعت احمدیہ میں پیدا ہوتی رہیں گی۔

یہ جو مَیں بار بار زور دیتا ہوں کہ نومبائعین کوبھی مالی نظام کا حصہ بنائیں یہ اگلی نسلوں کو سنبھالنے کے لئے بڑا ضروری ہے کہ جب اس طرح بڑی تعداد میں نومبائعین آئیں گے تو موجودہ قربانیاں کرنے والے کہیں اس تعداد میں گم ہی نہ ہو جائیں اور بجائے ان کی تربیت کرنے کے ان کے زیر اثر نہ آ جائیں۔ اس لئے نومبائعین کو بہرحال قربانیوں کی عادت ڈالنی پڑے گی اور نومبائع صرف تین سال کے لئے ہے۔ تین سال کے بعد بہرحال اُسے جماعت کا ایک حصہ بننا چاہئے۔ خاص طور پر نئی آنے والی عورتوں کی تربیت کی طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔

(خطبہ جمعہ 6 جنوری 2006)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 30 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 1 جولائی 2020ء