• 4 فروری, 2023

جامع المناھج والاسالیب (قسط 8)

جامع المناھج والاسالیب
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی شہرہ آفاق تصنیف تفسیر کبیر کا ایک اختصاصی مطالعہ
قسط 8

تفسیر کبیر میں اجتماعی منہج کی چند مثالیں

’’زکوٰۃ کی ضرورت اوراس کی اہمیت درحقیقت غربت کے سوال سے پیداہوتی ہے اور غربت ایک ایسی چیز ہے جوکبھی بھی بنی نوع انسان سے جدانہیں ہوئی۔ عام طور پر لوگ خیال کرلیتے ہیں کہ جب دنیا کی آبادی بڑھ جاتی ہے توایک حصہ غریب ہوجاتاہے۔ حالانکہ یہ بات درست نہیں۔ آبادی کی کمی کی صورت میں بھی ہمیں غربت ویسی ہی نظرآتی ہے جیسے اس کی کثرت کی صورت میں۔ چنانچہ حضرت آدمؑ کے زمانہ میں باوجود اس کے کہ اس وقت صرف چند ہی افراد تھے قرآن کریم سے معلوم ہوتاہے کہ ان میں سے بھی بعض پر غربت کا زمانہ آیا تھا کیونکہ فرماتاہے کہ اگر تواس جنت میں رہے گا توتو پیاسا نہیں رہے گا۔ تیرے ساتھی بھوکے نہیں رہیں گے اور تیرے ساتھی ننگے نہیں رہیں گے۔ اس وسیع دنیا میں جہاں ہردولت اورہرخزانہ خالی پڑاتھا اورکسی کاکوئی مالک نہیں تھا کسی مخصوص قانون میں رہ کر روزی ملنے کاسوال ہی کہاں پیداہوسکتاتھا۔ ساری دنیا کاسونا ان کے قبضہ میں تھا۔ ساری دنیا کی چاندی ان کے قبضہ میں تھی۔ ساری دنیا کا پیتل ان کے قبضہ میں تھا۔ ساری دنیا کالوہا ان کے قبضہ میں تھا۔ ساری دنیا کے پھل،پھول اوراعلیٰ درجہ کی زمینیں ان کے قبضہ میں تھیں۔ پھر یہ سوال کیونکر پیداہواکہ اگر توایک خاص قانون کے ماتحت رہے گا تو بھوک اور ننگ سے بچ جائے گا۔ اس سے معلوم ہواکہ باوجودساری دولتوں کے پھر بھی اس بات کا امکان تھا کہ بعض لوگ بھوکے رہیں۔ بعض پیاسے رہیں اور بعض ننگے رہیں اور یہ صحیح بات ہے۔ درحقیقت دنیا میں دولت دوقسم کی ہوتی ہے ایک بالقوۃ اور ایک بالفعل۔ پھر بالفعل بھی دوقسم کی ہوتی ہے۔ ایک بالفل دولت ایسی ہوتی ہے جوسکہ کی صورت میں ہویاان چیزوں کی صورت میں جن سے دوسری اشیاء خریدی جاسکتی ہیں اور ایک بالفعل دولت اجناس کی صورت میں ہوتی ہے جن کو استعمال کیاجاتاہے۔ پھر اجناس کی بھی دوقسمیں ہیں۔ ایک وہ جو بغیر کسی اورتیاری کے انسان کے استعمال میں آجاتی ہیں اورایک وہ جن کی تیاری کے لئے کوشش اورسعی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاں تک بالقوۃ دولت یعنی وجود دولت کاسوال ہے انگریزوں نے اس کانام ویلتھ رکھا ہے اواس سے مراد کسی ملک کے وہ سامان دولت ہوتے ہیں جو اس میں قدرتی طورپرپائے جاتے ہیں۔ مثلاً اگرکسی ملک میں سونے کی کانیں ہیں یاچاندی کی کانیں ہیں تواس کے معنے یہ ہیں کہ اس کے پاس ویلتھ ہے۔ مگراس کے یہ معنے نہیں ہوں گے کہ اس کے پاس روپیہ ہے۔ اگروہ چاندی اس تک نہیں پہنچ سکی یالوگوں کے پاس زرخیز زمینوں میں گندم اور روئی بونے کے سامان نہیں توپھر بھی وہ لوگ بھوکے اورپیاسے اورننگے رہیں گے۔ پس ایک دولت تواس قسم کی ہوتی ہے جوبالقوۃ ہوتی ہے۔ اگراس ملک کے لوگوں میں صنعت و حرفت نہیں یاانہیں زمینداری کاعلم نہیں توباوجود اس کے کہ وہ کانوں پر بیٹھے ہوں گے اورکروڑوں کروڑ روپیہ کاسونا ان میں موجود ہوگا۔ وہ زرخیز زمینوں پر بیٹھے ہوں گے۔ ایسی زمینوں پر کہ اگر اس میں ایک دانہ بھی ڈال دیاجائے توسینکڑوں دانے پیدا ہوں۔ لیکن پھر بھی وہ فاقے مررہے ہوں گے۔ گویا ان کے پاس دولت تو ہوگی لیکن ساکن دولت ہوگی۔ لیکن اگر دنیا میں کوئی ایسانظام قائم ہوجاتاہے جولوگوں کو مختلف قسم کے فنون سکھاتاہے خواہ الہام کے ذریعہ سے یاالقائے الٰہی کے ذریعہ سے اور وہ کہتاہے کہ آؤہم تمہیں زمینداری کاطریق بتاتے ہیں کپڑابننے کے طریق سکھاتے ہیں یااسی قسم کے اورفنون سکھاتے ہیں جن سے تم اپنی تمدنی حالت کو سدھار سکوتویقیناً اس کے ذریعہ لوگوں کی بھو ک اورا ن کی پیاس دورہوجائے گی۔ جیسے اسلام کی روایتوں میں خواہ وہ کتنی ہی کمزورکیوں نہ ہوں یہ آتا ہے کہ حضرت آدمؑ نے لوگوں کوزراعت سکھائی اور حضرت شیثؑ نے ان کو کپڑابنناسکھایا۔ اب چاہے انہیں آدمؑ نے سکھایاہو یا شیثؑ نے یاکسی اور نے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ابتدائی زمانہ میں اس قسم کے امور میں الہام الٰہی مدد کرتاتھا۔ جیسے قرآن کریم میں صاف طورپر یہ ذکر آتاہے کہ زبان ابتداء میں الہاماً سکھائی گئی تھی۔ چنانچہ فرماتاہے َعَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسۡمَآءَ کُلَّہَا اس سے قیاس کرکے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ جس طرح ابتدائی زمانہ میں الہام کے ذریعہ زبان سکھایاجانا ضروری تھا۔ اسی طرح الہام کے ذریعہ انہیں فنون سکھائے جانے بھی ضروری تھے۔ ورنہ اس کے بغیرانسان مدتوں تک تکلیف اٹھاتا چلاجاتا۔ پس اگرکوئی نبی آجائے اوروہ یہ کہے کہ تم زمین میں ہل چلاؤ اورکھیتی باڑی کرو۔ اسی طرح وہ مختلف قسم کے درخت اورباغات لگانے کی تعلیم دے تویقیناً اس کے نتیجہ میں اس کے ماننے والوں کو روٹی ملنے لگ جائے گی اوروہ لوگ جو نبی کے تابع نہیں ہوں گے اگر وہ زبان سیکھنے سے انکارکردیں گے توگونگے رہیں گے اور اگرکھیتی باڑی نہیں کریں گے یاکپڑا بننانہیں سیکھیں گے یاکنوئیں نہیں کھودیں گے توبھوکے اورپیاسے اورننگے رہیں گے۔ یہ فنون ابتدائی دور میں خواہ کیسی ہی ابتدائی شکل میں ہوں۔ خواہ کھال سے وہ اپنا ننگ ڈھانکتے ہوں یاپھلوں پران کا گزارہ ہوتاہواس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جو لوگ اس نظام کے ماتحت آجائیں گے و ہ بھوک اورپیاس اور ننگ سے بچ جائیں گے۔ لیکن باوجود اس کے پھر بھی ایک طبقہ ایسا رہ جاتاہے جو غریب ہو۔ کیونکہ حوادث آتے ہیں اورانسان کو بے دست و پابنا دیتے ہیں۔ فرض کرو۔ دنیا کے پردہ پر ایک ہی انسان ہے کشمیر بھی ا س کے قبضہ میں ہے۔ ہزارہ بھی اس کے قبضہ میں ہے۔ کابل کی وادیاں بھی اس کے قبضہ میں ہیں اوراس طرح دنیا کے سارے انگور،ساری ناشپاتیاں، سارے سیب اورسارے آم اس کے قبضہ میں ہیں۔ لیکن اس کے ہاتھ بھی کٹے ہوئے ہیں اورپیر بھی کٹے ہوئے ہیں تووہ اس ساری دولت سے فائدہ نہیں اٹھاسکے گا اور پھر بھی بھوکا اور پیاسارہے گا۔ پس ابتدائی زمانہ میں باوجودکہ دولت موجود تھی دنیا اس سے فائدہ نہیں اٹھاسکتی تھی کیونکہ اسے فنون نہیں آتے تھے۔ جب آدمؑ کے ذریعہ دنیا نے فنون سیکھے اوران کی بھوک اور پیاس اور لباس کی دقّت دور ہوئی توپھر بھی ایک طبقہ ایسا رہ گیا جو ان چیز وں سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھاسکتاتھا۔ جیسے لولے، لنگڑے اور اپاہج وغیرہ۔ اب چاہے ساری دنیا میں صرف پندرہ آدمی ہوں اوردولولے ہوں پھر بھی دولولے اپنی بھوک اور پیاس کیسے دور کرسکتے ہیں جب تک ان پندرہ میں کوئی نظام موجود نہ ہو اوروہ ان لولوں لنگڑوں کی بھوک اور پیاس دور کرنے کاذمہ وار نہ ہو۔ آدمؑ کی نبوت کی بنیاد اصل میں ان ابتدائی تعلیموں پر ہی تھی جن سے انسان انسان بنا۔ آپ نے بنی نوع انسان کو زبان سکھائی۔ مختلف قسم کے فنون کی تعلیم دی۔ تمدن کے اصول بتائے۔ انہیں بتایاکہ آپس میں مل کررہناچاہئے اوراگرکوئی غریب یالولا لنگڑا ہوتواس کی مدد کرنی چاہئے۔ جب اس قسم کی سوسائٹی قائم ہوجائے گی توہم کہہ سکیں گے کہ یہ سوسائٹی نہ بھوکی رہے گی نہ ننگی اورنہ پیاسی۔ اگرکوئی لولالنگڑاہوگاتودوسرے لوگ اس کی مدد کریں گے اور اگرلوگ بھوکے ہوں گے تو و ہ زراعت او رباغبانی اورکان کنی کے ذریعہ اپنی اس تکلیف کودورکرسکیں گے اوراس طرح دنیا کو روپیہ بھی مل جائے گا اور ان کی تکالیف بھی دور ہوجائیں گی۔ پس غربت کامسئلہ اس زمانہ کی پیداوار نہیں بلکہ جب سے انسان اس دنیا میں پیداہواہے اس وقت سے یہ سوال زیر بحث چلاآیاہے۔ جب ساری دنیا کے مالک صرف دوچار گھرانے تھے تب بھی غربت موجود تھی اور تب بھی ایک قانون کی ضرورت تھی اسی لئے حضرت آدمؑ کے ذریعہ بنی نوع انسان کو یہ پیغام دیاگیا کہ اگرتم ان قواعد کی پابند ی کرو گے توبھوکے اور پیاسے نہیں رہو گے۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ آدمؑ کے زمانہ میں بھی جب صرف چند آدمی تھے ممکن تھا کہ لوگ بھوکے رہیں۔ ممکن تھا کہ وہ پیاسے رہیں اورممکن تھا کہ وہ ننگے پھریں۔ پھرلوگ بڑھنے شروع ہوئے۔ پندرہ سے بیس اوربیس سے سوسوسے ہزار۔ ہزار سے دس ہزار اور دس ہزار سے لاکھ تک تعداد جاپہنچی اوربڑھتے بڑھتے اب تو دواڑہائی ارب تک آباد ی پہنچ چکی ہے۔ مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے پندرہ آدمیوں کی صورت میں بھی دنیا بھوکی اورننگی رہ سکتی تھی۔ سو آدمیوں کی صور ت میں بھی دنیا بھوکی اور ننگی رہ سکتی تھی۔ ہزا ر او ر لاکھ آدمیوں کی صورت میں بھی دنیا بھوکی اورننگی رہ سکتی تھی۔ بھوک اور ننگ کی بنیاد ویلتھ پر نہیں ہوتی یہ ایک غلط خیال ہے جو لوگوں میں پیداہوگیاہے کہ غربت آبادی کی کثرت کی وجہ سے پیداہوتی ہے۔ اصل وجہ یہ ہے کہ غربت اورامارت کادارو مدار اس امر پر ہے کہ قانون قدرت نے زمین میں جو خزانے مخفی رکھے ہیں انسان ان کو کس حد تک استعمال کرتاہے اورکس حد تک ان کے استعمال کرنے کی عقل اور سمجھ رکھتاہے۔ مثلاً اگرسونا ہواورغلہ نہ ہوتو محض سونے سے لوگوں کی بھوک دور نہیں ہوسکے گی یااگر غلہ بھی آجا ئے مگرروٹی پکانی نہیں آتی توپھر بھی انسان بھوکا رہے گا۔ ایسی صورت میں ضروری ہوگا کہ کچھ مددگار ہوں کچھ لوگ کمانے والے ہوں اورکچھ لوگ پکانے والے ہوں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے مردا ور عورت کا سلسلہ قائم کیا ہے۔ غرض کئی قدم ہوتے ہیں جب تک وہ سارے کے سارے مہیانہ ہوں انسان بھوک اور ننگ سے بچ نہیں سکتا۔ یہ دور ابتدائے عالم سے چلتا آیا ہے۔ ایک زمانہ ایساتھا جب بنی نوع انسان کے پاس ذرائع آمد زیادہ ہوتے تھے اورکم حصہ مجبوریوں میں مبتلا ہوتاتھا۔ مثلاً اگر ہاتھ پاؤں کٹے ہوئے لوگوں کو دیکھا جائے یاان لوگوں کی تعداد معلوم کی جائے جو بڑھا پے اور بیمار یوں کی وجہ سے کسی کام کے قابل نہیں رہتے وہ کتنے ہوں گے۔ میں سمجھتاہوں کہ وہ ایک دوفیصدی سے زیادہ نہیں ہوں گے۔ لیکن کام نہ ملنے کی وجہ سے ہزار میں سے نوسوبھی بیکارہوسکتے ہیں۔ جب کسی ملک کی آبادی بڑھ جاتی ہے۔ لیکن ذرائع آمد ترقی نہیں کرتے تودس میں سے بعض دفعہ نو بیکار پھرتے ہیں۔ مگر اس لئے نہیں کہ وہ معذو رہوتے ہیں بلکہ اس لئے کہ انہیں کام نہیں ملتا۔ پس جب دنیاکی آباد ی بڑھ گئی۔ تویہ سوال نہ رہا کہ زمین میں سے دولت کس طرح نکالی جائے بلکہ اس سوال کی صورت بالکل بدل گئی کیونکہ بعض لوگ ایسے تھے کہ باوجود اپنا سارا زور صرف کرنے کے کام سے محروم رہتے تھے۔ ایسی حالت میں اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ نئے کام نکالے جائیں۔ غرض یہ دور اسی طرح چلتے چلے آئے ہیں اوردنیا نے فقر و فاقہ کی تکالیف دورکرنے کے لئے مختلف قسم کی تدابیر اختیار کیں۔ چنانچہ کبھی ایسا دو ر آیا کہ لوگوں نے یہ فیصلہ کردیا کہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو زندہ رہنے کے قابل ہوتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو زندہ رہنے کے قابل نہیں ہوتے۔ جیسے ہندوستا ن میں شودروں کی کثرت تھی مگر برہمنوں اورکھشتریوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ ان لوگوں کا کوئی حق نہیں کہ دنیا میں زندہ رہیں۔ یہ اگر مرتے ہیں تو بیشک مریں۔ چنانچہ انہوں نے لوٹ ما رشروع کردی اورشودروں کا کوئی حق متمدن زندگی میں تسلیم نہ کیاگیا۔ پھر بعض لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ اس مصیبت کا علاج صدقہ و خیرات ہے۔ جن کے پاس زیادہ مال ہو انہیں چاہئے کہ وہ غرباء کی مدد کردیا کریں۔

