• 20 جولائی, 2024

جلسہ سالانہ قادیان کی آنکھوں دیکھی روئیداد

حنیف محمود کے قلم سے

سرزمین برطانیہ سے
جلسہ سالانہ قادیان کی آنکھوں دیکھی روئیداد

حضرت امام جعفر صادق ؒ کی پیشگوئی

’’مومن جو امام قائم کے زمانہ میں مشرق میں ہو گا اپنے اس بھائی کو دیکھ لے گا جو مغرب میں ہو گا اور اسی طرح جو مغرب میں ہو گا وہ اپنے اس بھائی کو دیکھ لے گا جو مشرق میں ہو گا۔‘‘

(بحار الانوار جلد 52 صفحہ391)

کے مطابق امام مہدی کے دور میں ایک دوسرے کو دور بیٹھے دیکھ سکنے کا نظارہ ایک بار پھر جلسہ سالانہ قادیان کے تیسرے روز اس وقت دیکھنے کو ملا جب جماعت احمدیہ عالمگیر کے امام حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے جلسہ کے تیسرے روز موٴرخہ 25؍دسمبر 2022ء بروز اتوار حاضرین جلسہ قادیان سے اختتامی خطاب فرمایا اور ہم نے لندن میں بیٹھے قادیان کے روح پرور مناظر دیکھے۔ حاضرین کو مشاہدہ کیا اور حاضرین جلسہ قادیان نے اپنے پیارے امام کو دیکھا اور محظوظ ہوئے جو ایمانوں کو جلا بخشنے کا موجب ہوا اس کے علاوہ افریقہ کے پانچ ممالک نے بھی لندن اور قادیان کے نظارے مختلف اوقات کے باوجود بیک وقت دیکھے۔

خاکسار اس وقت لندن سے جلسہ سالانہ قادیان کا آنکھوں دیکھا احوال قارئین کے سامنے رکھنے جا رہا ہے۔ قادیان سے بھی آنکھوں دیکھا حال الگ سےشائع ہو گا ان شاء اللّٰہ۔ برطانیہ میں ایوانِ مسرور اسلام آباد ٹلفورڈ میں انتظام تھا۔ منتظمین نے ہال میں جلسہ سالانہ کا سماں پیدا کر رکھا تھا۔ اس دفعہ سامعین کے لئے زمین پر بیٹھ کر خطاب سننے کا انتظام تھا۔ جوتے باہر ہی اتارنے کی ہدایت تھی۔ اندر ہال میں داخل ہوتے ہی خاکسار نے رب ادخلنی مدخل صدق کی دعا پڑھی اور ہال کی سجاوٹ کو دیکھ کر اللّٰہ اکبر اور سبحان اللّٰہ کی صدائیں خاکسار کی زبان سے بلند ہوئیں۔ ابھی میں کرسیوں کو دیکھ ہی رہا تھا کہ مکرم مرزا حفیظ احمد کارکن دفتر امیر صاحب لندن نے اپنا ہاتھ بلند کر کے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا اور کہا کہ اِدھر آ جائیں۔ چنانچہ مجھے اسٹیج کے ایک طرف یعنی حضور انور کے دائیں طرف لگی کرسیوں میں دوسری رو میں بٹھا دیا گیا۔ جہاں سے خاکسار نے پورے ہال کا ایک طائرانہ نظارہ کیا تو مجھے گرے اور نیلا رنگ نمایاں طور پر نظر آیا۔ زمین پر گرے رنگ کے نئے کارپٹ بچھے ہوئے تھے۔ اسٹیج پر بھی اسی گرے کارپٹ کا تسلسل تھا پیارے حضور کی کرسی کے نیچے اسی کلر کا مگر کالے بارڈر کا رگ (Rug) نظر آرہا تھا۔ا سٹیج پر حضور کے سامنے رکھا میز اور روسٹرم کا رنگ بھی قدرے گرے تھا۔ اسٹیج تو پہلے ہی بہت خوبصورت دکھائی دے رہا تھا اس کا بیک گراؤنڈ بھی اسٹیج کی خوبصورتی میں رنگ بھر رہا تھا مگر حضور کے رونق افروز ہونے کے بعد تو اس کو چار چاند لگ گئے۔

