• 26 جنوری, 2022

This week with Huzur (یکم اکتوبر 2021ء)

This week with Huzur
یکم اکتوبر 2021ء
طالبات نائجیریا سے ورچوئل ملاقات

اس ہفتے ناصرات الاحمدىہ اور لجنہ اماءاللہ نائجىرىا کى طالبات کو حضرت خلىفۃ المسىح الخامس اىدہ اللہ تعالىٰ بنصرہ العزىز سے آن لائن ملاقات کا شرف حاصل ہوا جو کہ جماعت کے ہىڈ کوارٹر Ojokoro مىں جمع ہوئى تھىں ۔اس موقعہ پر بچىوں نے مختلف سوالات کے ذرىعہ پىارے امام اىدہ اللہ تعالىٰ بنصرہ العزىز سے جو رہنمائى حاصل کى اس کى تفصىل درج ذىل ہے۔

سوال: کىا مذہب اور آج کے دور جدىد کى تہذىب مىں کوئى تضاد ہے؟

اس پر حضور انور اىدہ اللہ نے فرماىا:اصل بات ىہ ہے کہ وہ لوگ جو کہتے ہىں کہ مذہب آپ کو تہذىب سے دور رکھ رہا ہےوہ غلط ہىں اور ہم صحىح ہىں۔ ىہ مذہب ہى ہے جو دنىا مىں تہذىب کو لاىا ہے۔ىہ لوگ بھى مانتے ہىں کہ اگر نبى نہ آتے تو اس دنىا مىں کوئى تہذىب نہىں ہوتى۔اىک طرف تو کہتے ہىں کہ مذہب ہى دنىا مىں تہذىب کو لاىا اور دوسرى طرف کہتے ہىں کہ ہمىں مذہب پر عمل نہىں کرنا چاہىے کىونکہ ىہ ہمىں دور جدىد کى تہذىب سے دور لے جانے والا ہے۔دور جدىد کى تہذىب بے حىائى اور اىسى آزادى کے سوا کچھ نہىں ہے جو آپ کى زندگى کو بہترى کى بجائے تباہى کى طرف لے جاتى ہے ۔اىسے لوگوں سے بالکل بھى خوفزدہ نہىں ہونا۔ آپ لوگ ہى حقىقى مہذب لوگ ہىں جو اسلام اور قرآنى تعلىم پر عمل کرنے والے ہىں۔ اىک مسلمان ہونے کى حىثىت سے آپ کو قرآن کرىم کى پىروى کرنى چاہىے اور ىہ دىکھنا چاہىے کہ قرآن کرىم مىں وہ کون سى تعلىم ہے جس پر ہمىں ضرورعمل کرنا چاہىے۔ پس آپ لوگ ہى حقىقى مہذب ہىں نہ کہ وہ لوگ جو ملحد ىا پھر لا مذہب ہىں۔آپ کو کسى قسم کا احساس کمترى نہىں ہونا چاہىے۔

سوال: حضور! کىا آپ افرىقہ مىں قىام کے دوران اپنا قبولىتِ دعا کا کوئى واقعہ بىان کر سکتے ہىں؟

فرماىا: بہت سے واقعات ہىں ۔اىک دفعہ ہمارے پاس دودھ پىتے بچوں کے لىے بھى دودھ نہىں تھا۔اس پر ہم نے دعا کى اور خدا تعالىٰ نے ہمارى دعا قبول فرمائى۔ اور تھوڑى دىر بعد ہى اىک شخص IDEAL MILK دودھ کا اىک کارٹن لے آىا۔ اُس وقت IDEAL MILK ہوتا تھا لىکن مجھے نہىں پتہ کہ ابھى بھى آپ کو ىہ دستىاب ہے کہ نہىں۔ صرف اىک ىا دو گھنٹے بعد ہى مىرى اور مىرى اہلىہ کى دعا قبول ہو گئى۔ ہم بہت خوش ہوئے تھے کہ کوئى شخص ہمارے پاس نہ صرف اىک دن بلکہ پورے ماہ کےلىے دودھ لاىا۔ اس طرح خدا تعالىٰ تمہارى دعاؤں کو قبول فرماتا ہے۔

