• 3 جولائی, 2020

الہٰی جماعتوں میں اطاعت کی اہمیت

دنیا میں ہر کام کے کچھ راستے مقرر ہیں۔ اور ان راستوں کے بغیر کسی جماعت کا ترقی کرنا مشکل ہوتا ہے۔ قومی ترقی کے راستوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جو قومی کارکن یا جماعتی خادم ہوں ان کے اندر اطاعت اور فرمانبرداری کا جذبہ پایا جائے۔ جب تک اطاعت و فرمانبرداری کا مادہ پوری طرح نہ پایا جائے جماعتی کام کبھی ترقی نہیں کر سکتے۔ پس جماعتی پرقی کے لئےضروری ہے کہ اطاعت اور فرمانبرداری کا جذبہ کارکنوں میں پیدا ہو۔ اسی لئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا مَنْ اَطَاعَ اَمِیْریْ فَقَدْ اَطَاعَنِیْ وَ مَنْ عَصٰی اَمِیْریْ فَقَدْ عَصَانِیْ یعنی جو شخص میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کرتا ہے وہ گویا میری اطاعت کرتا ہے اور جو میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کرتا ہے وہ میری نافرمانی کرتا ہے۔ اس حکم کا اطلاق ہر زمانہ کے مسلمان پر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ خلیفہ کی نافرمانی اور خلیفہ کے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی اور اسی طرح نظامِ جماعت کے کسی حصہ کی بھی نافرمانی سارے نظام کی نافرمانی ہے۔

الٰہی جماعتوں میں اطاعت و فرمانبرداری کے معیار کو دیکھنے کے لئے زمانہ نبویؐ سے اطاعت کے متعلق ایک نہایت ہی حسین واقعہ قارئین کے خدمت میں پیش ہے۔

ایک دن مسجد نبوی میں آنحضرت ﷺ صحابہ کو خطاب فرما رہے تھے۔ دوران تقریر کسی موقع پر آپ نے فرمایا ‘‘بیٹھ جاؤ’’ اس وقت ایک صحابی جو گلی میں چلتا ہوا مسجد کی طرف آرہا تھا جونہی اس کے کان میں آنحضرت ﷺ کی آوازسنائی دی کہ ‘‘بیٹھ جاؤ’’ وہ وہیں بیٹھ گیا اور بیٹھے ہونے کی حالت میں ہی گھسٹتے ہوئے مسجد کی طرف بڑھنے لگا۔ ایک اور شخص جو یہ منظر دیکھ رہا تھا نے کہا کہ آنحضرت ﷺ کا بیٹھ جانے کا حکم تو مسجد میں موجود لوگوں کے لئے تھا۔ اس پر اس صحابی نے کہا کہ مجھے اس سے غرض نہیں کہ آنحضرت ﷺ کے مخاطب کون تھے۔ میں تو یہ جانتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کی آواز میرے کانوں تک پہنچی کہ بیٹھ جاؤ تو میں نے خیال کیا کہ اگر میں حضورؐ کے اس حکم پر فوراً عمل نہیں کرتا اور اس اثنا میں میری موت واقع ہو جاتی ہے تو میں اس حالت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گا کہ میں آنحضرت ﷺ کے حکم کو نہیں ماناتھا۔

حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہٗ اطاعت کے مضمون میں فرماتے ہیں۔
بعض لوگوں میں یہ نقص ہوتا ہے کہ وہ اطاعت سے گریز کرتے ہیں۔ اور جب بھی انہیں کوئی حکم ایسا دیا جائے جو ان کی پسند کے خلاف ہو تو وہ مقابلہ کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس قسم کے لوگوں سے قوم کو قطعی طور پر پاک کرنا تو ممکن ہے مگر اس کو برداشت کر لینا بھی نا ممکن ہے۔ ایک شخص کی عادت ایسی ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی فطرت کے لحاظ سے ایسا کرنے پر مجبور ہے کہ افسر کے احکام کو نہ مانے اور جب کوئی حکم دے تو اس پر حملہ کرنے اور کاٹنے کو کشش کرتا ہے مگر جہاں وہ اپنی فطرت کے لحاظ سے مجبور ہے وہاں سلسلہ بھی مجبور ہے کہ اگر ایسا انسان اپنی اصلاح نہ کرے تو اسے جماعت کاموں سے علیحدہ کر دیا جائے۔

