• 3 جولائی, 2020

پرہیز علاج سے بہتر ہے

جس طرح شخصیات کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ’’قدر کھودیتا ہے روز کا آنا جانا‘‘ اسی طرح بعض محاورے (Proverbs) ایسے ہیں کہ جوکثرت استعمال سے یہ اپنی افادیت اور اہمیت کھو دیتے ہیں۔ جیسے مشہور ہے کہ ’’پرہیز علاج سے بہتر ہے‘‘۔

ویسے تو اس محاورہ کا استعمال جسمانی اور مادی بیماریوں کے حوالہ سے ہوتا ہے لیکن دیکھا جائے اور زندگی کے اونچ نیچ پر غور کیا جائے تو زندگی کے ہر موڑ پر اس کا استعمال بہتر نتائج پیدا کرسکتا ہے۔

جہاں تک جسمانی بیماریوں کا تعلق ہے توپُرانے وقتوں میں حکماء اوراطباء یونانی دوا تجویز کرواتے وقت مریض کو بعض چیزوں سے پرہیز بتلایا کرتے تھے اور جب نسخہ جات کاغذ پر لکھنے کا دور آیا تو اطباء اسی نسخہ پر پرہیز لکھ دیا کرتے تھے۔ بعض حکماء نے Prescription پر ہی پرہیز کے لئے بعض اشیاء طبع کروائی ہوتی ہیں۔ اسی طریق پر ہومیوپیتھی اور ایلوپیتھی ڈاکٹرز عمل پیرا ہیں۔

مندرجہ بالا محاورہ میں جو سبق ہمیں ملتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک انسان اپنی زندگی میں خود ہی ایسے پرہیز لازم کرے تا بیمار ہونے کی صورت میں کسی ڈاکٹر کے پاس جانے کی نوبت نہ آئے۔مثلاً بسیار خوری سے پرہیز کیا جائے۔ وقفہ وقفہ کے ساتھ تھوڑا تھوڑا کھایا جائے۔ کسی خاص چیز کا کثرت سے استعمال نہ کیا جائے، معتدل غذائیں استعمال کی جائیں اور کھانے پینے میں اعتدال برتا جائے تا انسان بیماری میں مبتلا نہ ہو۔بیمار ہونے کی صورت میں انسان خود تو disturb ہوتا ہی ہے ساتھ سارا خاندان بے چین ہوجاتا ہے۔ گھر کے کام اور دفتری امور میں تعطل آتا ہے۔ ادویات پر خرچ اٹھتا ہے۔ ہسپتال جانے اور وہاں داخل ہونے کی صورت میں بے شمار امور پریشانی کا سبب بنتے ہیں اور بسا اوقات ہسپتال سے بعض بیماریوں کے جراثیم لگنے کااندیشہ بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ جیسے آج کل Covid 19 میں دنیا بھر کے ڈاکٹر حضرات بعض امور کی طرف مسلسل توجہ دلارہے ہیں۔ جیسے گھروں میں رہیں، عزیزواقارب اور دوستوں سے ملنے سے پرہیز کریں۔ Sanitizer ہاتھوں پر بار بار ملیں۔ Physical distancing کا خیال رکھیں۔ اگر کسی ضرورت کے پیش نظر گھر سے باہر جانا بھی پڑے تو ماسک پہن کر جائیں۔ کسی سے مصافحہ نہ کریں۔ یہ سب Covid 19 کے جراثیم سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئے پیش بندیاں ہیں۔ جن پر عمل کرکے انسان اس وبا سے بچ سکتا ہے۔ یہ بات بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ کسی اور بیماری کے علاج کی خاطر ہسپتال گئے ہیں تو وہاں سے Covid 19 کا شکار ہو بیٹے ہیں۔ جن لوگوں نے، جن قوموں نے اور جن ملکوں نے ابتداء سے ہی اس محاورہ ’’پرہیز علاج سے بہتر ہے‘‘کو سمجھا ہے ان ممالک میں اموات (casualties) بہت کم ہوئی ہیں اور انہوں نے جلد اس بیماری پر قابو پالیا ہے۔ ان دنوں سوشل میڈیا پر بے شمار آڈیو اور وڈیو پیغام سننے کو مل رہے ہیں جس میں اس بیماری سے متاثر ہونے والے اکثر کہہ رہے ہیں کہ خدارا! اس بیماری کو آسان نہ لیں اور پرہیز کرلیں تا آپ اور آپ کے فیملی ممبرز بچ سکیں۔

جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے کہ اس محاورہ کو زندگی کے باقی امور میں بھی لاگو کریں تو زندگی معتدل رہتی ہے۔ اسی حوالہ سے بے شمار مثالیں دی جاسکتی ہیں مگر ایک مثال پر ہی اکتفا کرتا ہوں۔ شادی بیاہ کے موقع پر بعض لوگ جہیز وغیرہ کے لئے اپنی طاقت سے بڑھ کر قرض لے لیتے ہیںجو بعد میں وبال جان بن جاتا ہے اور زندگی کاسکون اور چین ختم ہوجاتا ہے۔ اگر انسان اپنی طاقت میں رہتے ہوئےبساط کے مطابق بچی کو رخصت کرے تو اس کی باقی ماندہ زندگی اور خاندان محفوظ رہتا ہے۔ وگرنہ پہلا قرض اُتارنے کے لئے دوسرا قرض لینا پڑتا ہے۔ انسان اس لعنت میں جکڑتا چلا جاتا ہے جو اپنی ذات میں ایک بیماری ہے۔ جس سے محفوظ رہنے کے لئے پرہیز لازم ہے۔

انسان کی روحانی زندگی کے بعض پہلوؤں کی طرف بھی یہ مثال خوب روشنی ڈالتی ہے۔ کیونکہ مادی اور روحانی زندگی ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ اس کا کچھ حصہ گزشتہ ایک آرٹیکل میں خاکسار بیان کر آیا ہے۔ اس محاروہ کو اگر ہم اپنی روحانی زندگیوں پر لاگو کریں تو پرہیز کو ہم ’’تقویٰ‘‘ کے لفظ میں بیان کرسکتے ہیں۔ جس کے معنی کسی چیز سے بچنے کے ہیں۔ یہ بنیادی سبق ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں باربار اور سیدنا حضرت خاتم الانبیاء محمدمصطفٰی ﷺ نے اپنے عمل و سنت اور اقوال سے امت کو دیا ہے۔ انسانوں میں معزز ہونے کو بھی تقویٰ سے باندھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ

(الحجرات:14)

کہ تم میں سے اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز وہ شخص ہے جو تم میں سے سب سے زیادہ متقی ہے۔

نکاح کے موقعہ پر بھی جن آیات کا انتخاب کیا گیا ہے ان میں 5 بار تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین ملتی ہے۔ یہ دراصل بعد میں پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچنے کے لئے پرہیزہی ہے ورنہ انسان ایک ایسے مرض لاعلاج میں مبتلا ہوجاتا ہے جس کا کوئی علاج نہیں۔ اگر علاج ہے تو وہ بھی خدا کا خوف دلوں میں پیدا کرنے، اس سے معافی مانگنے، اس کی طرف جھکنے اور تقویٰ کی باریک راہوں کو اپنانے میں ہے۔

حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی نے 99 قتل کئے اور اس کے دل میں ندامت پیدا ہوئی تو اس نے اپنے علاقے کے سب سے بڑے عالم کے پاس جاکر اس گناہ سے توبہ کرنے کے بارہ میں پوچھا۔ اس بزرگ عالم نے کہا کہ ایسے شخص کی توبہ ہرگز قبول نہیں ہوسکتی۔ اس پر اس نے اس کو بھی قتل کردیا اور یوں قتل کی ایک سنچری بنا ڈالی۔ تب اسے کسی اور بزرگ کا بتایا گیا اور وہ اس کی طرف چل دیا ۔ راستے میں اسے موت نے آلیا۔جنت (رحمت) اور عذاب کے فرشتے آن پہنچے۔ جنت کے فرشتوں نے کہا کہ اس نے سچی اور حقیقی توبہ کرلی تھی اس لئے یہ جنتی ہے اور عذاب کے فرشتے کہنے لگے کہ 100 افراد کے قاتل کو معافی نہیں مل سکتی۔ دونوں کے درمیان جھگڑا ہو رہا تھا کہ ایک فرشتہ انسانی صورت میں آیا جسے ان دونوں نے اپنا ثالث بنالیا۔ اس ثالث نے دونوں فاصلوں کو یعنی طے شدہ فاصلہ اور طے ہونے والے فاصلہ کو ماپا تو طے شدہ فاصلہ زیادہ نکلا تو اس شخص کو جنت کے فرشتوں کے سپرد کردیاگیا۔

(صحیح مسلم ،کتاب التوبۃ)

روحانی زندگی میں پرہیز بھی تقویٰ سے ہے اور بیماری کا علاج بھی تقویٰ سے ہے۔ اس لئے ہمیں ہر دم تقویٰ کو اپنی زندگیوں میں حرز جان بنانا چاہئےتاہم اللہ کے راضی باقضا بندے بن سکیں۔

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مختلف انداز میں مختلف مواقع پر تقویٰ کی وضاحت کی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس زمانے کا حصن ِحصین ہیں۔ وہ مضبوط جائے پناہ اور قلعہ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے رہنمائی پا کر اسلام کی حقیقی تعلیم ہم پر واضح کر کے بڑے درد سے ہمیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کے بتائے ہوئے راستے دکھا کر اس جائے پناہ میں داخل ہونے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ پس ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم جو اس بات کا عہد کر کے آپؑ کی جماعت میں شامل ہوئے ہیں کہ آپؑ کی باتوں کو سن کر اس پر عمل کریں گے، اس عہد کو پورا کریں جو ہم نے آپؑ سے کیا ہے۔ آپؑ کے درد سے پُر الفاظ پر غور کر کے ان پر عمل کریں اور جہاں ہم عہدوں کو پورا کرنے والے بنیں وہاں اپنی دنیا و عاقبت بھی سنوارنے والے بن جائیں…………پھر فرماتے ہیں آپؑ ’’کوئی پاک نہیں بن سکتا جب تک خدا تعالیٰ نہ بناوے۔ جب خدا تعالیٰ کے دروازہ پر تذلّل اور عجز سے اس کی روح گرے گی تو خدا تعالیٰ اس کی دعا قبول کرے گا اور وہ متقی بنے گا اور اس وقت وہ اس قابل ہو سکے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو سمجھ سکے۔ اس کے بغیر جو کچھ وہ دین دین کر کے پکارتا ہے اور عبادت وغیرہ کرتا ہے وہ ایک رسمی بات اور خیالات ہیں کہ آبائی تقلید سے سن سنا کر بجا لاتا ہے۔‘‘ باپ دادا کر رہے تھے تو میں بھی کر رہا ہوں ’’کوئی حقیقت اور روحانیت اس کے اندر نہیں ہوتی۔‘‘

(ملفوظات جلد 6 صفحہ 228ایڈیشن 1984ء)

پس یہ ہیں وہ معیار ِتقویٰ اور یہ ہے وہ دین کو جاننے ،سمجھنے اور عمل کرنے کا معیار جسے حاصل کرنے کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں توجہ دلائی اور جس کی ہمیں کوشش کرنی چاہیے اور اپنے عملوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی سے جھک کر اس کی مدد مانگنی چاہیے کہ خدا تعالیٰ ہمیں ان معیاروں کو حاصل کرنے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی توقعات پر پورا اترنے کی توفیق عطا فرمائے اور یہی تقویٰ ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ، 24 اپریل 2020ء بحوالہ الفضل انٹر نیشنل لندن 15؍مئی 2020ء)

ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقاء ہے
اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 30 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 1 جولائی 2020ء