سوال: کىا کوئى لڑکى ىا عورت فوجى بننے کے لىے آرمى کو جوائن کر سکتى ہے؟

حضرت امىر المومنىن نے فرماىا:فى الحال اس کى کوئى ضرورت نہىں ہے۔جب اس کى ضرورت تھى تو اس وقت مسلم خواتىن نے اپنے مردوں کى مىدان جنگ مىں مدد کى تھى۔لىکن اس وقت ہمارے پاس کافى تعداد مىں مرد مو جود ہىں جو مىدان جنگ مىں لڑ سکتے ہىں ۔ وىسے بھى آج کل آرمى مىں لڑکىوں کے لىے ماحول موزوں نہىں ہے۔ اس لىے مىں احمدى لڑکىوں کو سپاہى بننے کے لىے آرمى جوائن کرنے کى اجازت نہىں دے سکتا۔لىکن اگر آپ مىڈىکل سائنس مىں اپنى تعلىم مکمل کر لىتے ہىں ىا ڈاکٹر بن جاتے ہىں تو پھر آپ آرمى مىڈىکل کور کو جوائن کر سکتے ہىں ۔ اس کى اجازت ہے لىکن بطور سپاہى مىدان جنگ مىں جانے کى اجازت نہىں ۔

سوال: حضور! آپ تمام احمدىوں کو lead کرنے کے پرىشر سے کس طرح نمٹ رہے ہىں؟

حضور انور نے فرماىا: کس قسم کا پرىشر؟ وہ مجھے دعا کے لىے لکھتے ہىں اور مىں ان کے لىے دعا کرتا ہوں۔ مىں خدا تعالى کى مدد طلب کرتا ہوں کہ اللہ تعالىٰ ان کى پرىشانىوں کو دور فرمائے اور ان کے مسائل کو حل فرمائے اور ان کى مدد فرمائے۔ جب کبھى مىں کوئى پرىشر محسوس کروں تو مىں اللہ تعالىٰ سے دعا کرتا ہوں اور اس کے سامنے جھکتا ہوں تو اپنے دل مىں اطمىنان پاتا ہوں ۔اور اس طرح پرىشر ختم ہوجاتا ہے۔ آپ بھى جب کبھى انڈر پرىشر ہوں تو خدا تعالىٰ سے بہت زىادہ دعا مانگا کرىں۔

سوال: حضور! اىسى صورت حال مىں جہاں والدىن ہمىشہ آپس مىں لڑتے رہتے ہى۔ بچے ان کى مدد کس طرح کر سکتے ہىں؟

حضور انور اىدہ اللہ نے فرماىا: سب سے پہلے ان کے لىے دعا کرىں کہ اللہ تعالىٰ ان کو عقل دے کہ وہ آپس مىں لڑائىاں نہ کرىں۔ کىونکہ اس سے بچوں کے ذہنوں پر بُرا اثر پڑ رہا ہوتا ہےبچے بھى متاثر ہو رہے ہوتے ہىں۔دوسرے نمبر پر آپ اپنى ماں ىا باپ مىں سے جس کے ساتھ بھى آپ کے اچھے تعلقات ہىں۔ ان کو بتائىں کہ آپ کو اس طرح لڑائى نہىں کرنى چاہىے کىونکہ ىہ اللہ تعالىٰ ، رسول کرىم ﷺاور اسلامى تعلىم کے خلاف ہے۔اگر آ پ کے پاس طاقت نہىں ہے تو اىسى صورت مىں آپ صرف دعا کر سکتے ہىں بلکہ اگر آپ کے پاس ان کو روکنے کى طاقت ہوبھى تو پھر بھى ان کے لىےدعا کرىں۔اس کے علاوہ بڑى عزت اور شائستگى کے ساتھ ان کو سمجھانے کى کوشش کرىں کہ ىہ چىز ہمارے ذہنوں پر بہت بُرا اثر ڈال رہى ہے۔ اس لىے آپ کو ہمارے سامنے نہىں لڑنا چاہىے۔مزىد ىہ کہ چھوٹى چھوٹى باتىں ہوتى ہىں ۔چاہىے کہ وہ اىک دوسرے کى کمىوں اور کو تاہىوں کو نظر انداز کىا کرىں۔

مىٹنگ کے آخر پر حضور انور اىدہ اللہ تعالىٰ بنصرہ العزىز نے ناصرات کو ان کى تعلىم کے بارے مىں نصائح کرتے ہوئے فرماىا۔

مىرى آپ سب کو ىہ نصىحت ہے کہ آپ کو چاہىے کہ اپنى تعلىم مىں excel کرىں۔اور جتنا زىادہ سىکھنا چاہتى ہىں اتنا زىادہ سىکھىں اور اپنى تعلىم مکمل کرىں۔اگر آپ مىڈىسن کرنا چاہتى ہىں تو مىڈىسن کرىں۔انجىنئر نگ، law،ٹىچنگ اوراگر آپ رىسرچ مىں جانا چاہتى ہىں تو رىسرچ مىں جائىں۔اپنى تعلىم مىں excel کرىں اور جتنا پڑھنا چاہتى ہىں اتنا زىادہ پڑھىں۔

