• 3 فروری, 2023

حضرت چوہدری عبد السلام کاٹھگڑھی مرحوم

حضرت چوہدری عبد السلام کاٹھگڑھی مرحوم
صحابی حضرت مسیح موعودؑ 

آپؓ کے والد صاحب چوہدری محمد حسین خاں صاحب پشاور میں تحصیلدار کے عہدہ پر فائز تھے۔ آپؓ کی ولادت1883ء میں ہوئی اور آپؓ نے بچپن پشاور میں ہی گزارا ۔ اسی وجہ سے آپ کو پشتو زبان پر عبور حاصل تھا۔احمدیت قبول کرنے سے پہلے آپ کا خاندان اہلحدیث مسلک سے تعلق رکھتا تھا۔ آپؓ کی تربیت خالص دینی رنگ اور مذہبی ماحول میں ہوئی۔ آپؓ نے اپنی ابتدائی تعلیم پشاور سے حاصل کی۔

چونکہ آپؓ حضرت مسیح موعودؑ کی کتابوں کا مطالعہ کر رہے تھےاور اپنے دوست سے بھی جماعت کے متعلق معلومات حاصل کرتے رہتے تھے جس کے متعلق آپؓ کی بیٹی مکرمہ فضیلت جہاں بیگم صاحبہ مرحومہ نے بیان کیا ہے۔ کہ1903ء میں جب حضرت مسیح موعودؑ نے کرم دین الٰہی کے مقدمے کے سلسلے میں جہلم کا سفر فرمایا اور راستے میں لاہور میں ٹھہرے تو اس دوران حضرت چوہدری عبد السلام خان کاٹھگڑھی صاحبؓ دوست کے ہمراہ حضرت اقدس علیہ السلام سے ملاقات کے لئے گئے اور حضورؑ کی دستی بیعت سے مشرف ہوکر امام الزمان علیہ السلام کی غلامی کا اعزاز پایا۔علاوہ ازیں آپؓ کو خاندان میں سب سے پہلے احمدیت قبول کرنے کی بھی توفیق ملی۔ البدر اخبار میں زیر عنوان ’’فہرست ان مبائعین کی جنہوں نے حضرت احمد مرسل یزدانی مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دست مبارک پر آپ کی سفر جہلم میں مقام لاہور اور جہلم اور راستہ میں شرف بیعت حاصل کیا‘‘ میں آپؓ کا نام درج ہے۔

73 نمبر پر عبد السلام ولد محمد حسین خان کاٹھگڑھی ضلع ہوشیارپور بمقام لاہور

(البدر 23-30؍جنوری 1903ء صفحہ13)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کے بعد آپؓ کو گھریلو مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی مخالفت کے باعث آپؓ کوتعلیم نامکمل چھوڑنا پڑی۔جس وقت آپؓ لاہور میں تعلیم پارہے تھے غالباً 1903ء تھا، چونکہ آپ کے والد ابھی غیر احمدی تھے اور ریٹائرڈ ہو کر گھر آگئے تھے۔ آپ کے والد صاحب نے آپ کی بیعت کی خبر سنی تو سخت ناراض ہوئے، سختی کی انتہا کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کے سامنے روٹی زمین پر پھینک دیا کرتے لیکن برتن کو ہاتھ نہ لگانے دیتے۔

آپ کواپنے خاندان میں سب سے پہلے احمدیت قبول کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کر کے گرمی کی چھٹیوں میں قادیان مقدس چلے گئے اور وہاں جا کر آپؓ نے قرآن مجید، حدیث اور کتب مسیح موعودؑ کا مطالعہ کیااور حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کے درس القرآن سے مستفید ہوئے۔ نیز آپ کو حضرت مصلح موعودؓ کے ہم مکتب ہونے کا بھی شرف حاصل ہواجس کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ خطبہ جمعہ فرمودہ 7؍نومبر 1957ء میں ذکر کرتے ہوئے بیان فرماتے ہیں کہ:
’’مجھے یاد ہے کہ میں ابھی بچہ ہی تھا کہ کاٹھگڑھ ضلع ہوشیار پور کے ایک دوست عبد السلام صاحب میرے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ وہ کاٹھگڑھ واپس گئے تو انہوں نے ایک پرائمری اسکول بنایا۔‘‘