حضورفرماتے ہیں کہ
عدم اطاعت کی کئی وجوہ ہوتی ہے۔ ایسا شخص کبھی تو ایسے خاندان سے تعلق رکھنے والا ہوتا ہے کہ جس کی لوگ عزت کرتے ہیں اور اس وجہ سے اس کا دماغ خراب ہو چکا ہوتا۔اور وہ سمجھتا ہے کسی کو مجھے حکم دینے کا حق نہیں۔ کبھی اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ کسی بیماری کے نتیجہ میں اس کی طبیعت میں چڑچڑا پن پیدا ہو چکا ہوتا ہے۔ کبھی اس کے اندر غرور اور تکبّر کا مادہ پیدا ہوتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میں اتنا بڑا عالم اور عقلمند انسان ہوں کہ کسی کو مجھے کوئی حکم دینے کا حق ہی نہیں پھر بعض لوگ ایسی دماغی پریشانی میں مبتلاء ہوتے ہیں کہ جو کام بھی ان کے سُپرد کیا جائے وہ کہتے ہیں کہ جب تک اس کام کی باگ ڈور کلیتاً میرے ہاتھ میں نہ دےدی جائے اور تمام اختیارات میرے ہاتھ میں نہ ہوں کام چل ہی نہیں سکتا۔ ہندوستان و پاکستان کے لوگوں میں بالخصوص یہ خرابی پائی جاتی ہے کہ جو کام بھی ان کے سپرد ہو وہ چاہتے ہیں کہ تمام اختیارات ان کے ہاتھ میں ہوں۔

حضورؓ فرماتے ہیں کہ
عدم اطاعت کا مرض بعض کارکنوں میں پیدا ہونے لگا ہے۔ خصوصاً کچھ نوجوان ایسے ہیں جو حکم نہیں مانتے اور سرکشی کرتے ہیں۔ جس طرح جب کسی جانور کو چھیڑا جائے تو یہ دولتی مارتا ہے اسی طرح ان کی حالت ہے۔ جب انہیں کوئی حکم دیا جائے تو وہ دولتی مارنے اور کاٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا کلام غیر شریفانہ اور ناشائستہ ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے نصیحت ہے کہ وہ اپنی اصلاح کریں اور اطاعت اور فرمانبرداری کی عادت ڈالیں۔ چونکہ ہمیں اطاعت میں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے معیار کا حاصل کرنا چاہئے اور انہی کے واقعات کو مشعل راہ بنانا چاہئے اس لئے یہاں صحابہ کی اطاعت کے چمکتے ہوئے شاہکاروں میں سے ایک شاہکار پیش کیا جاتا ہے۔

جنگ بدر کے آغاز سے قبل جب یہ یقین ہو گیا کہ313 بے سروسامان مسلمانوں کا مقابلہ ایک ہزار تجربہ کار اور ہتھیاروں سے لیس کفّار سے ہے تو آنحضرت ﷺ نے ضروری خیال فرمایا کہ صحابہ کو صحیح صورت حال کا علم ہونا چاہئے تا کوئی ایسا شخص جو اپنی پوری مرضی اور دلی جذبہ نہ رکھتا ہو وہ لڑائی میں حصہ نہ لے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے مشورہ طلب فرمایا۔ یکے بعد دیگرے مکہ کے مہا جرین میں سے صحابہ کھڑے ہوئے اور اپنے خلوص اور جذبہ اورلڑنے کے پختہ عزم کا آنحضرتؐ کویقین دلایا۔ جب بھی حضور ﷺ کے کسی مسلمان کا مشورہ سنتے تو حضور مزید مشورے کے لئے دریافت فرماتے۔ مدینہ کے مسلمان خاموش تھے۔ حملہ آور مکہ سے تھے جو کہ بہت مسلمانوں کے جو حضورؐ کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ آئے تھے رشتہ دار تھے۔ مدینہ کے مسلمانوں کو خوف تھا کہ کہیں ان کی لڑائی کی خواہش اور جوش سے مسلمان مہاجرین کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے کہ مدینہ کے انصار ہمارے مکہ کے رشتہ داروں سے لڑنے کے لئے بہت جوش دکھارہے ہیں۔ لیکن جب آنحضور ﷺ نے بار بار مشورہ کے لئے فرمایا تو مدینہ کے مسلمانوں میں سے ایک کھڑا ہوگیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کو حسبِ خواہش مشورہ تو مل رہا ہے لیکن آپ پھر بھی مزید مشورہ طلب فرما رہے ہیں۔ غالباً آپ کا اشارہ مدینہ کے مسلمانوں کی طرف ہے ۔ کیا یہ صحیح ہے؟ اس پر آپؐ نے فرمایا۔ ہاں!

