• 27 جنوری, 2021

مسئلہ کفر واسلام

تبرکات حضرت مرزا بشیر احمد صاحب

اس وقت تک مسئلہ کفر واسلام پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ میں نے خود اس مضمون پر ایک مختصر سا رسالہ ’’کلمۃ الفصل‘‘ گذشتہ سال لکھا تھا جو چھپ چکا ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تک اس مسئلہ پر کچھ اور لکھنے کی گنجائش ہے کیونکہ گاہے گاہے مختلف مقامات سے اس مسئلہ کے متعلق یہاں سوالات پہنچتے رہتے ہیں اور گو عام طور پر اب اس کو حل شدہ سمجھا جاتا ہے لیکن بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب تک کسی مسئلہ کو نہایت سہل طریق سے بوضاحت نہ بیان کیا جائے وہ نہیں سمجھ سکتے۔ اس لئے میرا ارادہ ہے کہ نہایت مختصر اور عام فہم پیرایہ میں اس پر کچھ لکھا جاوے تا اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ہمارے گم کردہ راہ احباب کے لئے یہ ہدایت کا سامان ہو۔

چونکہ باریکیوں میں پڑنے اور تفصیلات میں جانے سے عوام الناس کے لئے مضمون اور بھی مشتبہ ہو جاتا ہے، اس لئے میں ان شاء اللہ تعالیٰ ایسی تمام پیچیدہ باتوں سے پرہیز رکھوں گا۔ وما توفیقی الا باللّٰہ

میں نے اپنے فہم کے مطابق مسئلہ کفر واسلام کو دوحصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک تو یہ کہ غیراحمدیوں کا اسلام کیسا ہے اور کن معنوں میں وہ مسلمان ہیں اور کن میں مسلمان نہیں۔ دوسرے یہ کہ غیراحمدیوں کو کافر کہنے سے ہماری کیا مراد ہوتی ہے۔

غیر احمدیوں کا اسلام

مضمون اوّل کے لئے سب سے پہلے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے کے واسطے لفظ ’’اسلام‘‘ اپنے اندر صرف ایک مفہوم رکھتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانا یا بالفاظ دیگر یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسلام کا لفظ صرف اپنی حقیقت کے لحاظ سے مستعمل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی قوم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے مسلم کے نام سے موسوم نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی مذہب نے آنحضرت ؐ سے پہلے اسلام کا نام پایا۔ گو حقیقت کے لحاظ سے پہلے مذاہب بھی اسلام ہی تھے اور گذشتہ انبیاء کے پیرو بھی مسلمان تھے لیکن جیسا کہ تاریخ اس امر پر شاہد ہے، وہ کبھی اس نام سے موسوم نہیں ہوئے۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ گذشتہ تمام مذاہب بوجہ قیود زمانی اور مکانی کے کامل نہ تھے۔ اس لئے ان پر اسم ذات یا علم کے طور پر اسلام کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔

لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ مذہب لائے جوان قیود سے آزاد ہے اور آپ ؐ کی لائی ہوئی شریعت ہر طرح سے کامل شریعت ہے۔ اِس لئے آپؐ کی بعثت سے یہ تبدیلی واقع ہوئی کہ آپ کا لایا ہوامذہب نہ صرف حسب دستور سابق اپنی حقیقت کے لحاظ سے اسلام ہوا بلکہ علمیت کے طور پر اس کا نام بھی اسلام رکھا گیا۔ اسی طرح آپ کی طرف منسوب ہونے والے لوگوں کا نام مسلمان ہوا۔ گویا کہ آپ کی بعثت کی وجہ سے اسلام کا لفظ دو معنوں میں استعمال ہونے لگا۔ ایک وہی پرانے حقیقی مفہوم کے لحاظ سے اور دوسرے بطور علم یعنی اسم ذات کے۔ گویا بجائے ایک کے دو دائرے قائم ہوگئے۔ ایک حقیقت کا اور دوسرا علمیت کا۔ اَب یہ بالکل ظاہر ہے کہ علمیت کے دائرہ پر زمانہ کا کوئی اثر نہیں۔ وہ اسی طرح قائم رہے گا، جیسا کہ ایک دفعہ ہوچکا۔ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والی قوم ہمیشہ سے ہی مسلمان کہلائے گی۔ اور جو کوئی بھی کلمہ لاالہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ پڑھے گا اس دائرہ کے اندر آجا ئے گا لیکن حقیقت کا دائرہ جو علمیت کے دائرہ کے اندر ہے اس کا یہ حال نہیںبلکہ حقیقت کے متعلق سنت اللہ یہی ہے کہ وہ آہستہ آہستہ مدہم ہوتی جاتی ہے۔ چنانچہ اسی غرض کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسلام میں مجددین کے سلسلہ کو جاری فرمایا ہے۔ تاحقیقت پر جو میل آجاوے وہ اسے دھوتے رہیں اور حقیقت کو روشن کرتے رہیں لیکن اسلام پر ایک وقت ایسا بھی مقدر تھا جب اس کی حقیقت بالکل محو ہوجانی تھی اور ایمان دنیا سے کامل طور پر اٹھ جانا تھا۔ (جیسا کہ لوکان الایمان معلقا بالثر یا ١٠؎ اور بعض دیگر احادیث نبوی و آیات قرآنیہ سے ظاہر ہے) ایسے وقت کے لئے نبی کریمؐ کی دوسری بعثت صفت احمدیت کے ماتحت اپنے ایک نائب کے ذریعہ مقدر تھی۔ اس نائب کا دوسرا نام مہدی اور مسیح ہے۔ وہ محمد رسول اللہ کا نائب، مسیح اور مہدی دنیا میں آیا اور اس نے مطابق سنت مرسلین پھر حقیقت اسلام کا دائرہ قائم کیا۔ اس لئے اب جو شخص اس کو قبول نہیں کرتا اور اس کی تکذیب کرتا ہے وہ حقیقت اسلام کے دائرہ سے خارج ہے لیکن اگر وہ کلمہ لاالہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ پڑھتا ہے تو وہ علمیت کے دائرہ سے خارج نہیں اور کوئی شخص حق نہیں رکھتا کہ اسے مطلقاً دائرہ اسلام سے خارج قرار دے یا غیر مسلم کے نام سے پکارے۔ وہ مسلم ہے اور حق رکھتا ہے کہ اس نام سے پکارا جائے مگر ہاں نائب ختم الرسل کے انکار نے اُسے بیشک حقیقت کے دائرہ سے خارج کردیا ہے۔

خوب یاد رکھو کہ اب آسمان کے پردے کے نیچے محمد ؐ رسول اللہ کے سوائے کسی شخص کی ایسی شان نہیں ہے کہ اس کا انکار انسان کو ہر قسم کے اسلام سے خارج کردے۔ مسیح موعود ؑ خواہ اپنی موجودہ شان سے بھی بڑھ کر شان میں نزول فرماوے مگر اس کا انکار اس کے منکرین کو صرف حقیقت اسلام کے دائرہ سے خارج کرسکتا ہے۔ اس سے زیادہ ہرگز نہیں۔ میں اپنے ذوق اور تحقیقات کی بناء پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اتر کر باقی تمام انبیاء سے افضل یقین کرتا ہوں اور اس کے ثبوت کے لئے بفضل تعالیٰ اپنے پاس نہایت قوی دلائل رکھتا ہوں۔ جن کے بیان کا یہ موقع نہیں مگر پھر بھی میرا یہی ایمان ہے کہ مسیح موعود ؑ کا انکار مطلقاً اسلام کے دائرہ سے خارج نہیں کرسکتا۔ اور اگر کوئی یہ کہے کہ اصل چیز تو حقیقت ہے علمیت کا دائرہ کوئی چیز نہیں تو میں اس سے متفق نہیں ہوں گا۔ کیا خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا قائل ہونا۔ محمد ؐ رسول اللہ کو خاتم النبیین یقین کرنا۔ قرآن کریم کو خدا کا کلام اور کامل شریعت جاننا اور اسلام جیسے پیارے نام کی طرف منسوب ہونا کچھ بھی نہیں؟ یقینا ہے اور بہت کچھ ہے۔ خدا تعالیٰ تو نکتہ نواز ہے۔ وہ رحم کرنے پر آئے تو اس نام کی طرف نسبت رکھنا ہی بہت کچھ ہے۔ بھلا بتاؤ تو سہی کہ اگر علمیت کا دائرہ کچھ نہیں تو کس چیز نے غیراحمدیوں کو ہندوؤں، یہودیوں اور عیسائیوں کی نسبت ہمارے بہت زیادہ قریب کر رکھا ہے۔ غرض یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہیئے کہ مسیح موعود ؑ کا انکار صرف حقیقت اسلام کے دائرہ سے خارج کرتا ہے۔ مطلقاً اسلام سے خارج نہیں کرتا۔

یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاں اپنے منکروں کو اسلام کے دائرہ سے خارج بیان فرمایا ہے وہاں بعض جگہ بڑے بڑے صاف الفاظ میں ان کو مسلمان بھی لکھا ہے۔ بعض نادان اس نکتہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے حضرت مسیح موعودؑ پر اعتراض کردیتے ہیں کہ کہیں آپ کچھ لکھتے ہیں اور کہیں کچھ۔ وہ اتنا نہیں سوچتے کہ جب خاتم النبیین کی بعثت نے اسلام کو دو دائروں میں تقسیم کیا ہے تو پھر یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک شخص باوجود ایک دائرہ سے خارج ہوجانے کے دوسرے دائرہ کے اندر داخل رہے۔ غرض حضرت مسیح کے کلام میں کوئی تناقض نہیں ہاں ہمارے بعض احباب کی عقلوں پر پردہ ہے کہ وہ ایسی موٹی بات نہیں سمجھ سکتے۔ میں چیلنج کرتا ہوں تمام غیر مبایعین احباب کو کہ وہ مجھے یہ دکھادیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کہیں حقیقت اسلام کا ذکر فرماتے ہوئے اپنے منکروں کو مسلمان کہا یا لکھا ہو۔ اسی طرح میرا یہ بھی دعویٰ ہے کوئی صاحب ایسا حوالہ بھی پیش نہیں کرسکتے کہ جس میں حضرت مسیح موعود ؑ نے عام طور پر قومی رنگ میں ذکر فرماتے ہوئے اپنے منکروں کو مسلمان کے سوا کسی اور نام سے یاد کیا ہو۔ حالانکہ میں بفضلِ خدا ایک نہیں بیسیوں ایسے حوالے پیش کرسکتاہوں جن میں حضرت مسیح موعود ؑ نے غیر احمدیوں کو مسلمان کہااور لکھا ہے۔ اور نیز بیسیوں ایسے حوالے جن میں آپ نے بڑی وضاحت کے ساتھ غیراحمدیوں کے اسلام سے انکار کیا ہے۔ فتدبرو۔

میں نے اپنے رسالہ ’’کلمۃ الفصل‘‘ میں کافی ذخیرہ ایسے حوالوں کا جمع کردیا ہے جس کو موقع ملے وہ اس رسالہ کو دیکھے۔ یہاں صرف نمونہ کے طور پر دیکھئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام عبدالحکیم خان مرتد کو لکھتے ہیں:-
’’خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا۔ وہ مسلمان نہیں ہے۔ اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے‘‘

اس تحریر میں حضرت مسیح موعود نے کس وضاحت کے ساتھ اپنے منکرین کو اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔ مخالف ہزار سر پیٹے اس تحریر کی صفائی کو مکدر نہیں کرسکتا۔

پھر آپ نے اپنی ٢٦ دسمبر ١٩٠٦ء والی تقریر میں غیر احمدیوں کی نسبت فرمایا کہ:-
’’اللہ تعالیٰ اب ان لوگوں کو مسلمان نہیں جانتا جب تک وہ غلط عقائد کو چھوڑ کر راہ راست پر نہ آجاویں۔ اور اس مطلب کے لئے خدا تعالیٰ نے مجھے مامور کیا ہے۔‘‘

دیکھئے حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک غیر احمدی مسلمان نہیں ہیں۔ جب تک وہ مسیح موعود پر ایمان لاکر اپنے عقائد کو درست نہ کریں۔

پھر آپ اپنی کتاب اربعین نمبر ٤ صفحہ ١١ (روحانی خزائن جلد١٧ صفحہ٤٤١ حاشیہ) پر تحریر فرماتے ہیں کہ:-
’’جب میں دہلی گیا تھا۔ اور میاں نذیر حسین غیرمقلّد کو دعوت دین اسلام کی گئی تھی۔ تب ان کی ہر ایک پہلو سے گریز دیکھ کر اور ان کی بدزبانی اور دشنام دہی کو مشاہدہ کرکے آخری فیصلہ یہی ٹھہرا یا گیا تھا کہ وہ اپنے اعتقاد کے حق ہونے کی قسم کھا لے۔ پھر اگر قسم کے بعد ایک سال تک میری زندگی میں فوت نہ ہوا تو میں تمام کتابیں اپنی جلادوں گا اور اس کو نعوذ باللہ حق پر سمجھ لوں گا لیکن وہ بھاگ گیا۔‘‘

