• 11 اگست, 2020

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ مورخہ 28 فروری 2020ء

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ مورخہ 28 فروری 2020ء بمقام مسجد مبارک ٹلفورڈ یوکے کا خلاصہ

آنحضرت ؐ سے عشق و محبت رکھنے والے اخلاص و وفا کے پیکر بدری صحابیحضرت مصعب بن عمیرؓ کی سیرت کا دلنشیں تذکرہ

حضرت مصعبؓ پہلے مبلغ اسلام تھےجن کی تبلیغ سے بہت سے افراد مسلمان ہوئے

حضرت مصعب بن عمیرؓ کو دو ہجرتیں کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ آپؓ نے پہلے حبشہ اور بعد میں مدینہ کی طرف ہجرت کی

حضرت مصعب بن عمیر ؓ نے اسلام کی خاطر بہت قربانیاں پیش کیں آپؓ جلیل القدر صحابہؓ میں سے تھے اور ابتدا میں ہی اسلام قبول کرنے والے سابقین میں شامل تھے

مکرم ملک منور احمد جاوید نائب ناظر ضیافت اور مکرم پروفیسر منور شمیم خالد کی وفات پر مرحومین کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب

خلاصہ خطبہ جمعہ

سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح ا لخامس ایدہ ا للہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنےمورخہ28 فروری 2020ء کو مسجد مبارک، اسلا آباد ٹلفورڈ یو کے میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جو کہ مختلف زبانوں میں تراجم کے ساتھ ایم ٹی اےانٹر نیشنل پر براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا ۔ حضور انور نے فرمایا: آج جن صحابی کا ذکر ہو گا ان کا نام ہے حضرت مصعب بن عمیرؓ۔ ان کا تعلق قریش کے قبیلہ بنو عبدالدار سے تھا۔ آپؓ کی کنیت ابو عبداللہ تھی اس کے علاوہ ابو محمد بھی بیان کی جاتی ہے۔ حضرت مصعبؓ کے والد کا نام عمیر بن ہاشم اور ان کی والدہ کا نام خناس یا حناس بنت مالک تھا جو مکہ کی ایک مالدار خاتون تھی۔ حضرت مصعب بن عمیر ؓکے والدین ان سے بہت محبت کرتے تھے۔ حضرت مصعب بن عمیرؓ کی والدہ نے ان کی پرورش بڑے ناز و نعم سے کی۔ وہ انہیں بہترین پوشاک اور اعلیٰ لباس پہناتی تھیں اور حضرت مصعبؓ مکہ کی اعلیٰ درجہ کی خوشبو استعمال کرتے اور حضرمی جوتا جو حضرموت کے علاقے کا بنا ہوتا تھا امیر لوگوں کے لئے مخصوص تھا ،وہاں کا پہنا کرتے تھے وہاں سے منگوا کے۔ حضرت مصعب بن عمیرؓ کی بیوی کا نام حمنہ بنت جحش تھا جو رسول اللہ ﷺ کی زوجہ مطہرہ ام المؤمنین حضرت زینب بنت جحشؓ کی بہن تھیں۔ ان سے ایک بیٹی زینب پیدا ہوئیں۔ رسول اللہ ﷺ حضرت مصعب بن عمیرؓ کو یاد کرتے تو فرمایا کرتے تھے کہ میں نے مصعب سے زیادہ حسین و جمیل اور نازونعمت اور آسائش میں پروردہ کوئی شخص نہیں دیکھا۔

حضور انور نے فرمایا : حضرت مصعب بن عمیرؓ جلیل القدر صحابہؓ میں سے تھے اور ابتدا میں ہی اسلام قبول کرنے والے سابقین میں شامل تھے۔ رسول اللہ ﷺ جب دارِ ارقم میں تبلیغ کیا کرتے تھے اس وقت آپؓ نے اسلام قبول کیا لیکن اپنی والدہ اور قوم کی مخالفت کے اندیشہ سے اسے مخفی رکھا۔ حضرت مصعبؓ چھپ کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے۔ ایک دفعہ عثمان بن طلحہ نے انہیں نماز پڑھتے دیکھ لیا اور ان کے گھر والوں اور والدہ کو خبر کر دی۔ والدین نے ان کو قید کر دیا۔ آپؓ قید میں ہی رہے یہاں تک کہ ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے۔ کچھ عرصہ بعد بعض مہاجرین حبشہ سے مکہ واپس آئے تو حضرت مصعب بن عمیرؓ بھی ان میں شامل تھے۔ آپؓ کی والدہ نے جب آپؓ کی حالت زار دیکھی تو آئندہ سے مخالفت ترک کر دی اور بیٹے کو اس کے حال پر چھوڑ دیا۔