بیک گراؤنڈ

اسٹیج کے پیچھے ایک بڑی نیلے رنگ کی اسکرین نمایاں نظر آرہی تھی۔ جس کے وسط میں وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین بہت خوبصورت کیلی گرافی میں لکھی موجود تھی۔ اس کے اوپر قل ان کنتم تحبون اللہ فاتعبونی یحببکم اللّٰہ ال عمران کی آیت مع ترجمہ اردو اور انگریزی نمایاں تھی۔دائیں جانب اردو میں ۲۷ واں جلسہ سالانہ قادیان موٴرخہ23-24 25 دسمبر 2022ء درج تھا اور بائیں جانب انگریزی میں

127th Jalsa Salana Qadian 23rd , 24th, 25th December 2022

لکھا تھا۔ اس کے علاوہ دائیں طرف روحانی خزائن جلد8 صفحہ308 سے حضرت مسیح موعود ؑ کی یہ عبارت لکھی تھی جس کا انگریزی ترجمہ بائیں جانب درج تھا:
وہ انسان جس نے اپنی ذات سے اپنی صفات سے اپنے افعال سے اپنے اعمال سے اور اپنے روحانی اور پاک قویٰ کے پُرزور دریا سے کمالِ تام کا نمونہ علماً وعملاً و صدقاً و ثباتاً دکھلایا اور انسان کامل کہلایا ۔۔۔وہ انسان جو سب سے زیادہ کامل اور انسان کامل تھا اور کامل نبی تھا اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا جس سے روحانی بعث اور حشر کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی اور ایک عالَم کا عالَم مرا ہوا اس کے آنے سے زندہ ہو گیا۔ وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء امام الاصفیاء، ختم المرسلین، فخر النبیّین جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

اسٹیج کی دونوں اطراف کرسیاں رکھی گئی تھی۔ اسٹیج کے بائیں جانب کرسیاں وکلاء، افسران صیغہ کے لئے مختص تھیں۔جبکہ دائیں جانب کی کرسیاں اراکین مجلس عاملہ امیر صاحب یوکے اور دیگر مہمانان خصوصی کے لئے مختص کی گئی تھیں۔

اسٹیج کے سامنے دو ٹی وی اسکرین زمین پر نصب تھیں جن پر حضور لندن جلسہ کے مناظر دوسرے پر قادیان جلسہ کے مناظر اور افریقہ کے چھ ممالک گنی بساؤ، مالی، ایوری کوسٹ، ٹوگو، برکینا فاسو اور نائجیریا میں جلسہ کے مناظر دیکھ سکتے تھے نیز ٹی وی اسکرین کے ساتھ ساتھ دو گھڑیاں نصب تھیں۔ ایک پر یوکے کا اسٹینڈرڈ ٹائم اور دوسرے پر بھارت کا اسٹینڈرڈ ٹائم تھا۔

اسٹیج کے دائیں بائیں لمبے رخ دو عدد بینرز پر کلمہ طیبہ خوبصورتی کے ساتھ لکھا لٹک رہا تھا اور ان کے دونوں جانب نیلے رنگ کے پردوں سے دیوار کو cover کیا ہوا تھا۔جو اسٹیج اور ہال کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہے تھے۔

بینرز

اسٹیج والی جانب چھوڑ کر باقی تین اطراف میں نیلے رنگ کے بینرز چھت سے معلق تھے جن کے اندر محراب بنے ہوئے تھے اور ان کے اندر عبارات درج تھیں۔ دو میں تو مینارۃ المسیح بنا ہوا تھا اور دو پر محمدؐ لکھا تھا۔ ایک بینر پر حضرت مسیح موعودؑ کے یہ الفاظ درج تھے۔

’’اس جلسہ کو معمولی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں ۔ یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلائے کلمۃ اللہ پر بنیاد ہے۔‘‘

جبکہ ایک بینر پر یہ اشعار لکھے تھے۔؎

میں تھا غریب و بیکس و گمنام و بے ہنر
کوئی نہ جانتا تھا کہ ہے قادیاں کدھر
اب دیکھتے ہو کیسا رجوع جہاں ہوا
اک مرجع خواص یہی قادیاں ہوا

