• 3 فروری, 2023

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام (قسط 44)

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام
محمدؐ ہی نام اور محمدؐ ہی کام
علیک الصلوۃ علیک السلام
قسط 44

حضرت آمنہ کو خواب میں بتایا گیا کہ اُن کے ہاں ایک لڑکا پیداہوگا اس کا نام محمد(ﷺ) رکھنا۔ نیز انہوں نے یہ بھی خواب دیکھا کہ ان کے اندر سے ایک چمکتا ہوا نور نکلا ہے اور دُور دراز ملکوں میں پھیل گیا ہے۔جب بیٹا پیدا ہوا تو اس کے دادا عبد المطلب کو بتایا کہ مَیں نے خواب میں بچے کا نام محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) دیکھا تھا۔ عبدالمطلب اس پیارے بچے کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر بیت اﷲ میں لے گئے اور وہاں جاکر خدا کا شُکر ادا کیا اور بچے کے نام محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کا اعلان کیا۔ جس کے معنے ہیں بہت قابلِ تعریف، بے حد تعریف والا، حمد کیا گیا، بہت تعریف کیا گیا، نہایت سراہا گیا۔

اللہ تعالیٰ نے اس بچے کو تعریف کے قابل بنانے کے لئے اس کے قلب کو مطہر بنایا۔ بہت بچپن میں ایک دفعہ جب کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) بچوں کے ساتھ مِل کر کھیل رہے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو زمین پر لِٹا کر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا سینہ چاک کر دیا اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سینہ کے اندر سے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا دل نکالا اور اس میں سے کوئی چیز نکال کر باہر پھینک دی اور ساتھ ہی کہا کہ یہ کمزوریوں کی آلائش تھی جو اَب تم سے جُدا کر دی گئی ہے۔ اس کے بعد جبرائیل نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے دل کو مصفیٰ پانی سے دھویا اور سینہ میں واپس رکھ کر اُسے پھر جوڑ دیا۔ صحیح مسلم میں بیان کردہ اس کشف سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ پاکیزہ ، مطہر، مقدس اور مقرب تھے۔ نو عمری میں صادق اور امین مشہور ہونا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکی نگاہوں میں حسن اخلاق کی وجہ سے عزت پانا بھی ظاہر کرتا ہے کہ لوگ آپﷺ کی تعریف کرنے پر مجبور تھے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محمدﷺ کے لئے کائنات تخلیق فرمائی تھی اس کو خیر البشر اور خیر الانبیاء بنایا تھا اور اس کا نام کلمہ طیبہ میں اپنے نام کے ساتھ جوڑ ا تھا۔ لا الہ الاللّٰہ محمد رسول اللّٰہ ارشاد فرمایا کہ اگر اللہ سے محبت ہے تو محمدﷺ کی اطاعت کرو اللہ محمدﷺ کی اطاعت کرنے والوں سے محبت کرے گا۔ اس وجہِ تخلیقِ کائنات کی عظمت کا سبب یہ بتایا کہ اس کا اسوہ سب سے زیادہ حسین ہے اس لئے قابل تعریف ہے۔ ساری دنیا میں سب لوگوں سے جو ماضی میں تھے حال میں ہیں اور مستقبل میں ہوں گے سب سے زیادہ تعریف کے قابل ہے سب سے زیادہ پسندیدہ شخصیت اللہ کے اس محبوب محمدﷺ کی ہے۔ آپﷺ مظہر انوار سماوی ہیں۔ آپﷺ میں خدا تعالیٰ منعکس ہے۔ صرف اپنے ہی نہیں غیر بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں۔ کہ خُلقِ محمدی سے محبت ہوجاتی ہے اور بے ساختہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف لبوں پر مہک جاتی ہے۔

؎پیار ہو جائے کسی سے کوئی چارہ تو نہیں
صرف مسلم کا محمدؐ پہ اِجارہ تو نہیں

(کنور مہندر سنگھ بیدی سحر)

ماہرِ فلکیات اور مؤرخ ڈاکٹر مائیکل ایچ ہارٹ نے اپنی کتاب تاریخ کی سو متاثر کن شخصیات میں جو 1978ء میں شائع ہوئی۔ ہمارے پیارے نبی اکرمﷺ کو سر فہرست رکھا ہے۔ آج ہم حضرت محمد مصطفی ٰﷺ کے ننانوے صفاتی ناموں میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نام کا ذکر کریں گے۔ اس نام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت اور سیرت کے کئی حسین پہلو سامنے آتے ہیں۔ قرآن کریم میں یہ بابرکت نام چار دفعہ آتا ہے:

نمبر 1: وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انۡقَلَبۡتُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ ؕ وَمَنۡ یَّنۡقَلِبۡ عَلٰی عَقِبَیۡہِ فَلَنۡ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیۡئًا ؕ وَسَیَجۡزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۴۵﴾