غرض مختلف تدابیر اپنے اپنے رنگ میں اختیار کی گئیں۔ مگر کوئی بھی تدبیر ایسی کامل نہیں تھی جس سے اس مصیبت کو کلیۃً دورکیا جاسکتا۔ اسلام ہی تھا جس نے اس سوال کا صحیح معنوں میں حل کیا اور اس نے فیصلہ کیا کہ اس قسم کا صدقہ کوئی چیز نہیں ایک معین اور منظم صورت میں غرباء کی بہبودی کا انتظام ہوناچاہئے چنانچہ اس کے لئے اس نے زکوٰۃ اور عشر کا طریق جاری کیا۔ جس میں امراء سے باقاعدہ ایک نظام کے ماتحت روپیہ لیا جاتااورغرباء کی ضروریا ت پر صرف کیاجاتا۔ پھر اس نے خبر گیری کے طریق بھی معین کردیئے۔ یوں تو پہلے بھی حکومتیں ٹیکس لیا کرتی تھیں مگر ان کا خرچ معین نہیں تھا۔

اسلام نے اول آمد پر ایک مقرر حصہ اداکرنا واجب کردیا اور اس امر کا فیصلہ کیا کہ امراء سے بہر حال اتنا روپیہ لے لیاجائے۔ دوسری طرف اس نے خرچ بھی معیّن کردیا اور اس طرح غرباء کے گزارہ کی صورت پیدا کر دی۔ آمد اور خرچ سے تعلق رکھنے والے یہ دو نقطے ایسے ہیں جو اسلام سے پہلے اور کسی قوم میں نہیں پائے جاتے تھے زکوۃ یہودیوں میں بھی ہے مگر ناقص صورت میں۔ (دیکھو خروج باب 23 آیت 10-11)