دیکھئے اس تحریر میں حضرت مسیح موعود ؑ نے کس دھڑلے کے ساتھ مولوی نذیر حسین کے مقابلہ میں صرف اپنے عقائد کو ہی اسلام قراد دیا ہے اور مولوی مذکور کو جو غیر احمدیوں میں دین اسلام کا ایک رکن سمجھا جاتا تھا اسلام سے خارج بتایا ہے۔ ایسے اور بھی بہت سے حوالے ہیں مگر اس مختصر سے مضمون میں ان کی گنجائش نہیں۔ اس قسم کے حوالوں کے مقابلہ میں دوسری قسم کے بھی بیسیوں حوالے ہیں۔ جن کو عند الضرورت پیش کیا جاسکتا ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حقیقت کی روسے ہمیشہ اپنے منکروں کو اسلام سے باہر قدم رکھنے والے سمجھا ہے مگر ہاں اسمیؔ اور رسمیؔ طور پر ان کو مسلمان بھی کہا اورلکھا ہے۔ اس حقیقت کو حضرت مسیح موعودؑ کا ایک الہام بھی خوب واضح کر رہا ہے۔ جو یہ ہے۔

’’چو دَورِ خسروی آغاز کردند‘‘
’’مسلماں را مسلماں باز کردند‘‘

اس میں جناب باری تعالیٰ نے غیر احمدیوں کو صاف طور پر مسلمان بھی کہا ہے۔ اور پھر صاف طور پر ان کے اسلام کا انکار بھی کیاہے۔ پس اب ہم مجبور ہیں کہ غیراحمدیوں کو عام طور پر ذکر کرتے ہوئے مسلمان کے نام سے یاد کریں۔ کیونکہ کلام الٰہی صاف طور پر حضرت مسیح موعود ؑ کے منکروں کو مسلمان کے نام سے پکار رہا ہے۔ اسی طرح اب خواہ کوئی کتنا ہی بڑا انسان غیر احمدیوں کو مسلمان سمجھے۔ ہم مجبور ہیں کہ اس کی ایک نہ سنیں کیونکہ وہی کلام الٰہی واضح اور غیر تاویل طلب الفاظ میں ان کے اسلام کا انکار کر رہا ہے۔ فتدبّرو