اور ہر بینر کے نیچے 127thجلسہ سالانہ قادیان تحریر تھا۔

ٹی وی اسکرینز

ایوانِ مسرور میں تین 60 انچ کے ٹی وی اور ایک 48 ا نچ کا ٹی وی مختلف جگہوں پر لگائے گئے تھے جن پر حضور انور کی آمد سے قبل قادیان دار الامان کے خوبصورت مناظر آنکھوں کو خیرہ کرتے اور ایمانوں کو ابھار رہے تھے۔ ان نظاروں اور ان معلومات کو خاکسار کا قلم جو جلدی جلدی سے قارئین الفضل کے لئے محفوظ کر سکا وہ ازدیادعلم اور ایمان کے لئے درج کر رہا ہے۔

جلسہ گاہ قادیان

قادیان دار الامان میں بھی اسٹیج کا یہی بیک گراؤنڈ تھا۔ جلسہ گاہ خوبصورت بینرز سے سجایا گیا تھا۔حاضرین و سامعین کے لئے پرالی کی جگہ کارپٹ بچھائے گئے تھے۔اسٹیج کے ارد گرد پھولوں کے گملے بھی نظر آئے۔ شاملینِ جلسہ کو سراپا آغوش ہو کر تقاریر سنتے دیکھا۔9 زبانوں میں رواں ترجمہ تھا اور مختلف قومیں اپنی اپنی زبان میں جلسہ سے مستفیض ہوئیں۔

ان ٹی وی اسکرینز پر بہشتی مقبرہ کا نظارہ بھی دیکھنے کو ملا۔تمام کیاریاں خوبصورت پھولوں سے اٹی پڑی تھیں۔مسجد اقصیٰ اور مسجد مبارک پر لائیٹننگ کی گئی تھی۔مسجد اقصیٰ کی چھت پر لگے سولر سسٹم کو دیکھ کر خوشی ہوئی۔ مسجد کے اندر حسبِ سابق شوخ رنگ کی دریاں نظر آئیں۔ کمنٹری کرنے والوں نے بتایا کہ 35 نظامتیں کام کر رہی ہیں۔تین لنگر میں چاول، سالن اور دال بن رہی ہیں جبکہ روٹی پلانٹ پر روزانہ8 ہزار روٹی تیار ہو رہی ہے۔ 37ممالک کے نمائندے اس جلسہ میں شامل ہوئے۔انڈونیشیا کے ایک نئے گیسٹ ہاؤس میں امسال مہمان پہلی بار قیام فرما رہے ہیں۔دار الضیافت اور سرائے وسیم کے علاوہ بہت سے گیسٹ ہاؤسزہیں۔

مختلف جگہوں پر ٹائلیٹس عارضی طور پر تعمیر کی گئی ہیں مگر جلسہ گاہ اور مساجد پر مستقل بنیادوں پر وضو خانے اور واش رومز تعمیر ہوئے ہیں۔تین عدد نمائشیں لگائی گئی ہیں۔ان میں قرآن نمائش ، الاسلام امن عالم نمائش اور مخزن تصاویر نمائش، تبلیغ و دعوت الی اللہ کا حق ادا کر رہی ہیں۔پارکنگ، قیام گاہوں اور دیگر جگہوں پر سی سی ٹی وی کیمرے آپریٹ کر رہے تھے۔

جماعت احمدیہ قادیان کا اپنا فائر بریگیڈ کا انتظام تھا تاہم حکومتی سطح پر بھی یہ انتظام موجود تھا۔ تین روز ہندوستان بھر سے مختلف اقوام، مختلف شکل و شبہات رکھنے والے محض للہ سفر کی صعوبتیں برداشت کرکے قادیان میں موجود تھے۔ جن میں گرم علاقوں سے بھی ایسے پیارے وجود موجود تھے جو پہلی دفعہ موسم سرما کی ٹھنڈ برداشت کر رہے تھے۔

