• 30 ستمبر, 2020

کیا حضرت آدمؑ دنیا کے پہلے انسان تھے؟

وَاِذ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلآئِکَۃِ اِنِّی جاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیفَۃً

(سورۃ بقرۃ 31)

قرآن کریم کی اس آیت میں حضرت آدم علیہ السلام کے خلیفہ بنائے جانے کا ذکر ہے اس حوالے سے عوام الناس میں بہت غلط اور مبہم عقائد پائے جاتے ہیں عموماً لوگ سمجھتے ہیں کہ جس آدم کو اللہ نے خلیفہ بنانے کا کہا ہے وہ دنیا کا پہلا انسان بھی تھا۔ آدم اور اس کی بیوی حوا کو اللہ تعالی نے سب سے پہلے پیدا کیا اور ساری دنیا بس ان دو انسانوں سے ہی آگے چلی۔ اس غلط عقیدے کے پھیلنے کی ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ پہلے انسان یا پہلے انسانوں کے لیے بھی آدم کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور پہلے نبی کے لئے بھی آدم کا لفظ ہی استعمال ہوا ہے اس لئے لوگوں نے پہلے نبی یعنی حضرت آدم علیہ السلام کو دنیا کا پہلا انسان سمجھ لیا۔ یہ عقیدہ قرآن کریم سے ہی غلط ثابت ہوتا ہے کیونکہ قرآن کریم نے انسانی پیدائش اور حضرت آدم علیہ السلام کے واقعہ کوالگ الگ بیان کیا ہے قرآن کریم فرماتا ہے کہ انسان کی پیدائش مختلف ادوار میں ہوئی ہے اور مختلف ادوارمیں اس کی مختلف صورتیں اور حالتیں رہی ہیں اور جہاں بھی انسان کی پیدائش کا ذکر کیا گیا ہے وہاں آدم کو نہیں بلکہ جنس انسان کو مخاطب کیا گیا ہے یعنی ان مختلف ادوار میں صرف ایک انسان نہیں بلکہ حسب منشاء الٰہی کئی انسان مرد و عورت پیدا کئے گئے۔ خاکسار اس مضمون میں صرف اس مسئلےکے حل تک محدود رہے گا کہ سورۃ بقرہ آیت نمبر 30 میں مذکور آدم پہلا انسان نہیں تھا بلکہ پہلے نبی تھے، نیز انسانی پیدائش کے متعلق قرآنی نظریہ کیا ہے اور یہ سارا مضمون حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور خلفاءکرام کے تفسیری فرمودات پر مبنی ہوگا۔ ان شاء اللہ

کیا یہ لوگ جو دنیا کے مختلف حصوں امریکہ آسٹریلیا وغیرہ میں پائے جاتے ہیں یہ اس آدم کی اولاد سے ہیں؟

حکم و عدل حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا اس حوالے سے فرمان ہے یہ ایک مکالمہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ایک آسٹریلوی اسٹرانومسٹ کے درمیان ہوا اس نے حضور سے سوال کیا کہ بائبل میں لکھا ہے کہ آدم یا یوں کہئے کہ پہلے انسان جیحون سیحون میں پیدا ہوا تھا اور اسکا وہی ملک تھاتو پھر کیا یہ لوگ جو دنیا کے مختلف حصوں امریکہ آسٹریلیا وغیرہ میں پائے جاتے ہیں یہ اس آدم کی اولاد سے ہیں؟ حضور علیہ السلام نے اس کے جواب میں فرمایا ’’ہم اس بات کے قائل نہیں ہیں اور نہ ہی اس مسئلے میں توریت کی پیروی کرتے ہیں کے چھ سات ہزار سال سے ہیں جب سے یہ آدم (یعنی پہلا نبی) پیدا ہوا تھا۔ اس دنیا کا آغاز ہوا ہے اور اس سے پہلے کچھ بھی نہ تھا اور خدا گویا معطل تھا اور نہ ہی ہم اس بات کے مدّعی ہیں کہ یہ تمام نسل انسانی جو اس وقت دنیا کے مختلف حصوں میں موجود ہے یہ اسی آخری آدم کی نسل ہے ہم تو اس آدم سے پہلے بھی نسل انسانی کےقائل ہیں ۔جیسا کہ قرآن شریف کے الفاظ سے پتہ لگتا ہے خدا نے یہ فرمایا کہ اِنِّی جاعلٌ فِی الْاَرضِ خلیفۃً۔ خلیفہ کہتے ہیں جانشین کو۔ اس سےصاف پتہ چلتا ہے کے آدم سے پہلے بھی مخلوق موجود تھی پس امریکہ اور آسٹریلیا وغیرہ کے لوگوں کے متعلق ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اس آخری آدم کی اولاد میں سے ہیں یا کسی دوسرے آدم کی اولاد میں سے ہیں ۔آپ کے سوال کے مناسب حال ایک قول حضرت محی الدین ابن عربی صاحب کا ہے وہ لکھتے ہیں کہ (کشف\خواب میں) میں حج کرنے کے واسطے گیا تو وہاں مجھے ایک شخص ملا جس کو میں نے خیال کیا کہ وہ آدم ہے میں نے اس سے پوچھا کیا تو ہی آدم ہے؟ اس پراس نے جواب دیا کہ تم کون سے آدم کے متعلق سوال کرتے ہو آدم تو ہزاروں گزرے ہیں۔‘‘