(خطبات محمود جلد 38 صفحہ 239)

آپؓ کا حضرت مسیح موعودؑ سے ایک خاص تعلق تھا۔ آپؓ تمام جلسوں میں شمولیت کے لئے قادیان جاتے تھے اور آپؓ نے قادیان میں ایک گھر بھی بنوایا تھا اور مسلسل دعا اور راہنمائی کے لئے خطوط بھی لکھتے رہتے تھے۔آپؓ کے حضرت مسیح موعودؑ سےتعلق کا اندازہ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ کے جوابی خط سے لگایا جاسکتا ہے جو آپؓ کے پوتے مکرم عبد السمیع خاں صاحب نے لکھا تھا۔ آپؓ فرماتی ہیں کہ:
’’آپ کے دادا صاحب کی تحریر بھی مجھے یاد ہے اور صورت بھی۔ حضرت مسیح موعودؑ کے پاس ان کے خط کثرت سے آتے تھے دعا کے لئے۔‘‘

وسط دسمبر 1908ء کا ذکر ہے کہ داداجان نے کاٹھگڑھ میں ایک نیا پختہ مکان دو منزلہ تعمیر کیاتھا۔ آپ کا منشاء تھا کہ خاندان حضرت مسیح موعودؑ میں سے کسی کے دست مبارک سے اس کا افتتاح ہو۔ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ اور میر محمد اسحاق صاحبؓ نے اس نئے مکان کا افتتاح کیا اور دعا بھی کروائی۔ اسی وقت آپ نے اس مکان پر تاریخ لکھ دی جو تا دیر قائم رہی۔

جماعت احمدیہ کاٹھ گڑھ کی طرف سے بحضور حضرت خلیفۃ المسیح موعودؑ عرض کیا گیا تھا کہ حضور حضرت مرزا شریف احمد صاحب کو فرماویں کہ تعلیم الاسلام مڈل اسکول کی نئی عمارت کا سنگِ بنیاد اپنے دستِ مبارک سے رکھیں۔ چنانچہ 2؍مارچ 1924ء کو جماعت کاٹھگڑھ میں صاحبزادہ تشریف لا ئے اور ایک جلسہ منعقد کیا گیا۔

آپ کے دن کا آغاز خدا کی حمد و ثناسے شروع ہوتا اور خدا کے ذکر سے اختتام ہوتا۔آپ صبح فجر کی نماز کے بعد باقاعدہ روزانہ قرآن کریم اور احادیث کا درس دیا کرتے تھے اور پھر مسجد میں قرآن شریف باترجمہ پڑھاتے تھے۔ اس کے بعد دوا خانہ کے سامنے صحن میں بہت سے بیمار پہلے ہی سے جمع ہوتے تھے اور انتظار میں بیٹھے رہتے تھے۔ ان کو دوائی دیتے تھے۔ اس کے علاوہ اسکول کے متفرق معاملات کو دیکھتے۔ طلباء کی نگرانی، مقدمات، خط وکتابت اور بیت المال کی نگرانی بڑے احسن انداز میں کرتےتھے۔

جماعت کی تبلیغ کرنے کا آپؓ کو بے انتہا شوق تھا اور آپؓ کاٹھگڑھ جماعت کے صدر جماعت اور بطور نائب مہتم تبلیغ ضلع ہوشیارپوربھی خدمت سر انجام دیتے رہے۔اس زمانہ میں نہ تو سفر کے بہترین ذرائع تھے اور نہ ہی اتنی خوشحالی تھی لیکن آپؓ تمام تر مشکلات ہونے کے باوجود پورے ضلع کا وقتاً فوقتاً دورہ کرتے اور مرکز سے مربیان سلسلہ کو بلوا کر تبلیغی مجالس منعقد کرواتے اور افراد کو قادیان کی زیارت کرواتے۔