حضور انور کی آمد

حضور انور صبح 10:32پر ایوان مسرور کے درمیانی گیٹ کے راستہ ،ہال میں رونق افروز ہوئے۔ حاضرین کو بلند آواز سے السلام علیکم کہا۔ تمام حاضرین نے کھڑے ہو کر اپنے پیارے امام کر اھلا و سھلا و مرحبا کہا۔ حضور اپنی نشت پر براجمان ہوئے۔ مکرم منیر احمد جاوید پرائیویٹ سیکرٹری نے پروگرام حضور کے سامنے رکھا۔ حضور انور نے اپنے دائیں جانب نظر شفقت کی تو خاکسار کی زبان سے اچانک یہ دعائیہ فقرے نکلے اُنظُر الی برحمۃ وتحنن۔ بلکہ حضور نے دو دفعہ نظر شفقت ڈالی اس کے بعد حضور نے مکرم فیروز عالم انچارج بنگلہ ڈیسک کو تلاوت کے لئے دعوت دی۔ آپ نے سورۃ بقرہ کے آخری رکوع کی تلاوت خوش الحانی سے کرکے تفسیر صغیر سے ترجمہ بھی پیش کیا۔ پھر مکرم ناصر علی عثمان نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منظوم کلام سے اے خدا اے کارساز وعیب پوش وکردگار! سے کچھ اشعار ترنم سے پڑھ کر سنائے۔ بعد ازاں حضور 10بج کر 50منٹ پرروسٹرم پر تشریف لائے اور خطاب کا آغاز فرمایا۔

حضور کے خطاب کا خلاصہ جرمنی سے ہمارے نمائندہ مکرم قمر احمد ظفر نے تیار کیا جو تمام گروپس میں بذریعہ واٹس ایپ بھجوا دیا گیا ہے اور عنقریب الفضل کا حصہ بنا دیا جائے گا ۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے مکرم محمود مجیب اصغر نے سویڈن سے لکھا۔ بہت شاندار اور کیا ہی comprehensive خلاصہ ہے حضور کے خطاب قادیان جلسہ کا۔

اس خطاب میں حضور نے دوسری شرط بیعت میں درج 9روحانی برائیوں کا تفصیل سے ذکر فرمایا۔ وہی خلاصہ یہاں قارئین الفضل کے لئے مکرر دیا جا رہا ہے۔

خلاصہ خطاب حضور انور

حضور انور ایدہ الله نے تشہد، تعوذ اور سورۃالفاتحہ کی تلاوت کے بعد ارشاد فرمایا! آج الله تعالیٰ کے فضل سے جلسہ سالانہ قادیان کا آخری دن ہے اور اُس کے فضل سے یہ تین دن برکات الٰہی سمیٹتے ہوئے گزر گئے۔

الله تعالیٰ کا اپنے وعدہ کو پورا کرنے کا اظہار

اِسی طرح جیسا کہ مَیں نے خطبہ جمعہ میں ذکر کیا تھا بہت سے افریقن ممالک میں بھی اِن دنوں میں جلسہ سالانہ ہو رہا ہے جن میں نائجیریا، آئیوری کوسٹ، گنی بساؤ، گنی کناکری، ٹوگو، برکینا فاسو، مالی اور زمبابوے شامل ہیں اور الله تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایم ٹی اے کے ذریعہ ہمیں ایک دوسرے کو دیکھنے اور سننے کی بھی توفیق دی ہے۔ یہ بھی الله تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ اپنے وعدہ کو پورا کرنے کا اظہار ہے۔

جب ہم جلسہ سالانہ کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں

تو اُس جلسہ کو دیکھتے ہیں جو آج سے 130 سال پہلے ہوا یعنی باقاعدہ جلسہ جس کا حضرت مسیح موعودؑ نے اعلان فرمایا تھا۔ گو اِس سے پہلے 1891ء میں بھی ایک جلسہ ہوا تھا لیکن وہ ایک دن کا تھا اور زیادہ تر انتظامی پہلو زیر نظر رہے اور آپؑ کی اُس وقت لکھی گئی تازہ تصنیف آسمانی فیصلہ مولانا عبدالکریم سیالکوٹی صاحبؓ نے پڑھ کر سنائی تھی۔ بہرحال جماعتی تاریخ میں 1891ء کو ہی پہلا جلسہ شمار کیا جاتا ہے لیکن باقاعدہ اشتہار دے کر، تواریخ جلسہ سالانہ مقرر کر کے، جس جلسہ کا آپؑ نے اعلان فرمایا وہ میرے نزدیک تو 1892ء کا جلسہ ہے اور اِس جلسہ کا مقصددینی، روحانی اور اخلاقی ترقی بیان فرمایا اور اِس پر بہت شدت سے زور دیا۔ یہی مقصد ہے جس کے حصول کے لئے آج الله تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے ہر ملک میں جہاں جماعت احمدیہ باقاعدہ قائم ہے جلسہ سالانہ منعقد ہوتا ہے۔1891ء کےچند گھنٹوں میں ختم ہونے والے مختصر جلسہ میں75 افراد تھے اور 1892ء کے باقاعدہ جلسہ میں 327 افراد شامل ہوئے۔