لیکن ا سلام نے اس قانون کو مدون کرکے ایک ایسا عظیم الشان نظام قائم فرمایا جو ہمارے لئے ہرتاریکی کی گھڑی میں شمع ہدایت کا کام دیتاہے۔ مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اسلام کے اس نظام کی پوری اہمیت نہ سمجھی اور لدھیانے کے بڈھے دریا کی طرح یہ نظام بھی ریت میں غائب ہوگیا اور مسلمان اس سے کلیۃً غافل ہوگئے۔ حالانکہ رسول کریمؐ نے مدینہ میں آکر پہلاکام ہی یہ کیا تھا کہ جائیدادوالوں کو بے جائیداد والوں کا بھائی بنادیا۔ انصارؓ جائیدادوں کے مالک تھے اور مہاجرؓ بے جائیداد تھے۔ رسول کریمؐ نے انصارؓ اورمہاجرینؓ دونوں میں مواخات قائم فرمادی اور ایک ایک جائیداد والے کو ایک ایک بے جائیداد والے سے ملادیا اوراس میں بعض لوگو ں نے اتنا غلّو کیا کہ دولت تو الگ رہی بعض کی اگر دوبیویا ں تھیں توانہوں نے اپنے مہاجر بھائیوں کی خدمت میں یہ پیشکش کی کہ وہ ان کی خاطر اپنی ایک بیوی کو طلاق دینے کے لئے تیار ہیں۔ وہ ان سے بے شک شادی کرلیں۔ یہ مساوات کی پہلی مثال تھی جو رسول کریمؐ نے مدینہ میں جاتے ہی قائم فرمائی۔ کیونکہ حکومت کی بنیاد دراصل مدینہ میں ہی پڑی تھی۔ اس زمانہ میں زیادہ دولتیں نہ تھیں یہی صورت تھی کہ امیر اورغریب کو اس طرح ملا دیاجائے کہ ہرشخص کو کھانے کے لئے کوئی چیز مل سکے۔ پھر ایک جنگ کے موقعہ پر بھی رسول کریمؐ نے اس طریق کو استعمال فرمایا۔ گواس کی شکل بدل دی۔ ایک جنگ کے موقعہ پر آپ کو معلوم ہواکہ بعض لوگوں کے پاس کھانے کی کوئی چیز نہیں رہی یااگر ہے توبہت ہی کم اوربعض کے پاس کافی چیز یں ہیں۔ تویہ صورت حالات دیکھ کر رسول کریمؐ نے فرمایاکہ جس جس کے پاس جوکوئی چیز ہے وہ لے آئے اورایک جگہ جمع کردی جائے۔ چنانچہ سب چیزیں لائی گئیں اورآپ نے راشن مقرر کردیا۔ گویایہاں بھی وہی طریق آگیا کہ سب کو کھانا ملناچاہئے۔ جب تک ممکن تھا سب لوگ الگ الگ کھاتے رہے مگر جب یہ امر ناممکن ہوگیا اورخطرہ پیداہوگیا کہ بعض لوگ بھوکے رہنے لگ جائیں گے تورسول کریمؐ نے فرمایا کہ اب تمہیں علیحدہ کھانے کی اجازت نہیں اب سب کوایک جگہ سے برابر کھاناملے گا۔ صحابہؓ کہتے ہیں کہ رسول کریمؐ کے اس حکم پر ہم نے اس سختی سے عمل کیا کہ اگر ہمارے پاس ایک کھجور بھی ہوتی توہم اس کا کھانا سخت بددیانتی سمجھتے تھے اوراس وقت تک چین نہیں لیتے تھے جب تک کہ اس کو سٹور میں داخل نہیں کردیتے تھے۔ یہ دوسرانمونہ تھا جو رسول کریمؐ نے دکھایا۔ پھر رسول کریمؐ کے زمانہ میں دولت بھی آئی اورخزانوں کے منہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لئے کھو ل دیئے۔ مگراللہ تعالیٰ چاہتاتھا کہ اس بار ہ میں تفصیلی نظام رسول کریمؐ کے بعد جاری ہو تالوگ یہ نہ کہہ دیں کہ یہ صرف رسول کریمؐ کی خصوصیت تھی۔ کوئی اورشخص اسے جاری نہیں کرسکتا۔ چنانچہ ادھر اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ سے ایک نمونہ قائم کردیا اورادھر مدینہ پہنچتے ہی انصارؓ نے اپنی دولتیں مہاجرین کے سامنے پیش کردیں۔ مہاجرین نے کہا ہم یہ زمینیں مفت میں لینے کے لئے تیار نہیں ہم ان زمینوں پر بطور مزارع کام کریں گے اورتمہاراحصہ تمہیں دیں گے۔ لیکن یہ مہاجرین کی طرف سے اپنی ایک خواہش کا اظہار تھا۔ انصارؓ نے اپنی جائیدادوں کے دینے میں کوئی پس و پیش نہیں کیا۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے گورنمنٹ راشن دے توکوئی شخص نہ لے۔ اس سے گورنمنٹ زیر الزام نہیں آئے گی۔ یہی کہاجائے گا کہ گورنمنٹ نے توراشن مقرر کردیا تھا۔ اب دوسرے شخص کی مرضی تھی کہ و ہ چاہے لیتایا نہ لیتا۔ اسی طرح انصار ؓ نے سب کچھ دےدیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ مہاجرینؓ نے نہ لیا۔ غرض عملی طور پر رسول کریم ؐنے یہ کام اپنی زندگی میں ہی شروع فرمادیا تھا۔ یہاں تک کہ جب بحرین کا بادشاہ مسلمان ہو اتوآپ نے اسے ہدایت فرمائی کہ تمہارے ملک میں جن لوگوں کے پاس گزارہ کے لئے کوئی زمین نہیں ہے تم ان میں سے ہرشخص کو چار درہم اورلباس گزارہ کے لئے دو تاکہ وہ بھوکے اور ننگے نہ رہیں۔ (سیرۃ النبویہ بر حاشیہ السیرۃ الحلبیہ جلد3 صفحہ69) اس کے بعد مسلمانوں کے پاس دولتیں آنی شروع ہوگئیں۔ چونکہ مسلمان کم تھے اوردولت زیادہ تھی اس لئے کسی نئے قانون کے استعمال کی اس وقت ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ کیونکہ جو غرض تھی و ہ پوری ہورہی تھی۔ اصول یہ ہے کہ جب خطرہ ہو تب قانون جاری کیا جائے اور جب نہ ہواس وقت اجازت ہے کہ حکومت اس قانون کو جاری کرے یا نہ کرے۔ جب رسول کریمؐ وفات پاگئے اورمسلمان دنیا کے مختلف گوشوں میں پھیلنے شرو ع ہوئے تو اس وقت غیر قومیں بھی اسلام میں شامل ہوگئیں۔ عرب لوگ توایک جتھہ اور ایک قوم کی شکل میں تھے اوروہ آپس میں مساوات بھی قائم رکھتے تھے جب اسلام مختلف گوشوں میں پہنچا اور مختلف قومیں اسلام میں داخل ہونی شروع ہوئیں توان کے لئے روٹی کاانتظام بڑا مشکل ہوگیا۔ آخر حضرت عمرؓ نے تمام لوگوں کی مرد م شماری کرائی اورراشننگ سسٹم قائم کردیا۔ جوبنو امیہ کے عہد تک جاری رہا۔ یورپین مؤرخ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ سب سے پہلی مردم شماری حضرت عمرؓ نے کرائی تھی اور وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے یہ سب سے پہلی مردم شماری رعایا سے دولت چھیننے کے لئے نہیں بلکہ ان کی غذا کا انتظام کرنے کے لئے جاری کی تھی اورحکومتیں تواس لئے مردم شماری کراتی ہیں کہ لوگ قربانی کے بکرے بنیں اورفوجی خدمات بجالائیں۔ مگر حضرت عمرؓ نے اس لئے مرد م شماری نہیں کرائی کہ لوگ قربانی کے بکرے بنیں بلکہ اس لئے کرائی کہ ان کے پیٹ میں روٹی ڈالی جائے۔ چنانچہ مردم شماری کے بعد تمام لوگوں کو ایک مقررہ نظام کے ماتحت غذاملتی اور جو باقی ضروریات رہ جاتیں ان کے لئے انہیں ماہوارکچھ رقم دے دی جاتی اوراس بار ہ میں اتنی احتیاط سے کام لیاجاتا کہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جب شام فتح ہوااوروہاں سے زیتون کا تیل آیا توآپ نے ایک دفعہ لوگوں سے کہا کہ زیتون کے استعمال سے میرا پیٹ پھو ل جاتاہے۔ تم مجھے اجازت دو تومیں بیت المال سے اتنی ہی قیمت کاگھی لے لیا کروں۔ (سیرۃ ابن عمرالخطاب لابن الجوزی صفحہ 93) غرض یہ پہلا قدم تھا جو اسلام میں لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اٹھایاگیا اور ظاہر ہے کہ اگر یہ نظام قائم ہوجائے تواس کے بعد کسی اورنظام کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ سارے ملک کی ضروریات کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔ ان کاکھانا، ان کا پینا، ان کا پہننا، ان کی تعلیم، ان کی بیماریوں کا علاج اوران کی رہائش کے لئے مکانات کی تعمیر یہ سب کاسب اسلامی حکومت کے ذمہ ہوگا اور اگر یہ ضروریات پوری ہوتی رہیں۔ توکسی بیمہ وغیرہ کی ضرورت نہیں رہتی۔ مگر بدقسمتی سے بعد میں آنے والوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ یہ بادشاہ کی مرضی پر منحصر ہے۔ وہ چاہے توکچھ دے دے اورچاہے تو نہ دے اور چونکہ اسلامی تعلیم ابھی پورے طورپر راسخ نہیں ہوئی تھی وہ لوگ پھر قیصرو کسریٰ کے طریق کی طرف مائل ہوگئے۔ یہ خداتعالیٰ کافضل ہے کہ وہ بڈھا دریاجو ریت میں غائب ہوچکاتھا اللہ تعالیٰ نے اسے پھر میرے دل میں ازسرنو جاری کیا۔ میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے قرآن کریم کی یہ تعلیم لوگوں کے سامنے رکھی۔ مسلمان مجھ سے کثرت کے ساتھ پوچھا کرتے ہیں۔ کالجوں کے پروفیسر اور طلباء بھی یہ سوال کیا کرتے ہیں کہ اگراسلامی تعلیم یہی تھی تو پھر یہ غائب کیوں ہوگئی؟ اورمیں ہمیشہ انہیں کہاکرتاہوں کہ اس تعلیم کا غائب ہوناہی بتاتاہے کہ یہ الٰہی تعلیم تھی۔ اگریہ انسانی تعلیم ہوتی تو لوگوں کے دلوں میں ضرور قائم رہتی۔ کیونکہ انسانی تعلیم کو قبول کرنے کے لئے لوگوں کے دماغ تیار ہوچکے ہوتے ہیں اورماحول مناسب ہوتاہے۔ پس اس کا غائب ہونا ہی بتارہاہے کہ یہ تعلیم خداکی طرف سے آئی تھی۔ وہ ایک دفعہ لہر کی صورت میں اٹھی اورپھر اس میں انحطاط واقع ہوگیا۔ اب مقد ریہ ہے کہ پھر دوبارہ اس کی لہر بلند ہو اور اس کی دوسری لہر پہلی سے زیادہ اونچی ہو۔ قانون قدرت پر غورکرکے دیکھ لو۔ اس میں یہی نظار ہ نظر آئے گا۔ بچپن میں جب ابھی میں نے پہاڑنہیں دیکھاتھا میں یہ خیا ل کیاکرتاتھا کہ پہاڑ مینار کی طرح ہوتاہوگا اوررسہ پکڑ کر اوپر چڑھنا پڑتاہوگا مگرجب میں پہلی دفعہ شملہ گیا تو میں نے دیکھا کہ پہلے ایک ٹیلہ آتا ہے اس کے بعد دوسراٹیلہ آتا ہے۔ پھر تیسراٹیلہ آتا ہے اور ہرٹیلہ پہلے ٹیلے سے زیادہ بلندہوتاہے۔ مگرہرٹیلے کے بعد ایک انحطاط بھی ہوتاہے۔ جب انسان پہلے ٹیلے پر قدم رکھتاہے تواس کے بعد اسے یہ محسوس ہوتاہے کہ میں اب نیچے جارہاہوں۔ مگر درحقیقت وہ پہلی سطح سے اونچا ہورہاہوتاہے۔ پھر دوسرے ٹیلے کے بعد جب نیچے اترتاہے۔ توپھر اس کے دل میں یہ خیال پیداہوتاہے کہ اب میں نچلی طرف جارہاہوں مگرحقیقت میں اس کا قدم اونچا اٹھ رہاہوتاہے۔ اسی طرح قدم بقدم ارتفاع اورانحطاط کے دوروں میں سے گذرتے ہوئے وہ بہت بلند پہاڑپر چڑھ جاتاہے۔ جس طرح قانون قدرت میں ہمیں یہ نظارہ نظر آتاہے۔ اسی طرح انسانی دماغوں کا ارتقاء بھی ہے۔ جب رسول کریمؐ مبعوث ہوئے ا س وقت رسول کریمؐ سے براہ راست فیوض حاصل کرنے کے نتیجہ میں یہ تعلیم لوگوں نے اپنا لی۔ مگر چونکہ دماغی ارتقاء بھی لہروں کی صورت میں چلتاہے اس لئے پہلی لہر کے بعد ا س میں ایک انحطاط کی صورت واقع ہوگئی۔ اب دوسری لہر حضرت مسیح موعودؑ کے ذریعہ بلند ہوئی ہے اور یہ لہر قانون قدرت کے مطابق پہلی لہر سے زیادہ بلندہوگی۔ مگر بہرحال ہرلہر کے بعد ایک انحطاط بھی آتاہے اورلوگ اصل تعلیم کو بھول جاتے ہیں۔ جب تک یہ چیز قائم ہے اس وقت تک کسی انشورنس وغیرہ کی ضرورت نہیں رہتی۔ انشورنس کی غرض آخر کیا ہوتی ہے۔ یہی کہ اگرہم مرجائیں توہمارے بیوی بچوں کو روٹی ملتی رہے۔ کپڑا ملتارہے۔ سامان خوردونوش اورمکان ملتارہے۔ جب حکومت ان تمام چیز وں کی ذمہ وار ہوگی توانشورنس کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ کیونکہ ساروں کومکان بھی مل رہا ہوگا۔ غذابھی مل رہی ہوگی۔ کپڑابھی مل رہاہوگا۔ ان کی تعلیم کابھی انتظام ہورہاہوگا اور ان کی بیماریوں کا علاج بھی ہورہاہوگا۔ یہی وہ قومی اخراجات ہیں جن کی ادائیگی کے لئے اسلام نے زکوٰۃ اور صدقہ و خیرات کا وسیع نظام جاری فرمایا ہے اور مومنوں کی علامت ہی اس نے یہ بتائی ہے کہ وہ زکوٰۃ اداکرتے ہیں اور اس طرح مخلوق کی خدمت کرکے خالق کی محبت کوحاصل کرتے ہیں۔ دنیا میں بہترین ذریعہ کسی کی محبت حاصل کرنے کا یہی ہوتاہے کہ اس کے کسی عزیز سے محبت کی جائے ریلوے سفرمیں روزانہ یہ نظارہ نظر آتاہے کہ پاس بیٹھے ہوئے دوست کے بچہ کو ذراپچکار دیں یااسے کھانے کے لئے کوئی چیز دے دیں توتھوڑی دیر کے بعد ہی اس کاباپ اس سے محبت کی باتیں کرنے لگ جاتاہے کہ گویا وہ اس کا بہت پرانا دوست ہے۔ یہی طریق روحانی دنیا میں بھی جاری ہے۔ جب انسان بنی نوع انسان کی بھوک اور ان کے افلاس کودورکرنے کے لئے اپناروپیہ خرچ کرتاہے توخداتعالیٰ کہتا ہے کہ چونکہ یہ میرے پیاروں کی خدمت کرتاہے اس لئے اسے بھی میرے پیاروں میں داخل کرلیا جائے۔ حدیثوں میں آتاہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بعض لوگوں سے کہے گا کہ دیکھو میں بیمار تھا مگر تم لوگ میری عیادت کے لئے نہ آئے۔ میں بھوکاتھا۔ مگرتم نے مجھے کھانا نہ کھلایا۔ میں ننگا تھا۔ تم نے مجھے کپڑ انہ دیا۔ اس پر وہ بندے کہیں گے کہ اے ہمارے رب!توکس طرح بیمار ہوسکتاتھا یاتوکس طرح بھوکااورننگاہو سکتاتھا توتو ان نقائص سے منزہ ہے۔ ا س پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جب میرے بندوں میں سے بعض لوگ بیمار تھے یا بعض لوگ بھوکے اورننگے تھے اورتم نے ان کی تیمار داری نہ کی۔ نہ انہیں روٹی کھلائی اورنہ ان کا ننگ ڈھانکنے کے لئے انہیں کپڑادیا توتم نے انہیں ان چیزوں سے محروم نہیں کیا بلکہ مجھے محروم کیا۔ پس زکوٰۃ اسلام کا ایک اہم ترین رکن ہے جس کو نظر انداز کرنا انسان کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کامورد بنادیتاہے۔ کیونکہ ایساانسان غرباء کے حقوق کو نظر انداز کرنے والا ہوتا ہے۔

