• 28 جنوری, 2023

جلسہ سالانہ قادیان کی آمد سے قبل بعض نصائح کی یاددہانی

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
قادیان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بستی ہونے کی وجہ سے اور تمام دنیا میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا پیغام اس بستی سے نکل کر پہنچنے کی وجہ سے جو حیثیت اور جو مقام حاصل ہے، وہ اس بستی کو جہاں اسلام کی نشأۃ ثانیہ کا مرکز بناتی ہے وہاں اس بستی میں منعقد ہونے والے جلسوں کو بھی بین الاقوامی جلسہ بناتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج وہاں بتیس تینتیس ملکوں کی نمائندگی ہو رہی ہے۔ پس قادیان کی بھی ایک اہمیت ہے اور وہاں منعقد ہونے والے جلسوں کی بھی ایک اہمیت ہے۔ اس بستی کے رہنے والے احمدیوں کی بھی ایک اہمیت ہے اور اس جلسہ میں شامل ہونے والے دنیا کے کونے کونے سے آنے والے احمدیوں کی بھی ایک اہمیت ہے۔ لیکن یہ اہمیت حقیقت میں اجاگر ہو گی، تب بامقصد ہو گی جب اس بستی میں رہنے والے اس اہمیت کا حق ادا کرنے والے بنیں گے۔ جب اس جلسہ میں شامل ہونے کے لئے آنے والے اس جلسہ کے مقاصد کے حصول کے لئے یہ دن اور راتیں جو انہوں نے وہاں گزارنی ہیں، وہ ان کو اس مقصد کے حاصل کرنے میں صَرف کریں گے جو مقصد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامِ صادق اور زمانے کے امام نے ان جلسوں کا بتایا ہے، اُن لوگوں کا بتایا ہے جنہوں نے آپ سے عہدِ بیعت باندھا ہے۔

عموماً دنیا کے کسی بھی ملک میں ہونے والے جلسے کا ماحول شامل ہونے والوں پر ایک روحانی اثر ڈالتا ہے اور اس کا اظہار شامل ہونے والے کرتے رہتے ہیں لیکن قادیان کے جلسے کے ماحول میں روحانیت کا ایک اور رنگ محسوس ہوتا ہے۔ جنہوں نے وہاں جلسوں میں شمولیت اختیار کی ہے اُن کو اس بات کا علم ہے اور ہر مخلص کو یہ رنگ محسوس ہونا چاہئے۔ کیونکہ اس بستی کی فضاؤں میں اور گلی کوچوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامِ صادق اور مسیح موعود اور مہدی معہود کی یادوں کی خوشبو روحانیت کے ایک اور ہی ماحول میں لے جاتی ہے۔ پس اس ماحول میں ملی ہوئی نصیحت بھی ایک خاص رنگ رکھتی ہے، ایک خاص اثر رکھتی ہے اور ہر مخلص کے دل پر ایک خاص اثر کرنے والی ہونی چاہئے۔ اس لئے میں اس جلسے میں شامل ہونے والے تمام شاملین کو آج اس طرف توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ جہاں جلسہ میں شامل ہو کر علمی اور تربیتی تقریروں سے فیضیاب ہوں، وہاں اُن مقاصد کو بھی اپنے سامنے رکھیں اور ہر وقت اس کی جگالی کرتے رہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جلسہ کے انعقاد کے بیان فرمائے ہیں جو میرے خیال میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الفاظ میں ہی جلسہ کے افتتاح کرنے والے میرے نمائندے نے وہاں جلسہ کے افتتاح کے وقت پیش کئے ہوں گے۔ میرے خیال میں، مَیں نے اس لئے کہا ہے کہ مجھے اس افتتاحی تقریب کا علم نہیں ہے کہ کیا تقریر ہوئی ہے؟ لیکن عموماً جلسے کے مقاصد کو سامنے رکھ کر ہی افتتاحی تقریر کا مضمون بیان ہوتاہے۔ بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی توقعات کو سامنے رکھتے ہوئے جلسے میں شامل ہونے والے ہر شخص کو یہ دن گزارنے چاہئیں۔ اس جلسہ میں جیسا کہ مَیں نے کہا کئی ممالک کی نمائندگی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک مقصد یہ بھی بتایا تھا کہ افرادِ جماعت کا ایک دوسرے سے جلسہ کے دنوں میں تعارف بڑھے اور اخوت اور پیار اور محبت کے تعلقات قائم ہوں۔

(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد1 صفحہ281 اشتہار نمبر91)

پس آج تعارف اور اخوت کے معیاروں میں ایسی وسعت پیدا ہو گئی ہے جو بے مثال ہے۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ قادیان کا رہنے والا ایک عام کارکن امریکہ کے رہنے والوں اور روس کے رہنے والوں سے ملتا ہے۔ یا عرب کا رہنے والا یورپ کے رہنے والوں سے ملتا ہے یا سب جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو وہ روح نظر آتی ہے جو مومنین کے اخوت کے وصف کو نمایاں کرتی ہے اور یہ روح اس وصف کو نمایاں کرنے والی ہونی چاہئے۔ اگر کسی کے دل میں نخوت ہے تو وہ اپنے بھائیوں سے اس اخوّت کے جذبے کے تحت نہیں ملتا۔ یا ایک شہر کا رہنے والا امیر اپنے غریب بھائی کو چاہے وہ اُسے جانتا ہے یا نہیں یا اُس کے تعلقات اچھے ہیں یا کمزور یا رنجشیں ہیں یا شکایتیں، جب تک سب کدورتیں مٹا کر، سب بڑائی اور امیری اور غریبی کے فرق مٹا کر اخوت اور بھائی چارے کے نمونے نہیں دکھاتے تو پھر جلسے کی تقریریں ایسے شامل ہونے والوں کو کوئی فائدہ نہیں دیں گی، نہ ہی وہاں کا ماحول اُن کو کوئی فائدہ دے سکے گا۔ جلسے پر آنا بھی بے فائدہ ہو گا۔ قادیان کا روحانی ماحول بھی ایسے شخص کے دل کی سختی کی وجہ سے اُس کے لئے روحانیت سے خالی ہو گا۔

(خطبہ جمعہ 27؍دسمبر 2013ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

ریشہ دار (فائبر والی) غذاؤں کی افادیت اور ذرائع

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 دسمبر 2022