یہ آپ کی دعوت الی اللہ کا ہی نتیجہ تھا کہ کاٹھگڑھ کے امام سید محمد علی شاہ صاحب جو سلسلہ کے سخت مخالف تھے نہ صرف جماعت احمدیہ میں شمولیت کی سعادت پائی بلکہ رفقاء حضرت مسیح موعودؑ میں شامل ہونے کا شرف پایا۔

روپڑ ضلع ہوشیارپور میں کوئی احمدی نہیں تھا آپؓ کی دلی خواہش تھی کہ اس میں بھی جماعت قائم ہوجائے۔ بعض دفعہ سخت دھوپ میں جاتے تو لوگ سختی سے پیش آتے لیکن آپؓ کے جوش میں کمی نہ ہوئی۔ آپ یہی فرمایا کرتے تھے کہ ایک دن ایسا ہوگا کہ یہی لوگ جو ہمیں گالیاں دیتے ہیں پتھرپھینکتے ہیں اور ٹھہرنے کے لئے جگہ نہیں دیتے ہیں کبھی ہمیں بغل گیر ہو کر ملیں گے سو ایسا ہی ہوا۔ افسوس آپ نے یہ موقع نہ دیکھا اور آپ کی وفات کے چند ہی ماہ بعد وہاں جماعت قائم ہو گئی۔

مسجد میں نمازیوں کو پانی کی قلت کی وجہ سے بہت تنگی رہتی تھی اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے آپؓ نے ایک کنواں بنوانے کی طرف توجہ دلائی اور سب سے پہلے خود قدم اٹھایا۔ آپ نے کنوئیں کی ضرورت کے مطابق اینٹیں منگوالیں۔ لیکن آپ کی عمر نے وفا نہ کی۔ وہ اینٹیں پڑیں رہیں جب بھی لوگ نماز پڑھ کر باہر نکلتے ان کے دل میں پیدا ہونے والی تحریک نے اس کام کو دوبارہ شروع کروا دیا۔

بیت احمدیہ کاٹھگڑھ میں عورتوں کے لئے جگہ بہت کم تھی جس کی وجہ سے نماز جمعہ پرآنے والی لجنات کو تنگی کا سامنا کرنا پڑتا۔ آپ نے ایک شخص چوہدری نعمت اللہ خا ن صاحب مرحوم سے کچھ جگہ جو مسجد سے ملحقہ تھی زنانہ مسجد کے لئے لے لی اورلجنات کے لئے علیحدہ ہال کی بنیاد رکھی تو کچھ عرصہ کے بعد آپ کی وفات ہوگئی۔

1920ء کی بقرعید پر کاٹھگڑھ کے ہندوؤں نے اردگرد کے دیہات کے ہندوؤں کو جمع کر لیا اور جب آپ گائیں لے جارہے تھے تو پانچ چھ نہتے آدمیوں پر پانچ سو کے قریب ہندو ؤں نے حملہ کر دیا اور گائیں چھین کر لے گئے۔ پولیس موقع پر پہنچ گئی، کچھ لوگوں کا چالان کیااور بعد میں راضی نامہ ہوگیا۔ پولیس نے دوسرے دن قربانی کروائی۔اس کے بعد آپ نے ایک رجسٹربنا یا جس کا نام رجسٹر مذبح بقر رکھا۔ جب کوئی گائے ذبح کرتے اس کی مفصل رپورٹ کس سے خریدی گئی، حلیہ، قیمت اور حصہ داروں کا نام کس کے مکان پر ذبح کی گئی۔اور اس کی رپور ٹ سرکاری افسران کو بھیج دیتے۔چنانچہ لوگوں کے منع کرنے کے باوجود آپ نے رپورٹوں کا سلسلہ جاری رکھا جس سےسرکار کو یقین ہوگیا کہ کاٹھ گڑھ میں ہندو مسلمان تعلقات اچھے ہیں اور فساد کا اندیشہ نہیں ہے تو گورنمنٹ بقر عید پر خود پولیس کو بھیجنے لگی اور اپنے انتظام کے ماتحت قربانی کرواتی تھی، آپ کی وفات کے بعد لوگوں کی آنکھیں کھلیں کہ آپ نے اتنا بھاری کام سر انجام دیا کہ قربانی کا حق دلوایا۔