(الحکم جلد12 ۔30مئ1908)

اس آدم علیہ السلام سے پہلے ہزار در ہزار آدم گزر چکے ہیں

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ’’غرض اس زمین کے تمام مقدس فرشتوں کے مقدس گروہ نے آدم علیہ السلام سے پہلی قوموں کی بد اطواری اور کافروں، ڈشتوں، ویسیوں، شیطانوں اور آمروں کے برےکام اور بد چلنی دیکھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔(فرشتے) غلطی سے سمجھ بیٹھے کہ یہ آدم بھی آدم ہے پہلی قوموں کی طرح فساد قتل اور سفک دماء نہ کرے‘‘ نیز حضور لکھتے ہیں ’’اور امام الائمہ حضرت سیدنا امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے جیسے تفسیر کبیر میں لکھا ہے اس آدم علیہ السلام سے پہلے ہزار در ہزار آدم گزر چکے ہیں۔‘‘

(تصدیق براہین احمدیہ ص119 تا127)

حضرت آدم علیہ السلام روحانی لحاظ سے ابو البشر ہیں

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اس فرق کو بڑے شرح وبسط کے ساتھ تفسیر کبیر میں بیان کیا ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں ’’قرآن کریم کے نزدیک بشر کی پیدائش یکدم نہیں ہوئی اور آدم علیہ السلام سے اس کی ابتدا نہیں ہوئی بلکہ آدم علیہ السلام بشر کی اس حالت کے پہلے ظہور تھے جب سے وہ حقیقی طور پر انسان کہلانے کا مستحق ہوا اور شریعت کا حامل ہونے کے قابل ہوا اور اس وجہ سے گوآدم علیہ السلام روحانی لحاظ سے ابو البشر ہیں کیوں کہ روحانی دنیا کی ابتدا ان سے ہوئی اور وہ پہلے ملہم انسان تھے مگر جسمانی لحاظ سے ضروری نہیں کہ وہ سب موجودہ انسانوں کہ باپ ہوں بلکہ ہو سکتا ہے کہ کچھ حصہ انسانوں کا ان دوسرے بشروں کی اولاد ہو جو حضرت آدم علیہ السلام کے وقت میں موجود تھے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد اول صفحہ 294›295)

انسانی پیدائش کے متعلق قرآنی نقطہ نظر

اس ضمن میں بہتر یہ ہوگا کہ پہلے انسانی پیدائش کے متعلق قرآنی نقطہ نظر کو بیان کیا جائے اس حوالے سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے تفسیر کبیر میں قرآنی آیات کی روشنی میں انسانی پیدائش کے مختلف ادوار کو بیان کیا ہے اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الہام عقل علم اور سچائی کے حصہ پنجم صفحہ 293 تا 237 میں ان قرآنی آیات کے مطابق سائنسی تحقیقات کو بیان کیا ہے لیکن یہاں صرف انسانی پیدائش کے متعلق قرآنی آیات کو اختصار کے ساتھ بیان کیا جائےگا تا مضمون طویل نہ ہو۔

اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ وَالْجَآنَّ خَلَقْناہُ مِن قَبلُ مِنْ نَّارِالسَّمُوم (الحجر 28) یعنی انسانی حیات کا سلسلہ شروع کرنے سے پہلے اللہ تعالی نے جن یعنی بیکٹیریا وغیرہ کو سموم یعنی ایسی آگ جس میں دھواں نہ ہوسے پیدا کیا اس آگ سے مراد سورج کی وہ ڈائریکٹ شعاعیں تھیں جو اس وقت یعنی کروڑوں اربوں سال پہلے اوزون کی تہہ نہ ہونے کی وجہ سے ڈائریکٹ زمین پر پڑتی تھیں اور ایک زبردست تابکاری عمل پیدا ہوتا تھا جس کے نتیجہ میں یہ بیکٹیریازپیدا ہوئے اور ان کو اپنی زندگی کا وجود قائم رکھنے کے لئے بھی توانائی کی ضرورت رہتی تھی سورۃ رحمان میں بھی اسکا ذکر ہے فرمایا وَخَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجِ مِّن نَّار اور جِنّوں یعنی بیکٹیریاز کو آگ کے شعلوں سے پیدا کیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ڈکرسن اور ووز سائنسدان جو ماہر حیاتیات ہیں ان کی تحقیقات اس قرآنی مؤقف کی تائید کرتی ہیں اور یہ بیکٹیریاز یقینا انسانی پیدائش کے ابتدائی تخلیقی عمل میں معاون ثابت ہوئے ہوں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالی انسانی تخلیقی عمل کے پہلے مرحلے کو بیان کرتا ہے ’’وَاللّٰہُ خَلَقَکُم مِن تُرَابٍ (فاطر 12) اللہ تعالیٰ نے تم کو خشک مٹی سے پیدا کیا ہے یعنی ایک وقت انسان پر ایسا آیا کہ اس کا ذرہ حیات خشک مٹی میں ملا ہوا تھا (2) اَلَّذِی اَحْسَنَ کُلَّ شَیْئٍ خَلَقَہ وَبَدَءَخَلْقَ الْاِنْسانَ مُن طِینٍ (السجدۃ8) وہ خدا ہی ہے جس نے ہر چیز جو اس نے بنائی ہے اس میں اس کی ضرورت کے مطابق نہایت اچھی طاقتیں رکھی ہیں اور انسانی پیدائش کی ابتدا پانی ملی ہوئی مٹی سے کی ہے یعنی خشک مٹی جس میں ذرہ حیات تھا اس میں اس نے پانی ملایا اور ذرہ حیات کے نشوو نما کے سامان پیدا کئے۔ قرآن کریم سے ظاہر ہے کہ ذرہ حیات کی نشوونما کا زمانہ وہ ہے جب مٹی میں پانی ملا چنانچہ فرماتا ہے وجَعَلْنا مِنَ الْمآءِ کُلَّ شَیئٍ حَیٍّ اَفَلا یُؤمِنون (انبیاء31) ہم نے ہر چیز کو پانی سے زندگی بخشی ہے پھر کیا وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اس آیت سے ظاہر ہے کہ حیات یعنی زندگی اور اس کے نشوونما کا تعلق پانی سے ہے پس جب تراب کے بعد طین سے انسانی پیدائش کا ذکر کیا تو اس طرف اشارہ کیا کہ زرہ حیات کی نشوونما کا زمانہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب کہ پانی مٹی سے ملا اوراس میں نشوونما کی طاقت پیدا ہوئی۔‘‘ (تفسیر کبیر جلد اول صفحہ 291 292)۔ پھر فرمایا وَلَقَدْخَلَقْنَاالْاِنْسانَ مِن صَلْصَالٍ مِن حَمَاٍمَّسْنون۔ وَالجَآنَّ خَلَقْناہ مِن قبلُ مِن نَّارِالسَّمُوم۔ واذقال رَبُّکَ لِلْمَلآئِکۃِاِنی خالق۔ بشرًامن صَلصَالٍ من حَمَاٍمَسْنون (الحجر:27تا29) ترجمہ: اور یقینا ہم نے انسان کو گلے سڑے کیچڑ سے بنی ہوئی خشک کھنکتی ہوئی ٹھیکریوں سے پیدا کیا ہے اور جنوں (یعنی بیکٹیریاز) کو ہم نے اس سے پہلے سخت گرم ہوا کی آگ سے بنایا اور یاد کر جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں گلے سڑے کیچڑ سے بنی ہوئی خشک کھنکتی ہوئی ٹھیکریوں سے بشر پیدا کرنے والا ہوں۔ یعنی تیسرے مرحلے میں وہ مٹی جس میں پانی ملا ہوا تھا وہ ان بیکٹیریاز کی وجہ سے جو اللہ تعالی نے پیدا کیے تھے گلی سڑی شکل اختیار کر گیا پھروہ گلا سڑا مادہ خشک ہوکر کھنکتی ہوئی ٹھیکریوں کی شکل اختیار کر گیا جیسے آجکل مٹی کے برتن ہوتے ہیں پھر اللہ تعالی فرماتا ہے۔ وَاللّٰہُ اَنْبَتَکُمْ مِنَ الْاَرْضِ نَبَاتاً (نوح18) اور اللہ نے تمہیں زمین سے نباتات کی طرح اُگایا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’یہ محض محاورہ نہیں بلکہ درحقیقت انسانی پیدائش کو ایک ایسے دور میں سے گزرنا پڑا ہے کہ وہ محض نباتات کی صورت میں تھی اور دوسری آیات میں اس منظر کو اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ لَمْ یَکُنْ شَیئاً مَذْکُوْرًا (الدھر2) یعنی انسان اپنی پیدائش میں ایسی منزل سے بھی گزرا ہے کہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہیں تھا اس میں لطیف اشارہ اس طرف بھی ہے کہ جب انسانی تخلیق نباتاتی دور میں سے گزر رہی تھی تو اس میں آواز نکالنے یا آواز سننے کے حواس پیدا ہی نہیں ہوئے تھے اس نباتاتی زندگی پر مکمل خاموشی طاری تھی۔‘‘ (ترجمہ القرآن حضرت خلیفہ المسیح الرابعؒ۔فٹ نوٹ ص1081)

