• 3 جولائی, 2020

انبیاء اور ترتیب قرآن حکیم

اِنَّ عَلَینَا جَمعَہٗ وَ قُراٰنَہٗ

﴿القیمۃ۱۸﴾

ترجمہ :یقیناً اس کا جمع کرنا اور اس کی تلاوت ہماری ذمہ داری ہے۔

قرآن پاک کی تدوین و ترتیب کا ذمہ خود حکیم خدا نے اٹھایا مگر بعض نادان قرآن اور قرآنی ترتیب سے ناواقفیت کی وجہ سے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ نعوذباللہ قرآن ایک بے ترتیب کتاب ہے۔ ان کو کیا معلوم کہ قرآن کریم کے مضامین کا آپس میں ایک عمیق ربط ہے اور قرآن عظیم کا اعجاز اور معجزہ ہی یہ ہے کہ اس کے مضامین آپس میں ایک خوبصورت لڑی کے طور پر منسلک ہیں۔ کچھ ایسا ہی قرآن پاک میں انبیاء کی ترتیب کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ نعوذ باللہ کسی ترتیب اور ربط کے بغیر ہی ان کا ذکر قرآن میں ہوا ہے۔ مگر قرآن کریم میں بعض جگہ روحانی اور باطنی مناسبت، بعض جگہ مضامین کے اعتبار سے انبیاء کا انتخاب کیا گیا۔ مثال کے طور پر

سورۃ الانعام میں ہدایت کے نقطہ نظر سے انبیاء کے نو جوڑوں کا ذکر ہے اور آیت نمبر ۸۵ میں کُلًّا ہَدَینَا میں ہدایت کی مناسبت کی طرف اشارہ کردیا۔ انبیاء کا بیان آیت نمبر ۸۴ سے آیت نمبر ۸۷ تک ہے۔ ان نو جوڑوں میں ایک خوبصورت مناسبت ہے۔ ان نبیوں کی ارواح میں ایک ازلی تعلق اور پیوند ہے۔ گویا یہ ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے ہیں۔ سلسلۂ ہدایت سے ان کا خصوصی تعلق ہے۔

۱۔ نوح، ابراھیم ۲۔ اسحاق، یعقوب ۳۔ داؤد، سلیمان ۴۔ ایوب و یوسف ۵۔ موسیٰ، ہارون ۶۔ زکریا و یحییٰ ۷۔ عیسیٰ، الیاس ۸۔ اسماعیل، الیسع ۹۔ یونس، لوط

۱۔ پہلا جوڑا نوح و ابراہیم کا ہے۔ قرآن حکیم میں ہے

وَ اِنَّ مِنْ شِیْعَتِہِ لَاِبرَاھِیْمَ

(الصّفّٰت:84)

کہ ابراہیم، نوح کی شیعہ (گروہ) سے تعلق رکھتا تھا۔ پھر فرمایا کہ نوح کی بعثت یعنی دور نبوت امت میں 950 سال تک تھا۔ تا آنکہ ابراہیم پیدا ہو گئے۔ گویا ابراہیم روحانی مناسبت کے لحاظ سے نوح سے ملحق تھے۔ ابراہیم نوح ثانی تھے۔

۲۔ اسحاق اور یعقوب کا جوڑ واضح ہے۔ یعقوب کے معنے جانشین کے ہیں۔ حضرت اسحاق کے روحانی جانشین بڑے بیٹے نہیں تھے بلکہ یعقوب تھے۔

۳۔ داؤد اور سلیمان بھی ظاہری اور باطنی پیوند میں جڑے ہوئے ہیں۔ سلیمان، داؤد کے مشن کی تکمیل کے لئے مبعوث ہوئے۔

۴۔ ایوب و یوسف دونوں گوناگوں مناسبتیں رکھتے ہیں۔ ان دونوں کا زمانہ ایک ہے۔ دونوں ایک عظیم ابتلا میں سے بچ کرنکلے۔ ایک طرف برادران یوسف نے دغا کیا۔ دوسری طرف حضرت ایوب کے دوست خاندان اور کنبہ والے ان کا ساتھ چھوڑ گئے۔ ایوب اور یوسف دونوں غریب الوطن ہو کر سرفراز ہوئے۔ ایوب اہل مشرق یعنی عربوں میں سب سے بڑے آدمی تھی۔ (ایوب باب ۱ آیت۳) یوسف اسرائیلی خاندان کے چشم و چراغ دونوں ہمعصر نبی تھے۔ نامساعد حالات سے گذر کر مقتدر ہوئے۔