وىمىن اسٹوڈنٹس اىسوسى اىشن آف نائجىرىا سے ورچوئل ملاقات

اس ہفتے دوسرى آن لائن ملاقات حضور انور اىدہ اللہ تعالىٰ بنصر ہ العزىز کى Women Student Association of Nigeria کى ممبرات کے ساتھ ہوئى۔

اس نشست مىں نائىجىرىا کى احمدى طالبات نے حضرت امىر المؤمنىن خلىفۃالمسىح الخامس اىدہ اللہ تعالىٰ بنصرہ العزىز کى خدمت مىں جو سوالات پىش کىے ان کى روئىداد ىہاں افادہ عام کے لىے پىش کى جاتى ہے۔

سوال :کوئى کس طرح اىسے گناہ سے رہائى پا سکتا ہے جس کا وہ عادى ہو چکا ہے؟

اس پر حضور انور نے فرماىا؛پہلى بات تو ىہ ہے کہ آپ خدا تعالىٰ سے اپنى پنجوقتہ نماز مىں دعا کرىں کہ اللہ تعالىٰ آپ کو شىطانى حملوں سے محفوظ رکھے۔ موجودہ دنىا کى بہت سى بُرى چىزوں نے آج کل ہمىں اپنے گھىرے مىں لے رکھا ہے۔انٹرنىٹ ،ٹىلى وىژن اور سوشل مىڈىا ہمىں غىر مناسب طرىق پر attract کر رہا ہے۔ٹىلى وىژن اور انٹرنىٹ پر دکھائے جانے والے بہت سے پروگرام اىسے ہوتے ہىں جو کہ ہمىں سىدھے راستے ااور اسلامى تعلىمات سے منحرف کر رہے ہوتے ہىں۔اور اس دنىا کى ہوس اور چکا چوند کى وجہ سے ہم attract ہو رہے ہوتے ہىں۔ پہلى بات تو ىہ ہے کہ اللہ تعالى سے مدد طلب کرنى چاہىے اور خداتعالىٰ ہى ہے جو ہمىں شىطان سے بچا سکتا ہے۔ اسى لىے ہم ”اعوز باللہ من الشىطان الرجىم“کہتے ہىں کہ اے اللہ! مجھے دُھتکارے ہوئے شىطان سے اپنى پناہ مىں رکھ۔ اور پھر آپ اپنى پنجگانہ نماز مىں اپنے لىے ،اپنى اولاد کے لىے،اپنى فىملىز کے لىےاور ممبرانِ جماعت کے لىے بہت زىادہ دعا کر ىں کہ اللہ تعالىٰ ہر اىک کو اپنى حفاظت مىں رکھے ۔اس طرح آپ نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ اپنے گرد ونواح اور ماحول کو بھى محفوظ بنا رہے ہوں گے۔ استغفار کرىں۔ہر روز کثرت سے استغفار کرنا اپنے اوپر فرض کر لىں۔ ٹىلى وىژن پر دکھائے جانے والےبىہودہ پروگرام دىکھنے سے بچىں اور انٹرنىٹ اور سوشل مىڈىا پر موجود پروگرام سے بھى اپنے آپ کو بچا ئىں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ قرآن کرىم پڑھ کر اپنے مذہبى نالج کو بھى بڑھائىں اور دىکھىں کہ وہ کون سے احکامات ہىں جن کے کرنے اور جن سے بچنے کا قرآن ہمىں حکم دىتا ہے۔ پھران کو نوٹ کر لىں اور ان بُرى باتوں سے بچنے کى کوشش کرىں۔اس موجودہ دور مىں خدا تعالىٰ نے حضرت مسىح موعودؑ کو اسلام کى تجدىد ،قرآن ،سنت اور حدىث کى حقىقى تعلىم بتانے کے لىے بھىجا ہےاور آپ ؑ نے اپنى کتابوں مىں ان باتوں کو بڑى تفصىل کے ساتھ بىان فرماىا ہے۔ ہر روز ا ِن کُتب مىں سے جن کا انگرىزى ترجمہ ہو گىا ہےاور وہ آپ کے پاس دستىاب ہىں ۔ کچھ نہ کچھ ضرور مطالعہ کىا کرىں اس طرح آپ اپنا مذہبى نالج بھى بڑھا سکتے ہىں۔پس آپ کو اپنے تئىں بُرى باتوں اور گناہوں سے بچانے کے لىے بہت محنت کرنا پڑے گى۔ خدا تعالىٰ کى مدد کے بغىر آپ اپنى ذاتى کوشش سے شىطانى حملوں سے نہىں بچ سکتے ۔