غیراحمدیوں کا کُفر

اب میں مضمون کی دوسری شق کو لیتا ہوں اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود ؑ کے منکروں پر کس قسم کا کفر عاید ہوتاہے۔ سواس کے متعلق جہاں تک قرآن شریف کی آیتوں اور حضرت مسیح موعود ؑ کی تحریروں اور احادیث نبوی سے پتہ چلتا ہے وہ یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ کا منکر اسی طرح الٰہی مؤاخذہ کے نیچے ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کے دیگر رسولوں کے منکرین ہیں کیونکہ باری تعالیٰ کی طرف سے جتنے بھی مامورین آتے ہیں ان کا مقصد اعلیٰ یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی پر لوگوں کی طرف سے صرف زبانی اقرار نہ ہو بلکہ ایمان ویقین کے درجہ تک پہنچ کر مخلوق خدا کے رگ وریشہ میں رچ جائے اور انسان کا عرفان ذات حق تعالیٰ کے متعلق اس قدر مستحکم ہوجائے کہ خدا تعالیٰ کا صفاتی وجود ہرجگہ محسوس ومشہود ہو کیونکہ اس کے بغیر گناہ سے چھٹکارہ نہیں اور گناہ سے پاک ہونے کے بغیر نجات نہیں۔ یہ غلط ہے کہ سب رسولوں کا نئی شریعت لانا ضروری ہے۔ بنی اسرائیل میں موسیٰ علیہ السلام کے بعد سینکڑوں ایسے نبی ہوئے جن کو کوئی شریعت نہیں دی گئی بلکہ وہ توریت کے خادم تھے۔ خود حضرت مسیح موعود ؑ نے براہین حصہ پنجم صفحہ١٣٨ پر لکھا ہے کہ نبی کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ صاحب شریعت نبی کا متبع نہ ہو۔ غرض اس بات کو خوب یاد رکھنا چاہیئے کہ ہر ایک رسول کی اصل حیثیت ایک منجی کی ہوتی ہے اور وہ تمام ایک کشتی تیار کرتے ہیں جس کے اندر بیٹھنے والے تمام خطرات سے نجات پاجاتے ہیں۔ وہ کشتی یہی ایمان کی کشتی ہوتی ہے مگر لبوں تک محدود رہنے والا ایمان نہیںبلکہ وہ ایمان جو مومن کے رگ وریشہ کے اندر سرایت کر جاتا اور اسے یقین کی مستحکم چٹان پر قائم کردیتا ہے۔ اسی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ حدیث نبوی کہ لَوْکَانَ الْاِیْمَانُ مُعَلَّقًابِالثُّرَیَّالَنَالَہ رَجُلٌ مِّنْ فَارِسْ۔ اگر زبانی اقرار کا نام ایمان رکھا جاوے تو پھر اس حدیث کے کوئی معنی ہی نہیں بنتے کیونکہ زبانی اقرار والا ایمان تو تمام مسلمان کہلانے والے لوگوں میں ہمیشہ پایا جاتا رہا ہے۔ سوماننا پڑتا ہے کہ اس جگہ وہ ایمان مراد ہے جو خدا کی ہستی کو محسوس ومشہود کروا دیتا ہے اور گناہوں کو آگ کی طرح جلاکر خاک کردیتا اور انسان کو ایک نئی زندگی بخشتا ہے۔ سو اس لحاظ سے توتمام مامورین کا انکار منکرین کے غیرمومن ہونے پر مہر لگانے والا ہوتا ہے مگر پھر بھی کفر کی اقسام ہیں جو ہم ذیل میں لکھتے ہیں۔ سو جاننا چاہیئے کہ کُفر دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک ظاہری کفر اور ایک باطنی کفر۔ ظاہری کفر سے یہ مُراد ہے کہ انسان کُھلے طور پر کسی رسول کا انکار کردے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور نہ مانے۔ جس طرح یہود نے مسیح ناصریؑ کا کفر کیا یا جس طرح نصاریٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کی طرف سے رسول نہ مانا اور باطنی کفر یہ ہے کہ ظاہراً طور پر تو انسان کسی نبی یا رسول کی نبوت و رسالت پر ایمان لانے کا اقرار کرے اور اس کی امت میںاپنے آپ کو شمار کرتاہو لیکن درحقیقت (اللہ تعالیٰ کی نظر میں) وہ اس نبی کی تعلیم سے بہت دور جاپڑا ہو اور اس کی پیشگوئیوں پر پورا پورا ایمان نہ لائے اور جس شخص پر ایمان لانے کا خدا نے حکم دیا ہو۔ اس کی تکذیب کرے اور اس نبی کے احکام پر کاربند نہ ہو یا اگر ہوتو صرف قشرپر گرا رہے اور حقیقت سے دور ہو۔ غرض صرف رسمی طور پر اس کی طرف منسوب کیا جائے۔ جیسا کہ مسیح ناصری کا زمانہ پانے والے یہود کا حال تھا۔ گو وہ ظاہراً طور پر تورات کے حامل تھے اور موسیٰ کی اُمت میں اپنے آپ کو شمار کرتے تھے لیکن درحقیقت وہ موسیٰ کی طرف صِرف رسمی طور پر منسوب تھے۔ چنانچہ اس حقیقت کو مسیح ناصری کی بعثت نے بالکل مبرہن کردیا اور یہ بات بالکل ظاہر ہوگئی کہ حقیقت میں یہود موسیٰ کی تعلیم سے بہت دور جاپڑے تھے اور انہوں نے تورات کو پس پشت ڈال رکھا تھا اور ان کا موسیٰ کی اُمت میں ہونے کا دعویٰ صرف ایک زبانی دعویٰ تھا جو آزمانے پر غلط نکلا۔ حضرت مسیح کی بعثت سے پہلے تمام بنی اسرائیل موسیٰ کی تعلیم پر کاربند ہونے کے مدعی تھے مگر اللہ تعالیٰ نے مسیح کو نازل فرماکر سچوں اور جھوٹوں میں تمیز پیدا کردی اور اس بات پر الٰہی مُہر لگ گئی کہ اکثر بنی اسرائیل اپنے دعوے میں جھوٹے تھے۔ پس یہود نے مسیح کے انکار سے اپنے اوپر دو کفر لئے۔ ایک مسیح کا ظاہری کفر اور دسرے موسیٰ یا یوں کہیے کہ مسیح سے پہلے گذرے ہوئے تمام انبیاء کا باطنی کفر۔ یہی حال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پانے والے نصاریٰ کا ہے۔ جنہوں نے آپ کا انکار کرکے اس بات پر بھی مہر لگادی کہ وہ مسیح ناصری پر ایمان لانے کے دعوے میں جھوٹے تھے اور اس کی تعلیم کو دلوں سے بھلا چکے تھے۔ پس انہوں نے بھی دو قسم کا کفر کیا۔ ایک ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہری کفر اور دوسرے مسیح ناصری اور اس سے پہلے کے تمام انبیاء کا باطنی کفر۔ اب یہ مسئلہ بالکل صاف ہے کہ ایک رسول کے انکار سے باقی تمام رسولوں کا انکار لازم آتا ہے۔ ہاں ہم یہ نہیں کہتے کہ ایک رسول کا ظاہری کفر باقی رسولوںکا بھی ظاہری کفر ہے کیونکہ جیسا کہ میں بتا آیا ہوں ظاہری کفر زبانی انکار سے تعلق رکھتا ہے۔ اس لئے بغیر کسی کی طرف سے زبانی انکار کے اس پر ظاہری کفر کا فتویٰ عائد کرنا کسی طرح بھی جائز نہیں۔ ایک شخص اگر کہتا ہے کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی رسالت پر ایمان لاتا ہوں اور وہ کلمہ گو ہے۔ تو پھر ہمارا کوئی حق نہیں کہ ہم اس کو ظاہری کفر کے لحاظ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کافر کہیں۔ ہاں اگر وہ کسی اور مامورمن اللہ کا ظاہری کفر اپنے اوپر لیتا ہے تو پھر بے شک جیسا کہ میں ابھی ثابت کر آیا ہوں اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی باطنی کفر کیا کیونکہ ایک رسول کے ظاہری کفر سے باقی رسولوں کا باطنی کفر لازم آتا ہے۔ ہر ایک رسول کی بعثت بذات خود زبان حال سے پکار رہی ہوتی ہے کہ اس سے پہلے کے انبیاء بلکہ میں تو یہ بھی کہوں گاکہ خود ذات باری تعالیٰ کا باطنی کفر دنیا میں شروع ہوچکا ہے۔ مسیح ناصری کا دنیا میں آنا اس بات پر گواہ تھاکہ موسیٰ کی قوم نے موسیٰ کا باطنی کفر شروع کر رکھا تھا۔ پھر آخر مسیح کی بعثت نے ثابت کردیاکہ امت موسویہ میں واقعی اکثر دھاگے کچے تھے جو ذرا سے جھٹکے میں ٹوٹ گئے۔ اسی طرح مسیح محمدی کی بعثت دلیل ہے اس بات پر کہ امت محمدیہ میں خود محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا کفر شروع ہے مگر وہی باطنی کفر کیونکہ ظاہری کفر ان پر عائد نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اسلام سے ظاہراًطور پر ارتداد کی راہ نہ اختیار کریں۔ پس اب ہماری پوزیشن بالکل صاف ہے۔ ہم غیراحمدیوں کو حضرت مسیح موعود کا کافر سمجھتے ہیں۔ آپ کے سوا کسی اور رسول کے وہ ظاہری کافر نہیں اور نہ ہم ان کو کہتے ہیں مگر ہاں مسیح موعود کا کفر ہم کو اتنا ضرور بتا رہا ہے کہ آپ کے منکرین میں محمد رسول اللہ صلی اللہ کا بھی باطنی کفر شروع ہے۔