آج الله تعالیٰ کے فضلوں کی بارش اِس قدر ہے

الله تعالیٰ ہر ملک میں ہمیں ہزاروں کی تعداد میں شاملین دکھا رہا ہے، کیا یہ الله تعالیٰ کی تائیدات اور اُس کے وعدوں کا جو اُس نے حضرت مسیح موعودؑ سے کئے ثبوت نہیں ہے، یقینًا ہے۔اگر اعتراض کرنے والوں اور عقل کے اندھوں کی آنکھیں بند نہ ہوں تو یہی ایک بات اُنہیں الله تعالیٰ کی تائید و نصرت اور آپؑ کی سچائی دکھانے کے لئے کافی ہے۔ بہرحال اُن کو نظر آئے یا نہ آئے، یہ الله تعالیٰ کی تائیدات ہیں، الله تعالیٰ کا فضل ہے، الله تعالیٰ کا آپؑ سے وعدوں کا پورا ہونا ہے، جس کے نظارے ہم آج دیکھ رہے ہیں۔ یہ صرف منہ کی بات نہیں، سب دنیا دیکھ رہی ہے، کیمرہ کی آنکھ اور ٹی وی کی اسکرین ہمیں یہ نظارے دکھا رہی ہے۔

لیکن الله تعالیٰ کے اِس فضل و احسان پر ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں؟

ہم جلسہ میں شامل ہونے کے لئے جمع تو ہو گئے، دنیا میں مختلف جگہوں پر بیٹھے ہوئے سن بھی رہے ہیں، اُس کے نظارے بھی دیکھ رہے ہیں لیکن ہمیں اِس فضل سے فیض اٹھانے اور اِس مقصد کو پورا کرنے کے لئےاپنی ذمہ داریاں بھی ادا کرنی ہوں گی اور اپنے عہد اور اپنے وعدہ کو جو ہم نے جماعت میں شامل ہو کر آپؑ سے کیا ہے، پورا کرنا ہو گا۔ اِس کے لئے ہمیں اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنا ہوں گی۔

مَیں اِس حوالہ سے کچھ ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاؤں گا آج جن کا ہم نے حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت میں آکر اُن پر عمل کرنے کا آپؑ سے وعدہ کیا ہے۔ہم نے بیعت میں آ کر اپنی حالتوں کو الله تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی الله علیہ و سلم کے حکموں اور اُسوہ کے مطابق کرنے کے وعدے تو بہت کئے ہیں اِس عہد میں لیکن وقت کی رعایت سے مَیں اِس وقت دوسری شرط بیعت کے حوالہ سے کچھ باتیں کروں گا۔ اگر اِس کے مطابق ہم اپنی زندگیوں کو ڈھال لیں تو اپنے اندر اور دنیا میں بھی ایک انقلاب عظیم پیدا کر سکتے ہیں۔

حضرت مسیح موعودؑ سے کئے گئے عہد کی دوسری شرط

جھوٹ اور زنا اور بد نظری اور ہر ایک فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا (یعنی بیعت کرنے والا) اور نفسانی جوشوں کے وقت اُن کا مغلوب نہیں ہو گا اگرچہ کیسا ہی جذبہ پیش آوے۔اِس میں آپؑ نے 9 برائیوں کا ذکر کر کے اِس طرف توجہ دلائی ہےاور یہ برائیاں ایسی ہیں جن کو چھوڑنے سے انسان روحانی اور اخلاقی طور پر ترقی کر سکتا ہے۔بعدازاں حضور انور ایدہ الله نے اِس عہد (دوسری شرط بیعت) پر عمل اور اِس کی اہمیت وضع کرنے نیز اِس میں بیان کی گئی بالترتیب اوّل الذکر 9 برائیوں سے اجتناب کرنے کے بارہ میں فرمودات باری تعالیٰ، احادیث نبویہؐ اور حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے ارشادات کے تناظر میں تفصیلی روشنی ڈالی۔