۵۔ موسیٰ، ہارون ایک ہی مشن والے دو پیغمبر تھے۔

۶۔ زکریا۔ یحییٰ، باپ بیٹا ایک جوہر کے دو ٹکڑے تھے۔

۷۔ عیسیٰ و الیاس میں روحانی مناسبت کچھ تفسیر چاہتی ہے۔

عیسیٰ کی بعثت سے پہلے الیاس دوبارہ یحییٰ کی صورت میں آئے۔ مسیح کی آمد ثانی سے پہلے ایک الیاس کا آنا پیشگوئوں میں موجود تھا۔ الیاس، عیسیٰ اور موسیٰ تینوں میں ایک روحانی مناسبت ہے۔ انجیل میں لکھا ہے حواریوں نے کشفی رنگ میں موسیٰ، الیاس اور حضرت مسیح کو ایک پہاڑ پر گھل مل کر باتیں کرتے ہوئے دیکھا۔ (متی۷۱ باب)۔ یاد رہے دونوں کی آمد ثانی سے مراد ان کی روحانی آمد ہے۔

۸۔ اسماعیل اور الیسع۔ ان دونوں پیغمبروں نے صبر کا اعلیٰ نمونہ دیکھایا۔ اسماعیل ذبیح اللہ کہلاتے ہیں۔ الیسع آرے سے چیر دئے گئے

الیسع نے ’’عرب کی بابت الہامی کلام‘‘ کے عنوان سے رسول اللہﷺ کی ہجرت کی پیشگوئی کی ہے۔ فرمایا۔ صحرائے عرب میں اقراء کی صدا بلند ہو گی۔ کہا جائے گا۔ پڑھ۔ مورد وحی کہے گا کیا پڑھوں؟ اس کے بعد عظیم الشان انقلاب روحانی کی پیشگوئی ہے۔ ایک بانجھ قوم کے متعلق خبر دی کہ وہ اولاد والی ہو گی۔ اور نو نہال ہو جائے گی۔ الیسع پیغمبر نے بڑی کثرت سے نبی عربی صلی اللہ علیہ و سلم کے بارہ میں بشارات دی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بنو اسماعیل کے قبائل جوق در جوق بیت اللہ کی طرف آئیں گے۔ اور برکتوں سے جھولیاں بھریں گے۔ بنو اسماعیل کے متعلق یسعیاہ نبی کی بشارت اس روحانی پیوند کا نتیجہ ہے۔ جو ازل سے ان دو پیغمبروں کی روحوں کو حاصل ہے۔

۹۔ یونس و لوط۔یونس مچھلی کے پیٹ اور ظلمات بحر سے بچائے گئے۔ لوط آتش افشانی دہانوں سے۔ (پیدائش باب 14آیت10)۔ لوط کا وطن عراق تھا۔ مبعوث ہوئے فلسطین میں۔ سدوم و عمورہ بستیوں کی طرف یہاں کے لوگوں کو قوم لوط کہا گیا۔ یونس بھی عراق کے تھے۔ پہلے کنعان کی ایک بستی ’’جات حضر‘‘ میں پیغام حق سنایا۔ پھر نینویٰ کی طرف نذیر بنا کر بھیجے گئے۔ عراق کے بعض قبائل اسرائیل کے شمال اور اسی طرح سدوم وعمورہ بستیوں میں بسے ہوئے تھے۔ (نحمیاہ باب8 آیت8،حزقی ایل باب 23 ا ٓیت12-17، ایوب باب 1آیت 17) دونو ں علاقوں میں ایسے پیغمبروں کو بھیجا گیا۔ جن کا وطن عراق تھا۔ روحانی مناسبت اور آسمانی پیوند اس کے علاوہ ہے۔

سورۃ الاعراف مکی سورۃ ہے۔ اس سورت میں تاریخی ترتیب ملحوظ خاطر رکھی گئی ہے۔ اس سورت میں آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت موسیٰ علیہ السلام تک بعض انبیاء کا ذکر ہوا ہے۔ اس سورت کی آیت نمبر ۲۰ میں حضرت آدم کا ذکر ہے۔ پھر آیت نمبر ۶۰ میں حضرت نوح کا ذکر ہے،آیت نمبر ۶۶ میں حضرت ھود کا ذکر ہے، آیت نمبر ۷۴ میں حضرت صالح کا ذکر کیا، اس کے بعد آیت نمبر ۸۱ میں حضرت لوط کا بیان ہے، آیت ۸۶ میں حضرت شعیب کا بیان ہے، آیت ۱۰۴ سے حضرت موسیٰ اور اس کے بعد اسباط موسیٰ کا ذکر ہے۔ یہ ترتیب تاریخی لحاظ سے باکل صحیح ہے۔

