• 1 فروری, 2023

کیا سمندر واقعی آکسیجن پیدا کرتے ہیں؟

زمین پر موجود جانداروں کو زندہ رہنے کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔آکسیجن ایک ایسی گیس ہے جو زمین کے ماحول کا 21 فیصد حصہ بناتی ہے۔ آکسیجن جانداروں کو سانس لینے، بڑھنے اور خوراک کو توانائی میں تبدیل کرنے میں مدد کرتی ہے۔ آکسیجن ہمارے خلیوں کو خوراک کو توڑنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے تاکہ ہمیں زندہ رہنے کے لیے درکار توانائی حاصل ہو سکے۔زمینی جاندار زمین کے ماحول سے ہوا میں سانس لیتے ہیں جبکہ زیادہ تر سمندری جانور براہ راست سمندر کے پانی سے آکسیجن حاصل کرتے ہیں۔

یہ تمام آکسیجن زمین میں کہاں سے آتی ہے۔ آپ پہلے ہی سے یہ بات جانتے ہیں کہ یہ آکسیجن Photosynthetic اجسام یعنی پودوں سے آتی ہے۔ Photosynthetic وہ عمل ہے جس کے ذریعے سبز پودے اور کچھ دوسرے جاندار اجسام سورج کی روشنی ، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی کو آکسیجن اور توانائی بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اگرچہ درخت اور جنگل آکسیجن پیدا کرنے میں اہم کرداراداکرتے ہیں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ زیادہ تر آکسیجن جس میں آپ سانس لیتے ہیں وہ سمندر سے آتی ہے؟

زمین کی آکسیجن کا کم از کم آدھا حصہ سمندر سے آتا ہے

سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ زمین پر آکسیجن کی پیداوار کا 50-70 فیصد حصہ سمندر سے آتا ہے۔ اس کی زیادہ تر پیداوار سمندری Photosynthesizers یعنی Plankton سے ہوتی ہے۔ ان میں Phytoplankton (Plankton) وہ قسم جو خوردبینی پودوں پر مشتمل ہوتا ہے، چونکہ انہیں سورج کی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے یہ پانی کی سطح کے قریب پائے جاتے ہیں اور Seaweed (سمندری گھاس) شامل ہیں۔یہ دونوں کاربن ڈائی آکسائیڈ، پانی اور سورج سے حاصل ہونے والی توانائی اپنے لیے خوراک بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اس عمل کے نتیجے میں آکسیجن خارج کرتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، وہ سمندر میں فوٹو سنتھیسائز کرتے ہیں۔

Phytoplankton زمین کے کچھ سب سے اہم جانداروں میں شامل ہیں۔ Phytoplankton میں ،سمندر کی سطح پر موجود بہتے خوردبینی پودے ،ایلجی اورکچھ بیکٹیریا جو فوٹو سنتھیسائز کر سکتے ہیں شامل ہیں۔ Phytoplankton بیکٹیریا کی ایک مخصوص قسم، جسے Prochlorococcus کہا جاتا ہے، ہمارے سیارے پر 20 فیصد آکسیجن پیدا کرنے کے لیے ذمہ دار ہے۔ Prochlorococcus بیکٹیریا اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ پانی کی ایک بوند میں ہزاروں سما سکتے ہیں۔ Phytoplankton کے زریعے پیدا ہونے والی آکسیجن کی مقدار کا بہتر اندازہ لگایا جا سکے اس سلسلے میں سیٹلائٹ کی تصاویر سائنسدانوں کو phytoplankton کو ٹریک کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

اس سلسلے میں ایک اور بات بھی قابل توجہ ہے اور وہ ہے سمندری آلودگی۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں یہ ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ زیادہ تر سمندری آلودگی، زمینی ذرائع سے ہوتی ہے انسانوں کے زیر استعمال مختلف قسم کے کیمیکلز جیسے صنعتی، زرعی کیمیکلز اور فضلہ، رہائشی فضلہ، پلاسٹک اور دیگر زہریلے ذرات سمندر میں داخل ہوتے ہیں اور وہاں نقصان دہ اثرات مرتب کرتے ہیں اس علاوو جہاز رانی کی سرگرمیاں بھی سمندری آلودگی میں حصہ ڈالتی ہیں اور حادثاتی طور پر تیل کے اخراج کے ذریعے بھی سمندری حیات کو نقصان پہنچتا ہے۔ اگر ہم Phytoplankton کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں اور قدرتی سلسلے کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو آلودگی کو کم کرناہوگا اور جو کچھ سمندر میں بہایا جا رہا ہے اس کا خیال رکھنا پڑے گا تاکہ زمین اور سمندر میں قدرت کی خوبصورتی کو محفوظ رکھیں۔

حوالہ جات

https://oceanservice.noaa.gov/facts/ocean-oxygen.html
https://ocean.si.edu/ocean-life/plankton/every-breath-you-take-thank-ocean
https://xshore.com/news/70-percent-of-the-oxygen-you-breathe-is-produced-by-the-ocean

(سید عمار احمد۔ جرمنی)

پچھلا پڑھیں

شفقت و دلداری

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 نومبر 2022