(آل عمران: 145)

اور محمد نہیں ہے مگر ایک رسول۔ یقیناً اس سے پہلے رسول گزر چکے ہیں۔ پس کیا اگر یہ بھی وفات پا جائے یا قتل ہو جائے تو تم اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے؟ اور جو بھی اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائےگا تو وہ ہرگز اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکےگا۔ اور اللہ یقیناً شکرگزاروں کو جزا دے گا۔

محمد مصطفیٰﷺ تمام صفات حسنہ کے مالک اور تمام خوبیوں سے مرصّع رسول ہیں۔ لیکن آپﷺ ایک انسان ہیں۔ اور یہ اعلیٰ ترین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانوں میں بہترین ہو کے پایا ہے۔ بشریت کے تقاضوں سے مبرا نہیں تھے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدائی کا درجہ دینا زیادتی اور شرک ہے۔ جس طرح باقی رسول وفات پاگئے بالکل اسی طرح رسول اکرمﷺ بھی اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوگئے ہیں۔کسی کو استثناء حاصل نہیں خواہ وہ افضل الرسل ہو۔ خدائے واحد کے سوا کوئی معبود نہیں۔

نمبر 2: مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ وَکَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا ﴿۴۱﴾

(الاحزاب: 41)

محمد تمہارے (جیسے) مَردوں میں سے کسی کا باپ نہیں بلکہ وہ اللہ کا رسول ہے اور سب نبیوں کا خاتَم ہے۔ اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔

رسول خداﷺ اگرچہ بہترین خاندان سے تعلق رکھتے تھے لیکن قرآن پاک فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی نسبی تعلق یا کسی نسلی فضیلت کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عظمت کا ایک انقلابی نشان دیا جاتا ہے جو دائمی شان کا حامل ہے جس کی کوئی نظیر نہیں کوئی اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا وہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تمام نبوتوں اور رسالتوں کی تصدیق کے لئے مہر کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی نبی اور رسول نہیں جو آپ کی تصدیق کے بغیر مانا جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کوئی نبی نہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی، اتباع، اطاعت اور محبت کے بغیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر کے بغیر الٰہی مکالمہ مخاطبہ کی کثرت کا فیض حاصل کر سکے۔

نمبر 3: وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاٰمَنُوۡا بِمَا نُزِّلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّہُوَ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّہِمۡ ۙ کَفَّرَ عَنۡہُمۡ سَیِّاٰتِہِمۡ وَاَصۡلَحَ بَالَہُمۡ ﴿۳﴾

(محمد: 3)

جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے اور وہ کلام جو حضرت محمدﷺ پر نازل ہوا اس پر ایمان لائے اور وہی حق ہے ایسے لوگوں کے خدا گناہ بخش دے گا اور اُن کے دلوں کی اصلاح کرے گا۔

’’اب دیکھو کہ آنحضرتﷺ پر ایمان لانے کی وجہ سے کس قدر خدا تعالیٰ اپنی خوشنودی ظاہر فرماتا ہے کہ اُن کے گناہ بخشتا ہے اور اُن کے تزکیہ نفس کا خود متکفل ہوتا ہے۔ پھر کیسا بدبخت وہ شخص ہے جو کہتا ہے کہ مجھے آنحضرتﷺ پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں اور غرور اور تکبر سے اپنے تئیں کچھ سمجھتا ہے۔‘‘

(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ133)

نمبر4: مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰہِ ؕ وَالَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ تَرٰٮہُمۡ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِضۡوَانًا

(الفتح: 30)

محمد رسول اللہ اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ ہیں کفار کے مقابل پر بہت سخت ہیں (اور) آپس میں بے انتہا رحم کرنے والے۔ تُو انہیں رکوع کرتے ہوئے اور سجدہ کرتے ہوئے دیکھے گا۔ وہ اللہ ہی سے فضل اور رضا چاہتے ہیں۔

’’محمد اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار کے خلاف بڑا جوش رکھتے ہیں لیکن آپس میں ایک دوسرے سے بہت ملاطفت کرنے والے ہیں جب تو انہیں دیکھے گا انہیں شرک سے پاک اور اللہ کا مطیع پائے گا۔ وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا کی جستجو میں رہتے ہیں۔ ان کی شناخت ان کے چہروں پر سجدوں کے نشان کے ذریعہ موجود ہے۔‘‘

(تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورہ الفتح صفحہ234)