حضور! ہمارے معاشرے مىں بڑھتى ہوئى طلاق کى شرح کى وجہ سے آپ شادى شدہ جوڑوں کو کىا نصائح فرمائىں گے؟

حضور انور نے فرماىا:آپ ىعنى لڑکا اور لڑکى کو اپنى برداشت بڑھانا ہو گى۔ہم ىہ نہىں کہہ سکتے کہ طلاق کى شرح مىں اضافہ لڑکے ىا لڑکى مىں سے کسى اىک کے fault کى وجہ سےہے۔دونوں مىں کمى ہوتى ہے۔بہترىن شادى شدہ زندگى گزارنے کے لىے ضرورى ہے کہ آپ اپنى برداشت کے لىول کو بڑھائىں۔اور اىک دوسرے کى کمىوں اور کوتاہىوں کو نظر انداز کرىں اور اىک دوسرے کى خوبىوں کو تلاش کرنے کى کوشش کرىں ۔آپ مىں اچھى اور بُرى دونوں خوبىاں ہىں۔مرد مىں بھى اچھى اور بُرى خوبىاں ہوتى ہىں اور عورت مىں بھى اچھى اور بُرى خوبىاں ہوتى ہىں۔عورت مىں بھى کچھ کمىاں ہوتى ہىں اور مرد مىں بھى کچھ کمىاں ہوتى ہىں۔اگر آپ کو ىہ سمجھ آجائے کہ آپ مىں سے ہر اىک نے اىک دوسرے کى کمىوں سے صرف ِنظر کرنا ہے تو اس سے طلاق کى شرح مىں کمى آئے گى اور آپ اچھى شادى شدہ زندگى گزارسکىں گے۔اب ىہ آپکى ذمہ دارى ہے کہ اپنے بچوں کى پُرامن طرىق پر پرورش کرىں اور ان کو اىسا ماحول دىں جو ان کى نشوونماکے لىے اچھا ہو۔ ىہ اُسى صورت مىں ممکن ہے جب خاوند اور بىوى ہنسى خوشى اىک خوشگوار زندگى بسر کررہے ہوں گے۔

اىک طالبہ نے سوال کىا کہ حضور مىرے علم کے مطابق آپ بہت مصروف ترىن شخص ہىں۔ لىکن اس کے باوجود حضور اىدہ اللہ تعالىٰ اپنے وقت کو بہت اچھا manage کرتے ہىں۔ کىا حضور ہمارى رہنمائى کر سکتے ہىں کہ ہم اسٹوڈنٹ کس طرح اپنے وقت کو اچھى طرح سے manage کر سکتے ہىں؟