پھر اللہ تعالی فرماتا ہے۔ ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَہٗ مِنْ سُلالَۃٍمِن مَّآءٍ مَّھِیْنٍ (سجدہ9) پھر اس کی نسل کو ذلیل سمجھے جانے والے پانی کے خلاصےیعنی نطفہ سے چلانا شروع کیا۔ یعنی انسان نے مختلف ارتقائی مراحل طے کر کے موجودہ انسانی شکل اختیار کی اور اس کے بعد انسانی پیدائش کا سلسلہ پانی ملے مٹی سے نہیں بلکہ نطفے یعنی میاں اور بیوی کے ملاپ سے شروع ہوا حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ اگرچہ اس وقت انسان کی پیدائش نطفہ سے ہونا شروع ہوگئی تھی، لیکن اس نطفہ میں وہ صلاحیتیں موجود نہیں تھیں کہ عقل و شعوروالے انسان کو پیدا کرتا۔ یعنی انسان تب انسانی شکل میں ہونے کے باوجود جانوروں کی طرح عقل سے عاری تھا اور میاں بیوی کے ملاپ سے فہم وفراست سےعاری انسان پیدا ہوتے تھے بالآخر انسان کے نطفہ نے بھی اپنا ارتقائی مرحلہ طے کیا اورعقل و شعوروالےانسان پیدا ہونے شروع ہوئے۔ اس حوالہ سے قرآن کریم فرماتا ہے اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ نَبْتَلِیہِ فَجَعَلْنَاہُ سَمِیْعاً بَّصِیْرًا (الدھر2) یعنی انسان کو ہم نے مختلف طاقتوں والے نطفے سے پیدا کیا تاکہ ہم اس کو آزمائیں پس ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا یعنی سمجھ بوجھ اور عقل شعور رکھنے والا بنا دیا اوریہی وہ وقت تھا جب اللہ تعالی نے انسانوں میں سے سب سے کامل انسان یعنی حضرت آدم علیہ السلام کو خلافت سونپی۔