1923ء میں ہندوؤں نے ملکانوں کے علاقوں میں شدھی کی تحریک شروع کی جس نے بہت جلد ہی علاقہ میں زور پکڑ لیا تھا جس کا دفاع کرنے کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے جماعت احمدیہ کے بعض علماء کو مختلف علاقوں میں مقرر فرمایا تاکہ وہاں رہ کر ان کا مقابلہ کرسکیں۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے تحریک شدھی کے ممبران وفد ثانی کے لئے جن 20 احباب کے اسماء منتخب فرمائے ان میں مکرم چوہدری عبد السلام خاں صاحب کا نام دوسرے نمبر پر یوں درج ہے۔

’’جناب مولوی چوہدری عبد السلام خاں صاحب فاضل ہندو لٹریچر کاٹھ گڑھ۔‘‘

ساتھ ہی حضورؓ نے سفر میں وفد کےامراء مقرر کرتے ہوئے فرمایا:
’’بھائی عبد الرحیم صاحب آگرہ تک وفد کے امیر ہوں گے اور وہاں جاکر چوہدری صاحب کے سپرد کر دیں گے۔ اب بھی دعا کرتاہوں اور عصر کے بعد بھی دعا کروں گا۔‘‘

تاریخ احمدیت میں تحریک شدھی کے حالات درج ہیں جن میں آپؓ کا ذکر کچھ یوں آیا ہے۔

’’حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال نے 24؍ مارچ کو تار دیا کہ بیس مبلغین کی فوری ضرورت ہے چنانچہ ادھر یہ مجاہدین حالات کا جائزہ لے کرآگرہ میں پہنچے ادھر 26؍اپریل 1923ء کو قادیان سے بیس کی بجائے بائیس مجاہدین کا دوسرا وفد آگیا اس وفد کے بعض افراد کے نام یہ ہیں۔ حضرت بھائی عبد الرحیم صاحب قادیانی، چوہدری عبد السلام صاحب کاٹھگڑھی… چوہدری عبد السلام صاحب کاٹھگڑھی متھرا کے گاؤں بھائی میں‘‘

آپؓ کو خدا تعالی کے فضل سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی تحریک کے مطابق ماہرین علوم میں شامل ہونے کی بھی توفیق ملی جس کاذکر تاریخ احمدیت میں کچھ یوں آیا ہے:
’’حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں بعض جوانوں کو خاص خاص مذاہب کی ریسرچ کے لئے ارشاد فرمایا۔ مثلاً… چوہدری عبدالسلام صاحب کاٹھگڑھی کو سکھ مذہب کے لئے۔چوہدری عبد السلام صاحب کاٹھگڑھی نے تحریک شدھی ملکانہ میں ہندو دھرم کے رد میں سرگرم حصہ لیا۔‘‘