اس پر حضور انور نے فرماىا:صبح جلدى اُٹھىں۔ اگر بہت ضرورى ہو کہ آپ کو رات دىر تک جاگنا پڑے ۔(تو الگ بات ) ورنہ آپ کو جتنى جلدى ممکن ہو اتنى جلدى سونا چاہىے۔آپ اچھى طرح جانتى ہىں کہ جلدى سونا اور جلدى جاگنا اىک انسان کو صحت مند اور عقلمند بناتا ہے۔اور پھر آپ کو خد اتعالىٰ سے دعا بھى مانگنى چاہىے ۔دعا کرىں کہ اللہ تعالىٰ اىک organize اور بااصول زندگى بنانے مىں آپکى مدد فرمائے ۔اس کے علاوہ بطور طالب علم آپ کو کم از کم چھ گھنٹے کى نىند پورى کرنى چاہىے اور باقى وقت اپنے آپ کو (Study) اور دوسرى سرگرمىوں مىں مصروف رکھنا چاہىے۔آ پ کو معلوم نہىں کہ آپ نے دن مىں کىا کىا؟اس کے لىے صبح اُٹھنے سے لے کر جو کچھ بھى آپ نے کىا اس کو لکھىں۔مثال کے طور پر اگر آپ چھ بجے اُٹھى ہىں۔مجھے معلوم نہىں کہ چھ بجے نماز کا وقت ہے ىا نہىں ۔بہرحال فجر کى نماز کے وقت اُٹھتى ہىں تو آپ لکھىں کہ آپ اِس وقت اُٹھىں اور پھر نماز فجر ادا کى۔ اس کے بعد قرآن کرىم کى کچھ آىات ىا کچھ حصہ کى تلاوت کى۔پھر اس کے بعد ىہ کام کىا اور پھر ناشتہ کىا اور ىونىورسٹى کے لىے تىارى کى۔اس کے بعد مىں ىونىورسٹى گئى اور راستے مىں مجھے اىک گھنٹہ لگا۔اگر آپ ىونىورسٹى مىں رہ رہى ہىں تو ىہ الگ بات ہے۔اور پھر ىہ کہ مىں نے ىونىورسٹى مىں اس وقت سے لىکر اس وقت تک پڑھائى کى۔اس کے بعد مىں گھر واپس آئى اور اپنے سبق کو دوہراىا اور نمازىں ادا کى اور فلاں فلاں کام کىا۔ہر کام جو آپ نے کىا اس کو لکھىں۔اس طرح آپ کو معلوم ہو گا کہ آپ کا روزانہ کا معمول (routine) ىہ ہے۔ آپ نے اپنا زىادہ تر وقت اچھے کاموں مىں ىا productive work مىں گزارا اور اتنا وقت آپ نے فلمىں دىکھنے ىا سوشل مىڈىا وغىرہ پر ضائع کىا ۔اس طرح آپ کو معلوم ہو گا کہ وہ کون کون سى اچھى چىزىں ہىں جو آپ نے کى ہىں؟ اور کون کون سى غىر ضرورى چىزىں ہىں جو آپ نے کىں اور جو آپ کى روزانہ routine کے لىے ضرورى نہ تھىں۔ اس طرح آپ ان کو manage کر سکتى ہىں۔پس اىک ہفتہ تک آپ صبح سے شام تک اپنے پلان کو لکھىں۔اس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ کون کون سى چىزىں ہىں جو productive ہىں اور کون کون سى چىزىں ہىں جو non productive ہىں۔اس طرح سے آپ کو پتہ چل جائے گا اور پھر بعد مىں آپ اپنا وقت manage کر نے کى کوشش کر سکتى ہىں ۔

 اىک لجنہ ممبر نے سوال کىاکہ حضور! اىک لىڈر مىں دوسروں کو lead کرنے کے لىے کون کون سى خوبىاں ہونى چاھئىں؟

اس پر حضور انور نے فرماىا؛ اگر اس سے آپ کى مراد اىک پولىٹىکل لىڈر ىا آپ کے ملک کا لىڈر ہے ۔تو وہ اىماندار ہونا چاہىے۔اس کو عوام کا درد محسوس کرنا چاہىےاور اگر وہ عوام کى رقم سے اپنى جىبىں اور ملک کے اندر ا ور باہر اپنے بىنک بىلنس بھر رہا ہے تو وہ اچھالىڈر نہىں ہے۔اگر آپ اىک اچھے لىڈر ہىں تو پھر آپ کو بہت زىادہ اىماندار اور اپنے لوگوں کا خىر خواہ ہونا ہو گا۔ ىہ اچھى خوبىاں ہىں۔اس کے علاوہ آپ کوانصاف بھى قائم کرنا چاہىے۔اىک اچھا لىڈر وہ ہے جو اىماندار ہو۔ ہر لحاظ سے انصاف پسند ہو۔ محنتى ہو۔ملک وقوم اور عوام کے لىے مخلص ہو۔ ىہ وہ خوبىاں ہىں جو اگر آپ کے لىڈر مىں ہىں تو وہ اىک اچھا لىڈر ہو گا۔مىں امىد رکھتا ہوں کہ مستقبل مىں احمدى اىک اچھے لىڈر کے طور پررونما ہوں گے تا کہ آپ اپنے ملک کو اچھى طرح چلا سکىں۔اور اگر کوئى روحانى لىڈر ہے تو اس مىں بھى ىہ خوبىاں ہو نى چاہىے۔اور اگر ىہ لىڈر آپ کى جماعت مىں سے آپ کا امىر ىا آپ کا صدر ہوتو اس کے اندر بھى ىہ خوبىاں ہونى چاھئىں ۔

اس کے بعد حضور انور نے فرماىا۔اب اىک گھنٹہ ہو گىا ہے۔ آپ مىں سے جو سوال نہىں پوچھ سکى وہ اگلى دفعہ جب کبھى موقعہ ملا تب سوال پوچھ سکتى ہے۔ اللہ حافظ۔

(ترجمہ و کمپوزنگ :ابو اثمار اٹھوال)

پچھلا پڑھیں

خلاصہ خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 29؍اکتوبر 2021ء

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 نومبر 2021