حضور انور نے فرمایا : حضرت مصعب بن عمیرؓ کو دو ہجرتیں کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ آپؓ نے پہلے حبشہ اور بعد میں مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مصعب بن عمیرؓ کو مَیں نے آسائش کے زمانے میں بھی دیکھا اور مسلمان ہونے کے بعد بھی۔ اسلام کی خاطر انہوں نے اتنے دُکھ جھیلے کہ میں نے دیکھا کہ اُن کے جسم سے جِلداس طرح اُترنے لگی تھی جیسے سانپ کی کینچلی اُترتی ہے اور نئی جِلد آتی ہے ۔یہ قربانی کے ایسے ایسے معیار تھے جو حیرت انگیز ہیں۔ایک روز مصعب بن عمیر ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے جب آپؐ اپنے صحابہؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اس وقت حضرت مصعبؓ کے پیوند شدہ کپڑوں میں چمڑے کی ٹاکیاں لگی ہوئی تھیں۔ کہاں تو وہ کہ اعلیٰ درجہ کا لباس اور کہاں مسلمان ہونے کے بعد یہ حالت کہ چمڑے کے پیوند لگے ہوئے تھے۔ صحابہؓ نے حضرت مصعبؓ کو دیکھا تو سر جھکا لئے کہ وہ بھی حضرت مصعب بن عمیرؓ کی تبدیلی حالت میں کوئی مدد نہیں کر سکتے تھے۔ حضرت مصعب بن عمیرؓ نے آ کر سلام کیا آنحضرت ﷺ نے اس کا جواب دیا اور اس کی احسن رنگ میں ثناء بیان فرمائی پھر فرمایا کہ الحمد للہ دُنیا داروں کو اُن کی دُنیا نصیب ہو۔ مَیں نے مصعب کو اس زمانے میں دیکھا ہے جب شہر مکہ میں اس سے بڑھ کر صاحبِ ثروت و نعمت کوئی نہ تھا۔ یہ ماں باپ کی عزیز ترین اولاد تھی مگر خدا اور اُس کے رسول کی محبت نے اُسے آج اس حال تک پہنچایا ہے اور اُس نے وہ سب کچھ خدا اور اُس کی رضا کی خاطر چھوڑ دیا ہے۔ حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت مصعب بن عمیرؓ آئے اُن کے بدن پر چمڑے کی پیوند لگی ہوئی ایک چادر تھی جب رسول اللہ ﷺ نے اُنہیں دیکھا تو اُن کی اُس ناز ونعمت کو یاد کر کے رونے لگے جس میں وہ پہلے تھے اور جس حالت میں وہ اب تھے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا حال ہو گا تمہارا اس وقت جبکہ تم میں سے ایک شخص ایک جوڑے میں صبح کرے گا تو دوسرے جوڑے میں شام کرے گا یعنی اتنی فراخی پیدا ہو جائے گی کہ صبح شام تم کپڑے بدلا کرو گے اور پھر آپؐ نے فرمایا کہ اُس کے سامنے ایک برتن کھانے کا رکھا جائے گا تو دوسرا اُٹھایا جائے گا یعنی کھانا بھی قسم قسم کا ہو گا اور مختلف کورسز سامنے آتے جائیں گے جس طرح آج رواج ہے اور تم اپنے مکانوں میں ایسے ہی پردے ڈالو گے جیسا کہ کعبہ پر پردہ ڈالا جاتا ہے۔ بڑے قیمتی قسم کے پردے استعمال کئے جائیں گے۔ بالکل آج کل کے نظارے ہیں یہ یا اس کشائش کے نظارے جب مسلمانوں کو بعد میں ملی وہ کشائش۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ ! کیا ہم اُس وقت آج سے بہت اچھے ہوں گے اور عبادت کے لئے فارغ ہوں گے۔ ایسی فراخی ہو گی ایسے حالات ہوں گے تو پھر عبادت کے لئے فارغ ہوں گے بالکل اور محنت اور مشقت سے بچ جائیں گے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:نہیں بلکہ تم آج کے دن اُن دنوں سے بہتر ہو ۔ تمہاری حالت تمہاری عبادتیں تمہارے معیار اس سے بہت بلند ہیں جو بعد میں آنے والوں کو کشائش کی صورت میں ہوں گے۔

سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمدؓ نے ہجرت حبشہ کے بارے میں لکھا ہے کہ آنحضرتﷺ کے فرمانے پر ماہ رجب 5 نبوی میں11 مرد اور 4 عورتوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ ان میں حضرت مصعب بن عمیر ؓ بھی تھے۔ آپ لکھتے ہیں کہ بیعت عقبہ اولیٰ کے موقع پر مدینہ سے آئے ہوئے 12 افراد نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ جب یہ لوگ واپس مدینہ جانے لگے تو نبی کریم ﷺ نے حضرت مصعب بن عمیر ؓ کو اُن کے ساتھ بھجوایا تا کہ وہ انہیں قرآن پڑھائیں ا ور اسلام کی تعلیم دیں۔ مدینہ میں آپؓ قاری اور مقری استاد کے نام سے مشہور ہو گئے۔ مدینہ میں حضرت مصعبؓ نے حضرت اسعد بن زرارةؓ کے گھر قیام کیا۔ آپؓ نمازوں میں امامت کے فرائض بھی انجام دیتے تھے۔ حضرت مصعبؓ ایک عرصہ تک حضرت اسعد بن زرارة ؓکے گھر قیام پذیر رہے لیکن بعد میں حضرت سعد بن معاذؓ کے گھر منتقل ہو گئے۔ حضرت براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے مہاجر صحابہؓ میں سب سے پہلے ہمارے پاس مدینہ تشریف لانے والے مصعب بن عمیرؓ اور ابن ام مکتومؓ تھے۔ مدینہ پہنچ کر ان دونوں صحابہؓ نے ہمیں قرآن مجید پڑھانا شروع کر دیا پھر عمار ؓ، بلال ؓ اور سعد ؓ آئے اور حضرت عمر بن خطاب ؓ بھی صحابہؓ کو ساتھ لے کر آئے، اس کے بعد نبی کریم ﷺ تشریف لائے۔ کہتے ہیں کہ میں نے کبھی مدینہ والوں کو اتنا خوش ہونے والا نہیں دیکھا تھا جتنا وہ نبی کریم ﷺ کی آمد پر خوش ہوئے تھے بچیاں اور بچے بھی کہنے لگے تھے کہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں، ہمارے یہاں تشریف لائے ہیں۔ سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمدؓ حضرت مصعب بن عمیر ؓکے بارے میں مزید بیان کرتے ہیں کہ دارِ ارقم میں جو اشخاص ایمان لائے وہ بھی سابقین میں شمارہوتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ مشہور یہ ہیں۔ اول مصعب بن عمیر ؓ جو بنو عبدالدار میں سے تھے اور بہت شکیل اور حسین تھے اور اپنے خاندان میں نہایت عزیز و محبوب سمجھے جاتے تھے ،یہ وہی نوجوان بزرگ ہیں جو ہجرت سے قبل یثرب میں پہلے اسلامی مبلغ بنا کر بھیجے گئے اور جن کے ذریعہ مدینہ میں اسلام پھیلا۔پھر ایک سیرت کی کتاب میں لکھا ہے کہ حضرت مصعب بن عمیرؓمدینہ میں پہلے شخص تھے جنہوں نے ہجرت سے قبل جمعہ پڑھایا۔