نیز آپ علیہ السلام فرماتے ہیں:
نوع انسان کے لیے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن، اور تمام آدم زادوں کیلئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر حضرت محمد مصطفےٰﷺ۔ سو تم کوشش کرو کہ سچی محبت ا س جاہ و جلال کے نبیﷺ کے ساتھ رکھو اور اس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو تا آسمان پر تم نجات یافتہ لکھے جاؤ اور یاد رکھو کہ نجات وہ چیز نہیں جو مرنے کے بعد ظاہر ہوگی بلکہ حقیقی نجات وہ ہے کہ اسی دنیا میں اپنی روشنی دکھلاتی ہے۔ نجات یافتہ کون ہے؟ وہ جو یقین رکھتا ہے کہ خدا سچ ہے اور محمدﷺ اس میں اور تمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہے اور آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مرتبہ کوئی اور رسول ہے اور نہ قرآن کے ہم مرتبہ کوئی اور کتاب ہے۔ اور کسی کے لیے خدا نے نہ چاہا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے۔ مگر یہ برگزیدہ نبی ہمیشہ کے لیے زندہ ہے۔

(کشتی نوح صفحہ13)

حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا:
’’کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے اہل وعیال، اس کے مال اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ بن جاؤں۔‘‘

(صحیح مسلم)

اللہ تعالیٰ نے اپنی بنیادی صفات میں سے پہلی دو یعنی الرحمن اور الرحیم میں بھی صفت محمد و صفت احمد کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
اہل عرفان کے نزدیک اس صفت رحمانیت کی حقیقت یہ ہے کہ ہر ذی روح کو انسان ہو یا غیر انسان بغیر کسی سابقہ عمل کے محض احسان کے طور پر فیض پہنچایا جائے اور اس میں کوئی شک نہیں اور نہ کسی اختلاف کی گنجائش ہے کہ اس قسم کا خالص احسان جو مخلوق میں سے کسی کام کرنے والے کے کسی کام کا صلہ نہ ہو مومنوں کے دلوں کو ثنا، مدح اور حمد کی طرف کھینچتا ہے۔لہٰذا وہ خلوص قلب اور صحت نیت سے اپنے محسن کی حمد و ثنا کرتے ہیں۔ اس طرح بغیر کسی وہم کے جو شک و شبہ میں ڈالے خدائے رحمان یقیناً قابل تعریف بن جاتا ہے…پھر جب اتمام نعمت کے باعث حمد اپنے کمال کو پہنچ جائے تو وہ کامل محبت کی جاذب بن جاتی ہے اور ایسا محسن اپنے محبوں کی نظر میں بہت قابل تعریف اور محبوب بن جاتا ہے اور یہ صفت رحمانیت کا نتیجہ ہے۔ پس آپ عقلمندوں کی طرح ان باتوں پر غور کیجئے۔ اب اس بیان سے ہر صاحب عرفان پر واضح ہوگیا ہے کہ الرحمان بہت حمد کیا گیا ہے اور (کامل) حمد کیا گیا الرحمان ہے۔ بلا شبہ ان دونوں کا نتیجہ ایک ہی ہے اور اس سچائی سے ناواقف ہی اس کا انکار کرنے والا ہے۔

(اعجازالمسیح، روحانی خزائن جلد18 صفحہ104)

حضرت اقدس علیہ السلام الٰہی نور سے دیکھتے ہوئے کیسی خوبصورتی سے آپﷺ کے مقام و مرتبہ کو بیان فرماتے ہیں:
’’ہمیشہ تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمدﷺ (ہزار ہزار درود اور سلام اُس پر) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہوسکتا اور اُس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔ افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔ وہ توحید جو دنیا سے گم ہوچکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔ اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی۔ اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اُس کی جان گداز ہوئی۔ اس لیے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا اس کو تمام انبیاء اور تمام اولین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اُس کی مرادیں اس کی زندگی میں اُس کو دیں۔

(حقیقۃ الوحی صفحہ115)

؎محمدؐ عربی بادشاہ ہر دوسرا
کرے ہے روح قدس جس کے در کی دربانی
اسے خدا تو نہیں کہہ سکوں پر کہتا ہوں
کہ اُس کی مرتبہ دانی میں ہے خدادانی

جمالِ محمدی کا دوبارہ ظہور

اﷲ کے حکم کے ساتھ اس زمانہ میں جری اﷲ فی حلل الانبیاء حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ االسلام کی بعثت کے ذریعہ دوبارہ جمال محمدی کا ظہور ہوا۔ آپ علیہ السلام کو الہام ہوا۔

مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰہِ ؕ وَالَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ۔ اس وحیٔ الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔

(ایک غلطی کا ازالہ، روحانی خزائن جلد18 صفحہ207)