پھر فرماتاہے: مومنوں کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ۔ وہ آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ یعنی وہ قربانیاں کرتے اورکرتے چلے جاتے ہیں اور اس امر کی کوئی پرواہ نہیں کرتے کہ ان قربانیوں کا پھل انہیں زندگی میں بھی ملتاہے یا نہیں ملتا۔ کیونکہ وہ آنے والی زندگی پر یقین رکھتے ہیں اوریہ یقین ان کے اندر اتنی جرأت پیداکردیتاہے کہ وہ قربانیوں کی آگ میں اپنے آپ کو بلادریغ جھونک دیتے ہیں۔

دنیا میں بھی جب ایک سپاہی لڑائی میں جاتاہے توآخر کون سے فائدہ کے لئے جاتاہے۔ ہر شخص سمجھتاہے کہ میں ماراجاؤں گا اوربسا اوقات وہ ماراجاتاہے مگرفائدہ اس کی قوم اٹھاتی ہے۔ اسی طرح جب ماں اپنے بچے کو اپنا خون چوسارہی ہوتی ہے تواسے کیا فائدہ حاصل ہورہاہوتاہے۔ دودھ کا ایک ایک گھونٹ ماں کے خون سے بنتا ہے۔ اس لئے ایک ایک گھونٹ جو بچے کے گلے سے اترتا ہے وہ درحقیقت ماں کا خون ہوتاہے جسے وہ چوستاہے۔ اگرتمہاری ماں تمہارے منہ میں اپنا دودھ نہ ڈالتی۔ اگرتمہاری ماں بھی یہی کہتی کہ میں اپنا خون کیوں چوسنے دوں توتم زندہ نہیں رہ سکتے تھے۔ تمہاری ماں نے تمہیں اپنا خون دیا اس لئے کہ تم زندہ رہو۔ اب تمہارا کام یہ ہے کہ تم اپنا خون گراؤ تاکہ تمہاری اولاد اور تمہاری قوم اور تمہارا ملک زندہ رہے۔