فریق مخالف نے مسئلہ کفر واسلام بے ہودہ جھگڑوں سے پیچیدہ کردیا ہے ورنہ بات بالکل صاف ہے۔ کون کہتا ہے کہ غیر احمدی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہری کافر ہیں۔ ہمارا سر پھرا ہے کہ ہم کہیں غیر احمدی محمد رسول اللہ کے ظاہری طور پر کفر کرنے والے ہیں۔ اس کے تو یہ معنی ہوں گے کہ غیراحمدی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے مدعی بھی نہیںاور یہ بالبداہت غلط ہے۔ خدا را ہماری طرف وہ بات منسوب نہ کروجو ہمارے وہم وگمان میں بھی نہیں ہے۔ ہم تو غیر احمدیوں کو صرف مسیح موعود ؑ کا کافر سمجھتے ہیں اور بس۔ چونکہ اور کسی رسول کا انہوں نے ظاہراً طور پر انکار نہیں کیا۔ بلکہ ایمان لانے کے مدعی ہیں اس لئے وہ مسیح موعودؑ کے سواکسی اور رسول کے مطلقاً کافر نہیں کہلاسکتے۔ ہاں انہوں نے مسیح موعود کے انکار سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور باقی گذشتہ انبیاء کا باطنی کفر اپنے اوپر ضرور لے لیا ہے بلکہ خود خدا تعالیٰ کا کفر سہیڑ لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ حقیقۃالوحی میں فرماتے ہیں کہ
’’جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا‘‘ ١٢؎ (روحانی خزائن جلد22 صفحہ168)

