• 25 ستمبر, 2020

بیماری یا سفر میں روزہ

فقہی مسائل

’’رمضان کے مہینے بعض اوقات بیمار اور مسافر بھی روزہ رکھ لیتے ہیں۔ آئیے اپنے نفس کا حقیقی محاسبہ کرتے ہوئے دیکھیں کہ ایسا کرنا واقعتاً خدا کے حکموں سے محبت کا نتیجہ ہے یا کہ پھر نفس کا ایک دھوکہ۔

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 19جنوری 1996ء میں فرماتے ہیں۔

وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ پس جو کوئی بھی مریض ہو یا سفر پر ہو فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ تو اسے دوسرے ایام میں اس عدت کو پورا کرنا ہو گا یعنی مریض ہو تو روزہ نہ ر کھے۔ سفر کے ساتھ یہ شرط نہیں لگائی کہ اگر سفر مشکل ہو تو روزہ نہ رکھے سفر آسان ہوتو رکھ لے۔ اس لئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اس آیت کی روسے یہ واضح فتویٰ تھا کہ روزے کی آسانی یا مشکل زیر بحث نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کی اطاعت ہی میں آسانی ہے اور اسی میں نیکی، اسی میں تقویٰ ہے۔ پس جب رمضان میں سفر آئے تو روزہ نہ رکھو اور جب رمضان گزر جائے تو جتنے روزے چھوٹ گئے ہیں فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ پھر دوسرے دنوں میں اس مدت کو پورا کر لیا کرو۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں یہ نیکی ہے کہ سفر میں بھی روزہ رکھ لیا جائے اور یہ زیادہ بہتر ہے حالانکہ بالکل غلط بات ہے۔ تمام روزہ رکھنے والے جانتے ہیں کہ رمضان کے مہینے میں روزے آسان ہوجاتے ہیں کیونکہ سارے ہی رکھ رہے ہوتے ہیں۔ اس لئے نفس کا بہانہ ہوتا ہے کہ میں نیکی کر کے سفر میں روزے رکھ رہا ہوں۔ نفس بعض دفعہ دھوکہ دیتا ہے۔امر واقعہ یہ ہےکہ سفر کے دوران رمضان میں روزے رکھ لئے جائیں تو وہ آسان ہیں۔ رمضان گزرنے کے بعد پھر وہ روزے پورے کئے جائیں تو یہ مشکل ہے۔تو وہ اپنی طرف سے نیکی کر رہا ہوتا ہے، حالانکہ نفس کے بہانے کے تابع وہ خود دھوکہ کھا رہا ہوتا ہے۔نیکی تنگی یا مشکل میں نہیں ہے۔ نیکی اللہ تعالیٰ کی رضا میں ہے۔ جس بات کا اللہ حکم دے اسے قبول کرو جس کی وہ اجازت دے شوق سے اس اجازت کو استعمال کرو اور یہی انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔ بعض دفعہ کسی کو آپ کوئی چیز دیتے ہیں بعض بچےآتے ہیں کہ نہیں نہیں رہنے دیں، کوئی ضرورت نہیں، میں نے دیکھا ہے ماں باپ کی لگتا ہے جان نکل گئی ہے، فکرسے وہ ڈا نٹتے ہیں، ضرورت نہیں کیا مطلب لے لو تمہیں خدا نے توفیق دی ہے تمہیں کچھ انعام دیا جا رہا ہے اسے ضائع مت کرو اور یہ انسانی فطرت کی آواز ہے کیونکہ وہ جو تکلف ہے جب کوئی دینے والا ایسا ہو، جس سے تمہیں پیار ہو یا جس کے لئے تمہارےدل میں عزت ہو اس کا کچھ عطا کرنا اگر تم قبول کرو تو اس کے لئے خوشی کا موجب ہوتا ہے اگر نہ قبول کرو تو اس کے چہرے پر ملال کے آثارآجاتے ہیں، اس کا دل چاہتا ہے میں دے رہا ہوں لے لے، اس کو بھی مزہ آئےمجھے بھی مزہ آئے۔

تو انسان کو خدا تعالیٰ نے اپنی فطرت کے مطابق پیدا فرمایا ہے۔ اس کا ایک یہ بھی معنی ہے اگر فطرت سچی اور پاک ہوتو اس کو دیکھ کر خدا کے منشاء کا بھی اندازہ ہو جاتا ہے۔ پس جہاں اللہ تعالیٰ رعایت دے رہا ہےوہاں نہیں نہیں ہم تو سختی کر سکتے ہیں، کوئی بات نہیں۔ یہ بہت بے وقوفی کی بات ہے اسی رعایت کو پیار اور محبت سے سر جھکا کر عشق کے جذبے سے قبول کرو۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تو چھ چھ مہینے کے مسلسل روزےرکھے ہیں اور ایسے روز سے لکھے ہیں جن میں صبح اور شام کی خوراک اتنی کم ہو چکی تھی کہ ایک عام انسان اس پر زندہ نہیں رہ سکتا اور اس کے باوجود عبادت کی سختیاں، تو اس کا فتویٰ ہےیہ، جس کی اپنی عبادتوں کا یہ حال تھا جس کا مطلب ہے کہ لازماً سراسر ایک عشق کے اعلیٰ مقام کا فتویٰ ہے۔ایک ایسے عارفانہ مقام کا فتویٰ ہے جو جانتا ہے کہ نیکی صرف رضا کے ساتھ تعلق رکھتی ہے جسم کی سختی کے ساتھ نہیں اور روزوں میں بھی جسمانی سختی خدا تعالیٰ کے پیش نظر ہے ہی نہیں اور بہت سی باتیں جو پیش نظر ہیں مگر تکالیف دینا خدا کے پیش نظر نہیں ہے۔ پس جب خدا فرماتا ہے کہ چھوڑ دو تو چھوڑ دو جب خدا کہتا ہے رکھو تو رکھو۔