بدر کی جنگ میں جو صحابیؓ شہید ہوئے تھے ان صحابیوںؓ نے دنیا کاکون ساسکھ دیکھا تھا۔ انہوں نے اپنے ماں باپ کو چھوڑا اوراپنے رشتہ داروں کوچھوڑااپنے ساتھیوں کو چھوڑا اورپھر تیرہ برس تک کفار کے سخت ترین مظالم کا نشانہ بننے کے بعد ایک دکھتے ہوئے دل کے ساتھ،ایک رستے ہوئے زخم کے ساتھ انہوں نے مکہ کو بھی چھوڑدیا اس امید کے ساتھ کہ انہیں پھر مکہ کی زیارت نصیب ہوگی۔ مگرابھی ہجرت پر ڈیڑھ سال بھی نہیں گذراتھاکہ وہ اپنے وطن سے دور۔ پرانے وطن سے بہت دور اورنئے وطن سے بھی میلوں دور ایک تپتے ہوئے ریت کے جنگل میں کفار کی تلوار سے کٹ کٹ کر تڑپنے لگ گئے۔ ان کے سر ایک طر ف تھے اوردھڑ دوسر ی طرف۔ اگریہ لو گ بھی یہی کہتے کہ ہم نے قربانی کرکے کیا لینا ہے۔ پھل تودوسروں نے کھانا ہے تواسلام کو وہ شان و شوکت جو بعد میں اسے حاصل ہوئی کہاں حاصل ہوسکتی تھی۔

اسی طرح جنگ احدکا ایک واقعہ ہے۔ جنگ کے بعد آنحضرتؐ نے حضرت ابی ابن کعبؓ کو فرمایا کہ جاؤ اور زخمیوں کو دیکھو۔ وہ دیکھتے ہوئے حضرت سعد بن ربیعؓ کے پاس پہنچے جو سخت زخمی تھے اور آخری سانس لے رہے تھے۔ انہوں نے ان سے کہا کہ اپنے متعلّقین اور اعزّاء کو اگر کوئی پیغام دینا ہوتو مجھے دے دیں۔ حضرت سعدؓ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میں منتظر ہی تھاکہ کو ئی مسلمان ادھر آئے توپیغام دوں۔ تم میرے ہاتھ میں ہاتھ دے کر وعدہ کروکہ میراپیغام ضرور پہنچادو گے اور اس کے بعد انہوں نے جو پیغام دیا و ہ یہ تھاکہ میرے بھائی مسلمانوں کو میراسلام پہنچا دینا اورمیری قوم اورمیرے رشتہ داروں سے کہنا کہ رسول کریمؐ ہمارے پاس خداتعالیٰ کی ایک بہترین امانت ہیں اور ہم اپنی جانوں سے اس امانت کی حفاظت کرتے رہے ہیں۔ اب ہم جاتے ہیں اور اس امانت کی حفاظت تمہارے سپر د کرتے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ تم اس کی حفاظت میں کمزوری دکھاؤ۔ دیکھو ایسے وقت میں جب انسان سمجھتا ہو کہ میں مر رہا ہوں۔ کیا کیا خیالات اس کے دل میں آتے ہیں۔ وہ سوچتاہے میری بیوی کا کیا حال ہوگا۔ میرے بچوں کو کون پوچھے گا۔ مگراس صحابیؓ نے کوئی ایسا پیغام نہ دیا۔ صرف یہی کہا کہ ہم آنحضر تؐ کی حفاظت کرتے ہوئے اس دنیا سے جاتے ہیں تم بھی اسی راستہ سے ہمارے پیچھے آجاؤ۔ ان لوگوں کے اندریہی ایمان کی طاقت تھی جس سے انہوں نے دنیا کو تہ و بالاکردیا اور قیصروکسریٰ کی سلطنتوں کے تختے الٹ دیئے۔ قیصر روم حیران تھا کہ یہ کو ن لوگ ہیں۔ کسریٰ نے اپنے سپہ سالار کو لکھا کہ اگر تم ان عربوں کو بھی شکست نہیں دے سکتے توپھر واپس آجاؤ اورگھر میں چوڑیاں پہن کر بیٹھو۔ یہ گوہیں کھانے والے لوگ ہیں ان کوبھی تم نہیں روک سکتے۔ اس نے جواب دیا کہ یہ توآدمی معلوم ہی نہیں ہوتے۔ یہ توکوئی بلا ہیں۔ یہ تلواروں اورنیزوں کے اوپر سے کودتے ہوئے آتے ہیں۔