حقوق العباد کی ادائیگی میں آپؓ ہمہ وقت تیار رہتے۔ زمیندار ہونے کے باوجود کسی کام کو کرنے میں عار نہیں سمجھتے تھے۔جلسہ کے موقع پر چائے وغیرہ کا سامان اپنے ساتھ لے لیتے اور جہاں موقع ملتا تو اپنے ہمراہ ساتھیوں کو پیش کرتے اور اگر سامان کم ہوتا تو دوسروں کو خود پر ترجیح دیتے۔ آپ نے اپنی گرہ سے خرچ کر کے ایک مہمان خانہ اور مہمانوں کے لئے علیحدہ بسترے اور چارپائیاں بنائیں۔ اس سےسرکاری افسران بھی مستفید ہوتے تھے۔

ایک دفعہ آپ قادیان کے جلسے سے واپس جاتے ہوئے چاول جو مہمانوں سے بچے ہوئے تھے کافی ایک چادر میں باندھ کر لے گئے اور وہی چائے والا ٹین دال کا بھر کر لے گئے اور کچھ دکان سے شکر خرید کر باندھ لی۔ امرتسر کے اسٹیشن پر ان چاولوں کی گٹھڑی کو کھولا اور چاول تقسیم کرنے لگ گئے اور تھوڑی تھوڑی شکر بھی دیتے گئے حتی کہ تمام دال چاول ختم ہوگئے اور شکر بھی ختم ہوگئی اوراپنے لئے کچھ نہ رکھا۔آپ لوگوں کو جلسے میں شمولیت کی تحریک کیا کرتے بعض لوگ عذر کرتے کہ ہمارے پاس کرایہ نہیں ہے تو فرماتے کہ کرایہ کی کیا ضرورت ہے چلو پیدل چلیں بعض کو ان میں سے ساتھ لے کر پیدل قادیان پہنچ جاتے تھے۔جب قادیان ریل نہیں آئی تھی تو آپ اڑمڑٹانڈہ تک گاڑی پر آیا کرتے تھے اور وہاں سے قادیان تک کا بیس میل کا فاصلہ پیدل طے کیا کرتے تھے۔

آنحضرت ﷺ کی حدیث طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلیٰ کُلِّ مُسْلِمٍ کے تحت آپؓ نے انسانیت کی علمی ترقی کے لئے اسکول بنائے۔تعلیمی معیار بہتر بنانے کیلئے آپ نے انیگلوورنیکلرمڈل اسکول، زنانہ پرائمری اسکول، زنانہ اڈلٹ اسکول، مردانہ اڈلٹ اسکول، پرائمری نائٹ اسکول قائم کئے، آپ کی ہمدردی کا دائرہ ہر خاص و عام کے لئے وسیع تھا۔ اس فرض کو سر انجام دینے کے لئے تمام اخراجات خود برداشت کرتے، جبکہ مالی حالت اس کی اجازت نہ دیتے تھے لیکن تمام دشواریوں کا اکیلے سامنا کیا جو کہ ایک عظیم الشان کارنامہ ہے۔

خدمت خلق کے لئے ایک دواخانہ بھی کھولا ہوا تھا، دوائی مفت دیتے جس سے بہت لوگ استفادہ کرتے تھے۔اس انسانی ہمدردی کا دائرہ کارکسی خاص قوم، مذہب تک نہ تھا بلکہ ہر تکلیف زدہ انسان کو آرام پہنچانے کی کوشش کرتے۔ آپ نے ایک کفایت شعاری بینک بھی کھولا ہوا تھا اس کا کام بھی آپ کے سپرد تھا۔ زمیندارہ بینک کے آپ ممبر تھے۔

1929ء یا 1930ء کا ذکر ہے کہ علاقے میں اتنا ٹڈی دل آگیا کہ افسروں کو اس کی تلفی میں خاص کوشش کرنی پڑی۔ انڈوں اور بچوں کو زمین کھود کھود کر تلف کیا جاتا۔ سرکار نے نمبردار اور ذیلداروں سے مدد لی۔ آپ بھی اسکول کے لڑکوں کو ساتھ لے جاتے اور اپنی گرہ سے تیل خرچ کرکے ٹڈی کی تلفی میں کافی مدد دیتے رہے۔

