• 25 مئی, 2020

جماعت احمدیہ برکینا فاسو کی کتابی میلہ F.I.L.O میں شرکت

جماعت احمدیہ عالمگیر کو الحمدللہ حضرت مسیح موعودؑ کے الہام

’’میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاوں گا‘‘

کو پورا کرنے میں بھرپور خدمت کی توفیق عطا ہو رہی ہےیہ مقصد کہیں جامعات کے قیام اور مبلغین اور مربیان کی تیاری کے ذریعہ تو کہیں اسلام کی حقیقی تعلیمات بیان فرمودہ حضرت مسیح موعود ؑ بصورت آپ کے پیش کردہ لٹریچر کوہر جگہ پہنچا کر حاصل کیا جا رہا ہے ۔اس بدلتے زمانہ میں بدلتے طریقوں کے ساتھ ساتھ جماعت کو خلافت احمدیہ کے زیر سایہ نت نئے تبلیغ کے طریق اور راہیں اپنانے کی راہنمائی ہر آن میسر آتی رہتی ہے اسی لیے دنیا کے کسی بھی کونے میں کوئی بھی ایسا موقع میسر آتا ہے تو جماعت اس کو غنیمت جان کر اس میں بھرپور شمولیت کو یقینی بناتی ہے اور پھر خدا تعالٰی کے فضل اور خلیفة المسیح کی دعاؤں سے خدا اس ادنیٰ سی کوشش میں ہی اتنی برکت ڈال دیتاہے کہ ایک کثیر التعداد عوام تک احمدیت یعنی حقیقی اسلا م کا پیغام پہنچانے کا ایک سبب بن جاتا ہے اور پھر سعید روحوں کو قبولیت حق کی توفیق بھی عطا ہو جاتی ہے ۔

FOIRE INTERNATIONALE DU LIVRE DE OUAGADOUGOU

کتابی میلہ یعنی F.I.L.O کا پندرہواں ایڈیشن امسال 21 تا 24 نومبر2019ء جو برکینا فاسو کے دارالحکومت آواگا ڈوگو میں منعقد ہوا امسال اس کا عنوان

literature and the promotion of peace and security

تھا ۔جماعت احمدیہ برکینا فاسو کو اس میلہ میں ایک عرصہ سے بک سٹال لگانے کی توفیق مل رہی ہےاس لیے اب تو انتظامیہ بھی نام سے جان گئی ہے اور بروقت ہی رابطہ کر کے ایک اچھی جگہ پر بڑا سٹال بک کروانے کے لیے یاد دہانی کروا دیتی ہے ۔اسی وجہ سے امسال جماعت احمدیہ برکینا فاسو کو بالکل سامنے اور ایک نسبتاً بڑا سٹال میسر آ گیا یہ ایک بہترین جگہ تھی کیونکہv.i p مہمانان کے داخل ہونے اور نکلنے کے راستہ کی دائیں طرف ان کے لیے v.i.p انتظار گاہوں کا انتظام تھا جبکہ اس کے بالکل سامنے پہلا سٹال جماعت احمدیہ برکینا فاسو کا تھا جس کو کونے پر واقع ہونے کی وجہ سے ایک اور یہ بھی فائدہ تھا کہ یہ دو طرفہ راستوں کے بالکل وسط میں پڑتا تھا ،اور ہر گزرنے والے کی توجہ کا مرکز بنتا تھا۔

جماعت احمدیہ برکینا فاسو کے سٹال کے سامنے والے حصہ کو لکڑی کے فریم جوڑ کر دیدہ زیب طریقہ سے ایک خوبصورت فرنٹ دیا گیا تھا اور اس کتابی میلہ کے عنوان “امن”کے عین مطابق اس فرنٹ کو کور کرنے کے لیے ڈیزائن کے طور پر حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی معرکة الآراء کتاب عالمی بحران اور امن کی راہ کا ٹائیٹل ڈیزائن بغیر کسی تبدیلی کے فلیکس پر بڑے سائز میں پرنٹ کر کے لگایا گیا تھا جوکہ نہ صرف موضوع سے انصاف کرتا تھا بلکہ سٹال کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہا تھا۔ ابھی جب سٹال تیاری کے مراحل میں ہی تھا تو انتظامیہ کے کارکنان چیکنگ کے لیے بار بار آتے تھے جب وہ جماعت کے سٹال کے سامنے سے گزرے تو اسی کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے کہ یہ میلہ کے عنوان کے مطابق بہترین موضوع اور ڈیزائن تیار کیا گیا ہے ۔