یہ جرأت مردوں پر ہی موقوف نہیں۔ مجھے تو ایک ماں کی قربانی پر حیرت آتی ہے۔ حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں جب عراق میں قادسیہ کے مقام پر جنگ جاری تھی۔ توکسریٰ میدان جنگ میں ہاتھی لایا۔ اونٹ ہاتھی سے ڈرتا ہے اس لئے وہ انہیں دیکھ کر بھاگتے تھے اور اس طرح مسلمانوں کو بہت نقصان ہوا اور بہت سے مسلمان مارے گئے۔ آخر ایک دن مسلمانوں نے فیصلہ کیا کہ خواہ کچھ ہو آج ہم میدان سے ہٹیں گے نہیں۔ جب تک دشمن کو شکست نہ دے لیں۔ ایک عورت حضرت خنساء اپنے چا ربیٹوں کولے کر میدان جنگ میں آئیں اوران کو مخاطب کرکے کہنے لگیں کہ پیارے بیٹو!تمہارے باپ نے اپنی زندگی میں ساری جائیداد تباہ کردی تھی اور مجھے مجبور کیا کہ میں اپنے بھائی سے کہو ں کہ وہ مجھے حصہ دے۔ چنانچہ میں اس کے پاس گئی۔ اس نے میرابڑا اعزاز کیا۔ بڑی دعوت کی اورپھر اپنی جائیداد میں سے آدھی مجھے بانٹ دی۔ میں و ہ لے کرچلی گئی۔ توتمہارے باپ سے میں نے کہا۔ کہ اب تو آرام سے گزارہ کرو۔ مگر اس نے پھر اسے بھی برباد کردیا اور پھر مجبور کرکے میرے بھائی کے پاس مجھے بھیجا۔ پھر میں اس کے پاس گئی۔ اس نے پھر میرا بڑا اعزازواحترام کیا اور پھر بقیہ میں سے مجھے آدھی جائیداد بانٹ دی مگر وہ بھی تمہارے باپ نے برباد کردی اور پھر مجھے مجبور کیا کہ اپنے بھائی سے جاکر حصہ لوں۔ چنانچہ میں پھر بھائی کے پاس گئی اوراس نے پھر بقیہ جائیداد بانٹ دی مگر وہ بھی تمہارے باپ نے برباد کردی اورجب تمہاراباپ مراتواس نے کوئی جائیداد نہ چھوڑی۔ میں اس وقت جوان تھی۔ تمہارے باپ کی کوئی جائیداد نہ تھی۔ پھر اپنی زندگی میں اس نے میرے ساتھ کو ئی حسن سلوک بھی نہ کیا تھا اور اگر عرب کے رسم و رواج کے مطابق میں بدکار ہوجاتی توکوئی اعتراض کی بات نہ تھی۔ مگر میں نے اپنی تمام عمر نیکی سے گذاری اب کل فیصلہ کن جنگ ہونے والی ہے۔ میرے تم پر بہت سے حقوق ہیں۔ کل کفر او ر اسلام میں مقابلہ ہوگا اگرتم فتح حاصل کئے بغیر واپس آئے۔ تومیں خداتعالیٰ کے حضورکہوں گی کہ میں ان کو اپناکوئی بھی حق نہیں بخشتی۔ اس طر ح اس نے اپنے چاروں بیٹوں کو جنگ میں تیار کرکے بھیج دیا اور پھر گھبراکر خود جنگل میں چلی گئی اوروہاں تنہائی میں سجدہ میں گرکر اورروروکر اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگنے لگی اور دعایہ کی کہ اے میرے خدا میں نے اپنے چاروں بیٹوں کو دین کی خاطر مرنے کے لئے بھیج دیاہے لیکن تجھ میں یہ طاقت ہے کہ ان کو زندہ واپس لے آئے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ مسلمانوں کو فتح بھی ہوگئی اوراس کے چاروں بیٹے بھی زندہ واپس آگئے۔ یہ جرأت او ر بہادری ایمان بالآخرۃ ہی کا نتیجہ تھی۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ دنیا کی نجات اسلام سے وابستہ ہے اورہم خواہ مارے بھی جائیں تب بھی پرواہ نہیں کیونکہ دنیا بچ جائے گی اور اسلام کو غلبہ حاصل ہوجائے گا بیشک ایک کہنے والا کہہ سکتاہے کہ آج تواسلام کو کہیں غلبہ حاصل نہیں۔ مگراس تنزل کے زمانہ میں بھی ان لوگوں کی قربانیوں نے ہی مسلمانوں کویہ عظمت دی ہوئی ہے کہ اسلام کانام بوجہ اس کثرت کے جو مسلمانوں کوحاصل ہے دنیا کے تمام لوگ ادب کے ساتھ لینے پر مجبور ہیں۔ یہ رعب مسلمانوں کو کہاں سے حاصل ہوا؟ انہی لوگوں کی قربانیوں کے نتیجہ میں حاصل ہواہے جوبسااوقات فاقہ سے رات کوسوئے اور بسااوقات فاقہ سے ہی صبح کو اٹھے بسااوقات اگران کی پگڑی پھٹی ہوئی ہوتی تھی توانہیں پہننے کے لئے دوسری پگڑی نہیں ملتی تھی۔ جوتی پھٹی ہوئی ہوتی تھی توانہیں پہننے کے لئے دوسر ی جوتی نہیں ملتی تھی۔ یہ وہی رعب ہے جو تمہارے باپ دادا کی قربانی کے نتیجہ میں تمہیں حاصل ہوا۔ کہتے ہیں نام بڑاہوتاہے کام بڑانہیں ہوتا۔ اب کام عام طور پر مسلمانوں کے چھوٹے ہیں۔ لیکن انہیں نام ایسا حاصل ہوگیاہے کہ سب لوگ ان سے ڈرتے ہیں۔

حضرت مسیح موعودؑ فرمایا کرتے تھے کہ رستم کے گھر میں ایک دفعہ چور آگیا۔ رستم اس کا مقابلہ کرنے کے لئے نکلا اور دونوں میں کشتی شروع ہوگئی چور کو یہ پتہ نہیں تھا کہ جس شخص کا وہ مقابلہ کر رہا ہے وہی رستم ہے۔ وہ یہ سمجھ رہا تھاکہ یہ کوئی رستم کا نوکر ہے۔ آخر مقابلہ کرتے کرتے چور غالب آگیا اور وہ سینہ پر چڑھ کر رستم کی گردن کاٹنے لگا۔ اتنے میں رستم نے یکدم شور مچادیا کہ ’’آگیا رستم۔ آگیا رستم‘‘ اور چوریہ سنتے ہی اس کے سینہ پرسے اتر کربھاگ گیا۔ حالانکہ اس نے رستم کو گرایا ہوا تھا۔ مگر چونکہ رستم کے نام کو ایک خاص رعب حاصل ہوچکا تھا اس لئے اس نے رستم کو توگرالیا۔ مگر رستم کے نام کا مقابلہ نہ کرسکا اور بھاگ گیا۔ توجولوگ قربانیاں کرنے والے ہوتے ہیں وہ دنیا میں اپنا نام چھوڑ جاتے ہیں۔ وہ مرجاتے ہیں مگر ان کانام ان کی اولادوں کی حفاظت کرتاچلاجاتاہے اورپھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اگلے جہان میں جوانہیں لازوال بدلہ ملے گا اس کا تو تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ پس بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایاہے کہ مومنوں کایہ خاصہ ہے کہ وہ قربانیوں کے میدان میں بڑھتے چلے جاتے ہیں کیونکہ انہیں اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر کامل یقین ہوتاہے اوروہ سمجھتے ہیں کہ ہماری یہ قربانیاں ہماری قوم کو بھی عزت دیں گی اور خود ہمارے لئے بھی اللہ تعالیٰ کی رضاکاموجب ہوں گی۔ گویا وہ وسیع نتائج جو آئندہ نکلنے والے ہوتے ہیں ان پر انہیں پورایقین ہوتاہے اور وہ اس مقصد کے لئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد7 صفحہ330-347)

(خواجہ عبدالعظیم احمد۔ مبلغ سلسلہ نائیجیریا)

پچھلا پڑھیں

حضرت مصلح موعودؓ کا درود پڑھنے کا طریق

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 نومبر 2022