’’نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑکی سیرتِ صدیقی کی کھلی ہے یعنی فنا فی الرسول کی۔ پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے اس پر ظلی طو رپر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوتِ محمدی کی چادر ہے۔ اس لئے اس کا نبی ہونا غیرت کی جگہ نہیں کیونکہ وہ اپنی ذات سے نہیں بلکہ اپنے نبی کے چشمہ سے لیتا ہے اور نہ اپنے لئے بلکہ اسی کے جلال کے لئے۔ اسی لئے اس کا نام آسمان پر محمد اور احمد ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ محمد کی نبوت آخر محمد کو ہی ملی۔ گو بروزی طور پر مگر نہ کسی اور کو… غرض میری نبوت اور رسالت باعتبار محمد اور احمد ہونے کے ہے۔ نہ میرے نفس کی رو سے۔ اور یہ نام بحیثیت فنا فی الرسول مجھے ملا ہے۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ، روحانی خزائن جلد18 صفحہ208)

؎بعد از خدا بعشق محمدؐ مخمرم
گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم

خدا تعالیٰ کے بعد میں محمد مصطفےٰﷺ کے عشق میں دیوانہ ہوچکا ہوں اگر اس عشق کی دیوانگی کا نام کوئی کفر رکھتا ہے تو خدا کی قسم میں سخت کافر ہوں (کیونکہ آپﷺ سے میں شدید محبت رکھتا ہوں)۔

(بحوالہ ازالہ اوہام صفحہ176)

ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا

’’میں بار ہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت وَاٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرتﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔ پس اس طور سے آنحضرتﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا اور چونکہ میں ظلی طور پر محمدہوں پس اس طور سے خاتم النبیین کی مُہر نہیں ٹوٹی کیونکہ محمدﷺ کی نبوت محمدﷺ تک ہی محدود رہی یعنی بہرحال محمدﷺ ہی نبی رہا نہ اور کوئی یعنی جبکہ میں بروزی طور پر آنحضرتﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی مع نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کونسا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا۔‘‘

(ایک غلطی کا ازالہ روحانی خزائن جلد18 صفحہ212)

وآخرین منھم لمّا یلحقوا بھم

یعنی آنحضرتﷺ کے اصحاب میں سے ایک اور فرقہ ہے جو ابھی ظاہر نہیں ہوا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اصحاب وہی کہلاتے ہیں جونبی کے وقت میں ہوں اور ایمان کی حالت میں اس کی صحبت سے مشرف ہوں اور اس سے تعلیم اور تربیت پاویں۔ پس اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنے والی قوم میں ایک نبی ہوگا کہ وہ آنحضرت ﷺ کا بروز ہوگا اس لئے اس کے اصحاب آنحضرتﷺ کے اصحاب کہلائیں گے اور جس طرح صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنے رنگ میں خدا تعالیٰ کی راہ میں دینی خدمتیں ادا کی تھیں وہ اپنے رنگ میں ادا کریں گے۔ بہر حال یہ آیت آخری زمانہ میں ایک نبی کے ظاہر ہونے کی نسبت ایک پیشگوئی ہے ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ ایسے لوگوں کا نام اصحاب رسول اللہ رکھا جائے جو آنحضرتﷺ کے بعد پیدا ہونے والے تھے جنہوں نے آنحضرت ﷺ کو نہیں دیکھا۔ آیت ممدوحہ بالا میں یہ تو نہیں فرمایا واٰخرین من الاُمّۃ بلکہ یہ فرمایا واٰخرین منہم اور ہر ایک جانتا ہے کہ منہم کی ضمیر اصحاب رضی اللہ عنہم کی طرف راجع ہے۔ لہٰذا وہی فرقہ منہم میں داخل ہو سکتا ہے جس میں ایسا رسول موجود ہو کہ جو آنحضرتﷺ کا بروز ہے اور خدا تعالیٰ نے آج سے چھبیس26 برس پہلے میرا نام براہین احمدیہ میں محمد اور احمد رکھا ہے اور آنحضرتﷺ کا بروز قرار دیا ہے۔

(تتمہ حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ502)

بعض وقت بعض گزشتہ صلحاء کی کوئی ہم شکل روح جو نہایت اتحاد اُن سے رکھتی ہے۔ دنیا میں آ جاتی ہے اور اِس روح کو اُس روح سے صرف مناسبت ہی نہیں ہوتی بلکہ اُس سے مستفیض بھی ہوتی ہے اور اس کا دنیا میں آنا بعینہٖ اُس روح کا دنیا میں آنا شمار کیا جاتا ہے اِس کو متصوفین کی اصطلاح میں بروز کہتے ہیں۔

(ست بچن، روحانی خزائن جلد10 صفحہ182)

؎در رہ عشق محمدؐ ایں سروجانم رود
ایں تمنا ایں دعا ایں در دلم عزم صمیم

حضرت محمد مصطفیﷺ کے عشق کی راہ میں میرا سر اور جان قربان ہوجائیں۔ یہی میری تمنا ہے اور یہی میری دعا ہے اور یہی میرا دلی ارادہ ہے۔

(توضیح مرام صفحہ11)

(امة الباری ناصر۔امریکہ)

پچھلا پڑھیں

اخلاق کامل

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 2 دسمبر 2022