• 20 جولائی, 2024

دعا کا تحفہ

بوقت وفات دُعا

حضرت امّ سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابو سلمہؓ کی وفات کے موقع پر تشریف لائے تو ابھی اُن کی آنکھیں کھلی تھیں آپؐ نے ان کی آنکھیں بند کیں اور جو لوگ اس موقع پر واویلا کر رہے تھے اُن کو فرمایا یہ وقت دُعائے خیر کا ہے کیونکہ فرشتے بھی اس وقت دُعا پر آمین کہہ رہے ہیں۔ پھر آپ نے یہ دُعا کی:

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِاَبِیْ سَلَمَۃَ وَارْفَعْ دَرَجَتَہٗ فِیْ الْمَھْدِیِّینَ وَاخْلُفہُ فِیْ عَقِبِہٖ فِیْ الْغَابِرِیْنَ وَاغْفِر لَنَا وَلَہٗ یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ وَافْسَحْ لَہٗ فِیْ قَبْرِہٖ وَ نَوِّر لَہٗ فِیہ

(صحیح مسلم کتاب الجنائز)

ترجمہ: اے اللہ! ابو سلمہؓ کو بخش دے اور اس کے درجے ہدایت یافتہ لوگوں میں بلند کر اور اس کے پیچھے رہ جانے والوں میں اچھے جانشین بنا اور اے ربّ العالمین! اسے اور ہمیں بخش دے۔ اس کی قبر کشادہ کر دے۔ اس میں اس کیلئے نور پیدا فرما۔ (’’ابوسلمہ‘‘ کی جگہ وفات یافتہ کا نام لیا جائے گا)

(مناجات رسولؐ از خزینۃ الدعا مرتبہ علامہ ایچ ایم طارق ایڈیشن2014ء صفحہ12)

(مرسلہ: عائشہ چوہدری۔ جرمنی)

پچھلا پڑھیں

خطبہ ثانیہ کی اہمیت اور اس میں بیان شدہ سنہری اسباق

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 فروری 2023