• 30 ستمبر, 2020

دعوت الیٰ اللہ

دعوت الیٰ اللہ کی تین لفظوں پر مشتمل یہ اصطلاح اپنے اندر بہت وسیع مفہوم لئے ہوئے ہے۔اس کے لغوی معنی اللہ کی طرف بلانے کے ہیں۔جس کا آغاز ،جس کا سفر انسان کے اپنے نفس سے شروع ہوتا ہے۔اور اس کو دعوت الیٰ اللہ کرتا ہوا اور پھر معاشرہ اور پھر ارد گرد بسنے والے عزیز، رشتہ دار، دوست احباب اور جانے اور انجانے لوگوں کو شامل کرتا ہوا آگے بڑھتا ہے اور اس سفر کی پھر کوئی انتہاء نہیں ۔ اس میں تعلیم و تربیت بھی آجاتی ہے۔ اصلاح و ارشاد بھی آ جاتا ہے ۔

لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ ہم اوروں کو دعوت الیٰ اللہ کرتے ہیں مگر اپنے نفس کو نہیں جھنجوڑتے، اسے خدا کی طرف نہیں بلاتے اسے مخاطب ہوکر یہ نہیں کہتے کہ

نفس کو مارو کہ اس جیسا کوئی دشمن نہیں
چپکے چپکے کرتا ہے وہ پیدا سامان دامار

یہ مضمون قرآن کریم کی اس آیت میں بیان ہوا ہے جو ہم عمومًا دعوت الیٰ اللہ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے تلاوت کرتے ہیں وََ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔

(فصّلت:33)

کہ اس شخص سے بڑھ کر کس شخص کی آواز، قول اور پکار خدا کے حضور پیاری ہو سکتی ہے جو محض خدا کی خاطر بنائی گئی ہے اور اس حال میں بنائی گئی ہوں کہ وہ پکارنے والا عمل صالح کر رہا ہوں اور کہہ رہا ہوں کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔

اب اس آیت میں دعوت الیٰ اللہ کرنے والے کے لئے عمل صالح کی شرط لازمی قرار دی گئی ہے۔ یہ نہ ہو کہ اس کا اپنا نمونہ تو اسلامی نہ ہو۔ اس کی ذات پر معاشرہ میں بسنے والے لوگ اس کے کردار کی وجہ سے انگلیاں اٹھا رہے ہوں اور وہ دعوت الی اللہ میں مصروف ہو۔ وہ خود تو نمازی بھی نہ ہو قرآن کریم پر عمل تو درکنار اس کی تلاوت بھی نہ کرتا ہو۔ بات بات میں جھوٹ بولتا ہو۔ لوگوں سے لین دین میں fair نہ ہو۔قرضہ لے کر واپس نہ کرتا ہو،بات بات پر جھگڑتا ہو۔ حقوق العباد ادا نہ کرتا ہو۔ لغویات سے پرہیز نہ کرتا ہو۔جیسے کرکٹ میچ کےدوران نماز کے وقت ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر گزار دے تو پھر اس کی دعوت الیٰ اللہ کیسی ؟وہ کیا رنگ لائے گی ؟کیا دوسرے لوگ اسے نہیں پڑھ رہے اس کے کردار سے واقف نہیں؟۔ اگر یہ لوگ جرات کر کے اسے اس کے کردار کی نشاندہی نہ بھی کر سکیں تو دل میں ضرور سوچے گا۔ اس لئے دعوت الیٰ اللہ کرنے کے لئے پہلا step جس پر قدم رکھنا ضروری ہے۔جس کو اپنانا لازم ہے۔ وہ اپنا نمونہ ہے اور اس مضمون کی مزید تاکید اس آیت کے اگلے حصہ میں ہو رہی ہے جب وہ یہ کہتا ہے کہ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ کہ یاد رکھو کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ اس مفہوم کے پہلے معنی تو یہی ہیں جو مضمون میں بیان کر رہا ہوں کہ حقیقی معنوں میں مسلمان بن کر احکامات الٰہیہ کا فرمانبردار بن کر، اعمال صالحہ کے زیور سے آراستہ ہوکر دعوت الیٰ اللہ کرے ۔

