• 10 اگست, 2022

دىن کو دنىا پر مقدم رکھىں

قُلۡ اِنۡ کَانَ اٰبَآؤُکُمۡ وَ اَبۡنَآؤُکُمۡ وَ اِخۡوَانُکُمۡ وَ اَزۡوَاجُکُمۡ ۔۔۔ (التوبہ: 24) ىعنى ان کو کہدے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بىٹے اور تمہارے بھائى اور تمہارى عورتىں اور تمہارى برادرى اور تمہارےوہ مال جو تم نے محنت سے کمائے ہىں اور تمہارى سوداگرى جس کے بند ہونے کا تمہىں خوف ہے اور تمہارى خوبىاں جو تمہارے دل پسند ہىں، خدا سے اور اس کے رسول سےاور خدا کى راہ مىں اپنى جانوں کو لڑانے سے زىادہ پىارے ہىں تو تم اس وقت تک منتظر رہو کہ جب تک خدا اپنا حکم ظاہر کرے اور خدا بدکاروں کو کبھى اپنى راہ نہىں دکھائے گا۔

ان آىات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جو لوگ خدا کى مرضى کو چھوڑ کر اپنے عزىزوں اور اپنے مالوں سے پىار کرتے ہىں وہ خدا کى نظر مىں بدکار ہىں وہ ضرور ہلاک ہوں گے کىونکہ انہوں نے غىر کو خدا پر مقدم رکھا۔ ىہى وہ تىسرا مرتبہ ہے جس مىں وہ شخص باخدا بنتا ہے جو اس کے لئے ہزاروں بلائىں خرىدے اور خدا کى طرف اىسے صدق اور اخلاص سے جھک جائے کہ خدا کے سوا کوئى اس کا نہ رہے گوىا سب مرگئے۔ پس سچ تو ىہ ہے کہ جب تک ہم خود نہ مرىں زندہ خدا نظر نہىں آ سکتا۔ خدا کے ظہور کا دن وہى ہوتا ہے کہ جب ہمارى جسمانى زندگى پر موت آوے۔ ہم اندھے ہىں جب تک غىر کے دىکھنے سے اندھے نہ ہو جائىں۔ ہم مردہ ہىں جب تک خدا کے ہاتھ مىں مردہ کى طرح نہ ہو جائىں۔ جب ہمارا منہ ٹھىک ٹھىک اس کے محاذات مىں پڑے گا تب وہ واقعى استقامت جو تمام نفسانى جذبات پر غالب آتى ہے ہمىں حاصل ہوگى اس سے پہلے نہىں اور ىہى وہ استقامت ہے جس سے نفسانى زندگى پر موت آجاتى ہے۔ ہمارى استقامت ىہ ہے کہ جىسا وہ فرماتا ہے کہ :

بَلٰى ٭ مَنۡ اَسۡلَمَ وَجۡہَہٗ لِلّٰہِ وَ ہُوَ مُحۡسِنٌ

(البقرہ:113)

ىعنى ىہ کہ قربانى کى طرح مىرے آگے گردن رکھ دو۔ اىسا ہى ہم اس وقت درجۂ استقامت حاصل کرىں گے کہ جب ہمارے وجود کے تمام پرزے اور ہمارے نفس کى تمام قوتىں اسى کام مىں لگ جائىں اور ہمارى موت اور ہمارى زندگى اسى کے لئے ہو جائے ۔۔۔۔تب وہ خدا جو ہمىشہ سے پىار کرنے والوں کے ساتھ پىار کرتاؔ آىا ہے اپنى محبت کو اس پر اتارتا ہے اور ان دونوں محبتوں کے ملنے سے انسان کے اندر اىک نور پىدا ہوتا ہے جس کو دنىا نہىں پہچانتى اور نہ سمجھ سکتى ہے اور ہزاروں صدىقوں اور برگزىدوں کا اسى لئے خون ہوا کہ دنىا نے ان کو نہىں پہچانا۔ وہ اسى لئے مکار اور خود غرض کہلائے کہ دنىا ان کے نورانى چہرہ کو دىکھ نہ سکى۔

 (اسلامى اصول کى فلاسفى، روحانى خزائن جلد10 صفحہ382-384)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 1 نومبر 2021

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