معیار سچائی

سچائی کا معیار جس پر ایک احمدی کو قائم ہونے کے لئے بھرپور کوشش کرنی چاہئے یہ ہے کہ اپنے اور اپنے پیاروں کے خلاف بھی گواہی دینے سے گریز نہ کرے۔ بڑی باریکی سے ہمیں اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ الله تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے، جھوٹ کتنا گھناؤنا فعل ہے جو شرک کے برابر ہے۔اگر ہم اپنے جائزے لیں تو بہت سوں میں خود یہ بات نظر آئے گی کہ بہت سے مواقع پر وہ غلط بیانی سے کام لے جاتے ہیں، پس غور کا مقام ہے، کیا ہم اپنا عہد پورا کرنے والا بن رہے ہیں؟ آپؐ کا تو معیار یہ ہے کہ مذاق میں بھی غلط بات کہنا جھوٹ ہے، یہ ہیں وہ معیار جو ہمیں حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ پس ہر احمدی کو اپنے سچائی کے معیار بہت اونچے کرنے کی ضرورت ہے، اگر یہ سچائی کے معیار ہم حاصل کر لیں تو بہت سے جھگڑے اور مسائل ہمارے ختم ہو جائیں۔

زنا سے بچنا

آجکل کے زمانہ میں تو میڈیا نے اِس کے پھیلانے کی تمام حدیں توڑ دی ہیں اور اِن حالات میں تو ہمیں اپنے آپ اور اپنی نسلوں کو بھی بچانے کے لئے خاص کوشش کرنی ہو گی۔ گندی فلمیں دیکھنا، گندے خیالات دل میں پیدا کرنا، یہ بھی زنا کی قسمیں ہیں جو انسان کو برائیوں اور فحشاء میں دھکیلتی چلی جاتی ہیں ۔بچوں کے بھی ایسے پروگرام دکھائے جاتے ہیں جس میں فحش باتوں سے اُن کے دماغ زہر آلود کئے جا رہے ہیں، پس ایسے حالات میں تو ہمیں بہت فکر کے ساتھ ایک جہاد کرنا ہو گا۔ صرف زنا ظاہری نہیں بلکہ ہر قسم کی باتیں جو برائیوں میں ملوث کرتی ہیں، بے حیائیوں اور فحشاء کی طرف لے جاتی ہیں، وہ سب اِس میں شامل ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو جو لوگ اِن غلاظتوں میں پڑتے ہیں وہ خود بھی مختلف قسم کی بیماریوں کے عذاب میں مبتلا ہوتے ہیں اور آخرت کے عذاب کے بارہ میں الله بہتر جانتا ہے کہ کیا سلوک ہو گا، اِس کی کیا شدت ہو گی، کاش کہ ایسے لوگ عقل کریں۔ پس ہم نے جہاں معاشرہ کی اِس بڑی تیزی سے پھیلنے والی برائی سے اپنے آپ، اپنی نسلوں کو بچانا ہے وہاں ماحول کو صاف رکھنے کے لئےدوسروں کو بھی سمجھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔اِن فحشاء کی ترویج بھی اصل میں دہریت پھیلانے والوں کا ایک ایجنڈا اَور حصہ ہے جو خدا تعالیٰ اور مذہب سے انسان کو دُور لے جانا چاہتے ہیں ، پس ہمیں بہت کوشش سے اِس جہاد میں بھی حصہ لینا ہو گا۔

بد نظری سے بچنے کی خاص طور پر فرمائی گئی تلقین

اسلام نے نظروں کو نیچا رکھنے کا حکم مَردوں اور عورتوں دونوں کو دیا ہے اور یہ دے کر حیاء کے اُس معیار کو قائم فرمایا ہے جس سے کسی برائی کا امکان ہی نہ رہے۔اگر ایسے معیار ہم قائم کرنے کی کوشش کریں تو پھر ہی ایک پاکیزہ معاشرہ قائم ہو سکتا ہے۔ اِس حکم کی وسعت صرف یہی نہیں ہے ظاہری طور پر دیکھنے میں بلکہ آجکل جو میڈیا، کمپیوٹر، ٹی وی ہے اِس پر غلط اور ننگے پروگرام جو آتے ہیں، اُن تک یہ اِس کی وسعت پھیلی ہوئی ہے، وہاں بھی ہمیں احتیاط کرنی چاہئے ۔ اگر الله تعالیٰ کی رضا ہم نے حاصل کرنی ہے تو پھر اِس قدر باریکی میں جا کر ہمیں اپنی اصلاح کرنی ہو گی اور اپنے بچوں کو بھی سمجھانا ہو گا۔