اور دوسرا مفہوم بھی آج کی دنیا میں جماعت احمدیہ پر لاگو ہوتا ہے اور یہ کہنا بجا ہوگا کہ آج سے 1400 سال قبل جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس وقت یہ آیت پورے سیاق و سباق کے ساتھ اول سے آخر تک صحابہ ؓکے اوپر پوری اُتری۔جب ان پر الزام تھا کہ وہ مسلمان نہیں ہیں۔ وہ صا بی ہیں اور وہ اس حالت میں سارے عالم کو اللہ کی طرف بلا رہے تھے کہ وہ عمل صالح بجالا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم جھوٹ بولتے ہو ہم تو مسلمان ہیں ۔

آج 1400 سال بعدامت مسلمہ میں صرف ایک جماعت احمدیہ ہے جس کے اوپر مسلمان نہ ہونے کا الزام ہے اور اس الزام کی موجودگی میں عمل صالح کرتے ہوئے ظلمتوں کی انتہا گہرائیوں میں گری ہوئی مخلوق کو اللہ کی طرف بلا رہی ہےیہ کہتی ہوئی کہ ہم اللہ کے، اس کے رسول ؐکے اور ان کے احکامات کے فرمانبردار ہیں ۔

اور جس طرح صحابہؓ رسولؐ نے اپنے حسین اعمال کا لوہا منوایا تھا ۔اسی طرح ہم نے اصحاب رسول ؐ کی اقتداء میں ان کا رنگ اپناتے ہوئے اپنے اعمال سے ساری دنیاکو آقا ومولا سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک اسلامی پلیٹ فارم پر لا کھڑا کرنا ہے۔ اس کے لیے ضرورت ہے ہمت کی، پختہ ارادہ کی، جرات کی اوردعاؤں کی۔

ہم جانتے ہیں کہ ساری دنیا خواہ مسلمان ہو یا مشرک اور غیرمسلم،تمام کے تمام بے راہ روی کے راستوں کو اپنا بیٹھے ہیں۔ دنیا رفتہ رفتہ مذہب سے دور جا رہی ہے ۔افسوس اس بات پر ہے کہ اسلامی تعلیم سچ بولنا،دیانتداری وغیرہ جو مسلمانوں کی پہچان تھی وہ غیروں نے اپنا لیں ہیں اور مسلمانوں اسے چھوڑ بیٹھے ہیں۔ اور اخلاق سوز حرکات اور فحاشی میں مبتلا ہیں ۔آخر ان کو خدا کی طرف واپس تو لانا ہے ۔خدائی تعلیمات سے متعارف تو کروانا ہے ۔تو یہی تو دعوت الیٰ اللہ ہے ۔جب تک ہم میں سے ہر ایک اپنے آپ کو اس مبارک نظام سے منسلک نہیں کرلیتا ۔جب تک اپنے آپ کو اس میدان میں جھونک نہیں دیتا ۔ اپنے آپ کو اُتار نہیں لیتا۔اس وقت تک کام نہیں بنے گا۔

ہم روزانہ ہی ایسے واقعات پڑھتے ہیں کہ فلاں دریا میں ڈوب رہا تھا ۔تالاب میں ڈوبنے لگا تو ساتھ کھڑے لوگوں میں سے کسی نے وہ تیرنا بھی نہیں جانتا۔چھلانگ لگا دی تاڈوبنے والے کو ڈوبنے سے بچایا جا سکے ۔بعینہ آج ساری دنیا تاریکی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب رہی ہے ۔کیاہم نے ان کو بچانا نہیں ہے ؟کیا ان کو اس ماحول سے نکال کر اسلام کی روشن تعلیم سے آشنا نہیں کرانا ۔