اس پر مدینہ کے اس مسلمان نے کہا آپ ہم سے مشورہ طلب فرماتے ہیں شائد اس لئے کہ آپ کا خیال ہے کہ جب آپ ہمارے پا س تشریف لائے تھے اس وقت ہمارے درمیان یہ معاہدہ ہوا تھا کہ اگر آپؐ اور آپ کے ساتھی مہاجرین پر مدینہ میں حملہ ہوا تو ہم آپ کے ساتھ ہو کر دشمن کا مقابلہ کریں گے۔ لیکن چونکہ اب ہم مدینہ سے باہر آگئے ہیں توآپ کا خیال ہے کہ ہمارا معاہدہ اس صورت حال پر حاوی نہیں ہے۔ لیکن یا رسول اللہ! جب ہم نے آپ سے وہ معاہدہ کیا تھا اس وقت ہم آپ کو اس طرح نہیں جانتے تھے جس طرح کہ اب جانتے ہیں۔ اب ہم پر آپ کے عظیم الشان روحانی مقام کی معرفت عیاں ہو گئی ہے۔ اب ہمیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ ہم نےپہلے کیا معاہدہ کیاتھا۔ اب ہم آپ کے ساتھ ہیں جو کچھ بھی آپ ہمیں حکم دیں۔ ہم موسیٰ علیہ السلام کے ماننے والوں کی طرح یہ نہیں کہیں گے کہ تم اور تمہارا خدا جاؤ اور دشمن سے لڑو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ اگر ہمارے لئے لڑائی ضروری ہے تو ہم لڑیں گے اور ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے۔ آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور آپ کے پیچھے بھی لڑیں گے۔ یہ صحیح ہے کہ دشمن آپ تک پہنچنا چاہتا ہے لیکن ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ خدا کی قسم!وہ ایسا ہر گز نہیں کر سکے گاسوائے ہماری لاشوں کو روندکر آپ تک پہنچنے کے۔یا رسول اللہ! آپ ہمیں لڑنے کا حکم ہیں ہم اس سے زیادہ بھی کرنے کو تیار ہیں ۔ یہاں سے سمندر دور زیادہ نہیں اگر آپ ہمیں حکم دیں کے سمندر میں کود جا ؤ تو ہم بلا توقف سمندر میں کود جائیں گے۔