پہلا نبی نہ کہ پہلا انسان

اب اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ قرآن کریم کی سورۃ بقرۃ آیت 31 میں جس آدم کا ذکر ہے وہ پہلا نبی تھا نہ کہ پہلا انسان اور اس وقت اور انسان بھی موجود تھے وَ اِذۡ قَالَ رَبُّکَ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرۡضِ خَلِیۡفَۃً اول تو اس آیت میں جَاعِلٌ کا لفظ آیا ہے خَالِقٌ کا نہیں آیا یعنی میں خلیفہ بنانے والا ہوں خلیفہ پیدا کرنے والا نہیں کہا اور خلیفہ کہتے ہیں خدا کے نمائندے یعنی نبی کو اور نبی ہمیشہ بگڑے انسانوں کی اصلاح کے لئے آتے ہیں ۔خالی زمین پر اکیلے نبی کو پیدا کرنے سے اللہ تعالی کی حکمت پر اعتراض پیدا ہوتا ہے پھر اسی آیت میں آدم کی زوج یعنی بیوی کا بھی ذکر ہے اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے (بیوی) سے استنباط کیا ہے کہ یہ پہلے انسان کے متعلق آیت نہیں ہے بلکہ پہلے نبی کے متعلق ہے کہ جس کی بیوی بھی تھی۔ اس کے علاوہ زوج کا ایک مطلب ساتھی یا قوم کے بھی ہوتے ہیں یعنی اس وقت حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھی یا قوم بھی موجود تھی پھر جہاں پر حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے نکالے جانے کا ذکر ہے وہاں جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے یعنی اکیلے حضرت آدم یا ان کی بیوی کو نہیں نکالا گیا بلکہ اور لوگ بھی موجود تھے اِھْبِطُوْامِنْہَا جَمِیعاً (بقرۃ39) پھر سورۃالحجر میں ہے کہ جنت سے نکالے جانے کے بعد شیطان آدم اور حوا کو نہیں بلکہ زیادہ انسانوں کو گمراہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے۔ پھر سورۃ اعراف 12 میں اللہ تعالی فرماتا ہے وَلَقَدْ خَلَقْناکُم ثُمَّ صَوَّرْنَاکُم ثُمَّ قُلْنَا لِلْملآئِکَۃِ اسْجُدُوْ الِاٰدَمَ۔ اس آیت میں کُمْ کا لفظ یعنی جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے یعنی شروع میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ہم نے تم زیادہ انسانوں کو پیدا کیا پھر ہم نے تم زیادہ انسانوں کو اعلیٰ قوتیں بخشی پھر ان انسانوں میں سے زیادہ کامل انسان کو خلیفہ بنایا اور فرشتوں کو اس کی اطاعت کرنے کا حکم دیا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ تفسیر کبیر جلد اول صفحہ 296 اور 297 میں فرماتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض لوگ قرآن کریم کی ان دو آیات سورۃ الحجر 29،30 ’’وَ اِذۡ قَالَ رَبُّکَ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ۔فَاِذَا سَوَّیۡتُہٗ وَ نَفَخۡتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡ فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ‘‘ اورسورۃ ص 72،73 ’’اِذۡ قَالَ رَبُّکَ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ طِیۡنٍ۔فَاِذَا سَوَّیۡتُہٗ وَ نَفَخۡتُ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِیۡ فَقَعُوۡا لَہٗ سٰجِدِیۡنَ‘‘ سے یہ اِستدلال کرتے ہیں کہ پہلا بشر حضرت آدم علیہ السلام ہی تھے کیوں کہ پہلے بشر کی پیدائش کا ذکر کر کے فرشتوں کو اُس کو سجدہ کرنے کا حکم دیا ہے اور ظاہر ہے کہ سجدے کا حکم حضرت آدم علیہ السلام کے لیے ہی تھا حضور فرماتے ہیں کہ یہاں آدم کا نہیں بلکہ بشر کی پیدائش کا ذکر ہے اور مضمون آیت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے بشر کی پیدائش کے وقت فرشتوں کو بتا دیا تھا کہ میں بشر پیدا کرنے والا ہوں اور جب بشر اپنی پیدائش کے مراحل مکمل کر کے میرا الہام پانے کے قابل ہو جائیں گے تو تم اس کی تائید میں لگ جانا اور سورۃ سجدۃ 9 ،10 آیت میں ہے کہ ’’وَ بَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِیۡنٍ ۚ۔ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَہ مِن سُلالۃٍ مِن مَّآءٍ مَّھین۔ ثُمَّ سَوّٰٮہُ وَ نَفَخَ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِہٖ‘‘ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کے کلام الٰہی نطفہ سے پیدا ہونے والے انسان پر ہوا نہ کے اس ابتدائی انسان پر جو گیلی مٹی سے بنا تھا اور نطفہ سے پیدا ہونے والا انسان وہی ہوسکتا ہے جس کے پہلے ماں باپ موجود ہوں اور جس کے ماں باپ موجود ہوں وہ پہلا انسان نہیں کہلا سکتا۔