جس کا یہی مطلب ہے کہ میرا ظاہری کفر خدا اور رسول کا باطنی کفر ہے۔ فَتَدَبَّرْ

تعجب ہے کہ ہمارے غیر مبایعین احباب حضرت مسیح موعودؑ کے کفر کو بالکل معمولی بات سمجھتے ہیں حالانکہ محمد رسول اللہؐ سے اتر کر باقی تمام رسولوں کے کفر سے مسیح موعود ؑکا کفر زیاد ہ سخت اور اللہ تعالیٰ کے غضب کو زیادہ بھڑکانے والا ہے۔ جیسا کہ خود حضرت اقدس ؑ فرماتے ہیں:
’’فی الحقیقت دو شخص بڑے ہی بدبخت ہیں اور انس وجنّ میں سے اُن سا کوئی بھی بدطالع نہیں۔ ایک وہ جس نے خاتم الانبیاء کو نہ مانا۔ دوسرا وہ جو خاتم الخلفاء پر ایمان نہ لایا۔‘‘ ١٣ ؎(الھدیٰ۔روحانی خزائن جلد18صفحہ250)

خلاصہ تمام مضمون کا یہ ہوا کہ ہم مسیح موعودؑ پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے تمام غیر احمدیوں کو حقیقت اسلام کے دائرہ سے خارج سمجھتے ہیں مگر چونکہ وہ قشر پر قائم ہیں اِس لئے علمیت کے دائرہ سے ان کو خارج قرار دینا صحیح نہیں ہے۔ جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود ؑ غیر احمدیوں کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں:
’’جس اسلام پر تم فخر کرتے ہو یہ رسم اسلام ہے نہ حقیقت اسلام۔‘‘ ١٤؎ (نزول المسیح۔ روحانی خزائن جلد18 صفحہ472)

اسی طرح غیر احمدیوں کو ہم مسیح موعودؑ کے انکار کی وجہ سے کافر سمجھتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مسیح موعودؑ کے ظاہراً طور پر کافر ہیں اور محمد رسول اللہ اور باقی رسولوں کے باطنی کافر، اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے مسیح موعود کی اس تحریر میں کہ:
’’کفر دو قسم پر ہے۔ (اوّل) ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے۔ اور آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ (دوم) دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود ؑکو نہیں مانتا۔‘‘

اور پھر آگے چل کر لکھتے ہیں کہ:
’’اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔‘‘ ١٥؎ (حقیقہ الوحی۔ روحانی خزائن جلد22 صفحہ185)

پھر اسی کتاب کے صفحہ 163پر لکھا ہے کہ:
’’جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔‘‘

ان سب حوالوں پر یک جائی طور پر نظر ڈالنے سے صاف پتہ لگتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے ظاہری کفر کو باطنی طور پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلکہ خود ذات باری تعالیٰ کا کفر قرار دے رہے ہیں۔ وَہَوُاَلْمُراَدَ

(مطبوعہ الفضل 5 تا 6ستمبر 1916ء)

پچھلا پڑھیں

اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے کے ساتھ استہزاء اور …

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 دسمبر 2020