• 18 اکتوبر, 2021

روبکس کیوب کیسے وجود میں آئے ؟

آپ میں سے کئی لوگوں نے روبکس کیوب دیکھا ہوگا اور اسے حل بھی کیا ہوگا۔ کئی چیزوں کی طرح روبکس کیوب کی ایجاد بھی اتفاقی طور پر ہوئی۔ یہ چھوٹا سا کھلونا انجنیئرنگ کا شاہکار اور دنیا میں سب زیادہ فروخت ہونے والا کھلونا بھی ہے۔

یہ 1974ء کی بات ہے جب ایرن روبک نامی ایک شخص جو ہنگری میں پروفیسر تھے اور آرکیٹکچر اینڈ ڈیزائن کے مضامین پڑھاتے تھے۔ اپنے شاگردوں کو تھری ڈی پرابلم سمجھانے کے لیے مختلف طریقے اپنایا کرتے تھے۔ تب انہوں نے ایک کیوب بنایا اور اسے میجک کیوب کا نام دیا۔ایرن روبک کا کہنا ہے کہ وہ دنیا کو یہ دکھانا چاہتے تھے کہ اسے حل کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ اپنے خود کے بنائے میجک کیوب کو حل کرنے میں انہیں ایک مہینے کا وقت لگا۔ایرن روبک کے مطابق انہوں نے اسے شروعات میں کبھی بھی ایک کھلونے کے طور پر نہیں دیکھا تھا، ان کے نزدیک یہ آرٹ کا ایک بہترین نمونہ تھا۔

روبکس کیوب کو عوام میں بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی اور 1977ء میں تجارتی بنیادوں پر اسے فیکٹری میں بنانے کا عمل شروع ہوا۔روبک کیوب کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اُس وقت یہ دنیا کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی چیز بن گئی تھی۔ 1980ء میں اس کے آفیشل لانچ کے بعد 450 ملین روبک کیوب فروخت ہوئے۔ ایرن روبک کے مطابق انہیں بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ اس کھلونے کو اتنی مقبولیت حاصل ہوگی۔ 2017ء میں روبکس کیوب کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا تخمینہ$250 ملین ڈالر لگایا ہے۔

1980ء میں ایرن روبک نے میجک کیوب کا نام بدل کر ’’روبکس کیوب‘‘ رکھ دیا جو آج تک اسی نام سے جانا جاتا ہے۔ دو سال بعد اس نے پہلی بار روبکس کیوب کی ورلڈ چیمپیئن شپ کروائی۔ یہ چیپمیئن شب بڈاپسٹ، ہنگری میں منعقد ہوئی۔ ’’من تئے‘‘ اس کا پہلا چیمپیئن بنا جس نے 22.95 سیکنڈ میں روبکس کیوب کا پزل حل کرکے پہلا روبکس کیوب چیپمیئن ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا۔ اس کے بعد روبکس کیوب دنیا بھر میں تیزی سے مقبول ہونے لگا اور کیوب بنانے والی کپمنیوں میں بہتر سے بہتر ڈیزائن بنانے کی دوڑ لگ لگ گئی۔ایسے ڈیزائن بنائے جانے لگے جو تیزی سے پزل حل میں بہت مدد گار تھے۔

2007ء میں ’’یو نکا جیما‘‘ نے 12.46 سیکنڈ میں تیز ترین روبکس کیوب حل کرکے سابقہ ریکارڈ توڑا۔ پھر 2015ء میں ’’لوکس ایٹر‘‘ نامی نوجوان نے 4.9 سیکنڈ کے قلیل وقت میں روبکس کیوب حل کرکے نیا عالمی ریکارڈ بنایا۔ 8 مئی 2018ء میں ’’فیلکس زیمج‘‘ نے 4.2 سیکنڈ میں پزل حل کرکے اس ریکارڈ کو توڑا لیکن یہ ریکارڈ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکا اور اسی سال یوشنگ ڈوشیو نے 3.4 سیکنڈ میں روبکس کیوب حل کرکے فیلکس کا ریکارڈ توڑ دیا جو اب تک برقرار ہے۔

لوگوں نے اپنے طور پر اس سے بھی زیادہ تیز ترین روبکس کیوب حل کرنے کے دعوے کیے ہیں۔ جیسا کہ «میکس پنک»نامی ایک شخص نے روبکس کیوب پزل حل کرنے میں صرف 3.2 سیکنڈ کا وقت لیا۔ لیکن چونکہ یہ اس نے اپنے گھر پر کیا تھا اس لیے اسے عالمی ریکارڈ کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ کسی انسان نے اب تک اس سے زیادہ تیزی سے پزل حل نہیں کیا لیکن ایسے روبوٹ بنائے گئے ہیں جو روبکس کیوب پزل حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کسی بھی روبوٹ کا کم سے کم وقت میں روبکس کیوب حل کرنے کا دورانیہ محض 0.38 سیکنڈ ہے۔

یوں تو لوگ روبکس کیوب کو اپنے اپنے طریقوں سے حل کرتے ہیں اور یوٹیوب پر ایسی بے شمار وڈیوز موجود ہیں جن میں روبکس کیوب کو حل کرنے کے طریقے بتائے گئے ہیں۔ ٹام روکک جو ایک کمپیوٹر سائنٹسٹ ہیں کے مطابق روبکس کیوب کو 43 کوئنٹلین طریقوں سے حل کیا جا سکتا ہے۔ اگر اسے ہندسوں میں لکھا جائے تو یوں ہوگا 43,252,003,274,489,856,000 اب آپ اسے شمار کرتے ہیں۔ یہ تعداد دنیا کے تمام ساحلوں پر پائی جانے والی ریت کے ذرات سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ یوں تو روبکس کیوب میں کیوب کی تعداد مختلف ہوتی ہے لیکن سب سے زیادہ مقبول 33x والے روبکس کیوب ہیں۔

(ابو حمزہ)

پچھلا پڑھیں

ایڈیٹر کے نام خط

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 اکتوبر 2021