سورۃ البقرۃ میں بھی انبیاء کا ذکر ہے۔ اس میں چھ نبیوں کا بالترتیب ذکر ہوا۔ ابراہیم۔ اسماعیل، اسحاق، یعقوب، اسباط موسیٰ، عیسیٰ علیھم السلام۔ یہاں ترتیب تاریخی ہے۔

سورۃ النساء میں بھی انبیاء کا ذکر موجود ہے۔ اس جگہ وحی کے اعتبار سے سلسلوں کا ذکر ہے۔ سورۃ النساء کی آیت نمبر۱۶۴کا آغاز ہی انَّا اَوحَینَا سے ہوتا ہے۔ اس میں نزول وحی کے اعتبار سے سلسلہ انبیاء کا ذکر ہے۔ اس میں بارہ نبیوں کا ذکر ہے: نوح، ابراھیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب مع اسباط۔ عیسیٰ، ایوب، یونس، ہارون، سلیمان، داؤد، موسیٰ علیھم السلام۔ انا اوحینا کلید ہے جو کہ ترتیب کے عقدہ کو کھولتی ہے۔

سورۃ النساء میں نزول وحی کے اعتبار سے سلسلۂ انبیاء کا ذکر ہے۔ فرمایا:

اس جگہ وحی کے اعتبار سے مختلف سلسلوں کا ذکر ہے۔

پہلا سلسلہ نوح کا ہے۔ دوسرا ابراہیمی سلسلہ۔ تیسرا عربوں کی امم قدیمہ میں نزول وحی کا۔

پہلے سلسلہ میں نوح اور اس کے تابع رسول آئے۔ دوسرا ابراہیمی سلسلہ ہے۔ اس کے دو حصے ہو گئے: ایک اسماعیل اور دوسرا بنو اسحاق۔ اسحاق والے سلسلہ میں ایک تو عمومی وحی ہے۔ جو اسحاق سے عیسیٰ تک ممتد ہے۔ ایک خصوصی وحی ہے جو موسیٰ پر نازل ہوئی۔ ایک وحی تابع نبیوں پر اتری۔ اس کی مثال ہارون اور سلیمان سے دی گئی۔ نظم کی صورت میں وحی کا نزول داؤد سے مخصوص ہے۔

تیسرا سلسلہ آلِ ابراہیم سے باہر کے لوگوں سے تعلق رکھتا ہے اس میں ایوب اور یونس کا ذکر ہے۔ ایوب اہل مشرق کے پیغمبر تھے اور یونس نینویٰ کے۔ قرآن حکیم میں اشارہ ہے کہ یونس اسرائیلی نبی تھے۔ اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوئے۔ اسی طرح قرآن حکیم نے ایوب کو ذریت ابراہیم سے الگ رکھا ہے۔ ہارون و سلیمان کا الگ ذکر اس لئے کیا یہ دونوں تابع نبی تھے۔ پہلے نبی کے مشن کو پورا کرنے والےتھے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ قران کریم رب العالمین کا دیا ہوا تحفہ ہے۔ اس تحفہ کو قبولیت کی نگاہوں سے دیکھا جائے اور پڑھا جائے تو علم کا یہ ایک بحر عظیم ہے۔ اس کو تفکر و تدبر سے پڑھنے کے بارہ میں حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں

’’سو تم قرآن کو تدبر سے پڑھو اور اس سے بہت ہی پیار کرو ایسا پیار کہ تم نے کسی سے نہ کیا ہو ……تمہاری تمام فلاح اور نجات کا سرچشمہ قرآن میں ہے۔ کوئی بھی تمہاری ایسی دینی ضرورت نہیں جو قرآن میں نہیں پائی جاتی۔ تمہار ے ایمان کا مصدق یا مکذب قیامت کے دن قرآن ہے اور بجز قرآن کے آسمان کے نیچے اور کوئی کتاب نہیں‘‘۔

(کشتی نوح -روحانی خزائن جلد ۹۱ صفحہ۷۲)

’’قرآن شریف تدبّر و تفکّر و غور سے پڑھنا چاہئے۔ ……تلاوت کرتے وقت جب قرآن کریم کی آیتِ رحمت پر گزر ہو تو وہاں خداتعالیٰ سے رحمت طلب کی جاوے اور جہاں کسی قوم کے عذاب کا ذکر ہو تو وہاں خدا تعالیٰ کے عذاب سے خدا تعالیٰ کے آگے پناہ کی درخواست کی جاوے اور تدبّر و غور سے پڑھنا چاہئے اور اس پر عمل کیا جاوے۔‘‘

(ملفوظات جلد5صفحہ 157جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن کریم پر گہرا تدبر کرنے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

٭…٭…٭

(فراز یاسین ربانی۔ نمائندہ روزنامہ الفضل لندن (آن لائن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 30 جون 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 1 جولائی 2020ء