• 9 اگست, 2022

احکام الٰہی کی حفاظت کرو تا اللہ کو اپنے سامنے پاؤ (الحدیث)

موٴرخہ 25مئی 2022ء کے الفضل آن لائن میں فرمان رسولؐ میں جو حدیث درج ہے وہ یوں ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (سواری پر) پیچھے تھا، آپ نے فرمایا: اے لڑکے! میں تمہیں چند کلمات سکھاتا ہوں، (اللہ تمہاری حفاظت فرمائے اور تم اللہ کے احکام کی حفاظت کرو)، اگر تم اللہ کے احکامات کی حفاظت کرو گے تو تم اسے اپنے سامنے پاؤ گے۔ پس جب تم کوئی چیز مانگو تو صرف اللہ سے اور جب مدد چاہو تو صرف اللہ سے۔ یہ بات سمجھ لو کہ اگر ساری امت بھی جمع ہو کر تمہیں کچھ نفع پہنچانا چاہے تو وہ تمہیں اس سے زیادہ کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے اور اگرتمام امت تمہیں کچھ نقصان پہنچانے پر اتفاق کر لے تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔ قلم اٹھا لیے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہو گئے ہیں۔

(ترمذي كتاب صفة القيامة والرقائق والورع باب ما جاء في صفة أواني الحوض)

اس ارشاد نبویؐ میں درج ذیل امور بیان ہوئے ہیں۔

  1. جو احکام الٰہی کی حفاظت کرے گا اس کی اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے گا۔
  2. جو اللہ کے احکام کی حفاظت کرے گا تو وہ اللہ کو اپنے سامنے پائے گا۔
  3. تم جو چیز بھی مانگو تو اپنے اللہ سے مانگو۔ مدد بھی اُسی سے چاہو۔
  4. اللہ کے مقرر کردہ نفع سے بڑھ کر کوئی (اللہ سے) زیادہ نفع نہیں پہنچا سکتا۔
  5. جو نقصان اللہ نے کسی کے لئے لکھ رکھا ہے اس سے بڑھ کر کوئی شخص کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
  6. اور آخری بات ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے کہ ’’قلم اٹھا لئے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہوگئے ہیں‘‘ ان الفاظ میں خدا کی تقدیر کا مضمون بیان ہوا ہے کہ اب کوئی نیا قانون، نیا صحیفہ نہیں آئے گا اور یہ کہ قرآن خاتم الکتاب ہے اور اللہ نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیۡ کہ یہ اللہ کی تقدیر ہے کہ وہ اور اس کا رسول لازماً غالب آئیں گے۔

ان چھ امور میں سے تین کا تعلق اللہ کے دئیے گئے احکام سے ہے اور تین کا تعلق اللہ تعالیٰ سے براہ راست ہے اور اس دوسرے نمبر پر بیان امور کو خاکسار نے پہلے امر پر فوقیت رکھتے ہوئے بھی دوسرے نمبر پر عمداً درج کیا ہے۔ کیونکہ اللہ کی پہچان، اس کی عبادت کرنے، اس کو یکتا جاننے، اس کی طرف جھکنے، سجدہ کرنے، اس سے مانگنے وغیرہ وغیرہ کا حکم احکام الٰہی سے ہی ملتا ہے۔ جیسا کہ اس حدیث میں بھی احکام الٰہی کی حفاظت کا ذکر پہلے کیا گیا ہے اور ساتھ ہی حضور ؐ نے فرمایا اگر ایسا کرو گے تو اللہ کو اپنے سامنے پاؤ گے۔ گویا خدا کو دیکھنے اور پانے کا پہلا ذریعہ احکام الٰہی پر عمل کرنا ہے۔

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ

•میں تم میں دو چیزیں ایسی چھوڑے جاتا ہوں کہ جب تک تم ان پر عمل پیرا رہو گے کبھی ناکام و نامراد نہ ہو گے اور وہ کتاب اللہ یعنی اللہ کی کتاب اور سنة رسولہ یعنی اس کے رسول کی سنت ہے۔

(الموطا)

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تو قرآن پر عمل کرنے والے کے والدین کو بھی ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔

•جس شخص نے قرآن پڑھا اور اس پر عمل کیا تو اس کے ماں باپ کو قیامت کے روز دو تاج پہنائے جائیں گے جن کی روشنی سورج کی چمک سے بھی زیادہ ہو گی۔