اس سٹال کو جیسا کہ دو طرفہ راستہ لگتا تھا اس لیے سٹال کو اس طرح ترتیب دیا گیا تھا کہ لوگ سٹال کےایک طرف سے اندر آ کر کتب کو کھول کر دیکھ اور پڑھ سکیں اور دوسری جانب سے بآسانی باہر جا سکیں۔ اس سٹال کی تقسیم ایسی کی گئی تھی کہ نصف حصہ میں جماعت کے شائع کردہ مختلف زبانوں میں تراجم قرآن مجید کی نمائش لگائی گئی تھی اور نصف حصہ میں بقیہ جماعت کا لٹریچر موجود تھا ۔یہ قرآن نمائش اور خصوصاً اس طرز پر کہ لوگ خود آ کر قرآن کو ہاتھ لگا کر دیکھ سکتے تھے لوگوں کے لیےایک اچنبھاتھی ۔

جرنل ازم کی ایک طالبہ سٹال پر آئیں اور مختلف سوالات پوچھنے لگیں جب ان کو جماعت کا تعارف اور جماعت کی خدمت قران کے بارہ میں بتاتے ہوئے ان کے ہاتھ میں قرآن دیا گیا تو وہ بہت ہچکچائیں اور کہنے لگیں کہ میں مسلمان نہیں ہوں اور مسلمان کسی غیر مسلم کو قرآن کو ہاتھ لگانے نہیں دیتے اس پر ان کو جب بتایا گیا کہ اگر ہاتھ کی ظاہری صفائی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں اس پر وہ بہت حیران ہوئیں اور فرنچ ترجمہ قرآن کو کھول کر دیکھتی رہیں اورجماعت سے رابطہ رکھنے کے لیے معلومات لے کر گئیں کہ وہ آئندہ ضرور رابطہ میں رہیں گی۔

سٹال کے باہر کی طرف دونوں راستوں کو بھی بروئے کار لاتے ہوئے ان پر حضرت مسیح موعود ؑ کی بڑے سائز کی تصاویر اور آپ کے اسلام کے امن پسند مذہب ہونے کے بارے میں ارشادات آویزاں کیے گئے تھے

جیسا کہ حضرت مسیح موعودؑ کو ایک الہام ہواجو کہ تذکرہ میں درج ہے کہ

فتح کا نقارہ بجے دیکھ کیا کہتی ہے تصویر تمہاری

بعینہ یہ تصویر خود ایک خلقت کو کھینچ کر لاتی تھی اور سکولوں کے بچے اور بچیاں بڑے شوق سے گروہ در گروہ اس تصویر کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنی تصاویر بناتے تھے اور تحریرات کو پڑھتے تھے ۔

یہ کتابی میلہ چار دن تک جاری رہا ۔اس کی افتتاحی اور اختتامی تقریب کے موقع پرمہمانان کی کثرت اور زیادہ لوگوں سے رابطہ کرنے کے لیےمکرم و محترم محمود ناصر ثاقب امیر و مشنری انچارج برکینا فاسو خود اوران دنوں لندن سے آئے ہوئے ایک مہمان سابق صدر انصار اللہ یوکے مکرم چوہدری وسیم احمد کے علاوہ سٹال پر مختلف مبلغین اور لوکل مشنریز کی ڈیوٹیاں لگی ہوئی تھیں اس کے علاوہ جامعة المبشرین برکینا فاسو کے طلباء نے بھی اس میں بھرپور خدمت کی توفیق پائی جو کہ پمفلٹ اور فلائرز تقسیم کرتے اور دلچسپی لینے والے مہمانان کو سٹال تک لے کر آتے اور اس کا دورہ کرواتے اور جماعت کا تعارف کرواتے ۔

منسٹرز۔ پارلیمنٹیرینز، مقامی چیفس اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کو جو کہ سٹال پر آ کر شوق کا اظہار کرتے ان کو حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالٰی بنصرہ العزیز کی کتاب عالمی بحران اور امن کی راہ کا فرنچ ترجمہ بطور تحفہ کے بھی دی جاتی جس سے وہ ایک دیدہ زیب کتاب حاصل کر کے بہت خوش ہوتے ۔اس سٹال کے ذریعہ سے دو ہزار سے زائد پمفلٹ اور فلائرزتقسیم کیے گئے اور ایک بڑی تعداد میں فرنچ ترجمہ قرآن اور بقیہ جماعتی کتب بھی فروخت کی گئیں ۔

اللہ تعالیٰ کرے کہ جماعت احمدیہ برکینا فاسو کی یہ ادنیٰ سی کاوش خداکے ہاں قبول ہو اور اس قسم اَن گنت مواقع ہمیں آئندہ بھی میسر آتے رہیں اور ہم اس سے بھر پور فائدہ حاصل کر کے تبلیغ کا یہ ذریعہ بھی موثر طور پر استعمال کرکے سعید روحوں کو کھینچ لانےکا موجب بن سکیں ۔آمین

(محمد اظہار احمد راجہ۔برکینا فاسو)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 31 مارچ 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 اپریل 2020