• 29 فروری, 2024

حضرت مصلح موعودؓ کا درود پڑھنے کا طریق

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:
’’مَیں اپنے متعلق بتاتا ہوں کہ جب بھی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قبر پر دعا کرنے کے لئے آتا ہوں مَیں نے یہ طریق رکھا ہوا ہے کہ پہلے مَیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دعا کیا کرتا ہوں۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے دعا کرتا ہوں اور دعا یہ کرتا ہوں کہ یا اللہ! میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جو مَیں اپنے ان بزرگوں کی خدمت میں تحفہ کے طور پر پیش کر سکوں۔ میرے پاس جو چیزیں ہیں وہ انہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتیں۔ البتہ تیرے پاس سب کچھ ہے اس لئے میں تجھ سے دعا اور التجا کرتا ہوں کہ تُو مجھ پر احسان فرما کر میری طرف سے انہیں جنت میں کوئی ایسا تحفہ عطا فرما جو اس سے پہلے انہیں جنت میں نہ ملا ہو۔ تو وہ ضرور پوچھتے ہیں کہ یا اللہ! یہ تحفہ کس کی طرف سے آیا؟‘‘ اور جب خدا انہیں یہ بتاتا ہے تو وہ اس کے لئے دعا کرتے ہیں اور اس طرح دعا کرنے والے کے مدارج بھی بلند ہوتے ہیں اور یہ بات قرآن اور احادیث سے ثابت ہے۔ اسلام کا مسلّمہ اصل ہے اور کوئی شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ دعائیں مرنے والے کو ضرور فائدہ پہنچاتی ہیں۔ قرآن کریم نے بھی فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْھَا (النساء: 87) کہہ کر اس طرف توجہ دلائی ہے کہ جب تمہیں کوئی شخص تحفہ پیش کرے تو تم اس سے بہتر تحفہ اسے دو۔ ورنہ کم از کم اتنا تحفہ تو ضرور دو جتنا اس نے دیا۔ قرآن کریم کی اس آیت کے مطابق جب ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے دعا کریں گے اور ان پر درود اور سلام بھیجیں گے تو خدا تعالیٰ ہماری طرف سے اس دعا کے نتیجے میں انہیں کوئی تحفہ پیش کر دے گا۔ ہم نہیں جانتے کہ جنّت میں کیا کیا نعمتیں ہیں مگر اللہ تعالیٰ تو ان نعمتوں کو خوب جانتا ہے اس لئے جب ہم دعا کریں گے کہ الٰہی! تُو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی ایسا تحفہ دے جو اس سے پہلے انہیں نہ ملا ہو تو یہ لازمی بات ہے کہ جب وہ تحفہ انہیں دیا جاتا ہو گا تو ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بھی بتایا جاتا ہو گا کہ یہ فلاں شخص کی طرف سے تحفہ ہے۔ پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ اس علم کے بعد وہ چُپ کر کے بیٹھے رہیں اور تحفہ بھجوانے والے کے لئے دعا نہ کریں۔ ایسے موقع پر بے اختیار ان کی روح اللہ تعالیٰ کے آستانے پر گر جائے گی اور اور کہے گی کہ اے خدا! اب تو ہماری طرف سے اس کو بہتر جزا عطا فرما۔ اس طرح فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْھَا کے مطابق وہ دعا پھر درود بھیجنے والے کی طرف لوٹ آئے گی اور اس کے درجہ کی بلندی کا باعث ہو گی۔ پس یہ ذریعہ ہے جس سے بغیر اس کے کہ کوئی مشرکانہ حرکت ہو ہم خود بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور قوم بھی فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ گویا قومی اور فردی دونوں فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔‘‘

(مزار حضرت مسیح موعودؑ پر دعا اور اس کی حکمت، انوار العلوم جلد17 صفحہ182-184)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 31 اکتوبر 2022

اگلا پڑھیں

میں نبیوں میں سے سب سے آخری ہوں