آپ کے توکل علیٰ اللہ پر آپ کا یہ جواب بخوبی روشنی ڈالتا ہے کہ جب آپ کی اہلیہ کی طرف سے اپنے گھر کی عمارت کی مرمت اور دوسرے اخراجات کے لئےکم آمدنی کی تشویش اور اسکول وں اور دیگر خدمت خلق کے کاموں کیلئے پیسہ خرچ کرنے کااظہار کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ خدا جس کا میں اتنا کام کر رہا ہوں وہ میرے گھر کے خام مکانات کی حفاظت نہیں کرے گا؟

آپ کی غرباء پروری کے متعلق آپ کے بیٹے مکرم عبد الرحیم صاحب مرحوم کچھ یوں ذکر کرتے ہیں:
ایک دفعہ ایک جاٹ زمیندار جو احمدی تھا ہمارے ہاں جمعہ پڑھنے کے لئے آیا جو کہ اپنے گاؤں میں اکیلا احمدی تھا اور غریب تھا دھوپ میں گھبرایا ہوا آیا اس کے پاؤں پر مٹی دھول پڑی ہوئی تھی اور لباس بہت سادہ تھا آپ نے جھٹ اس کے لئے عمدہ بستر بچھا دیا اور تواضع کا خاص اہتمام کیامیں نے کہا اباجی یہ کیا کیا آپ کا ایک دری بچھا دینا کافی تھا، آپ نے فرمایا کبھی غریب لوگوں کو بھی عمدہ بستر پر سلانا چاہئے اس سے زیادہ ثواب ہوتا ہےامیر لوگ تو ہر روز عمدہ کھانا کھاتے ہیں اور عمدہ بستروں پر سوتے ہیں دوسرے یہ اکیلے ہی اپنے گاؤں میں احمدی ہیں تمام گاؤں کے لوگ نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ہم بھی ان کی خاطر مدارت اور عزت نہیں کریں گے تو ان کے دل پر کیا اثر ہوگا غرض آپ نے دو تین قسم کا عمدہ کھانا تیار کر اکر اسے کھلایا اور ہر ممکن طریق سے آرام پہنچایا۔

آپ احکام شریعت کی سختی سے پابندی کرتےاور کرواتے تھے۔کسی ایسے تقریب میں شامل نہ ہوا کرتے جس میں باجا، ڈھول، ناچ گانا یا اور کسی قسم کا تماشا ہو، آپ کسی قسم کا تماشا نہیں دیکھتے اور نہ کسی میلہ وغیرہ میں جاتے۔ جب آپ غیر احمدی تھے اس وقت بھی آپ اس قسم کی لغویات سے اجتناب فرماتے۔

اسی ضمن میں عبد الرحیم صاحب مرحوم اپنے والد صاحب کا ایک واقعہ تحریر کرتے ہیں کہ:
’’میری اور میرے چھوٹے بھائی عبد المومن کی شادی پر گردو نواح کے احمدیوں کو آپ نے دعوت ولیمہ پر مدعو کیا۔ انہوں نے آپ کو نیوتہ دینا چاہا۔ آپ نے فرمایا میں نے آپ کو اس لئے تو نہیں بلایا تھا کہ ہمارے ہاں آکر قیمتاً کھانا کھاؤ۔ میں تو ایسی رسوم کو توڑنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تو آئندہ آپ کے اور ہمارے تعلقات قائم نہیں رہیں گے۔ ہم آپ کو کس طرح بلائیں گے۔ آپ نے جواب دیا کہ میں نے آپ کو آپ سے کچھ لینےکے لئے نہیں بلایا۔ آپ بھی مجھ کو کچھ لینے کی غرض سے نہ بلائیں۔ اگر میں آپ کی کسی دعوت میں بغیر کسی معقول عذر کے نہ آؤں تو مجھے آپ الزام دیں۔ آپ نے کسی سے نیوتہ نہیں لیا اور نہ کوئی کام رسمی طور پر کیا۔‘‘

