• 7 اگست, 2020

وقف زندگی کا نظام

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ میں دین کی خاطر زندگی وقف کرنے کا نظام کسی نہ کسی شکل میں حضرت مسیح موعودؑ کے زمانے سے ہی قائم ہے اور خلافتِ ثانیہ میں اس میں ایک باقاعدگی پیدا ہوئی۔ باقاعدہ زندگی وقف کرنے کے بانڈ (Bond) یا فارم پُر کئے جانے لگے۔ دینی تعلیم کے لئے جامعہ احمدیہ کے نظام کو مزید منظم کیا گیا۔مبلغین بیرونِ ملک بھیجے جانے لگے جنہوں نے تبلیغ کے میدانوں میں بڑے کارہائے نمایاں سرانجام دئیے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے تبلیغ اور تربیتی سرگرمیوں میں اپنی پہچان کروائی اور یہ کام اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج تک جاری ہے اور مبلغین مختلف ممالک میں اس کام میں مصروف ہیں۔ ان مبلغین اور مربیان اورمعلمین میں …، ہندوستان کے علاوہ اب مختلف قوموں کے افرادشامل ہو چکے ہیں۔ خاص طور پر افریقن ممالک کے، اسی طرح انڈونیشیا کے مبلغین اور معلمین کافی تعداد میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ وفا کے ساتھ ان سب کو خدمات بجا لانے کی توفیق عطا فرمائے…بہر حال جوں جوں جماعتی ضروریات بڑھ رہی ہیں، تبلیغی میدان میں بھی وسعت پیدا ہو رہی ہے اور خدمات کے دوسرے میدانوں میں بھی وسعت پیدا ہو رہی ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ مورخہ 22 اکتوبر 2010 ء)

پچھلا پڑھیں

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ مورخہ 28 فروری 2020ء

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 3 مارچ 2020