حضرت مصعب ؓ نے بیعت عقبہ ثانیہ سے قبل رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں مدینہ میں نماز جمعہ کے لئے اجازت طلب کی ،حضور ﷺ نے اجازت دی۔ حضرت مصعب بن عمیرؓ نے مدینہ میں حضرت سعد بن خیثمہؓ کے گھر پہلا جمعہ پڑھایا۔ اس میں مدینہ کے12 افراد شامل ہوئے۔ اس موقع پر انہوں نے ایک بکری ذبح کی۔ حضرت مصعب بن عمیرؓ اسلام میں پہلے شخص تھے جنہوں نے جمعہ کی نماز پڑھائی۔ لیکن ایک روایت دوسری بھی ہے جس کے مطابق حضرت ابوعمامہ اسعد بن زرارةؓ تھے جنہوں نے مدینہ میں پہلا جمعہ پڑھایا۔ بہرحال حضرت مصعبؓ پہلے مبلغ تھے۔ حضرت مصعب ؓ حضرت اسعد بن زرارةؓ کو ساتھ لے کر انصار کے مختلف محلّوں میں تبلیغ کی غرض سے جاتے تھے۔ حضرت مصعبؓ کی تبلیغ سے بہت سے صحابہؓ مسلمان ہوئے جن میں کبائر صحابہ مثلاً حضرت سعد بن معاذؓ ، حضرت عباد بن بشرؓ، حضرت محمد بن مسلمہؓ، حضرت اسید بن حضیرؓ وغیرہ شامل تھے۔ حضور انور نےحضرت مصعبؓ کی تبلیغی مساعی اور کوششوں کا ذکر کیا اورفرمایا کہ سعد بن معاذؓ اوراسید بن الحضیرؓ نے اسلام قبول کرنے کے بعد دونوں نے مل کر خود اپنے ہاتھ سے اپنی قوم کے بت نکال کر توڑے۔حضرت مصعب ؓ کی تبلیغ سے بہت سے افراد مسلمان ہوئے۔ حضور انور نے فرمایا:حضرت مصعب بن عمیر ؓکے ذکر میں مزید ابھی ذکر بھی ہے جاری رہے گا۔ انشاء اللہ آئندہ خطبہ میں بیان ہو گا۔

حضور انور نے خطبہ کے آخر پردو مرحومین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: مکرم ملک منور احمد جاوید ابن مکرم ملک مظفر احمد 22فروری کو 84 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ ملک منور احمد جاوید کے دادا حضرت ڈاکٹر ظفر چوہدری تھے اور ان کے نانا حضرت شیخ عبدالکریم تھے جن کا تعلق غازی پور ضلع گورداسپور سے تھا اور دادا جو تھے وہ دھرم کوٹ رندھاوا کے تھے۔ دونوں بزرگوں نے یعنی دادا اور نانا نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی اور صحابیت کا شرف پایا۔

آپ نےاپنی زندگی وقف کر دی تھی۔ 18اگست 1983ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نےآپ کا وقف منظور فرمایا ۔ 28اگست 1983ء کوآپ کا ابتدائی تقرر وکالت صنعت و تجارت میں ہوا تھا۔ وقف سے قبل آپ نے ابتدائی16 سال سیکرٹریٹ حکومت پنجاب میں سروس کی، اس کے بعد تقریباً 10سال ذاتی کاروبار کرتے رہے۔ نومبر 1983ء میں آپ مینیجر رسالہ ریویو آف ریلیجنز مقرر ہوئے۔ 84ء میں معاون ناظر ضیافت مقرر ہوئے۔ 20اپریل 1983ء سے جولائی 2016ء تک بطور نائب ناظر ضیافت فرائض ادا کرنے کی توفیق ملی۔ 1990ء میں کمیٹی کفالت یکصد یتامیٰ کے جب قائم ہوئی کفالت یکصد یتامی کی کمیٹی تو اس کے پہلے سیکرٹری مقرر ہوئے اور قریباً 20 سال تک اس خدمت کی توفیق ملی آپ کو۔ خدام الاحمدیہ پاکستان میں 1968ء سے 1970ء تک مجلس خدام الاحمدیہ میں بطور قائد ضلع اور علاقہ لاہور رہے اور یہ تقریباً 10 سال کا عرصہ خدمت کا بنتا ہے۔ انصار اللہ میں 84ء سے 14ء تک ان کو خدمت کا موقع ملا۔ 84ء سے 14ء تک 31 سال تک انصار اللہ پاکستان میں قائد تحریک جدید ،قائد تربیت اور قائداشاعت اور پھر یہ آخری5 سال نائب صدر مجلس انصار اللہ پاکستان خدمت کی توفیق ملی۔