جب آپ بستر مرگ پر تھے آپ نے ناظر دعوت و تبلیغ کو خط لکھا کہ میں کانٹا لگنے کی وجہ سے بیمار ہوں اور چلنے پھرنے سے بھی معذور ہوگیا ہوں۔ لہذا مجھے تین ماہ کی رخصت عطا فرمائی جاوے آپ کا نہایت ہی مشکور ہوں گا، جبکہ آپ مرکز سے کوئی تنخواہ نہیں لیتے تھے لیکن پھر بھی آپ نے چھٹی لینی ہی مناسب سمجھی اور معذرت بیان کی آپ نے اپنا فرض سمجھا کہ وفات بھی سلسلے کے کام کرتے ہوئے ہی ہو۔

حضرت مولانا ابو العطاء جالندھری صاحب آپؓ کے سادہ مزاج ہونے کا ذکر کرتے ہیں کہ:
’’آپ بہت ہی منکسر المزاج اور متواضع واقع ہوئے تھے۔اس موضوع میں اگر میں یہ کہوں۔ کہ وہ بہت سے مخلصین سے بھی آگے تھے تو اس میں ذرہ بھر بھی مبالغہ نہیں۔ ان کی مومنانہ سادگی اور انکسار کو دیکھ کر نا واقف آدمی خیال بھی نہ کر سکتا تھا۔ کہ آپ راجپوت ہیں۔ کبر، انانیت اور بڑائی کا احساس تک نہ تھا۔ ہر انسان سے خندہ پیشانی اور محبت سے پیش آتے تھے اور جہاں تک ان کے بس میں ہوتا ہر محتاج کی مدد کرتے۔‘‘

آپؓ روپڑ کے دعوت الی اللہ کے دورے سے واپس آرہے تھے کہ پاؤں میں کانٹا لگا۔ یہ زخم اتنا بڑھ گیا کہ کہ بالآخر 19؍اکتوبر 1931ء کو کاٹھگڑھ میں 48 سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جاملے۔ تاریخ احمدیت میں آپ کا نام ’’جلیل القدر صحابہ کا انتقال‘‘ کے عنوان کے ذیل میں کچھ یوں لکھا ہے۔

’’چوہدری عبد السلام صاحب کاٹھگڑھی (تاریخ وفات 19؍اکتوبر 1931ء)‘‘

حضرت زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحبؓ (خلیفہ رابعؒ کے ماموں) سابق ناظر دعوت الی اللہ آپؓ کی وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ:
’’بلا ریب میں اس امر کی شہادت دیتا ہوں کہ مرحوم کو تبلیغ احمدیت کا فکر اور اہتمام اس نظارت کے کارکنوں سے کسی طرح بھی کم نہ تھا۔ بلکہ ان کا جوش کچھ بڑھا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ پرسوں مجھے اطلاع دیتے ہیں کہ ان کا پاؤں زخمی ہوگیا ہے اور اب وہ لاچار بستر پر پڑے ہیں۔ تین ماہ کی رخصت دی جائے۔ منان صاحب ان کے قائمقام ہوں گے۔ مگر یہ علم نہ تھا کہ وہ ہم سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہو رہے ہیں اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ۔ کیا کاٹھگڑھ کی زمین میں کوئی ان کا جانشین میدانِ تبلیغ میں کھڑا نہ ہوگا۔ میرے وہ بازو تھے جو نہ معلوم کب ملے۔‘‘

آخر میں خاکسار دعا گو ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چل کر خداتعالی کی رضا پانے اور خلافت کا حقیقی معنوں میں تابع بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

(اعزاز احمد طاہر)

پچھلا پڑھیں

ریشہ دار (فائبر والی) غذاؤں کی افادیت اور ذرائع

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 دسمبر 2022