پس فرمایا َمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا جو بیمار ہو أَوْ عَلَى سَفَرٍ یا سفر پر ہو فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَر پھر رمضان میں روزے نہ رکھنا بعد میں رکھ لینا۔ يُرِيدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ اس وہم میں مبتلا نہ ہو کہ سختی کرو گے تو خدا بہت خوش ہوگا۔ اپنی جان کو مصیبت میں ڈالا ہوا ہے تو اللہ بڑا راضی ہو گیا تم مصیبت میں پڑ گئے۔ اللہ تو تمہارے لئے آسانی چاہتا ہےسختی نہیں چاہتا اور کوئی دوست کسی دوست کے لئے سختی نہیں چاہتا۔ کوئی ماں کسی بچے کے لئے سختی نہیں چاہتی۔ پس یہ مفہوم بھی ہے جو سمجھنے سے تعلق رکھتا ہے اس کے باوجود ماں صبح جلدی بچے کو اٹھا کر تیاری کرواتی ہے، سکول بھجوانے کے لئے، روتا پیٹتا بھی رہے تب بھی اس کو زبردستی ٹھیک ٹھاک کر کے سکول بھیج دیتی ہے تو کوئی کہہ سکتا ہے کہ ماں سختی چاہتی ہے۔ اس حد تک سختی لازم ہے جس حد تک جس پر سختی کی جائے یعنی اپنا پیارا وہ اس سختی کا محتاج ہے اور اس کے بغیر وہ فوائد سے محروم رہ جائے۔ پس محبت میں جہاں سختی ہٹائی جا سکتی ہو۔ ترک کی جا سکتی ہو، محبت کرنے والاکبھی سختی میںنہیں ڈالے گا۔ جہاں سختی لازمہ ہے اس سے گزرے بغیر اپنے محبوب کی بھلائی ممکن نہیں ہے۔ اس حد تک اور صرف اس حد تک سختی ایک پیار کرنے والے سے اپنے پیارے کے اوپر ڈالی جاتی ہے اور یہی عبادتوں کا سارا مفہوم ہے۔ جہاں سختیاں ہیں وہاں اس کے بدلے ضرور آسانیاں مقدر ہیں۔ ورنہ کبھی بھی خدا تعالیٰ انسان پر سختی نہ ڈالتا۔ چنانچہ فرمایا۔ فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا۔اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (الم نشرح :6۔7) دیکھو عبادت کے مضمون میں یہ بات ہورہی ہے۔ فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ۔وَاِلٰى رَبِّكَ فَارْغَبْ (الم نشرح:8۔9)

تو عبادت کے تعلق ہی میں یہ بات ہورہی ہے رمضان کی۔ فرمایا دیکھو جوسختی بھی ہم ڈالتے ہیں ایک یہ معنی بھی ہے اس آیت کا لازماً اس کے بعد آسانی آتی ہے اور آسانی کی خاطرسختی ڈالی جارہی ہے، سختی کی خاطر سختی نہیں ڈالی جا رہی۔ پس قرآن کریم کی تمام آیات مسلسل اسی مضمون پر روشنی ڈالتی چلی جا رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ سختی کو پسند نہیں کرتا، نہ سختی کی خاطر کسی کو سختی میں مبتلا فرماتا ہے ہاں بعض فوائد ایسے ہیں جوسختی میں سے گزرنے کے بعد آخر پر رکھے گئے ہیں۔ اب زمیندار ہے جو محنت کرتا ہے تو اس کو چھ مہینے یا سال کے بعد آنے والی فصل دکھائی دے رہی ہوتی ہے۔ اس کی خاطر وہ خود اپنے آپ کو مشقت میں ڈالتا ہے۔ کوئی شخص اپنا دشمن نہیں ہوا کرتا سوائے اس کے کہ پاگل ہو تو وہاں اس کو دکھائی دے رہا ہے کہ یہ سختی ہی مجھے مناسب ہے، یہی مجھے راس آئے گی اور جہاں ہمیں دکھائی نہیں دے رہا ہوتا وہاں الله کو دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ پس خدا کی وسیع نظر کے سامنے
سرتسلیم خم کریں۔ جو اللہ چاہے جس حد تک سختی ڈالے اس حد تک قبول کریں اس سے آگے بڑھ کر زبردستی سے آپ خدا کو راضی نہیں کر سکتے۔

(خطبات طاہر جلد15 صفحہ55 تا 57)


پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 مئی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 افریقہ ڈائری نمبر 16، 02۔ مئی 2020ء