ہم سب کے لئے ایک لائحۂ عمل

حضرت مسیح موعودؑ نفسانی جوشوں سے مغلوب نہ ہونے کے بارہ میں فرماتے ہیں: وہ بات مانو جس پر عقل اور کانشس کی گواہی ہے اور خدا کی کتابیں اُس پر اتفاق رکھتی ہیں، خدا کو ایسے طور پر نہ مانو جس سے خدا کی کتابوں میں پھوٹ پڑ جائے، زنا نہ کرو، جھوٹ نہ بولو اور بد نظری نہ کرو اور ہر ایک فسق اور فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کی راہوں سے بچو اور نفسانی جوشوں سے مغلوب مت ہو اور پنجوقتہ نماز ادا کرو کہ انسانی فطرت پر پنج طور پر ہی انقلاب آتے ہیں اور اپنے نبی کریمؐ کے شکر گزار رَہو، اُس پر درود بھیجو کیونکہ وہی ہے جس نے تاریکی کے زمانہ کے بعد نئے سرے سے خدا شناسی کی راہ سکھائی ہے۔ حضورانورایدہ الله نےارشاد فرمایا! پس یہ ہے ہمارا لائحہ عمل، اگر ہم اِس کے مطابق عمل کر لیں تو ہم ایک عظیم انقلاب برپا کر سکتےہیں۔ ہر شرط بیعت اپنے اندر بے پناہ حکمتیں رکھے ہوئے ہے، ایک احمدی کو اپنے ایمان کوصیقل کرنے کے لئے اِن پر غور کرتے رہنا چاہئے تبھی ہم بیعت کا حق ادا کرنے والے بن سکیں گے۔

آج لجنہ اِماءِ الله کی تنظیم کو بھی بنے ہوئے سو سال ہو گئے ہیں

حضور انور ایدہ الله نے اِس کی بابت ارشاد فرمایا:
’’آج لجنہ اماء اللہ کی تنظیم کو بنے ہوئے بھی سو سال ہوگئے ہیں۔ لجنہ کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ جائزہ لیں کہ اس سو سال میں کس حد تک لجنہ نے اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کی ہے اور بیعت کا حق ادا کرنے والا اپنے آپ کو بنایا اور کوشش کی اور کس حد تک اپنے بچوں اور اپنی نسل کو بیعت کا حق ادا کرنے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے دعاوی سے جوڑنے والا اور ماننے والا بنایا ہے۔ اگرہم نے اس کے مطابق اپنی نسلوں کی اٹھان کی ہے تو یقیناً لجنہ اماء اللہ کی ممبرات اللہ تعالیٰ کی شکرگزار بندیاں ہیں۔ پس یہ جائزے آج لینے کی ضرورت ہے اور جہاں کمیاں رہ گئی ہیں وہاں ایک عزم کے ساتھ عہد کریں کہ ہم نے لجنہ کی اگلی صدی میں اس عہد کے ساتھ قدم رکھنا ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو عہد بیعت کا حق ادا کرنے والا بنائیں گی۔ اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘ (آمین)

اختتامی دعا سے قبل

حضور انور ایدہ الله نے تلقین فرمائی! ہر شامل جلسہ جو کسی بھی طرح جلسہ میں شامل ہے یہ عہد کرے کہ ہم نے ایک پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کرنی ہے اور عہد بیعت کو اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ نبھانا ہے، الله تعالیٰ ہم سب کو اِس کی توفیق عطا فرمائے۔

خطاب 11بج کر 50 منٹ پر ختم ہوا۔ اس کے بعد دل گداز دعا حضور نے کروائی اور حاضری یوں بتائی۔

قادیان میں 37 ممالک کے 14500
ایوان مسرور میں 1406
بیت الفتوح میں 1200
بیت الفضل میں 400
افراد شامل ہیں

بعد ازاں قادیان کے مردوں اور عورتوں نے ہر دو اطراف سے نظمیں پڑھ کر شاملین جلسہ کو محظوظ کیا۔ مکرم امیر صاحب یوکے نے نمازوں کے اوقات کے بارے حضور کو بتایا۔ حضور انور نے زوال کا وقت پوچھا۔ صدر خدام الاحمدیہ نے اپنے موبائل سے زوال کا وقت نکال کر دکھایا۔تب حضور ساڑھے بارہ بجے نمازوں کا اعلان فرما کر تشریف لے گئے۔