(ابو داؤد)

•قرآن پڑھنے اور اس پر عمل کرنے والے کے لئے قیامت کے روز قرآن شفاعت کرے گا۔

(مسلم)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔
’’جو شخص قرآن کے سات سو حکم میں سے ایک چھوٹے سے حکم کو بھی ٹالتا ہے وہ نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے اپنے پر بند کرتا ہے۔‘‘

(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد19 صفحہ26)

پھر فرماتے ہیں۔
’’جو شخص ان سب حکموں میں سے ایک کو بھی ٹالتا ہے میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ عدالت کے دن مواخذہ کے لائق ہو گا۔‘‘

(ازالہ اوہام حصہ دوم، روحانی خزائن جلد3 صفحہ548)

ایک اور موقع پر فرماتے ہیں۔
’’قرآن شریف میں اول سے آخر تک اوامرو نواہی اور احکام الٰہی کی تفصیل موجود ہے اور کئی سو شاخیں مختلف قسم کے احکام کی بیان کی ہیں۔‘‘

(ملفوظات جلد4 صفحہ655)

ادارہ الفضل آن لائن نے اپنے قارئین کے لئے قرآنی احکام کی اشاعت کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور اس کی 40اقساط شائع ہو چکی ہیں۔ ہر قسط ہی ’’مقبول ترین‘‘ کی کیٹیگری میں اپنی جگہ بناتی رہی۔ یہ اس عشق کی وجہ سے تھی جو قارئین الفضل خاتم الکتاب القرآن الحکیم سے رکھتے ہیں۔ ان اقساط میں بوجوہ وقتی تعطل واقع ہوا تو بہت سے قارئین کے فونز اور میسجز کے ذریعہ اس کو دوبارہ جاری کرنے کی درخواستیں موصول ہوتی رہیں۔ اس کو اب دوبارہ جاری کر دیا گیا ہے اور ہر بدھ کو اس کی قسط الفضل کی زینت بن رہی ہے۔ ان اقساط کا مقصد محض یہ ہے کہ الفضل کے قارئین اپنے آپ کو احکام خداوندی سے مزیّن کریں۔ تا ان پر نجات کا دروازہ کھلا رہے اور عدالت کے دن مواخذہ نہ ہو۔

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں۔

• ’’تمہارے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن شریف کو مہجور کی طرح نہ چھوڑ دو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے جو لوگ ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول پر قرآن کو مقدم رکھیں گے اُن کو آسمان پر مقدم رکھا جائے گا۔ بنی نوع انسان کے لئے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن۔ اور تمام آدم زادوں کے لئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم سو تم کوشش کرو کہ سچی محبت اس جاہ و جلا ل کے نبی کے ساتھ رکھو اور اس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو تا آسمان پر تم نجات یافتہ لکھے جاؤ اور یاد رکھو کہ نجات وہ چیز نہیں جو مرنے کے بعد ظاہر ہو گی بلکہ حقیقی نجات وہ ہے کہ اسی دنیا میں اپنی روشنی دکھلاتی ہے۔‘‘

(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد19 صفحہ13-14)

•’’سب کتابیں چھوڑ دو اور رات دن کتاب اللہ ہی کو پڑھو۔ بڑا بے ایمان ہے وہ شخص جو قرآن کریم کی طرف التفات نہ کرے اور دوسری کتابوں پر ہی رات دن جھکا رہے۔ ہماری جماعت کو چاہئے کہ قرآن کریم کے شغل اور تدبر میں جان و دل سے مصروف ہو جائیں اور حدیثوں کے شغل کو ترک کریں۔ بڑے تاسف کا مقام ہے کہ قرآن کریم کا وہ اعتناء اور تدارس نہیں کیا جاتا جو احادیث کا کیا جاتا ہے۔ اس وقت قرآن کریم کا حربہ ہاتھ میں لو تو تمہاری فتح ہے۔ اس نور کے آگے کوئی ظلمت ٹھہر نہ سکے گی۔‘‘

(ملفوظات جلد اول ایڈیشن 1988ء صفحہ386)

