• 20 جون, 2021

بُستان مہدی کے لئےپانی کا حصول

بُستان مہدی کے لئے پانی کا حصول
اور جامعۃ المبشرین برکینا فاسو کے طلبہ کاعظیم وقار عمل

جامعۃ المبشرین برکینا فاسو فرنچ ممالک کے طلبہ کے لئے قائم کیا گیا تعلیمی و تربیتی ادارہ ہے جس کا قیام 2017 میں ہوا۔ یہ جامعہ برکینا فاسو کے دارالحکومت اُواگا دوگو میں واقع ہے۔ یوں تو طلبہ کی تربیت کے لئے ہفتہ وار وقار عمل جامعہ کے پروگرام کا مستقل حصہ ہے۔ تاہم بعض مواقع پر غیرمعمولی کام اور بڑے وقار عمل بھی طلبہ جامعہ نے کر دکھائے ہیں۔ ایسے ہی ایک وقار عمل کی رپورٹ قارئین الفضل کے لئے پیش ہے۔

بستان مہدی جو کہ جماعت احمدیہ کی ملکیتی ایک وسیع و عریض زمین ہے، میں مستقل پانی کا مسئلہ رہتا تھا۔ پانی کے حصول کے لئے گزشتہ چند سالوں سے کئی بور ہول کئے جا چکے ہیں لیکن پانی کی مطلوبہ مقدار میسر نہ آنے کی وجہ سے ہمیشہ پانی کی قلت کا سامنا رہا۔ برکینافاسو جیسےگرم ملک میں جہاں درجہ حرارت پنتالیس ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی اوپر چلا جا تا ہے پانی کی کمی بہت تکلیف دہ ہوتی ہے۔

گزشتہ ماہ پھر ایک بار بستان مہدی کے لئے پانی کی تلاش کی کوشش کی گئی۔ بو رہول کرنے سے ایک رات پہلے جامعہ کے تمام طلبہ سے کہا گیا کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ معجزانہ طو رپر پانی عطا کر دے۔ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کو بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ دیا تھا اور پھر خدا تعالیٰ نے اسی سر زمین سے ظاہر ی اور روحانی پانی کے سوتے بہا دئے۔ آج ہم واقفین زندگی بھی بستان مہدی کی اس زمین میں پانی کی قلت کا شکار ہیں۔ خداتعالیٰ کوئی معجزہ کردے اور ہماری یہ تکلیف دورکردے۔

قیام ربوہ کے وقت حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پانی کے حصول کے لئے دعائیں اور پھر غیر معمولی طو رپر ربوہ کی سرزمین سے پانی نکل آنے کے واقعہ کا بھی بتایا گیا۔ اس کے بعد تمام طلبہ نے لمبی اجتماعی دعا کی اور ہر طالب علم اور اسٹاف ممبر نے حسب توفیق صدقہ دیا۔

اگلے روز پہلا بو رہول کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ا س میں سے پانی کی خوش کن مقدار میسر آئی۔بہت خوشی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے تضرعات کو سنا اور پانی عطا کیا۔ اس بورہول سے بالکل مخالف سمت میں ایک اور جگہ بھی پانی کی نشاندہی کی گئی تھی۔ پہلے بور ہول سے پانی کی ممکنہ مقدار کے حصول کے بعد دوسری جگہ بور ہول کرنے کے متعلق رائے منقسم تھی کہ بور کیا جائے یا فی الحال اس ایک پوائنٹ پر ہی انحصار کرلیا جائے۔ تاہم مکرم امیر صاحب نے اس بات کی اجازت دے دی کہ دوسرا بور ہول بھی کرلیا جائے۔

دو دن بعد دوسرا بور ہول کیا گیا اور نتائج دیکھ کر بے اختیار خدا تعالیٰ کی حمد و ثنا کے کلمات دل کی گہرائیوں سے نکلے اور زبانوں سے ادا ہوئے۔ سب نے دیکھا کہ نتائج توقع سے کہیں زیادہ بہتر تھے۔ اس بو رہول میں سے پانی کی وہ مقدار برآمد ہوئی کہ جس کا تصور بھی ہم نہیں کر رہے تھے۔ خداتعالیٰ نے دعاؤں کو شرف قبولیت عطا فرماتے ہوئے غیر معمولی فضل اور رحم فرمایا اور وافرپانی عطا کر دیا۔

یہ دونوں بور ہول بستان مہدی سے باہر کچھ فاصلے پر کئے گئے ہیں جہاں بستان مہدی میں پانی لانے کے لئے پائپ لائن بچھانا ضروری تھی۔اور پائپ لائن پچھانے کے لئے مجموعی طورپر ساڑھے آٹھ صد میٹرز لمبی اور ساٹھ سینٹی میٹرز گہری نالی کھودنے کی ضرورت تھی۔ سخت پتھریلی زمین میں یہ کام کرنا سخت محنت کا متقاضی تھا جسے عام طو رپر پروفیشنل مزدور کرتے ہیں۔ مزدوروں کی تلاش کی گئی لیکن جو مزدور ملے وہ منہ مانگی قیمت طے کرنے کے باوجودکام کی سختی دیکھ کر صرف ایک دن کچھ کھدائی کر کے کام ادھورا چھوڑ کر چلے گئے۔

برکینا فاسو کا جلسہ سالانہ بستا ن مہدی میں منعقد ہوتا ہے۔ہر سال جلسہ کے موقع پر باہر سے پانی کے ٹینک منگوانے کے باوجود پانی کی قلت کا سامنا رہتا تھا اورجلسہ کے مہمان تکلیف اٹھاتے تھے۔ ا س سال پانی تو مل گیا لیکن اس پانی کو بستان تک لانے کا ایک بڑا چینلج ابھی باقی تھا۔

ادھربرکینا فاسو کے۲۹ ویں جلسہ سالانہ2021 کی تاریخیں طے ہو چکی تھیں اور صرف سترہ دن باقی رہتے تھے۔ مزدور کام چھوڑ کرجا چکے تھے۔ جبکہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے معزز مہمانوں کو پانی کی فراہمی اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ہر صورت یہ کام کرنا ہی تھا۔چنانچہ یہ بھاری ذمہ داری جامعہ نے اپنے اوپر لی اور جامعۃ المبشرین برکینافاسو کے باہمت نوجوانوں نے چار دن میں ہی یہ مشکل اور بظاہر ناممکن نظر آنے والا کام مکمل کر دکھا یا۔ خداتعالیٰ کے فضل سے پائپ لائن بروقت بچھا دی گئی اور جلسہ سے پہلے پانی کے کنکشن کا کام مکمل ہوگیا۔ اپریل 2021 کے پہلے ہفتہ میں ہونے والا 29 واں جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ برکینا فاسو کا پہلا جلسہ ہے جس میں پانی کی کمی کی کوئی شکایت نہیں آئی۔ جلسہ کے تمام دنوں میں ہر پوائنٹ پر وافر مقدار میں پانی میسر رہا۔ الحمد للہ علیٰ ذلک۔

اللہ تعالیٰ تمام طلبہ جامعہ کو غیر معمولی افضال سے نوازتا چلا جائے۔ اور انہیں بہترین جزا عطا فرمائے۔

(رپورٹ: چوہدری نعیم احمد باجوہ۔ نمائندہ روزنامہ الفضل لندن آن لائن (برکینا فاسو)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 جون 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 جون 2021