دوپہر کا کھانا

باجماعت نمازوں کے بعد ایوان مسرور کے باہر شیڈ میں اور کھانے کی مارکی میں ہر دو جگہوں پر کھانے کا انتظام تھا۔ جن میں آلو گوشت، روٹی اور زردہ تھا۔ شاملین جلسہ پیٹ بھر کر محظوظ ہوئے اور انتظامیہ نے پیکٹس کی صورت میں تحفہ بھی شاملین کو ساتھ دیا۔

پارکنگ میں مارکی

ایوان مسرور کے علاوہ دو مارکیز بھی لگائی گئی تھیں۔ ایک تو ایوان مسرور کے ساتھ لجنہ جانب میں اور دوسری بڑی مارکی پارکنگ کی جگہ پر تھی۔ جہاں عورتوں اور مردوں نے الگ الگ اپنے مخصوص حصوں میں جلسہ سنا۔ اس مارکی کو ہیٹرز سے گرم کر رکھا تھا۔

جلسہ کے بعد پیارے حضور نے تمام جگہوں کا جب معائنہ فرمایا تو ان مارکیز میں تشریف لے گئے۔

ڈیوٹی پر مامور عملہ حفاظت اور خدام

اس موقع پر اگر قربانی کرنے والے ان افراد کا ذکر نہ کیا جائے تو رپورٹ ادھوری رہ جائےگی۔ عملہ حفاظت کے ساتھ ساتھ تعاون کرنے والے خدام بھی بہت بڑی تعداد میں موجود تھے فجزاھم اللہ تعالیٰ۔ ان میں روٹی پیک کرنے اور روٹی serve کرنے والے لوگ الگ تھے۔ اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

ایم ٹی اے

ایم ٹی اے کے کارکنان کا بھی بے حد شکریہ ۔ جن کی بدولت ساری دنیا میں بیٹھے احمدی احباب بھی اس جلسے میں شامل ہو سکے اور قادیان کے مناظر دیکھ کر محظوظ ہوئے فجزاھم اللہ تعالیٰ۔

افریقن ممالک کی Live streaming کے ذریعے شرکت

افریقہ کے 8 ممالک نائجیریا ،ایوری کوسٹ ، گنی بساؤ ، گنی کوناکری، ٹوگو، برکینا فاسو، مالی، اور زمبابوے میں جلسے ہوئے ان میں سے چھ ممالک Live streaming کے ذریعے اس جلسے میں شامل ہوئے۔

امراء کی شرکت

لندن ایوان مسرور میں مکرم امیر صاحب یو کے کے علاوہ مکرم امیر صاحب کینیڈا، مکرم امیر صاحب جرمنی اور مکرم امیر صاحب ہالینڈ نے شرکت کی۔ ان کے علاوہ جو مختلف ممالک سے خاکسار کو دوست نظر آئے ان میں جرمنی، کینیڈا، امریکہ کے لوگ بھی شامل تھے۔

اللہ تعالیٰ تمام کارکنان کو جزائے خیر عطا کرے اور تمام شاملین جلسہ خواہ وہ ایم ٹی اے کے مبارک نظام کے ذریعہ اپنے گھروں میں بیٹھ کر شامل ہوئے، کے حق میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ دعا قبول ہو:
’’ہر یک صاحب جو ا س للہی جلسے کے لئے سفر اختیار کریں۔ خدا تعالیٰ ان کے ساتھ ہو اور ان کو اجرعظیم بخشے اور ان پررحم کرے اور ان کی مشکلات اور اضطراب کے حالات ان پر آسان کر دیوے اور ان کے ہم و غم دور فرمائے۔ اور ان کو ہریک تکلیف سے مخلصی عنایت کرے۔ اور ان کی مرادات کی راہیں ان پر کھول دیوے اور روزِآخرت میں اپنے ان بندوں کے ساتھ ان کو اٹھاوے جن پراس کا فضل ورحم ہے اور تااختتام سفر ان کے بعد ان کاخلیفہ ہو۔‘‘

(اشتہار 7؍دسمبر 1892ء مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ342)

پچھلا پڑھیں

مدرسۃ الحفظ گھانا میں سالانہ ورزشی مقابلہ جات کا انعقاد

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 جنوری 2023