اطاعت و قربانی کا یہ جذبہ تھا جو کہ ابتدائی مسلمانوں نے دکھایا جس کی مثال تاریخ عالم پیش کرنے سے قاصر ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کے پیرؤں کا ذکر ہو چکا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کے پیرؤں نے نازک وقت میں ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ ایک نے صرف چند ٹکوں میں انہیں رومیوں کے ہاتھ بیچ دیا اور باقی ڈر سے چھوڑ گئے۔ مدینہ کے مسلمان ڈیڑھ سال کا عرصہ آنحضرتﷺ کی رفاقت میں رہے تھے اور اس معمولی عرصہ میں انہوں نے فدائیت اور اطاعت کا وہ اعلیٰ مقام حاصل کر لیاتھا کہ اگر آنحضرت ﷺ ان کو سمندر میں کود جانے کا حکم دے دیتے تو وہ بلا تامل سمندر میں کود جاتے۔ یہ وہ نمونہ ہے جو کہ ہم جوامام آخر الزمان کی جماعت سےہیں، نے حاصل کرنا اور اطاعت اور فدائیت کی ایسی ہی مثالیں دنیا کے سامنے پیش کرتی ہیں۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں۔
سلسلہ سب انسانوں پر مقدم ہے۔ سلسلہ کے مقابلہ میں کسی انسان کا کوئی لحاظ نہیں کیاجائےگا۔ اسلام اور احمدیت کے لئے اگر ہمیں اپنی اولادوں کو بھی قتل کرنا پڑے تو ہم اپنے ہاتھوں سے قتل کر دیں گے لیکن سلسلہ کو قتل ہونے نہیں دیں گے۔ پس تم اپنے اندر سلسلہ کی صحیح اطاعت اور فرمانبرداری کا مادہ پیدا کرو۔ اگر تم چاہتے ہو کہ خدا تعالیٰ کا فضل تم پر نازل ہو ۔ اگر تم چاہتے ہو کہ بے دینوں کی موت نہ مرو اور ایسے مقام پر کھڑا نہ ہوکہ موت سے پہلے اللہ تعالیٰ تم کو مرتدین میں داخل کردےتو اپنے اندر صحیح اطاعت اور فرمانبرداری کا مادہ پیدا کرو۔ احمدیت یقیناً اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ احمدیت ایک ایسی دھار ہے کہ جو بھی اس کے سامنے آئے گا وہ مٹا دیا جائے گا۔ یہ تلوار کی دھار ہے اور جو بھی اس کے سامنے کھڑا ہو گا وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا ۔ خدا تعالیٰ جس سلسلہ کو قائم کرنا چاہے اس کی راہ میں جو بھی کھڑا ہو وہ مٹا دیا جاتا ہے اوریہ سلسلہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اس لئے اس کے مقابلہ میں کسی انسان کی پرواہ نہیں کی جائے گی۔

اس کے بعد حضورؓ فرماتے ہیں۔
پس میں نے پھر ایک دفعہ کھول کر اس بات کو بیان کر دیا ہے تا کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ غفلت ہو گئی اور خیال نہ رہا ۔ خوب یاد رکھو کہ اطاعت۔ اطاعت ۔ اطاعت خلاصہ ہے دین کا۔

جو شخص افسر کی اطاعت نہیں کرتا وہ سمجھ لے کہ اس نمازیں اور اس کے روزے اور اس کا ایمان اسے کوئی فائدہ نہیں دے سکے گا۔ وہ کفر کی سرحد پر کھڑا ہے اور ایک دھکے سے کافروں میں جا گرے گا۔ اور اس کی نمازیں اور اس کے روزے ۔ اور اس کی زکوٰۃ اور اس کے صدقات اس کے کسی کام نہ آسکیں گے۔ جو شخص نمازیں پڑھتا ہے۔ چندے دیتا ہے۔ زکوٰۃ ادا کرتا ہے۔ صدقات کرتا ہے اور دوسرے نیکیاں کرتا ہے لیکن اس میں یہ نقص پایا جاتا ہے کہ وہ اطاعت اور فرمانبرداری نہیں کرتا تو وہ ایسےمقام پرکھڑا ہے جہاں ابلیس تھا۔ ابلیس بھی اپنےآپ کومؤحد سمجھتا تھا مگر چونکہ اس کے اندر نا فرمانی کا مادہ تھا اس لئے ایک دن وہ کچھ اور تھا اور دوسرے دن کچھ اور ہو گیا۔ وہ انسان جو اطاعت اور فرمانبرداری نہیں کرتا اور سلسلہ کے کام میں تعاون نہیں کرتا وہ اس خطرہ میں ہے کہ ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور بے دینوں اور کافروں کو موت مرے۔

آخر میں حضرت مسیح موعودؑ کے صحابہ کے اطاعت و فرمانبرداری کے زریں واقعات میں سے حضرت حکیم مولوی نورالدین خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہٗ کی زندگی میں اطاعت کے دو واقعات بیان کئے جاتے ہیں تا معلوم ہو کہ حضور کے صحابہ میں آپ کے لئے کس قدر اطاعت و فدائیت کاجذبہ پایا جاتا تھا۔