ہم نے تم کو ایک نفس سے پیدا کیا

اب ایک سوال باقی رہ جاتا ہے کہ پھر قرآن کریم میں یہ کیوں آیا ہے کہ ہم نے تم کو ایک نفس سے پیدا کیا اور حدیث میں یہ کیوں آیا ہے کہ عورت کو مرد کی پسلی سے پیدا کیا گیا مثلاً سورۃ النساء آیت2 میں لکھا ہے ’’یَااَیُّھَاالنَّاسُ اتَّقُوارَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَہَا‘‘ حضرت خلیفہ ثانیؓ فرماتے ہیں ’’اس سے صرف یہ مراد ہے کہ ایک انسان سے بڑی بڑی اقوام پیدا ہوجاتی ہیں اور اولاد اپنے ماں باپ کے اثر کو قبول کر کے وہ کافر ہوں تو کافر مشرک ہوں تو مشرک اور موحِّد ہوں تو موحِّد ہو جاتی ہیں پس شادی کرتے ہوئے انسان کو بہت احتیاط سے کام لینا چاہیے اور اپنی اولاد کی تربیت کا خاص خیال رکھنا چاہیے یہ نہ ہو کے ماں باپ کی غلطیاں اولاد میں پیدا ہوکر ہزاروں لاکھوں انسان گند میں مبتلا ہوجائیں یہ جو فرمایا وَجَعَلَ مِنھَا زَوْجَہا اس کے معنی صرف یہ ہیں کہ اس کی قسم سے اس کا جوڑا بنایا یعنی بیوی اور میاں ایک ہی جنس میں سے ہوتی ہیں۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد اول 302)

اس آیت کاایک یہ بھی مطلب ہے کہ تمام انسانوں کو ایک ہی قسم کی جنس سے پیدا کیا گیا ہے اس لئے کسی عربی کو عجمی پریا عجمی کوعربی پر فضیلت نہیں۔ یعنی ایسا نہیں کہ عجمی کو کسی غیر انسانی جنس سے پیدا کیا گیا ہے اور عربی کو انسانی جنس سے یا عربی کو غیر انسانی جنس سے اور عجمی کو انسانی جنس سے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے اس آیت کی جو تشریح فرمائی ہےاسکا خلاصہ یہ ہےکہ اس میں تخلیق انسان کا ایک راز کھولا گیا ہے۔ شروع میں انسان کی پیدائش ایک سیل سے ہوئی ہے اور اس سیل کو قرآن کریم نےنفس واحدۃ یعنی مادہ سیل کہا ہے اور اس مادہ سیل سے اس کا نرسیل پیدا ہوا اس سے یہ بات بھی غلط ثابت ہوتی ہے کہ عورت مرد کی پسلی سے پیدا ہوئی کیونکہ قرآن کریم کے مطابق جو پہلا سیل تھا وہ مادہ تھا نر نہیں تھا اور آج کی سائنس بھی اس بات کو ثابت کرتی ہے۔ عورت کی پسلی سے پیدا ہونے والی حدیث یوں ہے ’’اِسْتَوْصُوْابِالنِّسآءِفَاِنَّ الْمَرْأَۃَخُلِقَتْ مِنْ ضِلْعٍ (مسلم۔ باب الوصیہ بالنساء) یعنی عورتوں سے نیک سلوک کرو کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اول تو اس حدیث میں پہلی عورت کے متعلق نہیں بلکہ تمام عورتوں کے متعلق عموماً کہا گیا ہے کہ وہ پسلی سے پیدا کی گئی ہیں یہ عربی کا ایک محاورہ ہے جس کا مطلب ہوتا ہے کہ اس میں پسلی جیسا مزاج ہے اور پسلیاں ٹیڑھی ہوتی ہیں یعنی عورتوں میں ٹیڑھا پن یعنی نزاکت نخرے کی فطرت پائی جاتی ہے۔ آخر پریہ بیان کرنا چاہوں گا کہ حضرت اقدس مسیح موعودؑ اور خلفاءکرام کے بعض اقتباسات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام پہلے انسان تھےاسکی وضاحت یہ ہے کہ آدم کا لفظ پہلے انسان یا انسانوں کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے اس لئے بعض اقتباسات میں آدم کا لفظ بطور پہلے انسان یا بعض جگہ پر انسانی پیدائش کی ابتداء سے لے کر آدم کے خلیفہ بننے تک کے مرحلے کا اِجمالاً اکٹھا ذکر کیا گیا ہے یا کوئی اور تفسیری نقطہ بیان کیا گیا ہوگا۔

٭…٭…٭

(عدنان اشرف ورک)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 30 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 1 جولائی 2020ء