ملک منور احمد جاوید صاحب اعلیٰ درجہ کی انتظامی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ راتوں کو اٹھ کر دارالضیافت کا چکر لگاتے، کارکنوں سے جائزہ لیتے اور موسم کے مطابق اُن کے لئے چائے اور انڈوں وغیرہ کا انتظام کرواتے۔ کارکنان دارالضیافت سے اُن کا بہت محبت شفقت اور ہمدردی کا سلوک تھاہر کارکن کے گھریلو افراد سے باخبر رہتے اور خاموشی سے ہر ممکن مالی مدد بھی کرتے۔ بعض دفعہ دارالضیافت میں رَش زیادہ ہونے کی صورت میں مہمانوں کو رہائش کی مشکلات پیش آتی تھیں اور بعض مہمان تو سرعام اور دفتر میں آ کر بھی بعض دفعہ سخت جملے اور الفاظ کہہ دیتے تھے مگر مرحوم بڑی خندہ پیشانی سے تمام بات سنتے ۔ فرمایا: بعض دفعہ مہمان بھی زیادتی کر جاتے ہیں مجھے بھی شکایتیں آتی ہیں کہ جی دارالضیافت میں یہ سلوک ہوا وہ سلوک ہوا لیکن تحقیق کرو تو پتا لگتا ہے کہ مہمانوں میں بھی صبر نہیں ہے۔ ٹھیک ہے ہمیں اُن کی عزت کرنی چاہئے ہمارے شعبہ کو لیکن مہمانوں کو بھی چاہئے کہ اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کریں اور جب ایسی صورتحال ہو بعض دفعہ تو انتظامیہ سے تعاون کرنے کی کوشش کیا کریں۔ بہرحال ملک صاحب نے اپنے وقف کا حق ادا کر دیا اور جب میں ناظر اعلیٰ تھا تو اس وقت ناظر ضیافت بھی تھا میں اور یہ نائب ناظر ضیافت تھے اور میں نے دیکھا ہے کہ جماعتی اموال کی بڑی درد سے فکر رکھتے تھے اور حق بات کہنے سے کبھی نہیں رکتے تھے اور یہی خوبی ہے جو ہر واقف زندگی میں ہونی چاہئے کہ اپنی رائے کو ادب کا لحاظ رکھتے ہوئے صحیح طرح پیش کریں۔ خلافت سے وفا کا تعلق تو بہت بلند تھا جس کا اظہار ان کے ہر خط سے ہوتا تھا اور ہر ملاقات سے جب بھی وہ ملے مجھ سے دو دفعہ ملے ہیں اندازہ ہوتا تھا اس کا۔اللہ تعالیٰ ان سے رحم اور مغفرت کا سلوک فرمائے ان کے درجات بلند فرمائے ۔

فرمایا:دوسرا جنازہ مکرم پروفیسر منور شمیم خالد ابن شیخ محبوب عالم خالد کا ہے جو 16فروری 2020ء کو ربوہ میں تقریباً 81سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ ان کے والد شیخ محبوب عالم خالد تھے جو پہلے ٹی۔آئی کالج میں پروفیسر تھے پھر حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے ان کو ناظر بیت المال آمد بنایا بڑالمبا عرصہ یہ ناظر بیت المال آمد رہے پھر صدر صدر انجمن احمدیہ کا تقرر کیا حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے ان کا۔ یہ شمیم خالد ان کے سب سے بڑے بیٹے تھے ۔ 1964ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے منور شمیم خالد کا نکاح مسجد مبارک میں پڑھایا تھا اور اس موقع پر خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے یہ بھی فقرہ کہا کہ پروفیسر منور شمیم خالد جو میرے گہرے دوست پروفیسر محبوب عالم خالد صاحب کے بیٹے ہیں مجھے اپنے بیٹوں کی طرح عزیز ہیں۔ بہت تعلق تھا خلیفۃالمسیح الثالثؒ کا ان کے والد صاحب کے ساتھ بھی۔ مجلس انصار اللہ مرکزیہ پاکستان میں ان کی خدمات کا سلسلہ 28 سال پر محیط ہے۔ منور شمیم خالد بیشمار خوبیوں کے مالک تھے ۔ خلیفۂ وقت سے والہانہ محبت اور عقیدت اور اطاعت تھی اور خطبات بہت غور سے سنتے تھے اور پھر بڑے نکات نکالا کرتے تھے۔ پابند صوم و صلوة ،تہجد گزار، باجماعت پنجوقتہ نماز کے پابند ۔ خدمت دین میں اخلاص و وفا اور محنت نمایاں خوبیاں تھیں ان کی۔ بڑی خاموشی سے خدمت کرنے والے تھے نہایت شفیق باوفا اور محبت سے پیش آنے والے وجود تھے ۔ نظام خلافت اور نظام جماعت کے انتہائی درجہ پابندی کرنے والے اور اطاعت کرنے والے تھے اور خلافت کے بعد بھی ان کے تعلق کا جو اظہار تھا وہ غیر معمولی تھا۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ اپنے پیاروں کے قدموں میں جگہ دے ۔حضور انور نےنماز جمعہ کے بعد ان دونوں مرحومین کی نماز جنازہ غائب پڑھانےکا بھی اعلان فرمایا۔


پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 29 فروری 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