حضرت مصلح موعود ؓ ایک واقعہ سنایا کرتے تھے۔ملکہ ایک دفعہ انڈیا میں آئی ہوئی تھی اور وہ پیدل جا رہی تھی راستے میں معمولی سا پانی آیا ۔ملکہ رکنے لگی تو اس کے وفادار وزیر ریلے نے اپنا بہت قیمتی چوغہ (کوٹ) اتار کر پانی کے اوپر رکھ دیا تا ملکہ گزر جائے۔ آج خدا کے رستے پر کتنی لغویات، بیہودگیوں نے جگہ لے لی ہے۔ ریلے کی طرح خدا کے راستہ سے صفائی کرنا ہم میں سے ہر ایک کا فرض ہے۔

دعوت الیٰ اللہ کی اسی اہمیت کے پیش نظر ہم نے اپنی منصوبہ بندی کرنی ہے اور بالخصوص ہرفرد جماعت نے اپنی نجی منصوبہ بندی کرنی ہے۔ جب تک ہم میں سے ہر ایک پختہ اراداور جذبہ کے ساتھ اپنے آپ کو involve نہیں کر لیتا اس وقت تک اس طرح کامیابی نہیں مل سکتی جو خلیفۃ المسیح کی تمنا ہے۔
ہم روزانہ مختلف مشینوں کے انجنوں کو چلتا دیکھتے ہیں ۔اس مشین کے تمام پرزے جب تک اپنے آپ کو involve نہ کریں تو production پیدا نہیں ہوتی ہے۔ بلکہ ایک معمولی پرزے کے کام چھوڑنے سے رک جاتی ہے۔ اس مشین کے بعض پرزے ساکت ہوتے ہیں۔ ایک جگہ پر پیوست ہوتے ہیں جن کو base بناکر production پیدا کرنے والے پرزے کام کر رہے ہوتے ہیں ۔

اسی طرح وہ افراد جو عمر رسیدہ ہیں یا کسی وجہ سے دعوت الی اللہ اس رنگ میں نہیں کرپاتے جس طرح کرنی چاہیے۔ تو وہ base کا کردار ادا کر کے کم از کم اپنی شب و روز کی دعاؤں سے ان داعیان کو sport توکریں جو دعوت الیٰ اللہ کرکے پھل لا رہے ہیں۔ اور جو پرزے production پیدا کرتے ہیں وہ حرکت بھی کرتے ہیں اور حرکت کے دوران ان کو Greesing بھی کرنی پڑتی ہے یہ Greesing دعا ہے۔ اس لیے ہر ایک کو جماعت کی بہتری اور بڑھوتی کے لیے دعائیں کرنی ہیں۔

دوئم ہم میں سے ہر کوئی ملازمت کے حوالہ سے، کاروبار کے حوالہ سے کسی نہ کسی طبقہ سے منسلک ہیں،کوئی ڈاکٹر ہے،تو کوئی انجینئر،کوئی وکیل ہے،تو کوئی ٹیچر پروفیسر،کوئی طالب علم ہے توکوئی مکینک ہے۔ کوئی پلمبر تو کوئی ٹھیکیدار ہے۔ کوئی فوجی افسر ہےتوکوئی تاجر ہے۔

اپنے طبقہ سے منسلک دوسرے افراد کو دعوت الیٰ اللہ کرنی چاہیے تاکہ ہر طبقہ کی تعداد بڑھے ۔اس کے لیے جماعت کی کچھ توقعات ہیں۔

  • حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے مبارک ارشاد کے مطابق اپنے مسکن میں ہی رہ کر ہفتہ/دو ہفتہ دعوت الیٰ اللہ کے لئے وقف کریں۔
  • دو ہفتہ تک روزانہ ایک گھنٹہ/ دو گھنٹے وقف کر کے دعوت الیٰ اللہ کریں۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 جون 2020

اگلا پڑھیں

02 جون 2020ء Covid-19 Update