• 9 اگست, 2022

فقہی کارنر

اسلام نے متعہ کو رواج نہیں دیا

عیسائیوں کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے (حضرت مسیح موعودؑ نے) فر مایا:
نادان عیسائیوں کو معلوم نہیں کہ اسلام نے متعہ کو رواج نہیں دیا بلکہ جہاں تک ممکن تھا اس کو دنیا میں سے گھٹایا۔ اسلام سے پہلے نہ صرف عرب میں بلکہ دنیا کی اکثر قوموں میں متعہ کی رسم تھی یعنی یہ ایک وقت خاص تک نکاح کرنا پھر طلاق دے دینا اور اس رسم کے پھیلانے والے اسباب میں سے ایک یہ بھی سبب تھا کہ جو لوگ لشکروں میں منسلک ہو کر دوسرے ملکوں میں جاتے تھے یا بطریق تجارت ایک مدت تک دوسرے ملک میں رہتے تھے۔ ان کو مؤقت نکاح یعنی متعہ کی ضرورت پڑتی تھی اور کبھی یہ بھی باعث ہوتا کہ غیر ملک کی عورتیں پہلے سے بتلا دیتی تھیں کہ وہ ساتھ جانے پر راضی نہیں اس لئے اسی نیت سے نکاح ہوتا تھا کہ فلاں تاریخ طلاق دی جائے گی۔ پس یہ سچ ہے کہ ایک دفعہ یا دو دفعہ اس قدیم رسم پر بعض مسلمانوں نے بھی عمل کیا۔ مگر وحی اور الہام سے نہیں بلکہ جو قوم میں پرانی رسم تھی معمولی طور پر عمل ہو گیا لیکن متعہ میں بجز اس کے اور کوئی بات نہیں کہ وہ ایک تاریخ مقرر تک نکاح ہوتا ہے اور وحی الٰہی نے آخر اس کو حرام کر دیا۔

(نور القرآن2، روحانی خزائن جلد9 صفحہ450)

(داؤد احمد عابد۔ استاد جامعہ احمدیہ برطانیہ)

پچھلا پڑھیں

جامعة المبشرین سیرالیون کی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیاں

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 جولائی 2022