•’’ قرآن شریف پر تدبر کرو اس میں سب کچھ ہے۔ نیکیوں اور بدیوں کی تفصیل ہے اور آئندہ زمانہ کی خبریں ہیں وغیرہ۔ بخوبی سمجھ لو کہ یہ وہ مذہب پیش کرتا ہے جس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کے برکات اور ثمرات تازہ بہ تازہ ملتے ہیں۔ انجیل میں مذہب کو کامل طور پر بیان نہیں کیا گیا۔ اُس کی تعلیم اُس زمانہ کے حسب حال ہو تو ہو لیکن وہ ہمیشہ اور ہر حالت کے موافق ہر گز نہیں۔ یہ فخر قرآن مجید ہی کو ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں ہر مرض کا علاج بتا یا ہے اور تمام قویٰ کی تربیت فرمائی ہے اور جو بدی ظاہر کی ہے اس کے دُور کرنے کا طریق بھی بتایا ہے اس لئے قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہو اور دعا کرتے رہو اور اپنے چال چلن کو اس تعلیم کے ماتحت رکھنے کی کوشش کرو۔‘‘

(ملفوظات جلد5 صفحہ102 ایڈیشن 1988ء)

احکام الٰہی پر عمل کرنے کے صحابہ رسولؐ اس قدر مشتاق تھے کہ بعض صحابہؓ نے احکام خدا وندی کی فہرستیں تیار کر رکھی تھیں۔ تا ان پر عمل ہو سکے۔ یہی کیفیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہؓ کی تھی۔ حضرت حکیم مولانا نور الدین خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کے متعلق ذکر ہے کہ آپؓ نے اپنے زیر استعمال قرآن پر احکام خداوندی کی نشان دہی کر رکھی تھی۔

ایک روایت ہے کہ ایک مہاجر صحابیؓ نے قرآنی حکام کی فہرست تیار کر رکھی تھی اور اُن کی کوشش رہتی کہ کوئی ایسا حکم قرآن کا نہ رہ جائے جس پر وہ عمل پیرا نہ ہوں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ قرآنی حکم ’’اگر تمہیں کہا جائے کہ لوٹ جاؤ تو لوٹ آیا کرو‘‘ پر تعمیل کی غرض سے میں ساری عمر کوشاں رہا۔ مدینہ کے ہر گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا کہ کوئی مجھے کہہ دے کہ میں اس وقت ملاقات نہیں کرنا چاہتا تم واپس لوٹ جاؤ تو میں واپس لوٹ آؤں۔ مگر مجھے ایسی آواز سنائی نہ دی۔ اور یہ حکم بغیر عمل کے رہ گیا۔

(جامع البیان فی تفسیر القرآن از ابو جعفر محمد بن حریر الطبری جلد18زیر آیت سورۃ النور:28)

(700 احکام خداوندی صفحہ37)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بیان فرماتے ہیں۔
’’انسان کو ہمیشہ یہ کوشش کرنی چاہئے کہ میرا مقصد اور میرا کام صرف یہ ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اس کے احکامات پر عمل کرنا ہے اور اس کے بے شمار احکامات ہیں۔ ایک درجے کا آپ کو کس طرح پتہ چل سکتا ہے؟ پہلے قرآن کریم سے تلاش کریں۔ قرآن کریم کے 700 حکم ہیں یا بعض جگہ پر 1200 بھی حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام نے فرمایا ہے۔ تو کیا ان 700 یا 1200 حکموں پر عمل کر لیا ہے؟ کیا ان کی تلاش کر لی ہے؟ جب ان حکموں کی تلاش کر لی ہے اور ان پر عمل کر لیا ہے تو پھر اگلی بات آپ کریں کہ کیا اب میں کوئی اور درجہ دیکھوں گا تو پھر خدا تعالیٰ خود وہ درجہ عطا فرماتا ہے۔ انسان کی کوششوں سے عطا نہیں ہوتا۔ اس لئے ایک مومن کا کام یہ ہے کہ۔۔ ۔۔ اس کے حکموں پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔‘‘

(الفضل آن لائن 28 جولائی2021ء)

قرآن کو یاد رکھنا پاک اعتقاد رکھنا
فکر معاد رکھنا پاس اپنے زاد رکھنا
اکسیر ہے پیارے صدق و سداد رکھنا
یہ روز کر مبارک سبحان من یرانی

(ابو سعید)

پچھلا پڑھیں

جامعة المبشرین سیرالیون کی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیاں

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 جولائی 2022