حضرت مولوی نور الدینؓ نے اپنے وطن بھیرہ میں ایک بہت بڑا مکان تعمیرکرناشروع کیا۔ابھی وہ مکان زیر تعمیر ہی تھاکہ حضرت مولوی صاحب کسی ضرورت کے لئے لاہور تشریف لائے۔ وہاں خیال پیدا ہوا کہ قادیان نزدیک ہے حضرت اقدس سے بھی ملتے جائیں۔ چنانچہ آپ خود فرماتے ہیں۔

میرا جی چاہا کہ حضرت صاحب کو بھی دیکھوں اس واسطے میں قادیان آیا۔ چونکہ بھیرہ میں بڑے پیمانے پر عمارت کا کام شروع تھا اس لئے میں نے واپسی کا یکہ کرایہ کیا تھا۔ یہاں آکر حضرت صاحب سے ملا اور ارادہ کیا کہ آپ سے ابھی اجازت لے کر رخصت ہوں۔ آپ نے اثنائے گفتگو میں مجھ سے فرمایا کہ اب توآپ فارغ ہو گئے ہیں۔ میں نے کہا جی ہاں! اب تو میں فارغ ہی ہوں ۔ یکہ والے سے میں نے کہہ دیا اب تم چلے جاؤ۔ آج اجازت لینا مناسب نہیں۔ کل پرسوں اجازت لیں گے۔ اگلے روز آپ نے فرمایا کہ آپ کو اکیلے رہنے میں تو تکلیف ہو گی۔ آپ اپنی بیوی کو بلوا لیں۔ میں نے حسب الارشاد بیوی کو بلانے کے لئے خط لکھ دیا اور یہ بھی لکھ دیا کہ ابھی میں شاید جلدی نہ آسکوں۔ اس لئے عمارت کاکام بند کردیں۔ جب میری بیوی آ گئی تو آپ نے فرمایا کہ آپ کو کتابوں کا بڑا شوق ہے لہٰذا میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ اپنا کتب خانہ منگوالیں۔ تھوڑے دنوں کے بعد فرمایا کہ دوسری بیوی آپ کی مزاج شناس اور پرانی ہے۔ آپ اس کو ضرور بلا لیں۔ اورمولوی عبد الکریم صاحب سے فرمایا کہ مجھ کو مولوی نور الدین صاحب سے متعلق الہام ہوا ہے اور جس کا ترجمہ یہ ہے کہ

اپنے وطن کی ہر گز رخ نہ کرنا ورنہ تمہاری اہانت ہوگی اور تمہیں تکلیفیں اٹھانا پڑیں گی۔

پھر فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے بھی عجیب تصرفات ہوتے ہیں۔ میرے واہمہ اور خواب میں بھی پھر مجھے وطن کا خیال نہ آیا۔ دوسرا واقعہ بھی حضرت خلیفہ اول حکیم نور الدین صاحب رضی اللہ عنہٗ کی زندگی سے وابستہ ہے۔ ایک روز حضرت مولوی صاحبؓ قادیان میں اپنے مطب میں تشریف فرما تھےکہ ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے دہلی سے تار ملی کہ فوراً آؤ۔ اس خیال سے کہ حکم کی تعمیل میں دیر نہ ہو اسی حالت میں فوراًچل پڑے۔ نہ گھر گئے نہ لباس تبدیل کیا نہ بستر لیا اورنہ کوئی اور تیاری کی بلکہ جوتے بھی چلتے ہوئے گھسٹتے ہوئے پہنے۔ اور یکہ کا بھی انتظار نہ کیا اور پیدل ہی بٹالہ کی طرف چل پڑے۔ اس طرح آپ اگلے ہی دن دہلی میں اپنے امام کے حضور پہنچ گئے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اندر سچی اطاعت اور فرمانبرداری کا جذبہ پیدا فرمائےتاہم سچے احمدی اور سچے مسلمان بن جائیں اور ہم ایسے کام کریں کہ ہمارا خدا ہم سے راضی ہو جائے۔ آمین

(کرنل دلدار احمد۔ کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 جون 2020

اگلا پڑھیں

02 جون 2020ء Covid-19 Update